/ Friday, 04 April,2025


یہ انس کا بیانِ شافی ہے





حدیثِ چہلم از مشکوٰۃ ،بابِ اثبات عذاب القبر

 

عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالکٍ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللہِ  صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمَ:

 ’’اِنَّ الْعَبْدَ اِذَا وُضِعَ فِیْ قَبْرِهٖ وَتَوَلّٰى عَنْهُ اَصْحَابُهٗٓ إِنَّهٗ  لَيَسْمَعُ قَرْعَ نِعَالِهِمْ، اَتَاهُ مَلَكَانِ فَيُقْعِدَانِهٖ، فَيَقُوْلَانِ لَہٗ: مَا كُنْتَ تَقُولُ فِي هَذَا الرَّجُلِ لِمُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ فَاَمَّا الْمُؤْمِنُ، فَيَقُوْلُ: اَشْهَدُ اَنَّهٗ عَبْدُ اللہِ وَرَسُوْلُهٗ، فَيُقَالُ لَهٗ: اُنْظُرْ اِلٰى مَقْعَدِكَ مِنَ النَّارِ قَدْ اَبْدَلَكَ اللہُ بِهٖ مَقْعَدًا مِّنَ الْجَنَّةِ، فَيَرَاهُمَا جَمِيْعًا - وَاَمَّا الْمُنَافِقُ وَالْكَافِرُ فَيُقَالُ لَهٗ: مَا كُنْتَ تَقُوْلُ فِيْ هَذَا الرَّجُلِ؟ فَيَقُولُ: لَآ اَدْرِیْ كُنْتُ اَقُوْلُ مَا يَقُولُ النَّاسُ، فَيُقَالُ لَہٗ: لَا دَرَيْتَ وَلاَ تَلَيْتَ، وَيُضْرَبُ بِمَطَارِقَ مِنْ حَدِيْدٍ ضَرْبَةً، فَيَصِيْحُ صَيْحَةً يَّسْمَعُهَا مَنْ يَّلِيْهِ غَيْرَ الثَّقَلَيْنِ‘‘۔ (مُتَّفَقٌ عَلَیْہِ)

 

یہ انس کا بیانِ شافی ہے
واسطے مومنوں کے کافی ہے
یعنی خیرالوریٰ رسولِ کریم
ہم کو اس طرح کرتے تھے تعلیم
کہ بَہ تحقیق بندۂ معبود
گور اپنی میں جب کرے ہے وُرود
یار و اَحباب مُنھ پھراتے ہیں
یعنی اپنے گھروں کو جاتے ہیں
اُٹھتی ہے جو صدائے
کفشِ پا
دو فرشتے غرض وہاں آ کر
اور اُس کو لحد میں بٹھلا کر
اُس سے کرتے ہیں اس طرح کا سوال
اور واں پوچھتے ہیں یہ اَحوال
یعنی دنیا میں تو جو رہتا تھا
کہتا اِس شخص کے  لیے کیا تھا
لفظِ ’’
ھٰذَا الرَّجُل‘‘ سناتے ہیں
شکلِ حضرت بھی آ دکھاتے ہیں
اور کہتے ہیں اُس سے وہ انسان

تجھ سے اس بات کے ہیں ہم پُرسان
کہ
بحقِ نبی حبیبِ خدا
کیسا تو اعتقاد رکھتا تھا
 گر وہ مومن ہے، ا
ہلِ ایماں ہے
اس کو اُن کا جواب آساں ہے
ہیں محمد نبی رسول اللہ
یعنی دیتا ہوں میں گواہی صاف
یہ نبی ہیں، نہیں ہے کچھ اس میں خلاف
حق تعالیٰ کے ہیں یہ بندۂ خاص
ہیں محمد خلاصۂ اَشخاص
جب یہ اَوصافِ سیّدِ اَبرار
مردِ مومن کرے گا واں اظہار
حال یہ سن کے وہ مَلک دونوں
گور میں یوں کہیں گے مومن کو
دیکھ لے یہ مکان دوزخ کا
واسطے تیرے جو بنایا تھا
تو نے اس وقت خوب کام کیا
کہ رسولِ خدا کو پہچانا
دی گواہی بحالِ
ختمِ رُسُل
ہادیِ راہِ مقتدائے سبل
اس جگہ سے تِری جگہ بدلے
عوضِ نار، جا بہشت میں دے
پھر وہ مومن وہاں بحالِ سُرور
دیکھتا ہے وہ جائے آتش و نور
یعنی اپنا وہ نار کا ہے مقام
اور جنّت کا وہ مقامِ قیام
کہ طُفیلِ محمدِ عربی
اس کو حاصل ہُوئی وہ جائے خوشی
جب رسولِ خداﷺ کو پہچانا
اُس کو جنّت میں یہ مکان ملا
اُس نے دیکھا نہ پھر عذابِ گور
دور اُس سے رہا عقابِ گور
اور جو کافر و منافق ہو
گور میں جس گھڑی رکھیں اُس کو
مثلِ مومن سوال اُس سے کریں
؟؟؟ مَلک کشفِ حال اُس سے کریں
؟؟؟ جو غافل وہ حالِ حضرت سے
؟؟؟ خاتمِ رسالت سے
گور میں اس طرح سے جو کہتا
ان کو میں جانتا نہیں اصلا
میں تو واقف نہیں محمد سے
اور اَوصافِ حالِ احمد سے
مجھ کو نسبت نہیں ہے ان کے ساتھ
پوچھتے مجھ سے کیا ہو تم ہیہات
ان کے حق میں وہی تھا میرا کلام
کہتے تھے جس طرح سے اور عوام
پھر وہ کہتے ہیں اُس سے او انسان
نہ پڑھا تو نے کس لیے قرآن
یعنی پڑھتا اگر کلامِ خدا
جانتا مرتبہ محمدﷺ کا
حال سے اُن کے تو رہا غافل
آج ہے تیرے واسطے مشکل
کہہ کہ یہ بات وہ مَلک دونوں
ہاتھ میں لے کے گُرزِ آہن کو
اُس کے اُوپر وہ چھوڑ دیتے ہیں
پشت و پہلو کو توڑ دیتے ہیں
اُس پہ پڑتی ہے اِس طرح کی مار
کہ وہ مقہور کافرِ بد کار
شورِ بے اختیار کرتا ہے
بعد مرنے کے غم سے مرتا ہے
شور ہوتا ہے اس قدر برپا
کہ اُسے وحش و طیر ہے سنتا
جن و انسان پر نہیں سنتے
کہ وہ غافل ہے مطلقًا اس سے
جن و انسان بھی اگر سن لیں
سارے عیش و نشاط کو چھوڑیں
اے محبانِ صاحبِ
لَوْلَاک
اب یہ کہتا ہے
کاؔفیِ غم ناک
تم کو وہ دولتِ تمام ملے
آرزو جس کی انبیا نے کی
میرے کہنے کو تم ذرا مانو
رتبۂ د
ینِ احمدی جانو
بیش تر انبیا یہ کہتے تھے
اور اِس آرزو میں رہتے تھے
کاش! ہم ہوتے اُمّتِ احمد
دیکھتے
فیضِ صحبتِ احمد
مومنو! سوچ کر ذرا دیکھو
اُمّتِ
افضلِ بشر دیکھو
اپنے محسن نبی کی اُلفت میں
مستقل تم رہو شریعت میں
چاہتے ہو اگر رہائی کو
ساتھ حُبِّ مصطفائی کو
گور میں بھی یہ کام آئے گی
حشر میں حق سے بخشوائے گی
اور یہ التماس ہے میرا
تم سے او دوستانِ راہِ خدا
کہ یہ نظمِ چہل حدیث شریف
جو مرتّب ہُوئی بَہ فکرِ نحیف
شوق سے یعنی یہ کتاب لکھی
حُبِّ خیرالورا میں موزوں کی
نظم کا التزام ہے مشکل
بے تکلّف یہ کام ہے مشکل
کہیں لفظوں کا ترجمہ لایا
کہیں حاصل لیا ہے معنیٰ کا
میرے شعر وں میں جو خطا دیکھو
کلک اصلاح سے بنا دیجو
اب خدا ئے کریم سے ہے دعا
اِس دعا کو کرے قبولِ دعا