ابن کثیرمحمدکےوالدتھے۔ان کے صحابی ہونےمیں اختلاف ہےسلیمان بن بلال نے سہیل بن ابی صالح سے انھوں نے محمد بن عبیداللہ سےانھوں نے اپنے والدسےروایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجوشخص اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں جائےگا کہ (وہ زندگی میں)شراب خورتھاتواللہ کے سامنےاس کی وہی حالت ہوگی جوبت پرست کی ہوتی ہے۔اس حدیث کومحمد بن سلیمان اصفہانی نے سہیل سے انھوں اپنے والدسےانھوں نےابوہریرہ سےروایت کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےلیکن ابوعمرنے ان کوعبیداللہ بن کثیربیان کرکے محمدکاوالدکہاہےاور ابن مندہ نے ان کوعبیداللہ ابومحمدبیان کیاہے۔اورابونعیم نےکہاہے کہ یہ عبیداللہ ہیں اوران کانسب نہیں بیان کیاگیاہے(ان تینوں قولوں سے)یہ گمان ہوتاہے یہ تین شخص(علیحدہ علیحدہ)ہیں حالاں کہ (یہ تینوں شخص جوعلیحدہ علیحدہ عنوان سے بیان ہوئے ہیں)ایک ہی شخص ہیں واللہ اعلم۔ ابوعمر نے کہاہے کہ محمداوران کے والدعب۔۔۔
مزید
لیثی ہیں۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کوابن مندہ نے عبداللہ کے نام میں بیان کیاہے اور ان کا نسب نہیں اورابن شاہین نے ان کوعبیداللہ کے نام میں بیان کیاہےاورااپنی سندکے ساتھ عدی بن فضل سے انھوں نے داؤدبن ابی ہندسے انھوں نے ابوحرب بن ابی اسودویلی سے انھوں نے عبیداللہ بن فضالہ سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس(ایک سفرسے)آیاتوآپ نے فرمایاجس کو کوئی شناسا ہو وہ اپنے شناساکے یہاں اترے اورجس کا کوئی شناسانہ ہو وہ اہل صفہ کے پاس اترے (حسب الحکم)میں اہل صفہ کے پاس اتراجمعہ کے دن رسول خدا صلی اللہ وسلم منبرپرتشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے بھوک کی شکایت کی آپ نے فرمایاعنقریب بڑے بڑے ظروف جولوگ تم سے زندہ رہیں گےان کے سامنے صبح وشام (دونوں وقت)کھانے کے لگائے جائیں گےاورکھان کھائیں گے کپڑے(ایسے پرتکلف)جیسے کعبہ کے پردے اس حدیث کو بہت سے لوگوں نے داؤدبن۔۔۔
مزید
بن نفیل قریشی عدوی ہیں ابوعیسیٰ ان کی کنیت تھی ان کانسب ان کے بھائی کے بیان میں گذرچکاہے یہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئےتھےقریش کے شہسواروں اوربہادروں میں سے تھے انھوں نے اپنے والداورحضرت عثمان بن عفان اورابوموسیٰ وغیرہم سے حدیث کی سماعت کی ہے زید بن اسلم نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے اپنے بیٹے عبیداللہ کودرے لگائے اورکہاتم نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی ہے(تویہ بتاؤ)حضرت عیسیٰ کاکوئی باپ تھایہ عبیداللہ جنگ صفین میں حضرت معاویہ کے ساتھ شریک تھے اوراسی جنگ میں ان کی شہادت ہوئی ان کاجنگ صفین میں (معاویہ کی طرف سے)شریک ہونے کاسبب یہ تھا کہ جب ابولؤلؤنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوشہید کرڈالااوران کے کفن دفن سے فراغت ہوئی تو کسی نے عبیداللہ سے کہاہم دیکھتے ہیں کہ ابولؤلؤ اورہرمزان دونوں بچ گئے حالاں کہ ہرمزان وہ خنجرجس سے حضرت عمرکوشہیدکیاتھااپنے ہاتھ م۔۔۔
مزید
بن خیاربن عدی بن نوفل بن عبدمناف قریشی نوفلی ہیں ان کی والدہ ام قتال بنت البدبن ابی العیص عتاب بن اسید کی بہن تھیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھے اورولیدبن عبدالملک کے زمانے میں وفات پائی مدینہ میں حضرت علی کے مکان کے پاس ان کا مکان تھاانھوں نے حضرت عمراورعثمان رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ہم کو مکی بن وہاب بن شبہ نحوی نے اپنی سند کویحییٰ بن یحییٰ تک پہنچاکرامام مالک سے انھوں نے ابن شہاب سے انھوں نے عطاء بن یزید لیثی سے انھوں نے عبیداللہ بن عدی ابن خبارسے نقل کرکےخبردی وہ کہتےتھےایک روز رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان میں تشریف رکھتے تھے یکایک ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے کچھ چپکے سے کہاہم لوگ نہ سمجھ سکے کہ چپکے سے اس نے کیاکہایہاں تک کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلندآوازسے جواب دیااس جواب سے معلوم ہوا کہ وہ ایک ۔۔۔
مزید
بن تیہان بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ عبیداللہ عتیک کے بیٹے تھے کیوں کہ عبیدکے بیان میں عتیک کو بھی بیان کیاہے ان کا نسب عبیداللہ بن تیہان کے نام میں گذرچکاہے اورابوہثیم کے بھتیجے تھےواقعہ یمامہ میں شہیدہوئے تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
بن ہودحنفی یمامی ہیں مدینہ میں رہتے تھے ان سے ان کے بیٹے منہال نے روایت کی ہے وہ کہتے تھے میں گواہی دیتاہوں کہ اقیصر بن سلمہ پانی کاوہ ظروف لے کرآئے جورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجاتھاپس انھوں نے مسجدفران(راوی کہتاہے)یامسجد مروان میں چھڑک دیا اس کو ابونعیم اورابوعمرنے بیانکیاہے۔ابن مندہ نے کہاہے کہ (ان کا نام)عبیداللہ بن صبرہ بن ہوذۃ ہے۔ ہوذہ کومیں خیال کرتاہوں کہ آخرمیں ہاہےاوریہی بہت صحیح ہے اورہوذہ یہ علی بادشاہ یمامہ کے بیٹے تھے اوریہی مشہورہے لیکن ہودقبیلہ حنیفہ میں کوئی شخص مشہورنہیں ہے واللہ اعلم۔۔۔۔
مزید
اوسی امیہ بن زیدبن مالک بن عوف بن عمرو بن عوف بن مالک بن اوس کی اولاد سے ہیں غزوۂ بدر میں شریک تھے اس کو موسیٰ بن عقبہ نے ابن شہاب سے روایت کرکے بیان کیا ہےاوران کے قول کو محمدبن اسحاق نے بیان کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ابوعمر نے کہا ہےکہ یہ عبیدغزوۂ بدر اوراحداورخندق میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے۔ ان کاتذکرہ ابوموسی نے ابن مندہ کے علاوہ لکھاہے۔باوجودیکہ ابن مندہ نے ان کا تذکرہ لکھاہے۔ بس ابوموسیٰ نے جوابن مندہ پراستدراک کیاہے اس کی کوئی وجہ معلوم نہیں ہوتی ہے۔۔۔۔
مزید
بن عبدالاسد بن بلال قریشی مخزومی ہیں واقعہ ٔ یرموک میں شہیدہوئےتھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے میں کہتاہوں کہ کچھ شک نہیں کہ ابوعمرنے اس بیان میں غلطی کی ہے کیوں کہ انھوں نے ان کوعبیداللہ بن سفیان بیان کیاہےاوراس بیان میں شقیرلکھاہے اورعبداللہ کوبن ابی سفیان بن عبدالاسد بیان کیاہے اور سب جگہ لکھا ہے کہ یہ واقعہ یرموک میں شہید ہوئے تھے سفیان بن عبدالاسدتومشہورہیں لیکن شقیرمشہورنہیں ہیں۔۔۔۔
مزید
انصاری ہیں جعفرنے کہاہے کہ ان کا صحابی ہونابیان کیاجاتاہے مگرانھوں نے ان کی کوئی روایت نہیں بیان کی۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔۔۔۔
مزید
بن عبدالاسد قریشی مخزومی ہیں ان کانسب پہلے بیان ہوچکاہے جنگ یرموک میں شہید ہوئے اوریہ ہبار ابن سفیان کے بھائی ہیں۔ان کی کوئی روایت معلوم نہیں ہے۔ان کاتذکرہ ابوعمر نے مختصرلکھاہے۔۔۔۔
مزید