جمعہ , 04 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Friday, 19 June,2026

سیّدناعطیہ ابن سمین رضی اللہ عنہ

بن غباب تغلی ہیں مالک بن عدی بن زید کی اولاد سےتھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس وفد میں آئے تھےاورواقعہ قادسیہ میں(قبیلہ)تغلب اورنمراورایادپرسردارتھے اس کا ابن دباغ نے سیف بن عمرسے نقل کرکے بیان کیاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن بسر رضی اللہ عنہ

مازنی ہیں عبداللہ بن بسرکے بھائی تھے۔شام میں رہتے تھے۔ہم کوابوالفضل یعنی منصور بن ابوالحسن مخزومی نے اپنی سند کوابویعلی موصلی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے کہ ابوطالب یعنی عبدالجبار بن عاصم نے کہاہے کہ ہم سے بقیہ بن عبدالولید نے معاویہ بن یحییٰ سے انھوں نے سلیمان بن موسیٰ سے انھوں نے مکحول سے انھوں نے غفیف بن حارث سے انھوں نے عطیہ بن بسر مازنی سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے(ایک دن)عکاف بن وداعہ ہلالی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے توآپ نے فرمایاکیاتمھاری زوجہ ہےاورپوری حدیث بیان کی۔وہ عکاف بن وداعہ ہلالی کے تذکرہ میں بیان ہوگی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطیہ ابن بسر رضی اللہ عنہ

مازنی ہیں عبداللہ بن بسرکے بھائی تھے۔شام میں رہتے تھے۔ہم کوابوالفضل یعنی منصور بن ابوالحسن مخزومی نے اپنی سند کوابویعلی موصلی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے کہ ابوطالب یعنی عبدالجبار بن عاصم نے کہاہے کہ ہم سے بقیہ بن عبدالولید نے معاویہ بن یحییٰ سے انھوں نے سلیمان بن موسیٰ سے انھوں نے مکحول سے انھوں نے غفیف بن حارث سے انھوں نے عطیہ بن بسر مازنی سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے(ایک دن)عکاف بن وداعہ ہلالی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے توآپ نے فرمایاکیاتمھاری زوجہ ہےاورپوری حدیث بیان کی۔وہ عکاف بن وداعہ ہلالی کے تذکرہ میں بیان ہوگی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطارد ابن حاجب رضی اللہ عنہ

 بن زرارہ بن عدس بن زیدبن عبداللہ بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زید بن مناہ بن تمیم تمیمی ہیں یہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گروہ سرداران تمیم کے ساتھ وفد ہوکرآئےتھے ان میں سے اقرع بن عابس اورزبرقان بن بدراورقیس بن عاصم وغیرہم تھے۔ یہ سب اسلام لائے۔یہ   ۹ھ ہجری کا واقعہ تھااورکہاگیاہے کہ ۱۰ھ ہجری کاواقعہ تھا مگرپہلاقول صحیح ہے اوریہ اپنی قوم کے سردارتھے۔یہ عطارد وہی شخص ہیں جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کووہ ریشمی کپڑاہدیتاً دیاتھا جوان کو کسریٰ نے پہننے کے لیے دیاتھاصحابہ نے اس کپڑے کودیکھ کر تعجب کیا تو آپ نے فرمایاکہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہترہیں پھرفرمایاکہ تم لوگ اس کوابوجہم حذیفہ کے پاس لے جاؤاوران سے کہو کہ وہ میرے واسطے اس کے عوض میں ایک کرتہ بھیج دیں جب حمجاح تمیمہ نے نبوت کادعوی کیاتھاتو یہ ان لوگوں میں سے تھے جن لوگوں نے اس کی پیرو۔۔۔

مزید

سیّدناعطارد رضی اللہ عنہ

ابن برز۔ابوعشراءدارمی کے والد تھے ان سے ان کے بیٹے ابوعشراء نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہایارسول اللہ سوائے حلق اورلبہ کے(کسی دوسرے مقام پرزخم لگانےسے)کیاذبح نہیں ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اگرذبیحہ کی ران میں برچھاماروتب بھی تم کوکافی ہے۔اورہم ان کا تذکرہ لکھ چکے ہیں۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطاء ابن یعقوب ابن سباع رضی اللہ عنہ

 کے غلام تھے۔ان کوابن مندہ نے اپنی تاریخ میں بیان کیاہے مگرمعرفت صحابہ میں ان کونہیں بیان کیاہے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے سرپرہاتھ پھیرا (ان کی یہ عادت تھی)کہ اپنے سرکوآسمان کی طرف(کبھی)نہ اٹھاتےتھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطاء مزنی رضی اللہ عنہ

 ہیں سفیان بن عینیہ نے عبدالملک بن نوفل سے انھوں نے ابن عطامزنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ایک چھوٹاسالشکر(کسی طرف)بھیجاتو آپ نے اس کے آدمیوں سے یہ وصیت کی کہ جب تم لوگ مسجد دیکھناتو(وہاں)کسی کو قتل نہ کرنا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھاہے مگردونوں نے کہاہے کہ سند میں یہ غلطی ہے صحیح یہ ہے کہ ابن عصام مزنی نے عصام مزنی سے روایت کی ہے ان کا ذکرپہلے ہوچکاہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطاء رضی اللہ عنہ

ان کی کنیت ابوعبداللہ تھی۔ان کا نسب نہیں بیان کیاگیاہے ان سے ان کے بیٹےعبداللہ نے روایت کی ہے عطاء نے کہاہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاموذن (کی حالت)اپنی اذان اور اقامت کےدرمیان مثل اس شخص کے ہے جوکہ اللہ کی راہ میں (کشتہ ہوکر)اپنے خون میں تڑپتا ہے۔ ان کاتذکرہ ابونعیم اورابوموسیٰ نے لکھاہے واللہ اعلم۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطاء ابن عبیداللہ رضی اللہ عنہ

شیبی بعض لوگوں نے کہاہے کہ یہ عطابن نضر بن حارث بن علقمہ بن کلاء بن عبدمناف بن عبدالداربن قصی بن کلاب قریشی عبدری ہیں ان کا نسب ابوبکر طلحی نے اسی طرح بیان کیاہے یہ کوفہ میں رہتےتھےان سے قطربن خلیفہ نے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومقام (کعبہ)میں دیکھاتھاکہ آپ کاجوتابغیربال کے چمڑے کاتھاان کاتذکرہ تینوں نے لکھا ہے مگرابوعمرنے کہاہے کہ ان کے صحابی ہونے میں کلام ہے۔ (اُسد الغابۃ ۔جلد ۷،۶)۔۔۔

مزید

سیّدناعطاء ابن ابراہیم رضی اللہ عنہ

 اوربعض نے کہاہے کہ یہ ابراہیم بن عطاثقفی ہیں ان کے صحابی ہونے میں اختلاف ہے ہم کو یحییٰ بن محمود نے اپنی سند کو ابن ابی عاصم تک پہنچاکراجازتاً خبردی وہ کہتےتھے ہم سے حسن حلوانی نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ابوعاصم نے بیان کیاوہ کہتےتھے ہم سے عبداللہ بن مسلم بن ہرمز نے یحییٰ بن عبدالرحمن بن عطابن ابراہیم سے انھوں نے اپنے والدسے انھوں نے اپنے دادا سے نقل کرکے بیان کیااوروہ طائف کے رہنے والوں میں سے تھے۔وہ کہتے تھے میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کومقام منیٰ میں لوگوں سے یہ فرماتے ہوئے سناکہ اے لوگواپنے جوتوں میں دو تسمے لگایا کرو۔ابوعاصم نے کہاہے کہ ہم ان کویحییٰ بن ابراہیم بن عطا کہتےتھے مگربعد میں معلوم ہوا کہ ان کا نام یحییٰ بن عطابن ابراہیم ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے اسی طرح لکھاہے اورابوعمر نے کہاہے کہ یہ عطاہیں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ جوتے میں۔۔۔

مزید