ان کے حال میں لوگوں نے اختلاف کیاہےحضرمی نے ان کووحدان میں ذکرکیاہے ہم کو ابوموسیٰ نے اجازتاً خبردی وہ کہتے تھے ہمیں ابوعلی نے خبردی وہ کہتے تھےہمیں احمد بن عبداللہ نے خبردی وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن محمد نےبیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے محمد بن عبداللہ حضرمی نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے عبدالرحمن بن شریک نے بیان کیا وہ کہتے تھے ہم سے ہمارے والد نے بیان کیا وہ کہتے تھےہم سے عثمان بن ابی زرعہ نے سالم بن ابی الجعد سے انھوں نے عبدالرحمن بن ابی عمرو سے روایت کرکے بیان کیاکہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک آدمی آیا اور کہاکہ تم لوگوں نے اے آل محمد کس حال میں صبح کی آپ نے فرمایاہماری حالت اس شخص سے بہترہے کہ جس نے کسی مریض کی عیادت نہ کی ہو اور صبح کو روزہ دارنہ ہو۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابوموسیٰ نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
صحابی ہیں ان سے عبداللہ بن بدرنے روایت کی ہے کہ عبدالرحمن نے کہامیں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کوفرماتے ہوئے سناکہ اللہ تعالیٰ اس شخص پر نظر(عنایت)نہیں کرتاہے جواپنی پیٹھ کورکوع اورسجود میں اچھی طرح نہ رکھے اس حدیث کی روایت صرف عبدالوارث بن سعید نے ابوعبداللہ بن عمام شقری سے انھوں نے عمربن جابرسے انھوں نے عبداللہ بن بدرسے کی ہے اورعکرمہ بن عمار نے عبداللہ بن بدرسے انھوں نے طلق بن علی سے بھی اس حدیث کو روایت کیاہے۔اوریہ صحیح ہے ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔
مزید
بن مسعودبن معتب بن مالک بن کعب بن عمروبن سعدبن عوف بن ثقیف ثقفی ہیں ہشام بن کلبی نے اسی طرح ان کانسب بیان کیاہے اوریہ عبدالرحمن حجاج بن یوسف بن حکم بن ابی عقیل کے چچازاد بھائی ہیں اور لوگوں نے ان کے نسب میں اختلاف کیاہے مگرثقفی ہونے میں سب کا اتفاق ہےصحابی تھے ان سے عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی نے روایت کی ہے اور چندلوگوں نے عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔اورعبدالرحمن بن عقیل کاصحابی ہونادرست ہے ہشام بن مغیرہ ثقفی نے بھی عبدالرحمن بن ابی عقیل سے روایت کی ہے یہ ابوعمرکابیان تھالیکن ابن مندہ اورنعیم نے کہاہےکہ یہ عبدالرحمن بن ابی عقیل ثقفی ہیں دونوں میں سے کسی نے ان کانسب اس سے زیادہ نہیں بیان کیااوریہ بھی کہاجاتاہے یہ عبدالرحمن ام الحکم بنت ابی سفیان کے بیٹے تھے ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے ان سے عبدالرحمن بن علقمہ نے روایت کی ہے ان کی روایت کردہ حدیث کا ذکرعبدالرحمن بن ۔۔۔
مزید
بن مسعودبن معتب بن مالک بن کعب بن عمروبن سعدبن عوف بن ثقیف ثقفی ہیں ہشام بن کلبی نے اسی طرح ان کانسب بیان کیاہے اوریہ عبدالرحمن حجاج بن یوسف بن حکم بن ابی عقیل کے چچازاد بھائی ہیں اور لوگوں نے ان کے نسب میں اختلاف کیاہے مگرثقفی ہونے میں سب کا اتفاق ہےصحابی تھے ان سے عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی نے روایت کی ہے اور چندلوگوں نے عبدالرحمن بن علقمہ ثقفی کو صحابہ میں ذکرکیاہے۔اورعبدالرحمن بن عقیل کاصحابی ہونادرست ہے ہشام بن مغیرہ ثقفی نے بھی عبدالرحمن بن ابی عقیل سے روایت کی ہے یہ ابوعمرکابیان تھالیکن ابن مندہ اورنعیم نے کہاہےکہ یہ عبدالرحمن بن ابی عقیل ثقفی ہیں دونوں میں سے کسی نے ان کانسب اس سے زیادہ نہیں بیان کیااوریہ بھی کہاجاتاہے یہ عبدالرحمن ام الحکم بنت ابی سفیان کے بیٹے تھے ان کا شمار اہل کوفہ میں ہے ان سے عبدالرحمن بن علقمہ نے روایت کی ہے ان کی روایت کردہ حدیث کا ذکرعبدالرحمن بن ۔۔۔
مزید
حضرت عمربن خطاب کے بڑے بیٹے عبداللہ اور حضرت ام المومنین حفصہ کے بھائی تھےان کی والدہ زینب بنت مظعون عثمان بن مظعون حمجی کی بہن تھیں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تھا لیکن کوئی آپ کی حدیث انھیں یاد نہ تھی اور عبدالرحمن ابوشحمہ یہ حضرت عمرکے منجھلے بیٹے ہیں ان کو عمرو بن عاص نے شراب خوری کی حد مصر میں لگائی تھی پھر(وہاں سے ) ان کومدینہ بھیج دیاتوان کے والدحضرت عمر نے ان کو تادیباًضرب دی بعدہ یہ بیمارہوگئے اورایک مہینہ کے بعد انتقال ہوگیا معمر نے زہری سے انھوں نے سالم سے انھوں نے اپنے والد سے اسی طرح روایت کیاہے لیکن اہل عراق کہتے ہیں کہ ان کو کوڑے لگائے جارہے تھےاسی حالت میں ان کا انتقال ہوگیایہ غلط ہے اور عبدالرحمن ابوالمجبرحضرت عمرکے چھوٹے بیٹے ہیں اورمجبر کا نام بھی عبدالرحمن ہے اور وہ عبدالرحمن بن عمرکے بیٹے تھےان کا نام مجبراس وجہ سے مشہورہوگیاکہ یہ اپنے بچپن میں گرپڑے ت۔۔۔
مزید
انصاری ہیں ان کی کنیت ابولیلی ہے۔علی مرتضیٰ کے ساتھ واقعہ صفین میں موجود تھے ان کا تذکرہ ابوعمر نے مختصر بیان کیاہے۔۔۔۔
مزید
ابن حبیب جہنی ہیں ان کی حدیث عبداللہ بن نافع زرگرکے واسطے سے مروی ہے عبداللہ بن نافع نے ہشام بن سعد سے انھوں نے معاذ بن عبدالرحمن جہنی سے انھوں نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ بیشک رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجب لڑکا اپنادایاں بایاں پہچاننے لگے تواس کو نماز کا حکم کرو۔یہ حدیث کسی دوسری سند سے معلوم نہیں ہوتی اس کو ابوعمرنے بیان کرکے کہاہے کہ اگر یہ حدیث صحیح ہے تومیں ان عبدالرحمن کو عبداللہ بن حبیب کابھائی سمجھتاہوں۔۔۔۔
مزید
حمیری ہیں حمید کے والد ہیں۔ابن مندہ نے کہاہے کہ صحیح یہ ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں دیکھا ان سے ان کے بیٹے حمید نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ ۱؎پس کیا تم ہماری حالت کاتدارک کرسکتے ہو اور٘اپنی رعیت سے فساد دورکرسکتے ہو ٘اورایسے شخص کومعزول کرسکتےہو جوہمیشہ اپنی خواہش نفسانی کی پیروی کرتاہے ٘اوراپنی کج فہمی سے شہروں کوویران کئے ڈالتاہے٘ جب اس سے کہو کہ اپنی خواہش نفسانی کوترک کر ٘تواس کی گمراہی اوربڑھ جاتی ہے٘۱۲۔ ۲؎ ترجمہ اے نبی جب یہ لوگ کوئی تجارت یاکھیل دیکھتے ہیں تو تم کو(خطبہ پڑھتے ہوئے)کھڑاچھوڑکرچلے جاتے ہیں۔ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دوشخص پکاریں تو اس کے پاس جاؤ جوبہ نسبت دوسرے کے تم سےقریب ہو اس وجہ سے کہ جس کا دروازہ قریب ہو وہی پڑوس کا زیادہ حق دار ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابو نعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ان کا ذکر حضرت معاویہ اور وائل بن حجرکے قصہ میں آتاہے ان کی والدہ ام الحکم ابوسفیان بن حرب(والدہ حضرت معاویہ کی بیٹی اور حضرت معاویہ کی بہن ہیں) ان عبدالرحمٰن کے والد کانام عبداللہ بن عثمان بن عبداللہ بن ربیعہ بن حارث بن حبیب بن حارث بن مالک بن حطیطہ بن جشم بن قسی ہے۔ثقفی ہیں۔اوربعض لوگ ان کا نسب اس طرح بیان کرتے ہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عقیل۔ کنیت ان کی ابوسلیمان اور بعض لوگ ابومطرف کہتے ہیں یہ اپنی والدہ ام الحکم ہی کی طرف زیادہ منسوب کیے جاتے ہیں اسی وجہ سےہم نے ان کاذکریہاں کیاانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی (یعنی ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی دوسرا صحابی راوی ہوتا ہے جس کو یہ ذکرنہیں کرتے)اوربعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خود صحابی ہیں۔انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازپڑھی ہے ان سے اسماعیل بن عبیداللہ اور عزاز بن حریث اوریع۔۔۔
مزید
ان کا ذکر حضرت معاویہ اور وائل بن حجرکے قصہ میں آتاہے ان کی والدہ ام الحکم ابوسفیان بن حرب(والدہ حضرت معاویہ کی بیٹی اور حضرت معاویہ کی بہن ہیں) ان عبدالرحمٰن کے والد کانام عبداللہ بن عثمان بن عبداللہ بن ربیعہ بن حارث بن حبیب بن حارث بن مالک بن حطیطہ بن جشم بن قسی ہے۔ثقفی ہیں۔اوربعض لوگ ان کا نسب اس طرح بیان کرتے ہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عقیل۔ کنیت ان کی ابوسلیمان اور بعض لوگ ابومطرف کہتے ہیں یہ اپنی والدہ ام الحکم ہی کی طرف زیادہ منسوب کیے جاتے ہیں اسی وجہ سےہم نے ان کاذکریہاں کیاانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی (یعنی ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی دوسرا صحابی راوی ہوتا ہے جس کو یہ ذکرنہیں کرتے)اوربعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خود صحابی ہیں۔انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازپڑھی ہے ان سے اسماعیل بن عبیداللہ اور عزاز بن حریث اوریع۔۔۔
مزید