اللیشی: ہدیہ بن خالد نے حماد بن سلمہ سے انہوں نے محمد بن اسحاق سے روایت کی کہ انہوں نے ابو جعفر کو یہ کہتے سنا، کہ انہوں نے زیادہ بن سعد ضمری سے انہوں نے عروہ بن زبیر سے، انہوں نے اپنے والد سے اُنہوں نے دادا سے سُنا۔ کہ وہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوۂ حنین میں موجود تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ظہر ادا کر چکے: تو عینیہ بن حصن بن بدر نے اٹھ کر عامر بن اضبط کا (جو بنو قیس کا سردار تھا) خون بہا طلب کیا۔اس پر اقرع بن حابس اٹھا، اور اس نے محلم بن جثامہ کا جو بنو خندف کا سردار تھا، دفاع کیا۔ عینیہ نے کہا۔ میں اس سے ہر گز دست بردار نہیں ہوں گا، جب تک کہ قاتلوں کی عورتیں اتنا دُکھ نہ اٹھائیں جتنا کہ ہماری عورتوں کو اٹھانا پڑا ہے۔ اس موقعہ پر بنو یسث سے ایک شخص جس کا نام مطر تھا۔ اٹھ کھڑا ہُوا اور کہنے لگا: یا رسول اللہ! مجھے مقدس دینِ اسلام میں اس مقتول کے ۔۔۔
مزید
الثقفی: انہوں نے جاہلیت کا زمانہ پایا، اور تابعی ہیں۔ ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
ان کا شمار اہل بصرہ میں ہوتا ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے ان کی نسبت اسی طرح بیان کیا ہے۔ ابو عمر نے مزیدۃ العبدی لکھا اور عصری کا نام نہیں لیا۔ ابن الکلبی نے مزیدہ بن مالک بن ہمام بن معاویہ بن شبانہ بن عامر بن خطمہ بن محارب بن عمر و بن ودیعہ بن لکیز بن افصی بن عبد القیس لکھا ہے، لیکن عصری کی نسبت کا ذکر نہیں کیا۔ مگر ابن مندہ اور ابو نعیم نے انہیں عصری لکھا ہے اور کہا ہے کہ وہ ہود بن عبد اللہ بن سعد بن مزیدہ کے دادا تھے۔ ہود بن عبد اللہ العصری نے اپنے دادا مزیدہ سے روایت کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ کے ہاتھوں کو بوسا دیا۔ یحییٰ بن محمود نے اذناً بہ اسنادِ خود ابو بکر احمد بن عمرو سے روایت کی۔ کہ انہوں نے محمد بن صدران سے انہوں نے طالب بن حجیر العبدی سے۔ انہوں نے ہود العصری سے انہوں نے اپنے دادا سے سنا کہ ایک دن حضور اکرم ص۔۔۔
مزید
یہ صاحب اپنے بھائی حصن کے ساتھ قادسیہ کی جنگ میں شہید ہوئے۔ ہم ان کا نسب اِن کے باپ کے ترجمے میں بیان کریں گے دونوں بھائی لاولد مرے۔ ابن الکلبی نے اسی طرح بیان کیا ہے۔ ۔۔۔
مزید
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام رکھا۔ فتح مکہ کے موقع پر موجود تھے۔ ابو موسیٰ نے مختصراً اس کی تخریج کی ہے۔۔۔
مزید
بن عطارد: اِن کا ذکر صحابہ میں ہوا ہے، لیکن نہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت ثابت ہے نہ زیارت یہ صاحب اپنے زمانے میں اہلِ کوفہ کے سردار تھے جن دنوں یہ آذر بائجان کے حاکم تھے تو ہزار گھوڑوں پر سوار، ہزار آدمیوں نے حملہ کیا، جن میں اہلِ کوفہ بھی تھے۔ حماد بن سلمہ نے ابو عمران جونی سے اس نے محمد بن عمیر بن عطارد سے روایت کی کہ حضور اکرم اپنے بعض اصحاب کی محفل میں تشریک فرما تھے کہ جبریل نازل ہوئے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیٹھ میں انگلی چبھوئی اور جبریل ایک درخت کی طرف چل دیے جس میں پرندوں کے گھونسلے کی طرح دو نشست گاہیں تھیں، ایک میں جبریل علیہ السلام خود بیٹھ گئے اور دیے جس میں پرندوں کے گھونسلے کی طرح دو نشست گاہیں تھیں، ایک میں جبریل علیہ السلام خود بیٹھ گئے اور دوسرے میں حضور اکرم کو بٹھادیا۔ اس پر انھیں نور نے ڈھانپ لیا، چنانچہ جبریل علیہ السلام۔۔۔
مزید
انھیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میّسر آئی۔ ان کا شمار شامیوں میں ہوتا ہے ان سے جبر بن نفیر نے روایت کی۔ ہمیں یحییٰ بن محمود نے باسنادہ جو ابن عاصم تک پہنچتا ہے کتابۃً بتایا، اسے دجیم نے اسے ولید بن مسلم نے ثور بن یزید سے، اس نے خالد بن معدان سے اس نے جبیر بن نفیر سے اُس نے محمد بن عمیرہ سے جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے۔ روایت کی آپ نے فرمایا اگر کوئی آدمی پیدا ہوتے ہی اللہ کی عبادت میں سجدہ ریز ہوجائے اور مرتے دم تک اسی حالت میں پڑا رہے، تو قیامت کے دن جب اسے اس کا اجر و ثواب ملے گا، تو اس عمر بھر کی عبادت کو کمتر خیال کرے گا اور اس کی خواہش ہوگی کہ کاش اسے عبادت کا اور موقعہ مِلتا۔ ابنِ ابی عاصم نے اس کو اسی طرح موقو فاًر روایت کیا ہے اور یحییٰ بن سعد نے خالد بن معدان سے روایت کی ہے اور کہا ہے، کہ عتبہ بن عبد نے رسول اللہ صلی اللہ ۔۔۔
مزید
بن اسعد بن بیاضہ ب بسیع بن خلف بن جعثمہ بن سعد بن ملیح بن عمرو بن ربیعۃ الخزاعی اور وہ طلحہ الطلحات بن عبد اللہ بن خلف کا عمزاد تھا۔ اس کا نسب شباب العصفری بن خیاط نے بیان کیا اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ حدیث نقل کی کہ ہر اونٹ کے کوہان پر شیطان ہے ابن مندہ اور ابو نعیم نے یہی روایت کی ہے۔ ۔۔۔
مزید