اتوار , 07 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 18 October,2026

(سیّدہ)آمنہ (رضی اللہ عنہا)

آمنہ رضی اللہ عنہا ،دختر سعد بن وہب جو ابوسفیان کی بیوی تھیں،ابوعمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عاتکہ( رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر ولید بن مغیرہ مخزومی،خالد بن ولید کی ہمشیرہ اور صفوان بن امیہ جمحی کی زوجہ تھیں، صفوان کی چھ بیویاں تھیں،جب اسلام قبول کیا،تودو کو طلاق دے دی،اور عاتکہ کو صفان نے حضرت عمر کے عہد خلافت میں طلاق دی،ہم اس واقعے کو ام وہب کے ترجمے میں بیان کریں گے، ابوموسیٰ نے انکا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

حضرت علامہ عبداللہ ابوبکر الملا رحمۃ اللہ علیہ

۔۔۔

مزید

(سیّدہ)اثیلہ(رضی اللہ عنہا)

اثیلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،دختر راشد ان کا قصّہ ہم عامربن مرقش کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،ابو موسیٰ نے مختصراًذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)اسیرہ(رضی اللہ عنہا)

اسیرہ انصاریہ،ان سے حمیصہ دختر یاسر نے روایت کی،ابوعمر نے اختصار سے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)آمنہ (رضی اللہ عنہا)

آمنہ رضی اللہ عنہا دختر خلف الاسلمیہ مزحومہ (بشرطیکہ اس کے بارے میں حدیث ثابت ہوجائے) ابو موسیٰ مدینی نے عائشہ دختر عمر بن سلہب،والدۂ حافظ بن لفتوانی سے روایت کی،کہ انہوں نے ابوالقاسم یوسف بن محمد بن یوسف خطیب الہمدانی سے اجازۃً انہوں نے ابوالعباس احمد بن ابراہیم بن برکان سے ،انہوں نے ابو جعفر بن محمد بن احمد صغار سے ،انہوں نے ابو یزید محمد بن یحییٰ بن خالد سے، انہوں نے محمداحمدبن صالح سے،انہوں نےبکر بن یونس حنفی سے ،انہوں نے مبارک بن فضالہ سے،انہوں نے حسن سے(ح) انہوں نے ابو عمران نابینا موسیٰ بن خلیل سے،انہوں نے محمد بن حارث سے،انہوں نے مبارک بن فضالہ سے،انہوں نے آمنہ سے روایت کی کہ جب اس سے وہ گناہ سرزد ہو ا تو،وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی،اور کہا،یا رسول اللہ! میں شادی شدہ عورت ہوں اور میراخاوند نمازی ہے،چنانچہ میں زنا کا ارتکاب کر ب۔۔۔

مزید

شیخ ابوالحسن علی روزی بن محمود بن ابراہیم قدس سرہ

آپ وقت کے عظماء مشائخ سے تھے ابوالحسن حضری﷫ کے مرید تھے شیخ عبدالرحمٰن سلمٰی سے صحبت حاصل کی آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک ہزار مشائخ سے ملاقات اور صحبت کا موقعہ ملا ہے اور ہر ایک سے ایک ایک واقعہ یاد ہے کتاب رباط روزی کی تصنیف بیان کی جاتی ہے جسے آپ نے اپنے پیرومرشد ابوالحسن حصری کے لیے تصنیف کی آپ رمضان میں ۴۵۱ھ میں فوت ہوئے۔ رفت چوں زین جہاں بخلد برین عارف زندہ دل بگو تاریخ ۴۵۱ھ ۔۔۔

مزید

مولوی محبوب عالم صاحب گجراتی

آپ کا وطن موضع سیدا تحصیل پھالیہ ضلع گجرات پنجاب تھا۔ علوم دینیہ کی تحصیل کے لیے آپ ہندوستان گئے۔ اور فارغ التحصیل ہوکر مدرسہ اسلامیہ کرنال میں مدرس مقرر ہوئے۔ حضرت صاحب کے فقر کا آواز ہ سن کر کرنال سے حاضر خدمت ہوئے۔ اور بیعت ہوکر واپس چلے گئے۔ پھر تین مہینے کے بعد ملازمت سے مستعفی ہوکر انبالہ چلے آئے۔ یہاں آپ کے آنے پر مدرسہ توکلیہ جاری ہوا۔اور آپ گیارہ برس حضرت صاحب کی خدمت میں رہے۔ آپ سے نواحی گجرات میں بہت فیض ہوا اور بہت سے لوگ مرید ہوئے۔ آپ نے حضرت صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حالات میں کتاب ذکر خیر لکھی ہے۔ رمضان ۱۹۱۷ء میں آپ کا وصال ہوا۔ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ ۔۔۔

مزید

حضرت حماد دیاس بن مسلم قدس سرہٗ

ابو عبداللہ کنیت۔ حماد بن مسلم دیاس نام۔ دیاس دوشاب فروش کو کہتے ہیں اور دوشاب انگور یا کھجور کے شیرہ کو کہتے ہیں جو باسی اور ترش ہوچکا ہو۔ اسی اعتبار سے اس کو دوش آب یعنی باسی کہا جاتا ہے۔ (نیز اس کے معنی ٹھنڈا پانی بیچنے والے کے بھی ہیں) اپنے زمانے کے پیرانِ کبار، عارفِ اسرار اور صاحبِ خوارق و کرامت میں سے تھے۔ حضرت غوثِ اعظم کے پیر بھائی تھے۔ حضرت ثقلین اکثر آپ کی خدمت میں جاتے تھے اور فوائد عظیم حاصل کرتے تھے۔ اگرچہ اَن پڑھ تھے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کو علم لدنی عطا فرماکر دولتِ علم سے مالامال کردیا تھا۔ آپ کے کم و بیش بارہ ہزار مرید تھے۔ ایک روز فرمانے لگے میرے بارہ ہزار مرید ہیں اور ہر رات میں سب کو یاد کرتا ہوں اور ان کی ضرورتون کو خدا سے طلب کرتا ہوں۔ ان میں سے اگر کوئی گناہ کے جرم میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کےلیے توبہ کی توفیق کی دعا مانگتا ہوں یا پھر اس کے لیے ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عاتکہ( رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر نعیم بن عبداللہ عدویہ،ابونعیم اور ابوعمر نے انصاریہ لکھاہے،عبداللہ بن عقبہ نے ابوالاسود سے،انہوں نے حمید بن نافع سے،انہوں نے زینب دختر ابو سلمہ سے،انہوں نے عاتکہ سے روایت کی کہ ایک عورت حضورِاکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی،اورگزارش کی کہ اس کا داماد فوت ہوگیاہے،اور اس کی لڑکی نے اس قدر گریہ زاری کی ہے،کہ مجھے اس کی بینائی کے بارے میں خطرہ پڑگیاہے،کیا وہ آنکھوں میں سرمہ ڈال سکتی ہے،آپ نے فرمایا،اس کی عدت تو صرف چار ماہ اور دس دن ہے،اور تم میں ایک عورت ایسی بھی تھی،جو سال بھر روتی رہی،اور جب سال ختم ہونے کو آیا،اور وہ گھر سے نکلی،تو بصرہ کے مقام پر وہ تیر کا نشانہ بن گئی،راوی نے روایت بیان کی،لیکن عورت کا نام نہیں لیا۔ متعددراویوں نے باسنادہم ترمذی سے،انہوں نے انصاری سے،انہوں نے معن سے ،انہوں نے مالک سے،انہوں نے عبداللہ بن ابی بکر بن محم۔۔۔

مزید