اتوار , 02 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 19 April,2026

سیدنا محمّد بن ابی برزہ رضی اللہ عنہ

ابراہیم بن سعد نے عبد اللہ بن عامر سے اس نے ایک آدمی سے جس کا نام محمد بن ای برزہ تھا سنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کہ سفر میں روزہ رکھنا کوئی نیکی نہیں اس طرح ابراہیم بن سعد نے عبد اللہ سے، اس نے محمدک بن برزہ سے سنا، اور یہ سند صحیح تر ہے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن جدبن قیس رضی اللہ عنہ

بقولِ ابن قداح فتح مکّہ میں موجود تھے۔ ابو موسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن جابر بن غراب رضی اللہ عنہ

فتح مصر میں موجود تھے۔ ان کا شمار صحابہ میں ہے۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن زید الانصاری رضی اللہ عنہ

ان سے ابو حاتم الرازی نے تخریج کی عمرو بن قیس نے ابن ابی لیلیٰ سے، اُس نے عطا سے اُس نے محمد بن زید سے روایت کی کہ ایک دفعہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں شکار کا گوشت لایا گیا آپ نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میں نے احرام باندھا ہوا ہے۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن ضمرہ رضی اللہ عنہ

بن اسود بن عباد بن غنم بن سواد: حضور اکرم نے ان کا نام محمد رکھا تھا۔ فتح مکّہ کے موقعہ پر موجود تھے۔ اس کی تخریج ابو موسیٰ نے کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا مُحِرشْ الکعبی رضی اللہ عنہ

ابن ماکو لانے حرف اول پر پیش (ضمہ) اور حرف ثالث راکو مشدد کر کے کسرہ پڑھا ہے۔ ابو عمر نے بہ کسر میم و سکون حا بیان کیا ہے۔ علی بن مدینی آخر الذکر کو درست کہتا ہے۔ ابو عمر نے اسماعیل بن امیّہ سے اس نے مزاحم سے، اُس نے عبد العزیز بن عبد اللہ بن خالد بن اسید سے اس نے مخرش الکعبی سے روایت کی۔ کہ ایک رات کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جعرانہ سے نکلے اور پھر اس نے حدیث نقل کی۔ ابن المدائنی کہتا ہے۔ کہ مزاحم سے مراد مزاحم بن ابی مزاحم ہے اس سے ابن جریج وغیرہ نے روایت کی ہے اور اس سے مراد مزاحم بن زفر نہیں ہے۔ ابو حفص القلاس کا بیان ہے کہ مَیں مکہ کے ایک شیخ کو جس کا نام سالم تھا ملا۔ اور منی تک اس سے ایک اونٹ کرائے پر لیا۔ اُس نے مجھ سے یہ حدیث سنانے کی خواہش کی۔ کہنے لگا۔ محرش بن عبد اللہ میرا دادا تھا۔ پھر اُس نے وہ حدیث بیان کی اور نیز بتایا کہ کس طرح حضور اکرم صلی ۔۔۔

مزید

سیدنا محمد بن اسلم بن بجرۃ الانصاری رضی اللہ عنہ

بنو حارث بن خزرج کے بھائی تھے اُنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا اور اُن کے والد کو حضور کی صحبت میّسر آئی۔ محمد بن اسحاق نے عبد اللہ بن ابی بکر بن محمد بن عمرو بن حزم سے اسنے محمد بن اسلم بن بجرۃ الانصاری سے، جو بنو حارث بن خزرج کا بھائی تھا اور کافی بوڑھا ہو چُکا تھا۔ روایت کی کہ وہ جب بھی شہر میں آتا اور بازار میں خرید و فروخت کرچکتا اور واپس گھر کو لوٹتا اور چادر اُتار کر رکھتا تو اسے یاد آجاتا کہ اس نے مسجد نبوی میں دو رکعت نماز ادا نہیں کی، تو اسے اس فرو گزاشت پر افسوس ہوتا ہے کیونکہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا جو شخص اس شہر(مدینے) میں وارد ہو، اسے چاہیے کہ میری مسجد میں دو رکعت ادا کرے چنانچہ وہ پھر گھر سے لوٹ کر مدینۃ النبی میں آتا دو رکعت نماز ادا کرتا اور واپس چلا جاتا۔ ابن مندہ اور ابع نعیم نے مختصراً اسی طرح بیان کیا ہے ابو عمر ک۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن اسماعیل الانصاری رضی اللہ عنہ

محمّد بن ابی حمید نے محمد بن المنکدر سے اس نے محمّد بن انصاری سے روایت کی کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جبریل میرے پاس اللہ تعالیٰ کا پیغام لے کر آئے اس کے بعد راوی نے حدیث بیان کی ابن مندہ کا قول ہے کہ اسے اسماعیل بن ثابت بن قیس بن شماس نے دیکھا ابو نعیم کا قول ہے کہ یہ خیال غلط ہے کہ کیونکہ اسماعیل کا ثابت کی اولاد ہونا ثابت نہیں ہے بلکہ اصل میں محمّد بن ثابت ہے اور اسماعیل اور یاسف اس کے بیٹے تھے اور ابع نعیم نے محمٓد بن ابی حمید سے اس نے اسماعیل انصاری سے اس نے اپنے باپ سے اور اس نے اپنے دادا سے سُنا، ایک شخص نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے درخواست کی: یا رسول اللہ! مجھے مختصر سی نصیحت فرمائیے حضور نے فرمایا، جو کچھ لوگوں کے پاس دیکھے، اس سے اپنی توقعات منقتع کرلے اور طمع کو پاس نہ آنے دے کیونکہ یہ دائمی فقر ہے۔ بہ ۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد بن انس بن فضالۃ الانصاری الظفری رضی اللہ عنہ

اور ایک روایت میں ان کا نام محمّد بن فضالہ بن انس ہے ان کے والد اور دادا دونوں کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت میّسر آئی ادریس بن محمّد بن یونس بن محمّد بن انس بن فضالہ الظفری نے اپنے دادے یونس بن محمّد سے اس نے اپنے باپ محمّد بن انس سے روایت کی کہ میں ابھی چند ہفتوں کا تھا کہ حضور ہمارے گھر تشریف لائے اور مجھے آپ کے سامنے لایا گیا حضور نےمیرے سر پر ہاتھ پھیرا اور دعائے برکت فرمائی نیز فرمایا کہ اس کا نام میرے نام پر رکھ دو، لیکن کنیّت نہ رکھنا مَیں نے حجۃ الوداع کے موقعہ پر حضور کے ساتھ حج کیا تھا۔ اور عمرو بن ابی فروہ نے اپنے اہلِ خانہ کے عمر رسیدہ لوگوں سے روایت کی کہ انس بن فضالہ غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے انھیں محمد بن انس اٹھا کر حضور اکرم کے سامنے لائے چنانچہ حضور نے عذق کا ٹیل انھیں بخش دیا، جسے نہ ہبہ کیا جاسکتا اور نہ بیچا جاسکتا ہے فضیل بن سلیم۔۔۔

مزید

سیدنا محمّد الانصاری رضی اللہ عنہ

ایک روایت میں الدوسی ہے: انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت حاصل ہوئی تھی اور ان کا ذکر حضرت انس کی حدیث میں ہے حماد نے ثابت سے انھوں نے حضرت انس سے روایت کی کہ ایک شخص نے رسولِ کریم سے دریافت کیا۔ یا رسول اللہ! قیامت کب آئے گی اس وقت آپ کے پاس انصار کا ایک لڑکا بیٹھا ہوا تھا جس کا نام محمّد تھا حضور اکرم نے فرمایا اگر یہ لڑکا زندہ رہا تو اس کے بڑھاپے تک پہنچنے سے پہلے قیامت آجائے گی۔[۱] اس حدیث کو حماد بن زید نے معبد بن ہلال سے اور اُس نے حضرت انس سے روایت کی لیکن انھوں نے لڑکے کا نام نہیں لیا۔ روایت ہے کہ اس کا نام سعد تھا اسی روایت کو ہشام بن عروہ نے اپنے باپ سے، انھوں نے حضرت عائشہ سے روایت کی لیکن لڑکے کے نام نہیں لیا۔ ابن مندہ اور ابو نعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ [۱۔ حیرت ہے کہ ابن اثیر نے اسے حدیث کیسے جانا اسے کون حضور سے منسوب کرسکتا ہے۔ مترجم]۔۔۔

مزید