حضرت خواجہ قوام الدین لکھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ مخدوم جہانیاں سید جلال الدین بخاری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ کے مرید تھے آپ اپنے مریدوں کی تربیت اور ارشاد میں بڑے عالی مرتبت بزرگ تھے آپ کا مزار شریف لکھنؤ میں ہے جہاں سے خلق خدا فیض حاصل کرتی ہے اللہ عزوجل آپ کی تربت پر کروڑہا رحمتیں نازل فرمائے، آمین۔ (اخبار الاخیار)۔۔۔
مزید
حضرت ابو عبداللہ محمد بن سعید مغربی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔
مزید
حضرت شیخ اوحدی اصفہانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ اوحدالدین کرمانی کے خلفاء میں سے تھے اپنے زمانے کے معروف اولیاء کرام میں سے تھے آپ نے ایک دیوانِ شعری ترتیب دیا تھا۔ پھر مثنوی پر ترصیعیات لکھیں وقائق و حقائق پر شعر کہے حدیقہ سنائی کے اسلوب پر اشعار کا مجموعہ لکھا یہ شعر آپ کے مشہور اشعار میں سے ہے۔ اوحدی شصت سال سختی دید تاشبے روئے نیک بختی دید آپ کی وفات ۷۳۷ھ میں ہوئی تھی مزار پرانور تبریز میں ہے۔ اوحدالدین فرد یکتائے زماںسالِ وصل آں شہ والا ہمم مقتدائے دین شہہ روشن ضمیرگشت پیدا صاحبِ تاج کبیر۷۳۷ھ (خزینۃ الاصفیاء)۔۔۔
مزید
رئیس الفضلاء حضرت علامہ مولانا عبدالکریم درس رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: اسم گرامی:حضرت علامہ مولانا عبد الکریم درس علیہ الرحمہ۔لقب:رئیس الفضلاء۔تخلص: درس۔سلسلہ نسب اس طرح ہے: حضرت علامہ عبدالکریم درس بن شیخ التفسیر علامہ عبداللہ درس بن مولانا خیر محمددرس بن مولانا عبدالرحیم درس۔علیہم الرحمۃ والرضوان۔ تاریخِ ولادت:آپ کی ولادت باسعادت 1276ھ،مطابق 1860ء کوکراچی میں ہوئی۔ تحصیل ِ علم:ابتدائی تعلیم اپنے والد محترم شیخ التفسیر سے حاصل کی(جنہوں نے 113 برس کی عمر پائی اور اخیرعمر میں بزبان فارسی قرآن مجید کی مکمل تفسیر رقم فرمائی۔ جس کا قلمی نسخہ مدرسہ درسیہ صدر کراچی کی لائبریری میں محفوظ ہے)۔ اپنے والد صاحب سے تمام مروجہ علوم و فنون میں فراغت حاصل کرنے کے بعد مزید تعلیم حاصل کرنے کےلئےملک سے باہر سفر کیا۔ پہلے ایران اور پھر جامعۃ الازہر قاہرہ (مصر)تشریف لئے گئے ج۔۔۔
مزید
حضرت سید حاجی نور علی جیلانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ (نورائی شریف) حضرت سید حاجی نور علی شاہ قادری آپ حضرت سخی شاہ جیلانی کے فرزند اصغر اور حضرت عبدالقادر شاہ المعروف پیر حاجی شاہ قادری کے چھوٹے بھائی تھے۔ صاحب کشف و کرامت بزرگ ہوئے ہیں۔ بے شمار ایسے بے اولاد لوگ ڈاکٹروں اور دوسرے بزرگوں سے ناامید ہوکر آپ کی خدمت میں حاضر ہوتے آپ کی دعا سے صاحب اولاد ہوکر واپس لوٹتے ۔ اور آپ فرمایا کرتے تھے کہ اگر کسی کو بیٹا چاہیے تو بکرے کے عوض دلواوں گا ہم نے ایسے بے شمار بیل بکرے دیکھے جو لوگ اولاد کے عوض حضرت کو دے جایا کرتے تھے۔ آپ کے لاتعداد مرید عقیدت مند پورے سندھ میں موجود ہیں آپ نے نورائی شریف میں ۱۸/ شعبان /۱۳۸۳ھ بروز پیر وفات فرمائی اپنے برادر کبیر حضرت حاجی شاہ کے پہلو میں دفن ہیں مزار زیارت خاص و عام ہے۔ (تذکرہ اولیاءِ سندھ )۔۔۔
مزید