لائقِ کبریا ہے وہ خلّاق
جس نے پیدا کیا جہانِ وفاق
ہے وہ نقاشِ کارگاہِ جمال
جس کا پیدا نہیں نظیر و مثال
اُس نے پیدا کیا حسینوں کو
رشکِ خورشید مہ جبینوں کو
صانع و خالق و قدیر وہ ہے
اپنی قدرت میں بے نظیر وہ ہے
ہے سزا وار اُس کو یکتائی
حسن و خوبی، جمال و زیبائی
شانِ وحدت میں ہے لطیف و جمیل
ہے وہ ربِّ جلیل بے تمثیل
یہ تماشا ظہور و کثرت کا
ایک شمّہ ہے اُس کی صنعت کا
الغرض، عَینِ نور و حسن و ضیا
اپنے محبوبﷺ کو کیا پیدا
شرفِ کائنات و موجودات
برتر و بہتر و گزیدہ صفات
بَہ جمال و شمائلِ احسن
بَہ کمال و خصائلِ احسن
باغِ ایجاد میں گُلِ یکتا
احمدِ مصطفیٰﷺ حبیبِ خدا
کیا کہوں اُن کا وصفِ زیبائی
سارا عالَم ہے جس کا شیدائی
کیا کہوں خوبی و جمال کا حال
عَینِ اعجاز ہے یہ حسن و جمال
اُن کے اعجاز پر رہے کیا شک
جب کہ عاشق ہو چوبِ خشک تلک
جابرِ معتبر کی یہ تقریر
پیش منظر ہے صورتِ تصویر
واہ وا کیا بیان کرتا ہے
لوحِ دل پر نشان کرتا ہے
دل میں یہ حال ہے بسا جاتا
اور نظروں میں ہے کہا جاتا
کہ جنابِ نبی رسولِ کریم
اُن کے اوپر تحیّت و تسلیم
تکیہ کر کے ستونِ مسجد کا
خطبہ پڑھتے تھے حمدِ واحد کا
اور کچھ وعظ و پند کرتے تھے
اہلِ ایماں پسند کرتے تھے
پھر جو منبر کیا گیا تیار
اور مسجد میں لا رکھا اک بار
ہُوئے اُس دن جنابِ پیغمبر
رونق افروز برسرِ منبر
گئے منبر پہ جب رسول اللہﷺ
شاق گزرا یہ اُس ستون کو، آہ!
فرقت و ہجر سے ہُوا بے چین
رو اُٹھا بے خودانہ شیون و شین
اِس طرح وہ سُتون چلّایا
سننے والوں کو سخت گھبرایا
؟؟؟ ستونِ مسجد سے
دل لرزتے تھے سننے والوں کے
دم بَہ دم اور متّصل پے ہم
؟؟؟ فریاد تھا بَہ درد و الم
عاشقِ بے قرار روتا تھا
سننے والوں کے تاب کھوتا تھا
تھا عیاں اُس کی شانِ زاری سے
اب یہ پھٹتا ہے بے قراری سے
کیا قیامت ستون رکھتا ہے
کوئی دم میں دو نیم ہوتا ہے
جب حنین و بکا وہ زاری
آپﷺ کے گوشِ پاک تک پہنچی
دیکھ کر اس ستون کے بے چین
اُترے منبر سے سرورِ کونینﷺ
عاشقِ بے زبان پہ لطف کیا
اُس کو آغوشِ پاک میں پکڑا
اُس کی منظور جو تسلّی تھی
گرمِ تسکیں رہے جناب نبیﷺ
یہ بھی راوی نے یاں بیان کیا
ایسا ہوتا تھا اُس گھڑی مفہوم
جیسے کودک کسی کا ہو گریاں
اور اُس کو کہیں نہ رو اب ہاں
وہ نہ چھوڑے بکا وزاری کو
ضبطِ رقّت کی اُس کو تاب نہ ہو
تھا بس ایسا ہی اُس ستون کو جوش
ہو نہ سکتا تھا یک بَہ یک خاموش
دیر تک گرچہ بے قرار رہا
وصلِ احمدﷺ نے پھر خموش کیا
دیکھ کر اُس کا نالہ و فریاد
اِس طرح آپ نے کیا ارشاد
جوشِ رقّت کا اس کے تھا یہ سبب
تھا یہ محوِ سماعِ ذکرِ رب
اب یہ دولت نصیبِ منبر ہے
اِس لیے یہ حزین و مضطر ہے
یوں بھی وارد ہُوا روایت میں
سِیَرِ خاتمِ رسالتﷺ میں
کہ سزاوارِ شانِ تمکیں نے
ایسا فرمایا سرورِ دیں نے
میں جو تسکیں نہ دے کے سمجھاتا
نالہ زاری یوں ہی کیے جاتا
میری فرقت میں حشر تک روتا
تا قیامت بلک بلک روتا
حَسنِ تابعی سے ہے مروی
جب بیاں کرتے یہ حدیث نبیﷺ
دم بَہ دم اشک بار ہوتے تھے
اور بے اختیار روتے تھے
کہتے تھے حاضرینِ مجلس کو
قدرِ عشقِ محمدیﷺ سمجھو
چوبِ خشک ستونِ مسجد سے
آپﷺ کے عشق میں کیے ؟؟؟
ہے سزاوار تو کو، اے لوگو!
عشقِ احمدﷺ میں خوب سا رولو
عشقِ احمدﷺ خدا نصیب کرے
عاشقِ رویتِ حبیبﷺ کرے
کیوں نہ اس غم میں روئیے، کاؔفی!
ہے قیامت فراقِ مصطفویﷺ
عاشقانہ غزل سناتا ہوں
او محبّو! تمھیں رُلاتا ہوں
ستوں کی دیکھ کر حالت صحابہ سر بَہ سر روئے
تمامی حاضرانِ مجلسِ خیر البشرﷺ روئے
رلادے جب کہ چوبِ خشک کو حضرتﷺ کی مہجوری
کہو پھر عَینِ عبرت سے نہ کیوں کر ہر بشر روئے
سُنی جب اُس ستونِ عاشقِ بے تاب کی زاری
رسول اللہﷺ کے اصحاب کیسے کس قدر روئے
کوئی ایسا نہ تھا اُس بزم میں جس پر نہ تھی ؟؟؟
بہت روئے بہت روئے نہایت بیشتر روئے
پھر آ جاتا ہے آنکھوں میں وہ عالم اُن کے رونےکا
کہ کس کس طرح سے اصحابِ با سوزِ جگر روئے
اُدھر گرمِ فغاں ہا وہ ستوں صدمے سے فرقت کے
اِدھر یہ شدّتِ فرقت سے با صدچشمِ تر روئے
ستوں خاموش ہوتا تھا نہ یہ رونے سے ؟؟؟ تھے
وہ آہیں مار چلّایا یہ دل کھول کر روئے
ستوں نے یہ کیے نالے کہ چشمِ حال سے اُس دم
شجر روئے، حجر روئے سبھی دیوار و در روئے
رسول اللہﷺ کی اُلفت، محبّو! عَینِ ایماں ہے
فراقِ مصطفیٰﷺ میں اہلِ ایماں عمر بھر روئے
تصوّر آ گیا رونے میں جب لمعانِ دنداں کا
تو مشتاقانِ دندانِ نبیﷺ سلکِ گہر روئے
لبِ لعلِ مبارک کے جو مشتاقِ زیارت تھے
بجائے اشک عین شوق میں لختِ جگر روئے
بَہ شکلِ ابر، اے کاؔفی! یہ مہجوروں کا عالَم ہے
یہاں روئے، وہاں روئے، اِدھر روئے، اُدھر روئے