بن عبدالرحمن یہ مجہول النسب ہیں۔ان سے حازم بن مروان نےروایت کی ہے۔ محمد بن اسحاق صاغانی نے علقمہ بن سلیمان سےانھوں نے حازم بن مروان سے انھوں نے عبدالرحمن بن فلاں یا فلاں بن عبدالرحمن سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک انصاری شخص کے عقد نکاح میں شریک ہو کر ان کا(خطبہ)نکاح پڑھا اور فرمایا(تم دونوں)خیراورالفت اور فال نیک اوروسعت رزق پر رہوپھرفرمایایہاں دف بجاؤ پس لوگ دف لائے اور(ان کے قریب) بجاناشروع کیا۔پھروہاں(لوگ)میوے اورشکرکے طباق لائےاور وہاں لٹانےلگےلوگوں نے اپنے ہاتھوں کو (اس میوے لے لوٹنے سے )بازرکھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (یہ دیکھ کر)فرمایا تم لوگوں کوکیاہوا جو(اس میوے کو)نہیں لوٹتے لوگوں نے عرض کیایارسول اللہ کیا آپ نے ہم کو لوٹنے سے منع نہیں فرمایاہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایامیں نے لشکروں کی لوٹ سے منع کیاہے عقد نکاح میں لوٹ سے منع۔۔۔
مزید
انصاری ہیں۔یحییٰ بن یونس نے کتاب المصابیح میں ان کا نام بیان کیا ہے علاوہ یحییٰ کے کسی دوسرے شخص نے ان کانام نہیں ذکرکیااس کو ابن مندہ نے بیان کیاہے اور ابن مندہ نے اپنی سند کے ساتھ قعنبی سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے ہم سے سلیمان بن بلال نے ربیعہ بن ابی عبدالرحمن سے انھوں نے عبداللہ بن عنبسہ سے انھوں نے ابن غنام سے انھوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا جس شخص نے صبح کے وقت یہ دعا پڑھی اللہم مااصبح بی من نعمتہ اوباحد من خلقک فمنکپھرپوری حدیث بیان کی ابونعیم نے کہا ہے کہ عبدالرحمن بن غنام ہی عبداللہ ابن غنام ہیں عبداللہ کے بیان میں ان کو ذکرکیا ہے ۔ان کا تذکرہ بعض متاخرین یعنی ابن مندہ نے ان کو بوجہ حدیث قعنبی کے اس شخص کے نام میں بھی ذکرکیاہے جس کانام عبداللہ تھا۔اوران شخصوں میں بھی بیان کیا ہے جن کا نا م عبدالرحمن تھا۔ اور انھوں نے اپنی ۔۔۔
مزید
بن عبدبن حارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ قریشی زہری ہیں ان کی کنیت ابومحمدتھی اورایام جاہلیت میں ان کا نام عبدعمروتھابعض لوگوں نےعبدالکعبہ بیان کیا ہے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے (بدل کر)عبدالرحمن رکھاان کی والدہ شفابنت عوف بن عبدبن حارث بن زہرہ تھیں یہ واقعہ فیل کے دس برس کے بعد پیداہوئےتھےآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دارارقم میں پہنچنےسے پیشترایمان لائےتھےاوریہ ان آٹھ شخصوں میں سےہیں جو سب سے پیشترایمان لائے تھے اور ان پانچ آدمیوں میں سے جوحضرت ابوبکر صدیق کے ہاتھ پرایمان لائے تھے ایک یہ بھی تھے ان لوگوں کوہم نے حضرت ابوبکر صدیق کے بیان میں ذکرکیاہے۔اوریہ ان مہاجرین اولین میں سے ہیں جنھوں نے حبش اورمدینہ کی طرف ہجرت کی تھی حضرت رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں اورسعدبن ربیع میں بھائی چاراکرایاتھایہ غزوۂ بدراوراحداورتمام غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک ۔۔۔
مزید
ان کے حال میں لوگوں نے اختلاف کیاہےحضرمی نے ان کووحدان میں ذکرکیاہے ہم کو ابوموسیٰ نے اجازتاً خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتے تھےہمیں احمد بن عبداللہ نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن محمد نےبیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن عبداللہ حضرمی نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبدالرحمن بن شریک نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے عثمان بن ابی زرعہ نے سالم بن ابی الجعد سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی عمرو سے روایت کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہاکہ تم لوگوں نے اے آل محمد کس حال میں صبح کی آپ نے فرمایاہماری حالت اس شخص سے بہترہے کہ جس نے کسی مریض کی عیادت نہ کی ہو اور صبح کو روزہ دارنہ ہو۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
صحابی ہیں ان سے عبداللہ بن بدرنے روایت کی ہے کہ عبدالرحمن نے کہامیں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سناکہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر نظر(عنایت)نہیں کرتاہے جواپنی پیٹھ کورکوع اورسجود میں اچھی طرح نہ رکھے اس حدیث کی روایت صرف عبدالوارث بن سعید نے ابوعبداللہ بن عمام شقری سے انھوں نے عمربن جابرسے انھوں نے عبداللہ بن بدرسے کی ہے اورعکرمہ بن عمار نے عبداللہ بن بدرسے انھوں نے طلق بن علی سے بھی اس حدیث کو روایت کیاہے۔اوریہ صحیح ہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
بن مسعودبن معتب بن مالک بن کعب بن عمروبن سعدبن عوف بن ثقیف ثقفی ہیں ہشام بن کلبی نے اسی طرح ان کانسب بیان کیاہے اوریہ عبدالرحمن حجاج بن یوسف بن حکم بن ابی عقیل کے چچازاد بھائی ہیں اور لوگوں نے ان کے نسب میں اختلاف کیاہے مگرثقفی ہونے میں سب کا اتفاق ہےصحابی تھے ان سے عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی نے روایت کی ہے اور چندلوگوں نے عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔اورعبدالرحمن بن عقیل کاصحابی ہونادرست ہے ہشام بن مغیرہ ثقفی نے بھی عبدالرحمن بن ابی عقیل سے روایت کی ہے یہ ابوعمرکابیان تھالیکن ابن مندہ اورنعیم نے کہاہےکہ یہ عبدالرحمن بن ابی عقیل ثقفی ہیں دونوں میں سے کسی نے ان کانسب اس سے زیادہ نہیں بیان کیااوریہ بھی کہاجاتاہے یہ عبدالرحمن ام الحکم بنت ابی سفیان کے بیٹے تھے ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے ان سے عبدالرحمن بن علقمہ نے روایت کی ہے ان کی روایت کردہ حدیث کا ذکرعبدالرحمن بن ۔۔۔
مزید
بن مسعودبن معتب بن مالک بن کعب بن عمروبن سعدبن عوف بن ثقیف ثقفی ہیں ہشام بن کلبی نے اسی طرح ان کانسب بیان کیاہے اوریہ عبدالرحمن حجاج بن یوسف بن حکم بن ابی عقیل کے چچازاد بھائی ہیں اور لوگوں نے ان کے نسب میں اختلاف کیاہے مگرثقفی ہونے میں سب کا اتفاق ہےصحابی تھے ان سے عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی نے روایت کی ہے اور چندلوگوں نے عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔اورعبدالرحمن بن عقیل کاصحابی ہونادرست ہے ہشام بن مغیرہ ثقفی نے بھی عبدالرحمن بن ابی عقیل سے روایت کی ہے یہ ابوعمرکابیان تھالیکن ابن مندہ اورنعیم نے کہاہےکہ یہ عبدالرحمن بن ابی عقیل ثقفی ہیں دونوں میں سے کسی نے ان کانسب اس سے زیادہ نہیں بیان کیااوریہ بھی کہاجاتاہے یہ عبدالرحمن ام الحکم بنت ابی سفیان کے بیٹے تھے ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے ان سے عبدالرحمن بن علقمہ نے روایت کی ہے ان کی روایت کردہ حدیث کا ذکرعبدالرحمن بن ۔۔۔
مزید
حضرت عمربن خطاب کے بڑے بیٹے عبداللہ اور حضرت ام المومنین حفصہ کے بھائی تھےان کی والدہ زینب بنت مظعون عثمان بن مظعون حمجی کی بہن تھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا لیکن کوئی آپ کی حدیث انھیں یاد نہ تھی اور عبدالرحمن ابوشحمہ یہ حضرت عمرکے منجھلے بیٹے ہیں ان کو عمرو بن عاص نے شراب خوری کی حد مصر میں لگائی تھی پھر(وہاں سے ) ان کومدینہ بھیج دیاتوان کے والدحضرت عمر نے ان کو تادیباًضرب دی بعدہ یہ بیمارہوگئے اورایک مہینہ کے بعد انتقال ہوگیا معمر نے زہری سے انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد سے اسی طرح روایت کیاہے لیکن اہل عراق کہتے ہیں کہ ان کو کوڑے لگائے جارہے تھےاسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیایہ غلط ہے اور عبدالرحمن ابوالمجبرحضرت عمرکے چھوٹے بیٹے ہیں اورمجبر کا نام بھی عبدالرحمن ہے اور وہ عبدالرحمن بن عمرکے بیٹے تھےان کا نام مجبراس وجہ سے مشہورہوگیاکہ یہ اپنے بچپن میں گرپڑے ت۔۔۔
مزید
انصاری ہیں ان کی کنیت ابولیلی ہے۔علی مرتضیٰ کے ساتھ واقعہ صفین میں موجود تھے ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر بیان کیاہے۔۔۔۔
مزید
ابن حبیب جہنی ہیں ان کی حدیث عبداللہ بن نافع زرگرکے واسطے سے مروی ہے عبداللہ بن نافع نے ہشام بن سعد سے انھوں نے معاذ بن عبدالرحمن جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ بیشک رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب لڑکا اپنادایاں بایاں پہچاننے لگے تواس کو نماز کا حکم کرو۔یہ حدیث کسی دوسری سند سے معلوم نہیں ہوتی اس کو ابوعمرنے بیان کرکے کہاہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تومیں ان عبدالرحمن کو عبداللہ بن حبیب کابھائی سمجھتاہوں۔۔۔۔
مزید