اتوار , 07 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 18 October,2026

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن صمہ بن عمرو بن جموح: احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے اور حرہ کے موقع پر مارے گئے۔ یہ معاذ بن عمرو بن جموح کے بھتیجے تھے۔ ہم ان کا ذکر بھی کریں گے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن عمرو بن قیس بن عبد العزی بن غزیہ بن عمرو بن عدی بن عوف بن مالک بن نجار انصاری خزرجی: احد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل رہے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ یہ غسانی کی روایت ہے ابن القداح سے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن معدان: انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ قطبہ بن جریر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ ان سے عمران بن جریر نے روایت کی۔ کہا جاتا ہے کہ اِن کی روایت مرسل ہے۔ ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

ابو زہرہ: ان سے یہ حدیث مروی ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تو فرماتے ’’اللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ‘‘: یحییٰ بن یونس نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ حصین بن عبد الرحمان نے ان سے روایت کی جعفر کا قول ہے کہ وہ تابعی تھے۔ جس شخص نے ان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحبت ثابت کی ہے، وہ غلطی پر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

بن حیدہ بن معاویہ بن قشیر بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصقہ القشیری: ان کا تعلّق بصرہ سے تھا۔ خراسان کے معرکوں میں شریک رہے اور وہیں فوت ہُوئے وہ بہز بن حکیم بن معاویہ کے دادا تھے۔ ان کے بیٹے حکیم نے ان سے روایت کی۔ یحییٰ بن معین سے ’’عن بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ‘‘ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ روایت درست ہے، بشرطیکہ بہز سے پہلا راوی ثقہً ہو۔ شعبہ بن ابی قزعہ نے حکیم بن معاویہ سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے حضور سے دریافت کیا، یا رسول اللہ! عورت کا مرد پر کیا حق ہے؟ فرمایا۔ جب خود کھانا کھائے، تو اسے بھی کھلائے اور جب خود کپڑے پہنے تو اُسے بھی پہنائے اور اس کے مُنہ پر تھپڑ نہ مارے، نہ بُرا بھلا کہے اور نہ گھر میں اس سے مقاطعہ کرے۔ ابو القاسم یعیش بن صدقہ بن علی نے ابو محمد یحییٰ بن علی بن طراح سے اُنہوں نے ابو الحسین بن ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

بن سوید بن مقرن: حسن بن سفیان اور منیعی نے ان کا ذکر صحابہ میں کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اجازتاً ابو علی سے انہوں نے ابو نعیم سے انہوں نے ابو عمرو بن حمدان سے اُنہوں نے حسن بن سفیان سے انہوں نے عثمان بن ابی شیبہ سے انہوں نے عبثر سے انہوں نے مطرف سے انہوں نے عامر سے انہوں نے معاویہ بن سوید سے روایت کی کہ جس شخص نے اپنے بھائی کو کافر کہا۔ تو یہ لفظ دونوں میں سے ایک کو اپنا مصداق بنا لے گا۔ ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

ابو زہرہ: ان سے یہ حدیث مروی ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تو فرماتے ’’اللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ‘‘: یحییٰ بن یونس نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ حصین بن عبد الرحمان نے ان سے روایت کی جعفر کا قول ہے کہ وہ تابعی تھے۔ جس شخص نے ان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحبت ثابت کی ہے، وہ غلطی پر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسعود رضی اللہ عنہ

بن وائل: یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کر دیا، تاکہ وہ اپنے قبیلے کو اسلام کی دعوت دیں۔ خود مشرف بہ اسلام ہُوئے، اور قابل قدر کام کیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی۔ یا رسول اللہ! آپ میری قوم کی طرف کسی آدمی کو روانہ فرمائیں۔ جوان میں اسلام کی تبلیغ کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کر تبلیغ کے لیے روانہ فرمایا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مسلمہ رضی اللہ عنہ

بن شیبان بن محارب بن فہر بن مالک والد حبیب بن مسلمہ: ابو موسیٰ نے اسی نسب سے ان کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے باسنادہ ابن جریج سے انہوں نے ابن ابی ملیکہ بن حبیب بن مسلمہ فہری سے روایت کی کہ مَیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینے میں حاضر ہوا کہ ان کا والد بھی پہنچ گیا، عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا بیٹا میرے ہاتھ پاؤں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میاں بیٹے! تم باپ کے ساتھ چلے جاؤ، کیونکہ اس کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ چنانچہ بڑے میاں اسی سال فوت ہوگئے۔ ابو موسیٰ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ اور ان کا نسب بھی اسی طرح لکھا ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، لیکن یہ غلط ہے، کیونکہ ان کے سلسلۂ نسب سے کوئی نام چھوٹ گیا ہے اور درست سلسلۂ نسب وہ ہے جسے ہم مسلمہ بن مالک کے ترجمے میں بیان کریں گے ہم نے ان کا ترجمہ علیحدہ اس لیے بیان کیا ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ ہم نے ان۔۔۔

مزید

سیّدنا مسور رضی اللہ عنہ

بن مخرمہ بن نوفل بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ قرشی زہری: ان کی کنیت ابو عبد الرحمٰن تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام عاتکہ بن عوف تھا، جو عبد الرحمٰن بن عوف کی بہن تھیں۔ ان کا نام شفا تھا۔ جنابِ مسور ہجرت کے دو سال بعد مکے میں پیدا ہوئے، اچھے فقیہہ اور باعمل عالم تھے۔ وہ اپنے ماموں عبد الرحمٰن کے ساتھ ہمیشہ امر شوری میں شریک رہے۔ ان کا رحجانِ طبع حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل تک مدینے میں قیام پذیر رہے۔ پھر وہاں سے مکّے چلے گئے۔ جہاں امیر معاویہ کی وفات تک ٹھہرے رہے۔ چونکہ انہیں یزید کی بیعت نا پسند تھی۔ اس لیے جناب ابنِ زبیر کے ساتھ مکے ہی میں رُکے رہے۔ جب حصین بن نمیر شامی لشکر لے کر مکے پر ابنِ زبیر سے جنگ کے لیے حملہ آور ہوا۔ جناب مسور کعبے میں نماز ادا کر رہے تھے۔ کہ انہیں منجنیق کا پت۔۔۔

مزید