جمعہ , 29 شوّال 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 17 April,2026

(سیّدہ )ام سلمی( رضی اللہ عنہا)

ام سلمی دختر ابوامیہ،ابوموسیٰ نے اذناً،ابو سعد،محمد بن علی الکاتب اور ابو علی حسن بن احمد ابوالشیخ سے،انہوں نے زکریا سادجی سے،انہوں نے محمد بن حارث بن مدلج مخزومی سے،انہوں نے عمرو بن عثمان بن سہل بن ابی حثمہ سے روایت کی کہ انہوں نے ام سلمہ دختر ابوامیہ سے سنا کہ رسولِ کریم نے شوال میں نکاح کیا،اور اسی مہینے میں شبِ زفاف منائیابوالشیخ نے کتاب النکاح میں اسی طرح بیان کیا ہے،اور ایک روایت میں ہے کہ عمروبن عثمان نے ابوبکر بن سلیمان بن ابی حثمہ سے روایت کی،اور شاید ام سلمہ نے حضرت عائشہ سے روایت کی،واللہ اعلم،ابوموسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن صعصعۃ الانصاری الخزرجی المازنی: ان کا تعلق مازن بن بخار سے تھا۔ یحییٰ بن محمود نے اس اسناد سےجو ابوالحسین مسلم بن حجاج تک جاتا ہے بیان کیا کہ ہم سے محمد بن منشی نے اس سے محمد بن ابی عدی نے اس نے سعید سے اس نے قتادہ سے، اس نے انس بن مالک سے اس نے مالک بن صعصعہ سے، جو ان کے قبیلے سے تعلق رکھتا تھاسنا! اس نے کہا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ آپ بیداری اور نیند سے ملتی جلتی حالت میں کعبے کے پاس تھے۔ کہ حضور نے سنا کہ ایک شخص دو (ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہ) کے درمیان تیسرے کو بلا رہا ہے آپ اس کے ساتھ چل دیے پھر سونے کا ایک تھال لایا گیا جس میں آب زمزم تھا پھر آپ کا سینہ (آپ نے اشارہ کرکے فرمایا) یہاں سے وہاں تک کھولایا گیا جناب قتادہ کہتے ہیں کہ میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا کہ حضور کا اس ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عامر بن ہانی بن خفاف: وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو انھوں نے مندرجہ ذیل شعر ایک نعتیہ قصیدہ کا پڑھا اَتَیْت النبی علی نایہ فبایعتہ غیر مستنکر ترجمہ: میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں باوجود بعد مسافت کے حاضر ہوا اور خوشی سے ان کی بیعت کرلی۔ جناب مالک نے اس قصیدے میں (جس میں یہ شعر مذکور ہے) قادسیہ کی جنگ اور فتح عراق کا بھی ذکر کیا ہے، نیز آ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عبداللہ بن خیبری بن افلت بن سلسلہ بن عمرو بن سلسلہ بن غنم بن ثوب بن معن بن عتود بن سلامان بن عنین بن سلامان بن ثعل بن عمرو بن الغوث بن طئی الطائی: حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ ان کے دو بیٹے تھے، مروان اور ایاس اور دونوں شاعر تھے۔ یہ روایت ابن الکلبی کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عبداللہ الخزاعی: ان کا شمار کوفیوں میں کیا جاتا ہے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز پڑھتے اور لڑائیوں میں شریک ہونے کا انھیں موقعہ ملا۔ ایک روایت میں ان کا نام مالک بن عبیداللہ بیان کیا گیا ہے، ایک روایت میں ابن ابی عبیداللہ آیا ہے لیکن زیادہ تر مالک بن عبیداللہ ہی مشہور ہے۔ ابوالفرج ثقفی نے اپنے اسناد میں جو ابن ابی عاصم تک پہنچتا ہے، بیان کیا ہے کہ ہم سے ابوبکر بن ابی شیبہ نے اس سے مروان بن معاویہ نے اس نے منصور بن حبان سے، اس نے سلیمان بن بشر الخزاعی سے اس نے اپنے ماموں مالک بن عبداللہ سے بیان کیا کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوات میں شریک رہے اور انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نمازیں بھی پڑھیں، لیکن وہ کہتے میں نے کوئی ایسا شخص نہیں دیکھا جو فرض نمازوں میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرح۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عبدۃ الہمدانی: ان کا ذکر اس مکتوب میں ہے، جو زرعہ بن یوسف بن ذی یزن نے حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں اس وقت تحریر کیا تھا۔ جب اس نے معاذ بن عبداللہ بن زید، مالک بن عبادہ اور عقبہ بن عمرو کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا تھا اور اُن لوگوں کو آپ سے متعارف کرایا تھا۔ ابن مندہ اور ابونعیم نے اس کی تخریج کی ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن عتاہیہ بن حزب بن سعد الکندی: یہ صحابی مصری تھے۔ بکر بن ابراہیم نے ابن لہیعہ سے، اس نے یزید بن ابی حبیب سے، اس نے مخیس بن ظبیان سے۔ اُس نے عبدالرحمان بن حسان سے اس نے بنو جذام کے ایک آدمی سے اس نے مالک بن عتابیہ سے سنا کہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم میں سے جو شخص عشاء کو پائے اسے قتل کردے (عشاء ایک شاعر کا نام ہے جو بدگو شاعروں کی طرح حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہجو کرتا تھا) یحییٰ القطان نے ابن لہیعہ سے اسی سند اورمتن سے یہ روایت بیان کی ہے اور محمد بن معاویہ نے بھی ابن لہیعہ سے اسی طرح روایت کی ہے۔ قتیبہ نے بھی ابن لہیعہ سے روایت کی ہے، لیکن اُس نے نہ مخیس کا ذکر کیا ہے اور نہ عبدالرحمٰن بن حسان کا۔ ابویاسر نے اپنی سند سے ہمیں عبداللہ بن احمد سے روایت کی ہے کہ میرے والد نے مجھے بتایا کہ ہم سے موسیٰ بن داؤدنے بیان کیا کہ ہم سے ابن لہیعہ نے۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن ایاس الانصاری الخزرجی: یہ صحابی غزوۂ احد میں شہید ہوئے تھے۔ ابن اسحاق نے ان کا ذکر نہیں کیا۔ ہاں البتہ ابوعمر نے مختصراً ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن بحینہ: ان کی حدیث حماد بن سلمہ نے، سعید بن ابراہیم سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے انھوں نے مالک بن بحینہ سے یوں بیان کی، کہ (ایک دن) صبح کی نماز ادا کی جاچکی تھی، کہ ایک شخص نے اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کے پاس گئے تو باقی لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں اسی طرح ادا کیا کرتے ہو؟ شعبہ، ابوعوانہ وغیرہ نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے اور یونس بن محمد المعروف نے ابراہیم بن سعد سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے حفص بن عاصم سے اور اس نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے اور اس نے اپ نے باپ سے روایت کی، لیکن مشہور یہ ہے کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہی روایت درست ۔۔۔

مزید

سیّدنا مالک رضی اللہ عنہ

بن بحینہ: ان کی حدیث حماد بن سلمہ نے، سعید بن ابراہیم سے، انھوں نے حفص بن عاصم سے انھوں نے مالک بن بحینہ سے یوں بیان کی، کہ (ایک دن) صبح کی نماز ادا کی جاچکی تھی، کہ ایک شخص نے اُٹھ کر دو رکعت نماز ادا کی، حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اٹھ کر اس کے پاس گئے تو باقی لوگ بھی اس کے اردگرد جمع ہوگئے، حضور صلی اللہ علیہ وسلم اس آدمی سے مخاطب ہوکر فرمایا کیا تم صبح کی چار رکعتیں اسی طرح ادا کیا کرتے ہو؟ شعبہ، ابوعوانہ وغیرہ نے یہ حدیث سعد بن ابراہیم سے اور یونس بن محمد المعروف نے ابراہیم بن سعد سے اس نے اپنے باپ سے، اس نے حفص بن عاصم سے اور اس نے عبداللہ بن مالک بن بحینہ سے اور اس نے اپ نے باپ سے روایت کی، لیکن مشہور یہ ہے کہ عبداللہ بن مالک بن بحینہ نے رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی اور یہی روایت درست ۔۔۔

مزید