منگل , 11 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 28 April,2026

علی شارح قدوری

          علی بن احمد مکی رازی: حسام الدین لقب تھا فقیہ فاضل عالم ماہر تھے، مشق میں آکرسنکونت اختیار کی تھی اور درس و تدریس آپ کا کام تھا۔فتویٰ امام ابو حنیفہ کے مذہب پر دیا کرتے تھے،مختصر قدوری کی ایک نفیس شرح خلاصہ الدلائل و تنفتیح المسائل نام تصنیف کی جس کی نسبت صاحب جواہر مضیہ نے لکھا ہے کہ یہ وہ کتاب ہے جس کو میں ے فقہ میں یاد کیا اور جو احادیث اس کتاب میں لائی گئی ہیں ان کی میں نے ایک جلد ضخیم میں تخریج کی اور اس کی شرح لکھی،جب میں نے آپ کا حال جواہر مضیہ میں جمعہ کے روہز۷۵۹؁ھ میں لکھا تو میں آپ کی کتاب کی شرح میں کتاب الشرکۃ تک پہنچ گیا ہوا تھا۔علی قاری نے لکھا ہے کہ آپ نے علاوہ کتاب مذکور کے ایک مناب سلوۃ الہموم نام بھی جمع کی ہے۔آپ۵۹۸؁ھ میں ایک بیٹا چھوڑ کر فوت ہوئے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حسن بن خطیر شارح جمع بین الصحیحین حمیدی

          حسن [1]بن خطیر ابو علی نعمان: ابی الحسن کنیت تھی،فقیہ محدث مفسر عالم حساب و ہیبت و طب اور ہبر ز علم و نحو لغت و عروض و ادب و تاریخ تھے،مدت تک قاہرہ میں مقیم رہے اور درس و تدریس میں مصروف ہوئے اور کہتے تھے کہ میں نے امام ابو حنیفہ کے مزہب کو نقل کیا اور اپنے اجتہاد کے موافق اس کی حمایت کی۔ قرآن شریف کی ایک تفسیر تسنیف کی اور حمیدی کی جمع بین الصحیحین کی شرح حجۃ نام لکھی اور ایک کتاب اختلاف صحابہ و تابعین و فقہائے امسار میں تصنیف فرمائی اور ۵۹۸؁ھ میں وفات پائی،’’آرایش گیہان‘‘تاریخ وفات ہے۔   1۔ نعمانی فارسی تلخیص الا فصاح اوتہیبہ البارعین بھی آپ کی تصانیف میں ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حسن بن خطیر شارح جمع بین الصحیحین حمیدی

          حسن [1]بن خطیر ابو علی نعمان: ابی الحسن کنیت تھی،فقیہ محدث مفسر عالم حساب و ہیبت و طب اور ہبر ز علم و نحو لغت و عروض و ادب و تاریخ تھے،مدت تک قاہرہ میں مقیم رہے اور درس و تدریس میں مصروف ہوئے اور کہتے تھے کہ میں نے امام ابو حنیفہ کے مزہب کو نقل کیا اور اپنے اجتہاد کے موافق اس کی حمایت کی۔ قرآن شریف کی ایک تفسیر تسنیف کی اور حمیدی کی جمع بین الصحیحین کی شرح حجۃ نام لکھی اور ایک کتاب اختلاف صحابہ و تابعین و فقہائے امسار میں تصنیف فرمائی اور ۵۹۸؁ھ میں وفات پائی،’’آرایش گیہان‘‘تاریخ وفات ہے۔   1۔ نعمانی فارسی تلخیص الا فصاح اوتہیبہ البارعین بھی آپ کی تصانیف میں ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

موفق الدین احمدی

          احمد بن[1]محمد خطیب خوارزم: ۴۸۴؁ھ میں پیدا ہوئے،موفق الدین لقب تھا،فقہ نجم الدین عمر نسفی اورعلم عربی جار اللہ محمود زمخشری سے حاصل کیا یہاں تک کہ ادیب فاضل اور فقیہ کامل ہوئے اور ناصر الدین صاحب کتاب مغرب نے آپ سے استفادہ کیا۔سیوطی نے بغیۃ الوعاۃ فی طبقات النخاۃ میں لکھا ہےکہ صفدی نے کہا ہے کہ موفق الدین علم عربیہ میں بڑے متمکن اور عزیز العلم،فقیہ فاضل اور ادیب شاعر تھے جنہو ں نےعلامۂ زمخشری سے پڑھا اور خطبے واشعار تصنیف کیے اور ۵۹۸؁ھ میں وفات پائی۔   1۔ صحیح بنام ابو الموید موفق بن احمد بن محمد مکی متوفی ۵۶۸؁ھ مصنف’’مناقب امام ابی حنیفہ‘‘ و ’’دیوان شعر‘‘(جواہر المضیۃ فوائدلبیہ ہدیۃ العارفین دستور الاعلام)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن عمر نیشاپوری

          محمد بن عمر بن[1]عبداللہ نیشا پوری: ابو بکر کنیت،رشید الدین لقب تھا: امام فاضل فقیہ کامل تھے آپ کی تصنیفات سے فتاویٰ اور شرح تکملہ وغیرہ مشہور و معروف ہیں۔وفات آپ کی ۵۹۷؁ھ میں ہوئی۔’’آفتاب عجم‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ صائغ وسخی وفات ۵۹۸؁ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

عمر بن محمد عقیلی  

              عمر بن محمد بن عمر بن محمد بن محمد بن احمد عیقلی: شرف الدین لقب اور ابو حفص کنیت تھی اور حضرت عقیل بن ابی طالب کے نسب میں سے تھے،اپنے زمانہ میں اکابر فقہاء حنفیہ میں سے تھے اور آپ کو معرفت مذہب و خلاف میں ید طولیٰ حاصل تھا۔علم صدر الشہید عمر بن عبد العزیز وسے پڑھا اور نیز جمال الدین حامد بن محمدریغد مونی سے اخذ کیا اور آپ سے احمد بن محمد عقیلی اور شمس الائمہ محمد بن عبدالستار کردری نے فقہ پڑھی۵۷۸؁ھ میں حج کر کے بغداد میں آئے اور ۵۹۶؁ھ میں [1] وفات پائی۔’’نور قمر‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ ۵۷۶؁ھ منہاج فی الفقہ تصنیف کی ’’دستور الاعلام‘‘  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

عمر ورسکی بخاری

           عمر بن عبد الکریم ورسکی بخاری: بد الدین لقب تھا،عالم متجر فقیہ ماہر تھے، علوم ابی الفضل عبد الرحمٰن کرمانی سے حاصل کیے اور آپ سے شمس الائمہ محمد بن عبد الستار کردری نے اخذ کیا بلخ میں ۵۹۴؁ھ میں فوت ہوئے اور جامع صغیر کی شرح تصنیف کی۔’’امام اتقیاء‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

صاحب ہدایہ

          علی بن ابی بکر بن عبد الجلیل بن خلیل بن ابی بکر فرغانی مرغینانی: ابو الحسن کنیت اور برہان الدین لقب تھا اور حضرت ابو بکر صدیق کی اولاد میں سے تھے، پیر کے روز بتاریخ ۸؍رجب ۵۱۱؁ھ بعد عصر کے پیدا ہوئے اپنے وقت کے امام فقیہ حافظ محدث مفسر جامع علوم ضابط فنون متقن محقق مدق نظار زاہد اورع بارع فاضل ماہر اصولی ادیب شاعر تھے۔علم اور ادب میں آپ کی مثل آنکھوں نے کوئی شخص نہیں دیکھا۔علم خلاف میں ید طولیٰ معرفر مذہب میں دستگاہ کامل حاصل تھی اور آپ کی بزرگی اور تقدم کا آپ کے معاصرین مثل امام فخر الدین قاضی خان اور محمود بن احمد بن عبد العزیز مؤلف محیط و ذخیرہ اور شیخ زین الدین ابو نصر احمد بن محمد بن عمر عتابی اور ظہیر الدین محمد بن احمد بخاری مؤلف فتاویٰ ظہیریہ وغیر ہم نے اقرار کیا۔ ابن کمال پاشا نے آپ کو طبقۂ اصحاب ترجیح سے شمار کیا ہے لیکن پاشا ۔۔۔

مزید

صاحب مقدمہ غزنویہ  

           احمد بن محمد بن محمود بن سعد [1]الغزنوی: شہر غزنیں میں پیدا ہوئے۔فقہ محمد بن علی بن محمد بن علی علوی حسنی سے حاصل کی یہاں تکہ کہ مذہب میں درجہ ریاست کو پہنچے،ابی بکر صاحب بدائع شاگرد علاؤالدین صاحب تحفۃ الفقہاء سے بھی استفادہ کیا،تصانیف بھی بہت عمدہ اور مفید کیں جس میں سے ایک کتاب موسوم بہ روضہ درباب اختلاف علماء اور ایک اصول فقہ اور ایک اصول دین میں موسومہ بہ روضۃ المتکلمین تصنیف کی پھر اس کو مختصر کر کے نام اس کا المنتقیٰ رکھا۔علاوہ ان کے ایک کتاب موسومہ بہ مقدمۃ الغزنویہ تصنیف کی جو حجم میں اگر چہ چھوٹی ہے مگر علوم سے نہایت مالا مال ہے وفات آپ کی ۵۹۳؁ھ میں حلب کے اندر ہوئی۔ ’’زین کشور‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ سعید غزنوی کاشانی ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

صاحب مقدمہ غزنویہ  

           احمد بن محمد بن محمود بن سعد [1]الغزنوی: شہر غزنیں میں پیدا ہوئے۔فقہ محمد بن علی بن محمد بن علی علوی حسنی سے حاصل کی یہاں تکہ کہ مذہب میں درجہ ریاست کو پہنچے،ابی بکر صاحب بدائع شاگرد علاؤالدین صاحب تحفۃ الفقہاء سے بھی استفادہ کیا،تصانیف بھی بہت عمدہ اور مفید کیں جس میں سے ایک کتاب موسوم بہ روضہ درباب اختلاف علماء اور ایک اصول فقہ اور ایک اصول دین میں موسومہ بہ روضۃ المتکلمین تصنیف کی پھر اس کو مختصر کر کے نام اس کا المنتقیٰ رکھا۔علاوہ ان کے ایک کتاب موسومہ بہ مقدمۃ الغزنویہ تصنیف کی جو حجم میں اگر چہ چھوٹی ہے مگر علوم سے نہایت مالا مال ہے وفات آپ کی ۵۹۳؁ھ میں حلب کے اندر ہوئی۔ ’’زین کشور‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ سعید غزنوی کاشانی ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید