بدھ , 12 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Wednesday, 29 April,2026

خلف بن احمد

          خلف بن احمد[1]: کنیت آپ کی ابو القاسم تھی،علم عبد العزیز بلخی سےپڑھا یہاں تک کہ عراق میں معاملات مذہب اور خلاف اور علم اصول وفقہ میںلائق فائق اور عالم فاضل ہوئے۔مدت تک مشہد امام ابو حنیفہ میں مدرس رہے اور ۵۱۵؁ھ میں وفات پائی،’’شاہ دہر‘‘ تاریخ وفات ہے۔   1۔ ابو القاسم ضریر شلجی ’’جواہر المضیۃ‘‘(مرتب)  (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن طاہر سمر قندی

          محمد بن طاہر بن عبد الرحمٰن بن حسن سغدی سمر قندی: فقیہ جید فاضل متجر تھے،سکونت آپ کی سمر قند کے محلہ لبادی میں تھی،فقہ آپ نے صدر الاسلام ابی الیسیر محمد بزدوی شاگرد اسمٰعیل بن عبدالصادق تلمیذ عبد الکریم بزدوی شاگرد رشید ابی منصور ما تریدی سے پڑھی اور نصف ماہ صفر ۵۱۵؁ھ میں وفات پائی۔’’شمع دودمان‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد ارسابندی

          محمد بن حسین بن محمد ارسابندی: ابو بکر کنیت،فخر الدین لقب تھا مگر فخر القضاۃ کے لقب سے مشہور تھے،امام فاضل،عالم مناظر،فقیہ محدث،حسن الاخلاق، متواضع تھے،آپ کے وقت میں شہر مرو میں ریاست مذہب امام ابو حنیفہ کی آپ پر منتہی ہوئی۔فقہ علاؤ الدین مروزی صاحب ابیزید دبوسی سے پڑھی اور املا کیا اور حدیث کو سنا،بعد ۴۸۰؁ھ کے حج کر کے بغداد میں وارد ہوئے اور کتاب مختصر تقویم الادلہ تصنیف کی۔سمعانی شافعی نے لکھا ہے کہ ہمارے لیے شہر مرو میں ابو الفضل عبدالرحمٰن بن محمد کرمانی نے آپ سے روایت کی اور میں صغیر سن تھا کہ آپ نے ماہ ربیع الاول ۵۱۲؁ھ میں [1] وفات پائی،’’مہر سہر‘‘ تاریخ وفات ہے۔ارسابند جس کی طرف آپ منسوب ہیں،علاقۂ مرو میں ایک بڑا شہر ہے۔   1۔ ۵۱۰؁ھ ’’جواہر المضیۃ‘‘ (مرتب) (حدائق الحنفیہ) ۔۔۔

مزید

عثمان فضلی

          عثمان فضلی بن ابراہیم بن محمد بناحمد بن ابی بکر محمد بن فضل بن جعفر بن رجابن  زرعہ بخاری المعروف بہ فضلی: عالم صالح فقیہ محدث تھے۔۴۲۶؁ھ میں پیدا ہوئے،حدیث کو بکثرت بیان کیا اور عمر بھر افادہو اضافہ میں مشغول رہے اور بخارا  میں ۵۰۸؁ھ کو وفات پائی۔ ’’زینت بلدہ‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد قطوانی

           محمد بن محمد بن ایوب قطوانی: امام جلیل القدر،شیخ کبیر،مفتی،واعظ، مفسر تھے،ابومحمد کنیت تھی، ۵۰۶؁ھ کو جب جمعہ کی نماز پڑھ کر گھر کو آتے تھے تو گھوڑے سے گر کر مر گئے۔’’علامۂ عصر‘‘ تاریخ وفات ہے۔قطوان ایک بڑا قطبہ ہے جو سمر قند سے پاچن سفرسنگ پر واقع ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ظہیر الدین علی مر غینانی

          علی بن عبد العزیزی عبد الرزاق مر غینانی: ظہیر الدین کبیر لقب تھا، بڑے عالم فاضل اور صاحب خلاصہ کے نانا تھے،فقہ اپنے باپ عبد العزیزی اور سید ابی شجاع محمد بن احمد بن حمزہ اور برہان الدین کبیر عبد العزیز وغیرہم سے اخذ کی اور آپ سےآپ کے بیتے ابو المحاسن حسن بن علی اور قوام الدین احمد بن عبد الرشید والد صاحب خلاصہ نے تفقہ کیا۔کتاب اقفیۃ الرسول تصنیف کی اور ۵۰۶؁ھ میں وفات پائی، اور وہ جو بعض مؤرخین نے فتاویٰ ظہیریہ کو آپ کی طرف منسوب کیا ہے،یہ ان کا سہو ہے بلکہ اس کے مصنف ظہیر الدین محمد بن احمد بن عمر بخاری ہیں۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

ابراہیم دہستانی  

           ابراہیم بن محمد اسحٰق دہتانی: امام فاضل فقیہ کامل اور شہر و بستان کے رہنے والے تھے جو ماژ ندران کے پاس واقع ہے اور جس کو عبداللہ طاہر نے بنایا تھا،کچھ اوپر ۴۶۰؁ھ میں نیشا پور میں آئے اور فقہ کو علی بن حسین صندلی شاگرد حسین صمیری تلمیذ ابی بکر محمد کوارزمی شاگرد جصاص رازی سے پڑھا اور آپ سے عبد الملک بن ابراہیم ہمدانی صاحب طبقات حنفیہ و شافعیہ تفقہ کیا اور ۵۰۳؁ھ میں وفات پائی۔ ’’دہرافروز‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

عطاء سغدی

           عطاء بن حمزہ سغدی: فروع واصول میں امام کامل اور معرفت مذہب میں عارف فاضل بڑے متجر تھے،آپ کے وقت میں اطراف و اکناف سے آپ ہی کے پاس فتاویٰ آیا کرتے تھے،آپ سے ایک جماعت نے جن میں سے ایک نجم الدین عمر نسفی متوفی ۵۳۷؁ھ میں علم اخذ کیا۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

شرف الرؤ سا خوارز می  

              محمد بن محمد بن احمد بن یوسف بن اسمٰعیل الملقب بہ شرف الرؤ سا خوارزمی، فقہ حدیث اور ادب کے امام اور شہر بخارا کے قاضی تھے،بہت لوگ آپ سے فیضیاب ہوئے۔از انجملہ برہان الدین کبیر عبد العزیزی عمر بن مازہ نے آپ سے فقہ پڑھی۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

محمد بن علی زنجری

          محمد بن علی بن فضل بن حسن بن احمد بن ابراہیم اسحٰق بن عثمان بن جعفر بن عبد اللہ زرنجری: بڑے عالم فاضل بے بدل تھے۔فقہ شمس الائمہ عبد العزیزی صلوائی سے پڑھی اور آپ کے بیٹے بکر زرنجری کے سوائے اور کسی نے آپ سے تفقہ نہیں کیا جس کا سبب برہان الاسلام زرنوجی نے اپنی کتاب تعلیم المتعلم کے فصل رعایۃ الاستاذ میں یہ تحریر کیا ہے کہ ایک دفعہ آپ کے استاذ شمس الائمہ حلوائی بخارا سے نکل کر بعض دیہات میں سکونت پذیر ہوئے جہاں ان کی زیارت کو ان کے تمام شاگرد بجز آپ کے حاضر ہوئے،اخیر کو جب آپکی ملاقات ان سے ہوئی تو انہوں نے ‏آپ سے پوچھا کہ آپ میری زیارت کے لیے ک یوں نہیں آئے؟ آپ نے کہا کہ میں اپنی والدہ کی خدمت میں مشغول تھا،اس پر شمس الائمہ نے کہا کہ آپ کی عمر تو بڑی ہو مگر درس میں رونق نصیب نہ ہو پس ایسا ہی ہوا کہ با وجود یکہ آپ نے اکثر اوقات شہروں۔۔۔

مزید