پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

حضرت مولانا شاہ امانت اللہ غازی پوری علیہ الرحمۃ

آپ غازی پوری کے نامور مشائخ خاندان کے ممتاز فرد تھے،علوم کی تکمیل اپنے بزرگ والد شاہ محمد فصیح علیہ الرحمۃ سے کی،آپ کو وعظ و تذکیر میں زبردست قبول عام حاصل تھا،آپ فصیح اللّسان تھے،غیر مقلدین کا آپ شدید رد فرماتے تھے،اسی بناء پر حکیم عبد الحئی مؤلف ‘‘نزہۃ الخواطر’’ نے آپ کو قلیل العلم وغیرہ قسم کی و شنام دی ہے،۱۶؍رمضان المبارک ۱۳۱۵؁ھ کو غازی پور میں آپ کا وصال ہوا،مدفن بھی وہیں ہے اہل سنّت کے اسٹیج کے نامور فصیح اللّسان مقرر علامہ ابو الوفا فافصیحی غازی پوری ناظم اعلیٰ کل ہند جماعت رضائے مصطفیٰ آپ کے پوتے ہیں۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا معاویہ بن قز،مل ال مہا رب

سیدنا معاویہ بن قز،مل ال مہا رب۔۔۔

مزید

سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

بن محصن بن علس کندی ابو شجر: ہم ان کا ذکر کنیتوں کے تحت کریں گے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن صمہ بن عمرو بن جموح: احد اور اس کے بعد کے تمام غزوات میں شریک رہے اور حرہ کے موقع پر مارے گئے۔ یہ معاذ بن عمرو بن جموح کے بھتیجے تھے۔ ہم ان کا ذکر بھی کریں گے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن عمرو بن قیس بن عبد العزی بن غزیہ بن عمرو بن عدی بن عوف بن مالک بن نجار انصاری خزرجی: احد اور بعد کے تمام غزوات میں شامل رہے۔ جنگ یمامہ میں شہید ہوئے۔ یہ غسانی کی روایت ہے ابن القداح سے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

بن معدان: انہوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ قطبہ بن جریر نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر اسلام قبول کیا اور بیعت کی۔ ان سے عمران بن جریر نے روایت کی۔ کہا جاتا ہے کہ اِن کی روایت مرسل ہے۔ ابو عمر نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

ابو زہرہ: ان سے یہ حدیث مروی ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تو فرماتے ’’اللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ‘‘: یحییٰ بن یونس نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ حصین بن عبد الرحمان نے ان سے روایت کی جعفر کا قول ہے کہ وہ تابعی تھے۔ جس شخص نے ان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحبت ثابت کی ہے، وہ غلطی پر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

بن حیدہ بن معاویہ بن قشیر بن کعب بن ربیعہ بن عامر بن صعصقہ القشیری: ان کا تعلّق بصرہ سے تھا۔ خراسان کے معرکوں میں شریک رہے اور وہیں فوت ہُوئے وہ بہز بن حکیم بن معاویہ کے دادا تھے۔ ان کے بیٹے حکیم نے ان سے روایت کی۔ یحییٰ بن معین سے ’’عن بہز بن حکیم عن ابیہ عن جدہ‘‘ کے بارے میں پوچھا گیا، تو انہوں نے جواب دیا کہ یہ روایت درست ہے، بشرطیکہ بہز سے پہلا راوی ثقہً ہو۔ شعبہ بن ابی قزعہ نے حکیم بن معاویہ سے انہوں نے اپنے باپ سے روایت کی، کہ ایک شخص نے حضور سے دریافت کیا، یا رسول اللہ! عورت کا مرد پر کیا حق ہے؟ فرمایا۔ جب خود کھانا کھائے، تو اسے بھی کھلائے اور جب خود کپڑے پہنے تو اُسے بھی پہنائے اور اس کے مُنہ پر تھپڑ نہ مارے، نہ بُرا بھلا کہے اور نہ گھر میں اس سے مقاطعہ کرے۔ ابو القاسم یعیش بن صدقہ بن علی نے ابو محمد یحییٰ بن علی بن طراح سے اُنہوں نے ابو الحسین بن ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاویہ رضی اللہ عنہ

بن سوید بن مقرن: حسن بن سفیان اور منیعی نے ان کا ذکر صحابہ میں کیا ہے۔ ابو موسیٰ نے اجازتاً ابو علی سے انہوں نے ابو نعیم سے انہوں نے ابو عمرو بن حمدان سے اُنہوں نے حسن بن سفیان سے انہوں نے عثمان بن ابی شیبہ سے انہوں نے عبثر سے انہوں نے مطرف سے انہوں نے عامر سے انہوں نے معاویہ بن سوید سے روایت کی کہ جس شخص نے اپنے بھائی کو کافر کہا۔ تو یہ لفظ دونوں میں سے ایک کو اپنا مصداق بنا لے گا۔ ابو موسیٰ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا معاذ رضی اللہ عنہ

ابو زہرہ: ان سے یہ حدیث مروی ہے کہ جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روزہ رکھتے تو فرماتے ’’اللّٰھُمَّ لَکَ صُمْتُ‘‘: یحییٰ بن یونس نے انہیں صحابہ میں شمار کیا ہے۔ حصین بن عبد الرحمان نے ان سے روایت کی جعفر کا قول ہے کہ وہ تابعی تھے۔ جس شخص نے ان کی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے صحبت ثابت کی ہے، وہ غلطی پر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید