ہے مُرِیْدیْ لَا تَخَفْ جب اذنِ عامِ غوثِ پاک
کیوں نہ ہوں آزاد دوزخ سے غلامِ غوثِ پاک
ہے جہانِ معرفت میں احترامِ غوثِ پاک
اللہ اللہ کِتنا ارفع ہے مقامِ غوثِ پاک
میں بھی دیکھوں پوچھتے ہیں مجھ سے کیا مُنکَر نکیر
نزع میں لکھ دے جبیں پر کوئی نامِ غوثِ پاک
آپ کے زیرِ قدم ہیں اولیاء کی گردنیں
اے تعالی اللہ یہ اوجِ مقامِ غوثِ پاک
منہ میں پاتا ہوں حلاوت کوثر و تسنیم کی
لب پہ جب بے ساختہ آتا ہے نامِ غوثِ پاک
گلشنِ صد رنگ و بُو ہے مصرعہ مصرعہ شِعر شِعر
ہے بہشتِ معرفت گویا کلامِ غوثِ پاک
ان کا پَیر و اِک قدم ہٹتا نہیں اِسلام سے
کس قدر مضبوط و محکم ہے نظامِ غوثِ پاک
خلد بر کف اے مقدّس سرزمیں بغداد کی
کب سے ہے تیرے لئے مضطر غلامِ غوثِ پاک
وہ فضائے میکدہ اختؔر ہے فردوسِ نظر
بادۂ جیلاں، رضا کا ہاتھ، جامِ غوثِ پاک