بار عشق احمدی کافے اٹھانا چاہئیے
گر نہیں بھر غم تو غم سے مر ہی جانا چاہئیے
جب کہ ٹہرے عین ایمان جب محبوب خدا
اپنے ایمان کو بھلا پھر کیا چھپانا چاہئیے
دین و ایمان آپ کی الفت سے ہوتا ہے حصول
طالب ایمان یہ باتیں سنانا چاہئیے
ہیں کدہر وہ منکر ان الفت خیرالبشر
بے تمیزوں کو ذرا مجھ تک تو لانا چاہئیے
شاید آجا دین طریق راستی پر بے ادب
درس عشق مصطفی ﷺ اُن کو سنانا چاہئیے
جس کو کچہہ بھر انہیں حُب رسول اللہﷺ سے
اس کو جھوٹا دعوہ ایمان میں جانا چاہئیے
جان و دل قربان کریں حب شہ ابرار مین
مغفرت کے واسطے کچہہ تو ٹھکانا چاہئیے
کچہہ بھی گردل میں تمہارے خواہش ایمان ہے
ہر بشر سے آپ کو محبوب جانا چاہئیے
گر رضائے حق تعالی دوستو منطور ہے
نقش حبّ احمدی دل پر ٹھانا چاہئیے
روئے اطہر خوئے والا حب ذا صل علی
ایسی محبوب خدا پر دل لگانا چاہئیے
شاہد اخلاق حضرت آیت خلق عظیم
والضحیٰ وصف رُخ پر نور جانا چاہئیے
واصف چشم مبارک آیت مازاغ ہے
وصف گیسو سورۂ والیل جانا چاہیئے
قول یہ میرا نہیں قول شہ ابرار ہے
مخبر صادق کے فرمانے جو مانا چاہیئے
بان احمد کی خدائے پاک فے کہائی قسم
ایسے جان پاک پر قربان ہو جان چاہیئے
یاد کر لطف تبسم سیّد کونین کا
دل یہی کہتا ہے ہر دمسکرانا چاہیئے
سیری کاؔفی نہیں ممکن ہے نعت پاک سے
عند لیب زار کو گل کا فسانا چاہیئے
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔(دیوانِ کافؔی)