منگل , 09 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 20 October,2026

عثمان فضلی

          عثمان فضلی بن ابراہیم بن محمد بناحمد بن ابی بکر محمد بن فضل بن جعفر بن رجابن  زرعہ بخاری المعروف بہ فضلی: عالم صالح فقیہ محدث تھے۔۴۲۶؁ھ میں پیدا ہوئے،حدیث کو بکثرت بیان کیا اور عمر بھر افادہو اضافہ میں مشغول رہے اور بخارا  میں ۵۰۸؁ھ کو وفات پائی۔ ’’زینت بلدہ‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد قطوانی

           محمد بن محمد بن ایوب قطوانی: امام جلیل القدر،شیخ کبیر،مفتی،واعظ، مفسر تھے،ابومحمد کنیت تھی، ۵۰۶؁ھ کو جب جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر کو آتے تھے تو گھوڑے سے گر کر مر گئے۔’’علامۂ عصر‘‘ تاریخ وفات ہے۔قطوان ایک بڑا قطبہ ہے جو سمر قند سے پاچن سفرسنگ پر واقع ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ظہیر الدین علی مر غینانی

          علی بن عبد العزیزی عبد الرزاق مر غینانی: ظہیر الدین کبیر لقب تھا، بڑے عالم فاضل اور صاحب خلاصہ کے نانا تھے،فقہ اپنے باپ عبد العزیزی اور سید ابی شجاع محمد بن احمد بن حمزہ اور برہان الدین کبیر عبد العزیز وغیرہم سے اخذ کی اور آپ سےآپ کے بیتے ابو المحاسن حسن بن علی اور قوام الدین احمد بن عبد الرشید والد صاحب خلاصہ نے تفقہ کیا۔کتاب اقفیۃ الرسول تصنیف کی اور ۵۰۶؁ھ میں وفات پائی، اور وہ جو بعض مؤرخین نے فتاویٰ ظہیریہ کو آپ کی طرف منسوب کیا ہے،یہ ان کا سہو ہے بلکہ اس کے مصنف ظہیر الدین محمد بن احمد بن عمر بخاری ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ابراہیم دہستانی  

           ابراہیم بن محمد اسحٰق دہتانی: امام فاضل فقیہ کامل اور شہر و بستان کے رہنے والے تھے جو ماژ ندران کے پاس واقع ہے اور جس کو عبداللہ طاہر نے بنایا تھا،کچھ اوپر ۴۶۰؁ھ میں نیشا پور میں آئے اور فقہ کو علی بن حسین صندلی شاگرد حسین صمیری تلمیذ ابی بکر محمد کوارزمی شاگرد جصاص رازی سے پڑھا اور آپ سے عبد الملک بن ابراہیم ہمدانی صاحب طبقات حنفیہ و شافعیہ تفقہ کیا اور ۵۰۳؁ھ میں وفات پائی۔ ’’دہرافروز‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

عطاء سغدی

           عطاء بن حمزہ سغدی: فروع واصول میں امام کامل اور معرفت مذہب میں عارف فاضل بڑے متجر تھے،آپ کے وقت میں اطراف و اکناف سے آپ ہی کے پاس فتاویٰ آیا کرتے تھے،آپ سے ایک جماعت نے جن میں سے ایک نجم الدین عمر نسفی متوفی ۵۳۷؁ھ میں علم اخذ کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

شرف الرؤ سا خوارز می  

              محمد بن محمد بن احمد بن یوسف بن اسمٰعیل الملقب بہ شرف الرؤ سا خوارزمی، فقہ حدیث اور ادب کے امام اور شہر بخارا کے قاضی تھے،بہت لوگ آپ سے فیضیاب ہوئے۔از انجملہ برہان الدین کبیر عبد العزیزی عمر بن مازہ نے آپ سے فقہ پڑھی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن علی زنجری

          محمد بن علی بن فضل بن حسن بن احمد بن ابراہیم اسحٰق بن عثمان بن جعفر بن عبد اللہ زرنجری: بڑے عالم فاضل بے بدل تھے۔فقہ شمس الائمہ عبد العزیزی صلوائی سے پڑھی اور آپ کے بیٹے بکر زرنجری کے سوائے اور کسی نے آپ سے تفقہ نہیں کیا جس کا سبب برہان الاسلام زرنوجی نے اپنی کتاب تعلیم المتعلم کے فصل رعایۃ الاستاذ میں یہ تحریر کیا ہے کہ ایک دفعہ آپ کے استاذ شمس الائمہ حلوائی بخارا سے نکل کر بعض دیہات میں سکونت پذیر ہوئے جہاں ان کی زیارت کو ان کے تمام شاگرد بجز آپ کے حاضر ہوئے،اخیر کو جب آپکی ملاقات ان سے ہوئی تو انہوں نے ‏آپ سے پوچھا کہ آپ میری زیارت کے لیے ک یوں نہیں آئے؟ آپ نے کہا کہ میں اپنی والدہ کی خدمت میں مشغول تھا،اس پر شمس الائمہ نے کہا کہ آپ کی عمر تو بڑی ہو مگر درس میں رونق نصیب نہ ہو پس ایسا ہی ہوا کہ با وجود یکہ آپ نے اکثر اوقات شہروں۔۔۔

مزید

احمد بن اسحٰق

          احمد بن اسحٰق بن شیث [1] صفار: ابو نصر کنیت تھی،اصل میں بخارا سے آکر مکہ معظمہ میں سکونت اختیار کی چنانچہ آپ کی تصانیف اور علم نیے کثرت سے شیوع پایا،بخارا میں آپ جیسا حفظ فقہ و حدیث و ادب میں اور کوئی عالم نہ تھا،حافظ ابو عبد اللہ حاکم نے تاریخ نیشا پور میں لکھا ہے کہ آپ حج ک ے لی ے ہماری طرف آئے اور حدیث کو ہر ایک قسم کے علم میں جستجو کیا اور مکہ معظمہ میں سکونت اختیار کی جہاں آپ کی تصانیف اور علم نے کثرت سے شیوع پایا اور طائف میں فوت ہوئے۔   1۔ شیث وفات ۴۶۱ھ (حدائق الحنفیہ)   ۔۔۔

مزید

اسماعیل بن عبد الصادق

           اسمٰعیل بن عبد الصادق بن عبد اللہ الخطیب [1]البناری: بڑے فقیہ پرہیز گار تے،اور قومس کےعلاقہ میں بسطام سے لے کر سمنان تک کا ردار تھے،علوم عبد الکریم بن موسیٰ بزدوی جد فخر الاسلام بزدوی حاصل کیے اور آپ سے صدر الااسلام ابو الیسیر محمد بن عبد اکریم بزدوی نے تفقہ کیا۔   1۔البیاری وفات ذی الحج ۴۱۴؁ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

اسحٰق بن شیث

           اسحٰق بن شیث المعروف [1] بالصفار: بڑے عالم فاضل ثقہ تھے،۴۰۵؁ھ میں حج کے ارادہ سے بغداد میں آئے جہاں  نصر بن احمد بن اسمٰعیل کیسانی سے حدیث کو سُنا اور روایت کیا اور آپ سے آپ کے بیٹے ابو نصر احمد بن اسحٰق نے علم حاصل کیا، آپ وجہ معیشت کے لیے کانسی کے برتنوں کی تجارت کیا کرتے تھے اس لیے صفار کی نسبت سے معروف ہوئے۔     1۔ اسحٰق بن احمد بن شیث بن نصر بن شبیب بن الحکم الصفار بخاری صاحت تصانیف (حدائق الحنفیہ)   ۔۔۔

مزید