ہفتہ , 27 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 13 June,2026

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن ربیعہ بن البدن بن عامر بن عوف بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج ابواسید الساعدی: ابن ہشام نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ جناب مالک کے دادا کا نام البدن تھا نہ کہ البدی جیسا کہ ابراہیم بن عقبہ نے اپنے چچا موسیٰ سے بروایت الزہری بیان کیا ہے۔ یہ صحابی انصاری، خزرجی، ساعدی تھے۔ غزوۂ بدر اور احد سمیت تمام غزوات میں شریک رہے۔ محمد بن اسحاق وغیرہ اور میرے چچا نے شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ سے پیشتر یہ بات روایت کی ہے۔ ہمیں ابوجعفر نے اپنے استاد نے یونس بن بکیر سے اس نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بنو ساعدہ کے بعض اشخاص کے حوالے سے بیان کیا کہ میں نے ابو اسید مالک بن ربیعہ کو کہتے سنا کہ اگر میں بدر کے موقع پر تمہارے ساتھ ہوتا تو میں تمہیں وہ گھاٹی دکھاتا جہاں میں نے بلاشک و شبہ فرشتو۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن ربیعہ السلوبی: ان کی کنیت ابومریم تھی، اور مرہ بن صعصعہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن کی اولاد سے تھے۔ مرہ کی اولاد اپنی والدہ سلول بنت ذہل بن شیبان بن ثعلبہ سے منسوب تھی۔ جو یزید بن ابی مریم کا والد تھا۔ یہ صحابی حدیبیہ کے موقع پر اسلامی لشکر میں موجود تھے اور حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت رضوان کی تھی اور ان کا شمار کوفیوں میں تھا۔ ابویاسر بن ابی حبہ نے اپنے والد کے اسناد سے جو عبداللہ بن احمد تک جاتا ہے، بیان کیا کہ مجھ سے میرے باپ نے کہا، کہ ہم سے شریح بن نعمان نے بیان کیا کہ مجھ سے اوس بن عبداللہ ابومقاتل سلولی نے بیان کیا کہ مجھ سے یزید بن ابی مریم نے اپنے والد سے روایت کی کہ اس نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا اے اللہ! تو سر منڈوانے والوں کو معاف فرما۔ ایک آدمی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے تین ب۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن ربیعہ بن البدن بن عامر بن عوف بن حارثہ بن عمرو بن خزرج بن ساعدہ بن کعب بن خزرج ابواسید الساعدی: ابن ہشام نے ابن اسحاق سے روایت کی ہے کہ جناب مالک کے دادا کا نام البدن تھا نہ کہ البدی جیسا کہ ابراہیم بن عقبہ نے اپنے چچا موسیٰ سے بروایت الزہری بیان کیا ہے۔ یہ صحابی انصاری، خزرجی، ساعدی تھے۔ غزوۂ بدر اور احد سمیت تمام غزوات میں شریک رہے۔ محمد بن اسحاق وغیرہ اور میرے چچا نے شہادتِ عثمان رضی اللہ عنہ سے پیشتر یہ بات روایت کی ہے۔ ہمیں ابوجعفر نے اپنے استاد نے یونس بن بکیر سے اس نے ابن اسحاق سے روایت کی کہ مجھ سے عبداللہ بن ابی بکر بن حزم نے بنو ساعدہ کے بعض اشخاص کے حوالے سے بیان کیا کہ میں نے ابو اسید مالک بن ربیعہ کو کہتے سنا کہ اگر میں بدر کے موقع پر تمہارے ساتھ ہوتا تو میں تمہیں وہ گھاٹی دکھاتا جہاں میں نے بلاشک و شبہ فرشتو۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

الرواسی: وکیع بن جراح نے اپنے والد سے اس نے طارق بن علقمہ بن صدری سے اس نے عمرو بن مالک الرواسی سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ اس نے بنو کلاب کے ساتھ مل کر بنو اسد پر حملہ کیا، چنانچہ ان کے آدمیوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں سے زنا کیا، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ناشدنی کا علم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پرلعنت بھیجی اور ان کے لیے بد دعا کی، جب مالک کو پتہ چلا تو ا پنے ہاتھوں کو باندھ کر دربار رسالت میں حاضر ہوا اور معافی کی تین بار درخواست کی۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرلیا، مالک نے کہا بخدا اگر خدا اسے اس کی خوشنودی کی درخواست کی جائے، تو وہ مان لیتا ہے، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اس کی طرف پھیرا، مالک نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے کیے پر نادم ہوں اور اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں، حضور اکرم ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

الرواسی: وکیع بن جراح نے اپنے والد سے اس نے طارق بن علقمہ بن صدری سے اس نے عمرو بن مالک الرواسی سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ اس نے بنو کلاب کے ساتھ مل کر بنو اسد پر حملہ کیا، چنانچہ ان کے آدمیوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں سے زنا کیا، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ناشدنی کا علم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پرلعنت بھیجی اور ان کے لیے بد دعا کی، جب مالک کو پتہ چلا تو ا پنے ہاتھوں کو باندھ کر دربار رسالت میں حاضر ہوا اور معافی کی تین بار درخواست کی۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرلیا، مالک نے کہا بخدا اگر خدا اسے اس کی خوشنودی کی درخواست کی جائے، تو وہ مان لیتا ہے، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اس کی طرف پھیرا، مالک نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے کیے پر نادم ہوں اور اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں، حضور اکرم ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

الرواسی: وکیع بن جراح نے اپنے والد سے اس نے طارق بن علقمہ بن صدری سے اس نے عمرو بن مالک الرواسی سے اس نے اپنے باپ سے روایت کی کہ اس نے بنو کلاب کے ساتھ مل کر بنو اسد پر حملہ کیا، چنانچہ ان کے آدمیوں کو قتل کیا اور ان کی عورتوں سے زنا کیا، جب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو اس ناشدنی کا علم ہوا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پرلعنت بھیجی اور ان کے لیے بد دعا کی، جب مالک کو پتہ چلا تو ا پنے ہاتھوں کو باندھ کر دربار رسالت میں حاضر ہوا اور معافی کی تین بار درخواست کی۔ مگر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے منہ پھیرلیا، مالک نے کہا بخدا اگر خدا اسے اس کی خوشنودی کی درخواست کی جائے، تو وہ مان لیتا ہے، اس پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ مبارک اس کی طرف پھیرا، مالک نے عرض کیا یا رسول اللہ! میں اپنے کیے پر نادم ہوں اور اللہ سے مغفرت مانگتا ہوں، حضور اکرم ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن سعد مجہول: ان کا شمار اعرابِ بصرہ میں ہوتا ہے۔ عبدالرحمٰن بن عمرو بن جبلہ نے ملیکہ بنت الحارث المالکیہ سے جس کا تعلق بنو مالک بن سعد سے ہے، روایت کی اس نے کہا کہ میری ماں نے میرے دداا مالک بن سعد سے سنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جس شخص نے نماز صبح با جماعت ادا کی، گویا اس نے رات عبادتِ الٰہی میں صرف کی نیز انھوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جرابوں پر مسح کے بارے میں پوچھا، مسافر کے لیے تین دن اور مقیم کے لیے ایک دن کی اجازت ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

ابوالسمح: یہ صحابی حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے خادم تھے اور یحییٰ بن یونس نے اس روایت میں ان کا ذکر کیا ہے۔ جو جعفر نے ان سے نقل کی ہے حاکم ابو احمد نیشاپوری راوی ہیں کہ ابو السمح بعد میں کہیں گم ہی ہوگئے کیونکہ ان کی جائے وفات کا علم نہیں ہوسکا۔ ہم بعد میں ان کا ذکر کنیتوں کے عنوان کے تحت بیان کریں گے۔ ابوموسیٰ نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن ضمرۃ الضمری: کوفے میں سکونت اختیار کرلی تھی، فضیل بن مرزوق نے جبلہ بنت مصفح سے روایت کی ہے کہ ان کے چچا مالک بن ضمرہ نے اپنے ہتھیاروں کے بارے میں وصیت کی کہ ان کی وفات کے بعد مہاجرین بنو ضمرہ کو اس شرط پر دے جائیں کہ وہ انھیں اہل بیت کے خلاف استعمال نہ کریں۔ جناب مالک نے امیرِ معاویہ کے زمانے میں وفات پائی۔ جناب جبلہ رضی اللہ عنہ کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مصاحبت کا موقع میسر آیا۔ بن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )ام سلمی( رضی اللہ عنہا)

ام سلمی دختر ابوامیہ،ابوموسیٰ نے اذناً،ابو سعد،محمد بن علی الکاتب اور ابو علی حسن بن احمد ابوالشیخ سے،انہوں نے زکریا سادجی سے،انہوں نے محمد بن حارث بن مدلج مخزومی سے،انہوں نے عمرو بن عثمان بن سہل بن ابی حثمہ سے روایت کی کہ انہوں نے ام سلمہ دختر ابوامیہ سے سنا کہ رسولِ کریم نے شوال میں نکاح کیا،اور اسی مہینے میں شبِ زفاف منائیابوالشیخ نے کتاب النکاح میں اسی طرح بیان کیا ہے،اور ایک روایت میں ہے کہ عمروبن عثمان نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کی،اور شاید ام سلمہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی،واللہ اعلم،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید