بن عمرو التمیمی: ان کا ذکر ان لوگوں میں ملتا ہے، جو بنو تمیم کے اس وفد میں شامل تھے۔ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو التمیمی: ان کا ذکر ان لوگوں میں ملتا ہے، جو بنو تمیم کے اس وفد میں شامل تھے۔ جو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تھا۔ ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو بن ثابت الانصاری: ان کا تعلق بنو عمرو بن عوف سے تھا۔ اور ابوحبہ ان کی کنیت تھی۔ ابو حاتم الرازی نے بھی ان کا ذکر اسی طرح کیا ہے۔ ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ ہم کنیتوں کے عنوان کے تحت بھی ان کا ذکر کریں گے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو الراسی: طارق بن علقمہ نے ان سے روایت کی ہے اور ابو عمر نے تخریج کی ہے اور اس کا خیال ہے کہ یہ صاحب الراسی کی بجائے الکلابی ہیں۔ جن سے زرارہ بن اوفی نے روایت کی ہے۔ کیونکہ رواسا سے مراد ابن الکلاب ہی ہے اور اس کا ذکر ہم مالک العقیلی کے تحت کر آئے ہیں۔ (باوجود تلاش مجھے یہ نام نہیں ملا)۔ ۔۔۔
مزید
بن جمیلہ بن السباق بن عبدالدار: موسیٰ بن عقبہ نے ان کا ذکر ان لوگوں میں کیا ہے، جو غزوۂ بدر میں موجود تھے۔ ابو عمر نے اختصاراً اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
امام بخاری نے انھیں صحابہ میں شمار کیا ہے اور ان سے ایک حدیث بھی مروی ہے۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن اسد بن عبد مناہ بن عائذ بن ابن السعد العشیرۃ السعدی العائذی: بقولِ ابن الکلبی یہ صحابی حضور کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے۔ ۔۔۔
مزید
بن عمرو القشیری: انھیں کلابی، القصیلی اور انصاری بھی لکھا گیا ہے۔ اسی طرح نام کے بارے میں بھی کئی روایات ہیں: مالک بن عمرو، عمرو بن مالک، ابی بن مالک اور مالک بن حارث وغیرہ۔ علی بن زید نے زرارہ بن اوفی سے اس نے مالک بن عمرو القشیری سے روایت بیان کی کہ انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا کہ جس نے کسی مسلمان غلام یا لونڈی کو آزاد کیا۔ اس نے نار جہنم سے اپنا بچاؤ کرلیا۔ اس کے آزاد کردہ جسم کے بدلے میں اس کے جسم کو آزادی مل جائے گی۔ ان سے صرف اس حدیث کو علی بن زید نے زرارہ سے اس نے مالک بن عرمو سے (مذکورہ بالا اختلاف کے مطابق) بیان کیا ہے کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے ایک مسلمان یتیم بچے کو اپنی تحویل میں لے لیا۔ اس حدیث کا ذکر پہلے آچکا ہے۔ امام بخاری نے مالک بن عمرو عقیلی کو مالک بن عمرو القشیری سے مختلف آدمی قرار دیا ہے۔ ابو حاتم ۔۔۔
مزید
بن عمرو السلمی: یہ لوگ بنو عبدالشمس کے حلیف تھے۔ یہ صحابی اپنے دو بھائیوں ثقف اور مدلج کے ساتھ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ جناب مالک کو جنگ یمامہ میں شہادت نصیب ہوئی۔ ابن اسحاق کی روایت کے مطابق، جناب مالک اور ان کے دو بھائی جو غزوۂ بدر میں شریک ہوئے تھے۔ وہ مدلج اور کثیر تھے۔ اس کی تینوں نے تخریج کی ہے، لیکن ابن مندہ اور ابونعیم کا خیال ہے کہ مالک بن عمرو، ثقف بن عمرو کے بھائی تھے اور یہ لوگ بنو حجر سے ہیں، جو بنو سلیم سے منسوب ہیں۔ لیکن ابو عمر کا کہنا ہے کہ یہ لوگ سلمی ہیں، جو بنو عبد شمس کے حلیف تھے۔ ہم ’’ثقف‘‘ کے لفظ کے تحت لکھ آئے ہیں کہ یہ لوگ اسدی ہیں یا اسلمی ہیں، لیکن انھوں نے وہاں یہ نہیں کہا تھا کہ جناب مالک اسلمی ہیں۔ اس لیے ابو عمر کو اب سوچنا چاہیے اور غور کرنا چاہیے۔ ابن الکلبی نے جناب مالک کا ذکر کیا ہے اور لکھا ہے کہ مالک، ثقف اور صفوان عمرو کے ۔۔۔
مزید
سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ بن عمرو بن عتیک بن عمرو بن مبذول اور وہ عامر بن مالک بن النجار انصاری، خزرجی، نجاری ہیں: مالک اس جمعے کے دن فوت ہوئے تھے جس دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مسلح ہوکر اُحد کے لیے روانہ ہوئے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور پھر اُحد کی طرف کوچ فرمایا تھا۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید