شیخ اسماعیل(والدشیخ عبدالقدوس گنگوہی) مراۃ الاسرار میں ہے:حضرت شیخ اسماعیل بن شیخ صفی الدین کی عمر جب چالیس دن تھی تو آپ کے والدِ گرامی شیخ صفی الدین جوکہ شیخ جہانگیر اشرف سمنانی کے مرید وخلیفہ تھے آپکی خدمت میں لیکر حاضر ہوئے تو آپ نے شیخ اسماعیل کے حق میں دعا فرمائی :"یا اللہ اسکو علم وحکمت سے مالا مال کر " یہ آپکی دعا کا اثر تھا کہ شیخ اسماعیل اپنے وقت جید عالم اور بہترین خوشنویس تھے ۔آپنے اپنے بیٹے قطب العالم شیخ عبدالقدوس کو خود ہی تعلیم دی تھی ۔اسیطرح قطبِ وقت شیخ احمد عبدالحق سے بھی ملاقات ہے کہ جب حضرت شیخ احمد عبدالحق قدس سرہٗ ظاہر وباطنی سفر کے بعد قصبہ ردولی شریف میں تشریف لائے اور مسند خلافت پر متمکن ہونے کے بعد آپکا شہرۂ آفاق میں بلند ہوا تو حضرت شیخ عبدالقدوس گنگوہی کے والد ماجد حضرت شیخ اسماعیل بن شیخ صفی الدین نے آپ۔۔۔
مزید
شمس الدین ابو الفضل محمد بن محمد بن محمد بن محمد بن محمود بن غازی ثقفی حلبی المعروف بہ ابن شحنہ صغیر: فقیہ،محدث،اصولی،مؤرخ،ادیب،ناظم اور ناثر تھے۔۱۲؍رجب ۸۰۴ھ کو پیدا ہوئے حلب کے رؤسا میں سے تھے۔۸۳۶ھ میں حلب کے قاضی مقرر ہوئے،پھر مصر منتقل ہوگئے اور وہاں کاتب السر کے عہدے پر کام کرتے رہے،آخر عمر میں بڑی تکالیف کا سامنا کرنا پڑا،فالج ہوگیا جس کی وجہ سے ذہن پر بھی اثر پڑا۔محرم ۸۹۰ھ میں وفات پائی۔ آپ کی تصانیف میں سے طبقات الحنفیہ،نزہۃ النواظر فی روض المناظر (تاریخ میں اپنے والد کی تاریخ کی شرح)نہایۃ النہایہ فی شرح ہدایہ،تنویر المنار (اصول فقہ میں)،المتجد المغیث(حدیث میں)اور ترتیب مہمات ابن بشکوال علیٰ اسماء صحابہ،مشہور ہیں۔(ان کے والد قاضی محب الدین ابو الولید محمد ابن شحنہ متوفی ۔۔۔
مزید
حضرت امیر کبیر سید علی ہمدانی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ میر سید علی ہمدانی: ہمدان میں دو شنبہ کے روز ۱۲؍رجب ۷۱۴ھ میں پیدا ہوئے۔مخزن علوم ظاہری،مظہر تجلیات ربانی،عالمِ عامل،عارف کامل،صاحبِ کرامات و خوارق عادات تھے،علوم ظاہری و باطنی میں آپ کو وہ کمال حاصل تھا کہ ایک سو ستّرسےزیادہ کتابیں تصنیف کیں جن میں سے مجمع الاحادیث،شرح اسماء الحسنیٰ،ذخیرۃ الملوک،شرح فصوص الحکم،مراۃ التائبین،شرح قصیدہ حمزیہ و فارضیہ،آداب المریدین،اور دس قواعد اشہر ہیں۔۷۸۰ھ میں مع سات سور فقاء وسادات کے ہمدان سے کاشمیر میں تشریف لائے اور محلہ علاء الدین پورہ میں جہاں اب آپ کی خانقاہ فیض پناہ ہے،جلوہ افروز ہوئے۔بادشاہ کمال خشوع و خضوع سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔اسلام نے جو بلبل شاہ کے وقت سے کاشمیر میں رواج پکڑنا شروع کیا تھا آپ کے وقت میں رونق بے اندازہ حاصل کی،اسی لیے آپ کو بانی مبانی اسلام کہتے ہیں کہ ایک شاعر نے کہا ہے۔۔۔
مزید
حضرت علامہ علی بن ابی بکر مرغیانی (صاحبِ ہدایہ) رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ۔۔۔
مزید