مشعلِ قبلۂ ارشاد ہیں غوث الثقلین
قبلۂ کعبۂ بغداد ہیں غوث الثقلین
ہمہ تن ہم لبِ فریاد ہیں غوث الثقلین
آپ سے طالبِ امداد ہیں غوث الثقلین
نقطۂ گردشِ پر کارِ یقیں ہے بغداد
مرکزِ عالمِ ایجاد ہیں غوث الثقلین
نخلِ ایماں کی ہیں اصل رسولِ عربیﷺ
قصرِ ایقان کی بنیاد ہیں غوث الثقلین
تم ہو سرتا پا کرم، تم ہو سراپا الطاف
ہم کہ مجموعۂ اضداد ہیں غوث الثقلین
آج رحمت سے بغلگیر ہے ہر ایک تڑپ
چارہ ساز دلِ ناشاد ہیں غوث الثقلین
کیوں نہ ہو عرش سے پھر دل پہ بہاروں کا نزول
آپ اس بستی میں آباد ہیں غوث الثقلین
یارسولِ عربیﷺ لب پہ، زباں پر یا غوث
مِرا ایمان یہ اوراد ہیں غوث الثقلین
قادری جام سے پی آج مدینے کی شراب
مِیرِ میخانۂ بغداد ہیں غوث الثقلین
مظہرِ ذات کے مظہر ہیں زسرتا بہ قدم
نور ہیں، نورﷺ کی اولاد ہیں غوث الثقلین
یوں تو سب کچھ ہیں مگر اختؔر عاصی کے لئے
آپ اللہ کی امداد ہیں غوث الثقلین