ابن صیفی جہنی ہیں بعض نے کہاہے کہ جعفی ہیں۔حمادبن عیسیٰ جہنی نے روایت کی ہے کہ مجھ سے میرے والد نے اپنے والدسے انھوں نے اپنے داداعبیدہ بن صیفی سےنقل کرکے بیان کیاکہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوکرعرض کیاکہ یانبی اللہ میرے اولاد کے واسطے اللہ سے دعا کیجیے آپ نے دعافرمائی اورفرمایااے عبیدہ تم لوگوں پر جب کوئی تنگی پیش آئے گی اللہ تعالیٰ اس کو دور کردے گااورحماد بن عیسیٰ سے روایت کی ہے کہ عبیدہ کہتے تھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی اوراپنے مال کی زکوۃ آپ کی خدمت میں پیش کی اورعرض کیایارسول اللہ آپ میرے لیے دعافرمائیےاس کے بعدمثل گذشتہ روایت کے بیان کیا۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بن جبیر۔عمروبن کعب بن بہزاد کے اولاد سے تھے بنی عصینہ جوانصار کے حلیف تھے ان کے یہ حلیف تھے یہ غزوۂ بدرمیں شریک تھے۔ان کو ہشام بن کلبی نے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید
بعض لوگوں نے ان کو ابن خلف حنظلی بیان کیاہے یعنی حنظلہ بن مالک بن زید مناہ بن تمیم کے اولادسےاوربعض نے ان کو محاربی کہاہے اوربعض نے ان کو ابوشعثاء یعنی اشعث بن سلیم کی پھوپھی کا چچابیان کیاہے ان کی حدیث نے اپنی پھوپھی سے انھوں نے عبیدہ سے نقل کرکے روایت کی ہے اور بعض لوگ کہتے ہیں کہ اشعث نے اپنی قوم کے نیک آدمی سے انھوں نے اپنی پھوپھی سے انھوں نے اپنے چچاعبیدبن خالدسے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ نے فرمایاکہ تم اپنی ازارکوٹخنوں سے اونچارکھو کیوں کہ اس میں پرہیزگاری اورپائداری زیادہ ہےدار قطنی نے ان کا نام عبیدہ بیان کیاہے یہ انھوں نے کچھ نہ کیا اوریہ بھی کہاہے کہ ان کوابن خلف یا ابن خالد کہنا غلط ہے بخاری نےاورنیزابن ابی حاتم نے اپنے والد سے نقل کرکے ان کا نام عبیدہ بیان کیاہےاوریہی صحیح ہے ان کاتذکرہ ابوعمراورابوموسیٰ نے لکھاہےمگربعض لوگوں نے ان کو عبیدہی ب۔۔۔
مزید
ہیں بعض کہتےہیں کہ ان کا نام عبدہ تھا۔ہم ان کوذکرکرچکے ہیں ان کی کنیت ابوولید تھی ان سے صرف ابواسحاق سبیعی نے روایت کی ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے لکھا ہے۔ (اسد الغابۃ ۔جلد ۔۶،۷)۔۔۔
مزید