ابو السائب الثقفی: عطا بن سائب کے دادا تھے۔ انھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی کہ جس نے مرتے وقت کلمۂ شہادت پڑھا، اسے جنت میں داخلہ مل جائے گا۔ ابو نعیم اور ابوموسیٰ نے تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن سنان بن مالک النمری: یہ صحابی صہیب بن سنان کے بھائی تھے۔ اسی نے ابو عمر پر بطورِ استدراک بیان کیا۔ ۔۔۔
مزید
بن عبادۃ الہمدانی: یہ صاحب مالک بن مرہ اور عقبہ بن نمرہ کی معیت میں ہمدانی وفد کے ساتھ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوکر ایمان لائے۔ ابو عمر نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن عقبہ یا عقبہ بن مالک : (کہتے ہیں، آخر الذکر صحیح ہے) انہیں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب ہوئی۔ ان سے بشر بن عاصم نے روایت کی ہے۔ ابو عمر اور ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن التیہان بن مالک بن عبید بن عمرو بن عبدالاعلم بن زعوراء بن جشم بن حارث بن خزرج بن عمرو (یعنی النبیت بن مالک بن اوس انصاری الاوسی مراد ہے) ایک روایت کی رو سے وہ بلی بن عمرو بن الحاف ابن قضاعہ کے قبیلے سے ہے۔ جو بنو عبدالاشہل کے حلیف تھے اور مالک بن التیہان ان چھ انصار میں شامل تھے۔ جنھوں نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقبہ اول اور ثانی میں ملاقات کی تھی اور بنو عبدالاشہل کی روایت کے مطابق مالک رضی اللہ عنہ پہلے انصاری ہیں جنہوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی، بنو النجار کا قول ہے کہ اسعد بن زرارہ نے سب سے پہلے بیعت کی، بنو سلمہ کی رائے میں یہ اعزاز کعب بن مالک کو نصیب ہوا ایک اور روایت کے مطابق البراء بن معرور نے اول از ہمہ بیعت کی۔ مالک اور اسید بن حضیر بنو عبدالاشہل کے نقیب تھے۔ اول الذکر بدر و احد کے علاوہ تمام غزوات میں شریک ۔۔۔
مزید
بن الحسن: بقول جعفر یحییٰ بن یونس نے اس کی تخریج کی ہے، لیکن میرے خیال میں اسے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صحبت نصیب نہیں ہوئی، حسن بن علی ا لحلوانی نے عمران بن ابان سے اس نے مالک بن حسن بن مالک سے اس نے اپنے والد سے اس نے دادا سے روایت کی، کہ ایک دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر بیٹھے تو جبریل آئے اور کہا یا رسول اللہ کہیے آمین، آپ نے تعمیل کی، پھر آپ نے دوسرے پائے پر قدم رکھا، تو جبریل نے پہلی بات کو دہرایا اور حضور نے بھی اپنی بات دہرائی، پھر جبریل نے کہا جس نے اپنے ماں باپ یا دونوں میں سے کسی ایک کو پایا (اور ان کی کوئی خدمت نہ کی) اور مرگیا، وہ جہنمی ہے، خدا اسے برباد کرے، حضور نے آمین کہی، اس طرح جس نے رمضان کے روزے رکھ کر خدا سے مغفرت طلب نہ کی، خدا اسے بھی برباد کرے، حضور نے آمین کہی پھر جبریل نے کہا جس کے سامنے آپ کا۔۔۔
مزید
بن حمدۃ القشیری: ہم ان کا نسب ان کے بھائی معاویہ کے تذکرے میں بیان کریں گے۔ ہمیں عبد الوہاب بن ہبۃ اللہ نے عبداللہ بن احمد سے روایت کی کہ مجھ سے میرے باپ نے عفان سے اس نے حماد بن سلمہ سے اس نے ابو قزعہ سوید بن جحیر الباہلی سے: اس نے حکیم بن معاویہ سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ اس کے بھائی مالک نے اسے کہا: ماویہ! میرے ہمسائے کو محمد رسول اللہ نے پکڑ لیا ہے، آؤ ان کے پاس چلیں وہ تمہیں پہچانتے ہیں، لیکن مجھے نہیں پہچانتے میں اس کے ساتھ حضور کی خدمت میں حاضر ہوا مالک نے گزارش کی کہ اس کے ہمسائے کو چھوڑ دیا جائے کیونکہ وہ سب مسلمان ہوچکے ہیں، حضور نے توجہ نہ فرمائی بعد میں اس آدمی کو آزاد فرمادیا، ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن الخشخاش العنبری (عبید اور قیس کے بھائی) حصین بن ابوالحر سے روایت ہے کہ جناب مالک اور ان کے دو چچا قیس اور عبید حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور اپنے بنو عم میں سے ایک آدمی کے خلاف شکایت کی: آپ نے انھیں فرمان امن لکھ دیا ہم یہ واقعہ عبید بن الخشخاش کے تذکرےمیں بیان کر آئے ہیں۔ تینوں نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔
مزید
بن خلف بن عمرو بن وارم بن اسلم بن افصی (نعمان کے بھائی) دونوں بھائی اسلامی لشکر میں غزوۂ احد میں طلایہ کی خدمت پر متعین تھے، دونوں اس غزوہ میں شہید ہوگئے اور ایک ہی قبر میں مدفون ہوئے۔ ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے ۔ سلسلۂ نسب اسی طرح ہے لیکن ابوموسیٰ نے اس کا ذکر نہیں کیا۔ جن کا ذکر ابن حبیب اور ابن کلبی نے کیا ہے، وہ دونوں خلف بن عوف بن دارم بن عمرو بن وائلہ بن سہم بن مازن بن الحارث بن سلا ماں بن اسلم بن حارثہ کے بیٹے تھے۔ ۔۔۔
مزید
بن ابی خولی بن عمرو بن خیمثہ بن الحارث بن معاویہ بن عوف بن سعید بن جعفی الجعفی بنو عدی بن کعب کا حلیف تھا۔ ابنِ اسحاق نے ان کا سلسلۂ نسب یہی بیان کیا ہے۔ اس کے علاوہ اور لوگوں نے جعفی بن ندحج لکھا ہے، لیکن ابن سلام اور ابن ہشام نے انھیں عجلی بن نجیم سے منسوب کرکے عجلی لکھا ہے، لیکن یہ غلط ہے کیونکہ صحیح جعفی ہے۔ ہم ان کا نسب مکمل طور پر ان کے بھائی خوفی کے تذکرے میں بیان کر آئے ہیں۔ یہ صاحب غزوۂ بدر میں موجود تھے۔ ابن اسحاق لکھتا ہے کہ ان دونوں بھائی کی کوئی اولاد نہ تھی۔ ۔۔۔
مزید