یہ کیسی روح پرور میرے کانوں میں پکار آئی
کہ باغِ اہلِ سنّت میں بہارِ خوشگوار آئی
مَلا دستِ نسیمِ رحمتِ کونین نے غازہ
نظر آتے ہیں رضویّت کے گُل بوٹے تر و تازہ
عجب جوشِ نمو، طوفانِ رنگ و نور برپا ہے
شبابِ عشقِ ماہِ طیبہ جامے سے ہویدا ہے
ہجومِ میکشاں ہے، والئے میخانہ بریلی کا
مئے طیبہ، رضا کا ہاتھ، پیمانہ بریلی کا
یہ میخانہ اُبلتا ہے کہ لطفِ حق کا فوّارہ
تعالیٰ اللہ کیسی جوش پر ہے قادری دھاوا
جدھر دیکھو سرور و کیف کے ساغر کھنکتے ہیں
مئے عشقِ حبیبِ حق کے پیمانے چھلکتے ہیں
کسی کے لب پہ مستی میں ہے یا اللہ کا نعرہ
کہیں ہر گھونٹ پر ہے یا رسول اللہﷺ کا نعرہ
اٹھاتا ہے کوئی یا غوث کہہ کر اپنا پیمانہ
رضا کا نام لے کر جھومتا ہے کوئی مستانہ
عجب پر کیف نقشہ ہے، عجب پُر نور منظر ہے
یہ لطفِ اعلیٰ حضرت کی بہارِ روح پرور ہے
مِرے مرشد کا دریائے کرم طغیانیوں پر ہے
زہے قسمت کہ میری طبع بھی جو لانیوں پر ہے
گُہر ہائے کرم سے اپنی جھولی میں بھی پُر کر لوں
سعادت کے دُرِ تاباں سے دامانِ تہی بھر لُوں
لِکھوں اِک نظم تازہ یعنی اپنے پیر و مرشد پر
میں ڈالوں روشنی کچھ سیرتِ پاک مجدّد پر
مگر میں بے بضاعت، بے ہنر، کج مج زباں شاعِر
کہاں وہ علم و حکمت کا سمندر اور کہاں شاعِر
میں اِک ذرّے سے کم وہ نیّرِ برجِ فضیلت ہیں
مجدّد دین و ملّت کے، امامِ اہلِ سنّت ہیں
محیطِ کائناتِ عقل و دانش ان کا خامہ ہے
سند عِلم لَدُنّی کی ہر علمی کارنامہ ہے
میں اِک بے علم، ہے جس کی نظر خود اپنی خامی پر
مگر ہے فخر مجھ کو اعلیٰ حضرت کی غلامی پر
اس اعزازِ غلامی نے بڑھایا حوصلہ میرا
میں نقشہ کھینچتا ہوں ان کے علمی کارناموں کا
ذرا دیکھیں؟ کہ کیا شانِ تجدّد، کیا فضیلت ہے
فلک پر مسندِ اَوجِ امام اہلِ سنّت ہے
سنبھالا جب امام احمد رضا نے کام افتاء کا
زمینِ ہند پر چھایا ہوا گہرا اندھیرا تھا
ادھر بکھرا ہوا تھا ملّتِ بیضاء کا شیرازہ
کُھلا تھا ایک جانب دین میں فتنوں کا دروازہ
ابوجہلی، بظاہر متقی بن کر زمانے میں
چراغِ سنّیت مصروف تھے مِل کر بُجھانے میں
قبائیں نیچی نیچی، لبمی لبمی داڑھیوں والے
تقدّس کے لبادوں میں لٹیرے، قلب کے کالے
جبینوں پر نشانِ سجدہ اور تسبیح ہاتھوں میں
یہ رہزن سب کے سب تھے دین پر حملے کی گھاتوں میں
بی عیّاری کلام حق کو سینوں سے لگائے تھے
یہ اپنی آستینوں میں مگر خنجر چھپائے تھے
موحّد کوئی ان میں، کوئی عالم بن کر آیا تھا
ہر اِک رہزن تقدّس کا سنہرا جال لایا تھا
نئی توحید تھی ان کی، نیا اسلام تھا ان کا
غرض اسلام میں فتنے اٹھانا کام تھا ان کا
کہیں دعوے نبّوت کے، کہیں حملے رسالت پر
کہیں کیچڑ اچھالا جا رہا تھا شانِ قدرت پر
کوئی گستاخ، اندھا، کور باطن صاف لکھتا ہے
’’دخولِ کذب تحتِ قدرتِ باری تعا لیٰ ہے‘‘
کسی نے نصِّ قطعی میں بھی یوں تحریف کر ڈالی
نرالی آیۂ[2]؎ مَاکَان کی تعریف کر ڈالی
اگر بالفرض ہو بعدِ محمّدﷺ نبی پیدا
تو پھر بھی خاتمیت میں نہ اصلا فرق آئے گا
مریدوں سے درود اپنا کسی نے خود پڑھا ڈالا
کہیں علمِ نبی، علمِ بہائم سے مِلا ڈالا
کسی نے علمِ شیطاں، علمِ آقاﷺ سے بڑھا ڈالا
کسی نے انبیاء کو اپنا بھائی تک بنا ڈالا
کہیں لکھا ’’نبی ہیں ذرّۂ ناچیز سے کمتر‘‘
کہیں پھونکوں سے حملے مشعلِ بزمِ رسالتﷺ پر
کہیں لکھا ’’نبی کے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا‘‘
’’محمدﷺ کے برابر ہوں کروڑوں آن میں پیدا‘‘
کہیں لکھا کہ آیا ہے حدیثِ مصطفیٰﷺ میں یوں
کہ ’’مَر کر ایک دن مٹی میں، میں بھی ملنے والا ہوں‘‘
کہیں انکار ہے تعظیمِ سرکارِ مدینہﷺ سے
محبّانِ شہِ دیں پر کہیں ہیں کفر کے فتوے
فقط نقشہ ہے معمولی سایہ ان کے عقائد کا
یہ تھے ورنہ مجّسم شرک اور بدعت کا پشتارہ
پئے تکمیل یہ لے کر بڑھے اپنے مقاصد کو
مسلمانوں میں پھیلانے لگے باطل عقائد کو
کچھ اب کے جبّہ و دستار سے کھانے لگا دھوکا
بظاہر دین کے پر چار سے کھانے لگا دھوکا
مِلا کر شربتِ توحید میں یہ سَمْ پلاتے تھے
اجل کی نیند ہر بیدارِ ایماں کو سلاتے تھے
ہزاروں دولتِ حسنِ عقیدت اپنی کھو بیٹھے
معاذ اللہ، ایماں تک سے اکثر ہاتھ دھو بیٹھے
جدھر دیکھو ادھر بو جہلیوں کا دور دورہ تھا
زمینِ ہند پر ہر سمت اِک کہرام برپا تھا
نہ تھا کوئی انہیں جرأت سے بڑھ کر ٹوکنے والا
نہ دینی لُوٹ پر تھا ہاتھ ان کا روکنے والا
زبانیں گنگ تھیں، طاری تھا سب پر عالَمِ سکتہ
غرض ہر ایک تھا باہم دگر حیرت سے منہ تکتا
یکایک ایک گوشے سے نبیﷺ کا شیر نَر نکلا
نرالی شان سے مردِ جری سینہ سِپر نکلا
سجا کر اسلحہ سرکارﷺ کے عشق و محبّت کا
عَلَم تھامے ہوئے میداں میں آیا شہ کی عظمت کا
یہ عبدالمصطفیٰ احمد رضا خاں اعلحٰضرت ہیں
مجدّد اس صدی کے، فخرِ دین و فخرِ مِلّت ہیں
نبیﷺ کے اس فدائی نے عدّو دیں کو للکارا
ہوا اِک اِک سے پنجہ آزما و معرکہ آرا
چلا پَیکر اَشِدَّاءُ عَلَے الْکُفّار کا بن کر
گِرا کوہِ غضب، بَرقِ بلا، قہرِ خدا بن کر
دکھایا کر کے بے پردہ ہر اِک مکّار کا چہرہ
رُخِ مکروہ پر تھا جن کے علم و فضل کا پہرہ
تقدّس کی نقابیں نوچ پھینکی ان کے چہروں سے
کیا آگاہ مسلم قوم کو ان کے فریبوں سے
قلم کی نوک کیا تھی؛ بُرّشِ سیفِ الہٰی تھی
مچی ہر سمت باطل کی صفوں میں اک تباہی تھی
اِدھر تنہا فدا کارِ نبیﷺ، دشمن ادھر سارے
لرزتے تھے بایں کثرت بھی لیکن خوف کے مارے
جدھر دیکھو ادھر تھا دشمنوں میں غلغلہ آیا
یہ کیسا آسماں ٹُوٹا، یہ کیسا زلزلہ آیا
ٹھہرتا کس طرح غولِ بیاباں شیر کے آگے
کہ رکھ کر پاؤں سَر پر، سب محاذِ علم سے بھاگے
بڑا احساں مسلمانوں پہ ہے یہ اعلحٰضرت کا
اُٹھایا بار اپنے دوش پر تجدیدِ ملّت کا
بہ تائید ِ الہٰی یوں رُخِ اھلِ فِتن موڑا
کہ ان میں سے کسی نے بھی نہ اَب تک لَوٹ کر دیکھا
نوشت و خواند میں شام و سحر بھی ایک کر ڈالے
لکھے دفتر کے دفتر اَن گِنت صفحات بھر ڈالے
دلائل دے کے باطل قول کی تردید فرمائی
خدا و مصطفیٰﷺ کے دین کی تجدید فرمائی
رضا کی ذات گویا حق تعا لےٰ کا کرم کہئے
یہ علمی کارنامہ ’’اَلْجِہَادُ بِالْقَلَمْ‘‘ کہئے
پھریرا اس قدر اونچا اڑا علمی فضیلت کا
خدا کے فضل سے پہنچا عجم سے تا عرب شہرہ
بلایا اپنے خادم کو نبیﷺ نے آستانے پر
نوازا اِس طرح اسلام کی عزت بچانے پر
غلامِ خاص کو بخشا شرف پہلے زیارت کا
کیا دربار سے تمغہ عطا اعلیٰ فضیلت کا
قدم چُومے عرب کے مفتیوں نے اس فضیلت پر
فِدا ہونے لگے پروانۂ شمعِ رسالتﷺ پر
نہ کیوں نازاں ہوں اختؔر اہلِ سنّت اپنی قسمت پر
رضؔا لوٹے مدینے سے مُجدّد کی سند لے کر
[1]یہ نظم حضر ت اختر الحامدی نے راقم الحروف کی التماس کو شرفِ قبولیت بخشے ہوئے ’’ معارفِ رضا‘‘ کتاب کے لئے قلم برداشتہ لکھ کر ارسال فرمائی تھی۔ ’’معارفِ رضا‘‘ میں احقر نے امام احمد رضا خاں بریلوی کے تجدیدی کارنامے کو چار ضمیم جلدوں میں بیان کیا ہے۔ اگرچہ یہ نظم ’’ نعت محل‘‘ کے مرسلہ مسورے میں نہ تھی لیکن حسنِ اتفاق سے جناب اختر الحامدی کا مجموعہ کلام چونکہ اس ناچیز کے ہاتھوں ترتیب دیا جارہا ہے لہذا اس معرکتہ الآرا، نظم کو احقر نے ’’معارفِ رضا‘‘ کی زینت بنانے کے ساتھ ’’ نعت محل‘‘ میں مناسب جگہ دے کر شاملِ اشاعت کر دیا ہے ۱۲ اختؔر تشاہجانپوری
[2]مراد ماکان محمد ابا احد من رجالکم ولکن رسول اللہ و خاتم النبین آلایتہ (سورۃ الاحزاب)