/ Friday, 04 April,2025


مشعلِ قبلۂ ارشاد ہیں غوث الثقلین





منقبت حضور غوث الثقلین﷜

مشعلِ قبلۂ ارشاد ہیں غوث الثقلین﷜
قبلۂ کعبۂ بغداد ہیں غوث الثقلین﷜
ہمہ تن ہم لبِ فریاد ہیں غوث الثقلین﷜
آپ سے طالبِ امداد ہیں غوث الثقلین﷜
نقطۂ گردشِ پر کارِ یقیں ہے بغداد
مرکزِ عالمِ ایجاد ہیں غوث الثقلین﷜
نخلِ ایماں کی ہیں اصل رسولِ عربیﷺ
قصرِ ایقان کی بنیاد ہیں غوث الثقلین﷜
تم ہو سرتا پا کرم، تم ہو سراپا الطاف
ہم کہ مجموعۂ اضداد ہیں غوث الثقلین﷜
آج رحمت سے بغلگیر ہے ہر ایک تڑپ
چارہ ساز دلِ ناشاد ہیں غوث الثقلین﷜
کیوں نہ ہو عرش سے پھر دل پہ بہاروں کا نزول
آپ اس بستی میں آباد ہیں غوث الثقلین﷜
یارسولِ عربیﷺ لب پہ، زباں پر یا غوث﷜
مِرا ایمان یہ اوراد ہیں غوث الثقلین﷜
قادری جام سے پی آج مدینے کی شراب
مِیرِ میخانۂ بغداد ہیں غوث الثقلین﷜
مظہرِ ذات کے مظہر ہیں زسرتا بہ قدم
نور ہیں، نورﷺ کی اولاد ہیں غوث الثقلین﷜
یوں تو سب کچھ ہیں مگر اختؔر عاصی کے لئے
آپ اللہ کی امداد ہیں غوث الثقلین﷜