پیر , 24 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 11 May,2026

حضرت مولانا غلام مرتضیٰ

حضرت مولانا غلام مرتضیٰ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ بدر علی لکھنوی

حضرت شاہ بدر علی لکھنوی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت قطب الدین محمود فروضنی

حضرت قطب الدین محمود فروضنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت ابوالحسن علی صائغ دینوری

حضرت ابوالحسن علی صائغ دینوری رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

مولانا عبدالصمد مقتدری

مولانا عبدالصمد مقتدری رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب:اسم گرامی:مولانا عبدالصمد۔لقب:مقتدری۔والد کااسم گرامی:مولانا غلام حامد۔آپ کاتعلق بدایوں کےمشہورخاندان حمیدی سےتعلق ہے۔ ولادت: آپ کی ولادت باسعادت "بدایوں شریف "میں ہوئی۔ تحصیل علم: مدرسہ عالیہ قادریہ دارالعلوم شمس العلوم بدایوں میں مولانا محب احمد قادری، مولانا مفتی حافظ بخش بدایونی و دیگر اساتذہ سے علوم متداولہ میں فراغت حاصل کرنے کے بعد الہ آبا دیونیوسٹی سے "مولوی فاضل" کی ڈگری حاصل کی۔ بیعت و خلافت:حضرت علامہ مولانا عبدالمقتدر بدایونی قدس سرہ کے دست اقدس پر سلسلہ عالیہ قادریہ میں 1334ھ بمطابق 1915ء کو بیعت کی اور حضرت مولانا عبدالقدیر بدایونی قدس سرہ سے 31 مارچ 1963ء کو اجازت و خلافت پائی۔ سیرت وخصائص: استاذالعلماء،زبدۃ الاتقیاء حضرت علامہ مولانا عبدالصمد مقتدری بدایونی رحمۃ اللہ علیہ۔آپ علیہ الرحمہ نےایک مجاہدانہ زندگی بسرکی۔اس وق۔۔۔

مزید

مخدوم ساہر بن مخدوم معزالدین

مخدوم ساہر بن مخدوم معزالدین رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ محمود اسفراری المدنی

حضرت شیخ محمود اسفراری المدنی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت ابوالمسعود بن اشبیل

حضرت ابوالمسعود بن اشبیل رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

سید نتھے شاہ

سید نتھے شاہ رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔

مزید

حضرت سید سالار مسعود غازی

حضرت سید سالار مسعود غازی  رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ آپ علوی سادات عظام میں سے تھے۔ حضرت محمد حنیفہ بن علی کرم اللہ وجہہ کی نسبت سے سلسلۂ نسب حضورنبی کریمﷺ سے ملتا ہے۔ آپ کے والد میر ساہوبن عطاء اللہ علوی تھا آپ کی والدہ ماجدہ سترمعّٰلی سلطان محمود سبکتگین غزنوی کی بیٹی تھیں۔ آپ کا اسم مبارک میر مسعود تھا۔ دہلی کے نواح میں آپ کا نام پیر پلہم مشہور تھا۔ دیار خراسان میں رجب سالار سے مشہور تھے بعض مقامات پر میاں غازی اور میاں بالی کے ناموں سے پکارے جاتے تھے۔ بالا پیر اور تہیلا پیر آپ کا ہی لقب تھا۔ آپ کا لقب مبارک سلطان الشہید اور سیدالشہید تھا۔ اہل تصوف کا اس بات پر اتفاق ہے۔ کہ آپ کی شہادت کے بعد بھی جو بھی شہادت کے رتبہ پر فائز ہوا۔ تو آپ کی اتباع میں شہید ہوا۔ آپ خواجہ محمد چشتی اور ابو یوسف چشتی﷫ کے ہمعصر تھے بعض کتابوں میں آپ کو خواجہ حسن سنجری خواجہ بزرگ معین الدین اجمیری کا ہم عصر لک۔۔۔

مزید