سید یوسف بن جمال حسینی: عالمِ فاضل،جامع منقول و معقول،فقیہ، اصولی اور مولانا جلال الدین رومی کے شاگردوں میں سے تھے۔آپ کے آباء واجداد مشہد سے آکر ملتان میں متوطن ہوئے تھے اور آپ ہذات خود سلطان فیروز کے عہد میں سپا ہیانہ لباس میں ملتان سے دہلی میں آئے۔سلطان نے آپ کی فضیلت و علمیت کو مشاہدہ کر کے آپ کو اس مدرسہ میں مدرس مقرر کیا جو حوض خاص پر تعمیر کرایا اور نیز اپنا مقبرہ وہاں بنوایا تھا،جہاں آپ کئی سال تک مسند درس و افادت پر متمکن رہ کر عوام و خواص کو اپنے چشمۂ علوم سے سیراب کرتے رہے۔ صاحبِ اخبار الاخیار لکھتے ہیں کہ آپ کو ہر ایک جمعہ کی رات کو آنحضرتﷺ کی زیارت ہوا کرتی تھی۔آپ نے قاضی ناصر الدین بیجاوی کی کتاب لُبّ الالباب فی علم الاعراب پر جو ایک متن متین اور اس ولایت میں مشہور و معروف ہے،ایک بسیط شرح نہایت تنقیح و ایجاز و ۔۔۔
مزید
علی سیرافی: علاء الدین لقب تھا۔عالمِ فاضل،فقیہ کامل تھے۔علم جلال الدین کرلانی صاھبِ کفایہ حاشیہ ہدایہ تلمیذ حسن بن علی سغناقی صاحبِ نہایہ اور عبدالعزیز بخاری صاحب کشف سے حاصل کیا اور آپ سے سراج الدین عمر قاری الہدایہ استاد بن ہمام نے ہدایہ پڑھا اور ۷۹۰ھ میں وفات پائی۔سیرافی سیراف کی طرف منسوب ہے جو بلادِفارس میں ایک شہر حد کرمان سے ملا ہوا ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
ابراہیم بن محمد بن عمر بن احمد بن ہبۃ اللہ عقیلی حلبی المعورف بہ ابنِ عدیم: ماہ ذی الحجہ۱ ۷۱ھ میں پیدا ہوئے،بڑے دیندار عالم فاضل تھے۔نماز ہمیشہ جماعت کے ساتھ پڑھا کرتے اور حلب کے قاضی تھے۔وفات آپ کی ماہ ذی الحجہ۷۸۷ھ میں ہوئی۔’’معدنِ برکات‘‘ تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
احمد بن علی بن منصور دمشقی: ابو العباس کنیت اور شرف الدین لقب تھا۔ اپنے وقت کے امامِ فاضل اور فقیہ محدث تھے۔ولایت مصر کی قضاء آپ کو تفویض کی گئی۔آپ نے کتاب مختار کو جو فقہ میں ہے،مختصر کر کے اس کا تحریر نام رکھا اور نیز اس پر شرح لکھی مگر ابھی کامل ہوئے نہیں پائی تھی کہ آپ نے ۷۸۲ھ میں دمشق میں وفات پائی۔’’نور کشور‘‘تاریخ وفات ہے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمود بن احمد بن مسعود بن عبدالرحمٰن قونوی: کنیت آپ کی ابو الثناء اور لقب جمال الدین تھا عالم فاضل،جامع علوم عقیلہ و نقلیہ تھے۔علم اپنے باپ ابی العباس احمد شاگرد جلال الدین خبازی تلمیذ عبد العزیزی بخاری شاگرد فخر الدین محمد ما یمر غی سے اخذ کیا اور تدریس و افتاء کا کام دیا اور دمشق کے قاضی ہوئے۔کتاب منتہیٰ شرح مغنی فی الاصول،قلائد شرح عقائد،زہدۃ شرح عمدہ،خلاصۃ النہایہ حاشیۃ الہدایہ،تقریری شرح تحریر القدوری،تہذیب احکام القرآن،جمع بین و قفی ہلال والخصاف،اعجاز فی الاعتراض علی الادلۃ الشرعیہ،معتمدہ مختصر مسند ابی حنفیہ،معقتد شرح معتمد وغیرہ تسنیف کیں،علاوہ ان کے ایک مقدمہ رفع الیدین فی الصلوٰۃ تصنیف کیا اور اس میں اس بات کو ثابت کیا کہ رفعِ بدین مفس صلوٰۃ نہیں۔وفات آپ کی دمشق میں ۷۷۷ھ[1]یا ۷۸۱ھ میں ہوئی۔’’امیر کشورُ‘‘اور ’’روشن گہر‘‘۔۔۔
مزید
منصور بن احمد بن یزید خوارزمی: ابو محمد کنیت تھی،بڑے عالم فاضل، جامع علوم و فنون تھے۔کتاب معنی خبازی کی شرح نہایت مفید تصنیف کی اور ۷۷۵ھ میں وفات پائی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
علی بن نصر بن عمر: نور الدین لقب اور ابن سوسی کے نام سے مشہور تھے۔فقیہ فاضل،اصولی کامل تھے۔مدت تک مدرسۂ حسامیہ کے مدرس رہے اور ایک کتاب فقہ میں تصنیف کی مگر جب کتاب النکاح تک پہنچے تو ۷۷۵ھ میں موت کا پیادہ آگیا اور اس کو کامل نہ کر سکے۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
شیخ یوسف: شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلوی کے خلفاء میں سے عالم علوم ربانی ار ماہر فقہ و حدیث و تفسیر تھے۔ایک کتاب مسمی بہ تحفۃ النصائح مشتمل بر احکام شرع وفرائض و سنن و آداب نظم میں تصنیف کی اور اس کی ہر ایک بیت کو رائے مہملہ پر ختم کیا اور ۷۷۴ھ میں وفات پائی۔ حدائق الحنفیہ۔۔۔
مزید
محمد بن محمد بن محمد بن امام فخر الدین رازی: جمال الدین اقصرائی لقب تھا۔ بڑے محقق مدقق اور عارف مذہب و حسن سیرت تھے۔مدرسۂ قراماں میں جو مدرسۂ مسلسلہ کے نام سے مشہور تھا مدرس مقرر ہوئے۔مدرسہ کے مالک نے یہ شرط کی تھی کہ میں اس مدرسہ میں اس شخس کو مدرس مقرر کروں گا جس کو علاوہ دیگر علوم و فنون کے صحاح جوہری یاد ہوگی،چونکہ یہ شرف آپ میں پائی جاتی تھی اس لیے آپ وہاں کے مدرس مقرر ہوئے،تفسیر کشاف کے حواشی لکھے اور معانی و بیان میں شرح ایجاح اور طب میں شرح موجر تصنیف فرمائی اور کچھ اوپر ۷۷۰ھ میں وفات پائی۔’’حق پرست‘‘ تاریخ وفات ہے۔آپ کے باپ محمد بن محمد بن امام فخر الدین نے بھی اگر چہ تحصیل علم میں بڑی کوشش کی مگر اپنے دادا کے مرتبہ کو نہ پہنچ سکے اس لیے انہوں نے صرف عزت وعظ پر قناعت کی اور عمر بھر وع۔۔۔
مزید
قاضی محمد بن عبداللہ شبلی[1]دمشقی: ابو البقاء کنیت اور بدر الدین لقب تھا، ۷۱۰ھ میں پیدا ہوئے۔عالم فاضل فقیہ محدث تھے۔علم حافظ ذہبی اور مزنی سے حاسل کیا اور انہیں سے حدیث کو کثرت سے سنا۔ایک نفیس کتاب مسمّٰی بہ آکام المرجان فی احکام الجان تصنیف فرمائی جس میں جنات کے حالت و اخبار مع کیفیت ان کی پیدائش و آثار کے اس خوبی وخوش اسلوبی سے تحریر فرمائے کہ آج تک ایسی کوئی اس علم میں تصنیف نہیں ہوئی۔حافط جلال الدین سیوطی نے آپ کی اس کتاب کو ملخص کیا اور کچھ اپنی طرف سے زیادہ کر کے نام اس کا اکام المرجان فی اخبار الجان رکھا۔علاوہ کتاب مذکور کے کتاب محاسن الوسائل الی معرفۃ الاوائل اور قلادۃ النحر فی تفسیر سورۃ الکوثر تصنیف کیں۔آپ کا حال آپ کے شیخ ذہبی نے بھی اپنی کتاب معجم مختص میں لکھا اور آپ کو رئیس طلباء اور جوان فضلاء سے یاد کیا۔وفات آپ کی ۷۶۹ھ میں ہوئی،’’سراج شہر‘‘آ۔۔۔
مزید