بن وائل: یہ صاحب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کر دیا، تاکہ وہ اپنے قبیلے کو اسلام کی دعوت دیں۔ خود مشرف بہ اسلام ہُوئے، اور قابل قدر کام کیے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی۔ یا رسول اللہ! آپ میری قوم کی طرف کسی آدمی کو روانہ فرمائیں۔ جوان میں اسلام کی تبلیغ کرے۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک فرمان لکھ کر تبلیغ کے لیے روانہ فرمایا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن شیبان بن محارب بن فہر بن مالک والد حبیب بن مسلمہ: ابو موسیٰ نے اسی نسب سے ان کا ذکر کیا ہے اور انہوں نے باسنادہ ابن جریج سے انہوں نے ابن ابی ملیکہ بن حبیب بن مسلمہ فہری سے روایت کی کہ مَیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں مدینے میں حاضر ہوا کہ ان کا والد بھی پہنچ گیا، عرض کیا، یا رسول اللہ! میرا بیٹا میرے ہاتھ پاؤں ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میاں بیٹے! تم باپ کے ساتھ چلے جاؤ، کیونکہ اس کے دن تھوڑے رہ گئے ہیں۔ چنانچہ بڑے میاں اسی سال فوت ہوگئے۔ ابو موسیٰ نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ اور ان کا نسب بھی اسی طرح لکھا ہے جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، لیکن یہ غلط ہے، کیونکہ ان کے سلسلۂ نسب سے کوئی نام چھوٹ گیا ہے اور درست سلسلۂ نسب وہ ہے جسے ہم مسلمہ بن مالک کے ترجمے میں بیان کریں گے ہم نے ان کا ترجمہ علیحدہ اس لیے بیان کیا ہے تاکہ کوئی یہ نہ کہے کہ ہم نے ان۔۔۔
مزید
بن مخرمہ بن نوفل بن اہیب بن عبد مناف بن زہرہ قرشی زہری: ان کی کنیت ابو عبد الرحمٰن تھی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت سے فیض یاب ہوئے۔ ان کی والدہ کا نام عاتکہ بن عوف تھا، جو عبد الرحمٰن بن عوف کی بہن تھیں۔ ان کا نام شفا تھا۔ جنابِ مسور ہجرت کے دو سال بعد مکے میں پیدا ہوئے، اچھے فقیہہ اور باعمل عالم تھے۔ وہ اپنے ماموں عبد الرحمٰن کے ساتھ ہمیشہ امر شوری میں شریک رہے۔ ان کا رحجانِ طبع حضرت علی رضی اللہ عنہ کی طرف تھا۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے قتل تک مدینے میں قیام پذیر رہے۔ پھر وہاں سے مکّے چلے گئے۔ جہاں امیر معاویہ کی وفات تک ٹھہرے رہے۔ چونکہ انہیں یزید کی بیعت نا پسند تھی۔ اس لیے جناب ابنِ زبیر کے ساتھ مکے ہی میں رُکے رہے۔ جب حصین بن نمیر شامی لشکر لے کر مکے پر ابنِ زبیر سے جنگ کے لیے حملہ آور ہوا۔ جناب مسور کعبے میں نماز ادا کر رہے تھے۔ کہ انہیں منجنیق کا پت۔۔۔
مزید
اللیشی: ہدیہ بن خالد نے حماد بن سلمہ سے انہوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے ابو جعفر کو یہ کہتے سنا، کہ انہوں نے زیادہ بن سعد ضمری سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اُنہوں نے دادا سے سُنا۔ کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر ادا کر چکے: تو عینیہ بن حصن بن بدر نے اٹھ کر عامر بن اضبط کا (جو بنو قیس کا سردار تھا) خون بہا طلب کیا۔اس پر اقرع بن حابس اٹھا، اور اس نے محلم بن جثامہ کا جو بنو خندف کا سردار تھا، دفاع کیا۔ عینیہ نے کہا۔ میں اس سے ہر گز دست بردار نہیں ہوں گا، جب تک کہ قاتلوں کی عورتیں اتنا دُکھ نہ اٹھائیں جتنا کہ ہماری عورتوں کو اٹھانا پڑا ہے۔ اس موقعہ پر بنو یسث سے ایک شخص جس کا نام مطر تھا۔ اٹھ کھڑا ہُوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھے مقدس دینِ اسلام میں اس مقتول کے ۔۔۔
مزید
الثقفی: انہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا، اور تابعی ہیں۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان کا شمار اہل بصرہ میں ہوتا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کی نسبت اسی طرح بیان کیا ہے۔ ابو عمر نے مزیدۃ العبدی لکھا اور عصری کا نام نہیں لیا۔ ابن الکلبی نے مزیدہ بن مالک بن ہمام بن معاویہ بن شبانہ بن عامر بن خطمہ بن محارب بن عمر و بن ودیعہ بن لکیز بن افصی بن عبد القیس لکھا ہے، لیکن عصری کی نسبت کا ذکر نہیں کیا۔ مگر ابن مندہ اور ابو نعیم نے انہیں عصری لکھا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہود بن عبد اللہ بن سعد بن مزیدہ کے دادا تھے۔ ہود بن عبد اللہ العصری نے اپنے دادا مزیدہ سے روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے ہاتھوں کو بوسا دیا۔ یحییٰ بن محمود نے اذناً بہ اسنادِ خود ابو بکر احمد بن عمرو سے روایت کی۔ کہ انہوں نے محمد بن صدران سے انہوں نے طالب بن حجیر العبدی سے۔ انہوں نے ہود العصری سے انہوں نے اپنے دادا سے سنا کہ ایک دن حضور اکرم ص۔۔۔
مزید
یہ صاحب اپنے بھائی حصن کے ساتھ قادسیہ کی جنگ میں شہید ہوئے۔ ہم ان کا نسب اِن کے باپ کے ترجمے میں بیان کریں گے دونوں بھائی لاولد مرے۔ ابن الکلبی نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام رکھا۔ فتح مکہ کے موقع پر موجود تھے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً اس کی تخریج کی ہے۔۔۔
مزید