ہفتہ , 27 ذو الحجة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 13 June,2026

(سیّدہ )فسحم( رضی اللہ عنہا)

فسحم دخترِ اوس بن خولی بن عبداللہ بن حارث انصاریہ از بنو حبلی ،بقولِ ابن حبیب حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے بیعت کی۔ فضتہ النوبیہ،خاتونِ جنت کی کنیز تھیں،ابو موسیٰ نے کتابتہً ابوالفضل جعفر بن عبدالواحد ثقفی سے ، انہوں نے ابوعثمان اسماعیل بن عبدالرحمٰن صابونی سے اجازۃً،انہوں نے ابوعثمان اسماعیل بن عبداللہ بن عبدالوہاب خوارزمی سے (جو احنف بن قیس کے عمزاد تھے)شوال دوسواٹھاون ہجری میں (ح) ابو عثمان نے ابوالقاسم الحسن بن محمد حافظ سے،انہوں نے ابو عبداللہ محمد بن علی نبسا سے، انہوں نے اپنے والد سے،انہوں نے عبداللہ بن عبدالوہاب خوارزمی سے،انہوں نے احمد بن حماد مروزی سے،انہوں نے محبوب بن حمید بصری سے(اور اس حدیث کے بارے میں روح بن عبادہ نے ان سے دریافت کیا)انہوں نے قاسم بن بہرام سے انہوں نے لیث سے،انہوں نے مجاہد سے، انہوں نے ابن عباس سے،قرآ ن کی اس آیت عَلٰی یوفون باالنذر۔۔۔

مزید

(سیّدہ)آمنہ (رضی اللہ عنہا)

آمنہ رضی اللہ عنہادختر رقیش،بنو غنم بن دودان سے مہاجرہ ہیں،بقول جعفر المستغفری انہیں صحبت حاصل ہو ئی،اور انہوں نے باسنادہ ابن اسحاق سے روایت کی،ابو موسیٰ نے مختصراً ذکر کیا ہے،طبری اور واقدی نے بھی ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)آمنہ (رضی اللہ عنہا)

آمنہ رضی اللہ عنہا ،دختر سعد بن وہب جو ابوسفیان کی بیوی تھیں،ابوعمر نے ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ )عاتکہ( رضی اللہ عنہا)

عاتکہ دختر ولید بن مغیرہ مخزومی،خالد بن ولید کی ہمشیرہ اور صفوان بن امیہ جمحی کی زوجہ تھیں، صفوان کی چھ بیویاں تھیں،جب اسلام قبول کیا،تودو کو طلاق دے دی،اور عاتکہ کو صفان نے حضرت عمر کے عہد خلافت میں طلاق دی،ہم اس واقعے کو ام وہب کے ترجمے میں بیان کریں گے، ابوموسیٰ نے انکا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

حضرت علامہ عبداللہ ابوبکر الملا رحمۃ اللہ علیہ

۔۔۔

مزید

(سیّدہ)اثیلہ(رضی اللہ عنہا)

اثیلہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا،دختر راشد ان کا قصّہ ہم عامربن مرقش کے ترجمے میں بیان کر آئے ہیں،ابو موسیٰ نے مختصراًذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)اسیرہ(رضی اللہ عنہا)

اسیرہ انصاریہ،ان سے حمیصہ دختر یاسر نے روایت کی،ابوعمر نے اختصار سے ان کا ذکر کیا ہے۔ ۔۔۔

مزید

(سیّدہ)آمنہ (رضی اللہ عنہا)

آمنہ رضی اللہ عنہا دختر خلف الاسلمیہ مزحومہ (بشرطیکہ اس کے بارے میں حدیث ثابت ہوجائے) ابو موسیٰ مدینی نے عائشہ دختر عمر بن سلہب،والدۂ حافظ بن لفتوانی سے روایت کی،کہ انہوں نے ابوالقاسم یوسف بن محمد بن یوسف خطیب الہمدانی سے اجازۃً انہوں نے ابوالعباس احمد بن ابراہیم بن برکان سے ،انہوں نے ابو جعفر بن محمد بن احمد صغار سے ،انہوں نے ابو یزید محمد بن یحییٰ بن خالد سے، انہوں نے محمداحمدبن صالح سے،انہوں نےبکر بن یونس حنفی سے ،انہوں نے مبارک بن فضالہ سے،انہوں نے حسن سے(ح) انہوں نے ابو عمران نابینا موسیٰ بن خلیل سے،انہوں نے محمد بن حارث سے،انہوں نے مبارک بن فضالہ سے،انہوں نے آمنہ سے روایت کی کہ جب اس سے وہ گناہ سرزد ہو ا تو،وہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی،اور کہا،یا رسول اللہ! میں شادی شدہ عورت ہوں اور میراخاوند نمازی ہے،چنانچہ میں زنا کا ارتکاب کر ب۔۔۔

مزید

شیخ ابوالحسن علی روزی بن محمود بن ابراہیم قدس سرہ

آپ وقت کے عظماء مشائخ سے تھے ابوالحسن حضری﷫ کے مرید تھے شیخ عبدالرحمٰن سلمٰی سے صحبت حاصل کی آپ فرمایا کرتے تھے کہ مجھے ایک ہزار مشائخ سے ملاقات اور صحبت کا موقعہ ملا ہے اور ہر ایک سے ایک ایک واقعہ یاد ہے کتاب رباط روزی کی تصنیف بیان کی جاتی ہے جسے آپ نے اپنے پیرومرشد ابوالحسن حصری کے لیے تصنیف کی آپ رمضان میں ۴۵۱ھ میں فوت ہوئے۔ رفت چوں زین جہاں بخلد برین عارف زندہ دل بگو تاریخ ۴۵۱ھ ۔۔۔

مزید

مولوی محبوب عالم صاحب گجراتی

آپ کا وطن موضع سیدا تحصیل پھالیہ ضلع گجرات پنجاب تھا۔ علوم دینیہ کی تحصیل کے لیے آپ ہندوستان گئے۔ اور فارغ التحصیل ہوکر مدرسہ اسلامیہ کرنال میں مدرس مقرر ہوئے۔ حضرت صاحب کے فقر کا آواز ہ سن کر کرنال سے حاضر خدمت ہوئے۔ اور بیعت ہوکر واپس چلے گئے۔ پھر تین مہینے کے بعد ملازمت سے مستعفی ہوکر انبالہ چلے آئے۔ یہاں آپ کے آنے پر مدرسہ توکلیہ جاری ہوا۔اور آپ گیارہ برس حضرت صاحب کی خدمت میں رہے۔ آپ سے نواحی گجرات میں بہت فیض ہوا اور بہت سے لوگ مرید ہوئے۔ آپ نے حضرت صاحب رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے حالات میں کتاب ذکر خیر لکھی ہے۔ رمضان ۱۹۱۷ء میں آپ کا وصال ہوا۔ تذکرہ مشائخ نقشبندیہ ۔۔۔

مزید