حمیری ہیں حمید کے والد ہیں۔ابن مندہ نے کہاہے کہ صحیح یہ ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کونہیں دیکھا ان سے ان کے بیٹے حمید نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا رسول خدا صلی اللہ ۱؎پس کیا تم ہماری حالت کاتدارک کرسکتے ہو اور٘اپنی رعیت سے فساد دورکرسکتے ہو ٘اورایسے شخص کومعزول کرسکتےہو جوہمیشہ اپنی خواہش نفسانی کی پیروی کرتاہے ٘اوراپنی کج فہمی سے شہروں کوویران کئے ڈالتاہے٘ جب اس سے کہو کہ اپنی خواہش نفسانی کوترک کر ٘تواس کی گمراہی اوربڑھ جاتی ہے٘۱۲۔ ۲؎ ترجمہ اے نبی جب یہ لوگ کوئی تجارت یاکھیل دیکھتے ہیں تو تم کو(خطبہ پڑھتے ہوئے)کھڑاچھوڑکرچلے جاتے ہیں۔ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جب دوشخص پکاریں تو اس کے پاس جاؤ جوبہ نسبت دوسرے کے تم سےقریب ہو اس وجہ سے کہ جس کا دروازہ قریب ہو وہی پڑوس کا زیادہ حق دار ہے ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابو نعیم نے لکھا ہے۔۔۔۔
مزید
ان کا ذکر حضرت معاویہ اور وائل بن حجرکے قصہ میں آتاہے ان کی والدہ ام الحکم ابوسفیان بن حرب(والدہ حضرت معاویہ کی بیٹی اور حضرت معاویہ کی بہن ہیں) ان عبدالرحمٰن کے والد کانام عبداللہ بن عثمان بن عبداللہ بن ربیعہ بن حارث بن حبیب بن حارث بن مالک بن حطیطہ بن جشم بن قسی ہے۔ثقفی ہیں۔اوربعض لوگ ان کا نسب اس طرح بیان کرتے ہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عقیل۔ کنیت ان کی ابوسلیمان اور بعض لوگ ابومطرف کہتے ہیں یہ اپنی والدہ ام الحکم ہی کی طرف زیادہ منسوب کیے جاتے ہیں اسی وجہ سےہم نے ان کاذکریہاں کیاانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی (یعنی ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی دوسرا صحابی راوی ہوتا ہے جس کو یہ ذکرنہیں کرتے)اوربعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خود صحابی ہیں۔انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازپڑھی ہے ان سے اسماعیل بن عبیداللہ اور عزاز بن حریث اوریع۔۔۔
مزید
ان کا ذکر حضرت معاویہ اور وائل بن حجرکے قصہ میں آتاہے ان کی والدہ ام الحکم ابوسفیان بن حرب(والدہ حضرت معاویہ کی بیٹی اور حضرت معاویہ کی بہن ہیں) ان عبدالرحمٰن کے والد کانام عبداللہ بن عثمان بن عبداللہ بن ربیعہ بن حارث بن حبیب بن حارث بن مالک بن حطیطہ بن جشم بن قسی ہے۔ثقفی ہیں۔اوربعض لوگ ان کا نسب اس طرح بیان کرتے ہیں عبدالرحمٰن بن عبداللہ بن ابی عقیل۔ کنیت ان کی ابوسلیمان اور بعض لوگ ابومطرف کہتے ہیں یہ اپنی والدہ ام الحکم ہی کی طرف زیادہ منسوب کیے جاتے ہیں اسی وجہ سےہم نے ان کاذکریہاں کیاانھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی (یعنی ان کے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان کوئی دوسرا صحابی راوی ہوتا ہے جس کو یہ ذکرنہیں کرتے)اوربعض لوگ کہتے ہیں کہ یہ خود صحابی ہیں۔انھوں نے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے پیچھے نمازپڑھی ہے ان سے اسماعیل بن عبیداللہ اور عزاز بن حریث اوریع۔۔۔
مزید
بعض لوگوں نے ان ک ابن سحان کہاہے۔یہ بنی انیف کے بھائی تھے۔(بنی انیف) قبیلہ بلی کی ایک شاخ ہے یہ وہ شخص ہیں جنھوں نے ایک صاع خرمے خیرت دیے تھے۔اورمنافقوں نے ان پر طعنہ زنی کی تھی ان کی کنیت ابوعقیل تھی۔محمد بن سائب نے ابوصالح سے انھوں نے عبداللہ بن عباس سے اللہ تعالیٰ کے اس قول الذین یلمزون المطوعین من المومنین فی الصدقات(کی تفسیر)میں روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن خطبہ پڑھا اور لوگوں کو صدقہ دینے کی رغبت دلائی اور ان کو مستعد کیا چنانچہ ابوعقیل جن کا نام عبدالرحمن تھا اور بنوانیف کے بھائی تھے ایک صاع چھوہارے لائے اورعرض کی کہ یارسول اللہ میں نے اپنی تمام رات پانی بھرنے میں ختم کردی جس کے عوض مجھ کو دوصاع چھوہارے ملے ان میں سے ایک صاع چھوہارے اپنے گھرکے واسطے چھوڑآیا اور یہ ایک صاع چھوہارے اپنے پروردگار عزوجل کوقرض دیتا ہوں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ۔۔۔
مزید
یہ اوران کے والد صحابی تھے۔موسیٰ بن میمون بن موسیٰ مرائی نے اپنے والد میمون سے انھوں نے اپنےداداعبدالرحمن بن صفوان سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میرے والد نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس مدینہ ہجرت کرگئے اس وقت آپ مدینہ میں تھے اور انھوں نے آپ سے اسلام پر بیعت کی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دست مبارک کوبڑھایاصفوان نے دست مارک کا مسح کیااورکہایارسول اللہ میں آپ کو سب سے زیادہ محبوب رکھتاہوں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاآدمی جس کو دوست رکھے گا(اس کاحشر)اسی کےساتھ ہوگا۔ابن مندہ نے کہاہے کہ یہ شہر حمص کے رہنے والے ہیں اورانھوں نے محمد بن عمروبن اسحاق سے انھوں نے ابی علقمہ یعنی نصربن علقمہ سےانھوں نے اپنے والد سے انھوں نے اپنے داداعبدالرحمن بن صفوان بن قتادہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں نے اورمیرے والد نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف ہجرت کی(جب ہم دونوں آپ صلی اللہ ع۔۔۔
مزید
بن عامر بن عدی بن مجدعہ بن حارثہ انصاری ہیں اس نسب کوواقدی نے بیان کیاہےان کی والدہ لیلیٰ بنت نافع بن عامرتھیں ابوعمرنے کہاہے کہ یہ عبدالرحمن غزوۂ بدر میں شریک تھے ابونعیم کہتےہیں کہ غزوۂ احد اور خندق اور ان کے علاوہ سب غزوات میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ شریک تھے یہ وہ عبدالرحمن ہیں جنکوسانپ نے کاٹ لیاتھانبی صلی اللہ علیہ وسلم نے عمارہ بن حزم سے فرمایاکہ تم ان کی جھاڑپھونک کروعتبہ بن غزوان کے مرنےکے بعد ان (عبدالرحمن)کوحضرت عمرنے بصرہ میں حاکم بنادیاتھا۔ابن عینیہ نے یحییٰ بن سعید سے انھوں نے قاسم بن محمدسے روایت کی ہےکہ حضرت ابوبکرکے پاس (ایک میت کی)نانی اور دادی آئیں حضرت ابوبکر نے میت کی نانی کو اس کے مال میں سے چھٹا حصہ دلادیااوردادی کو کچھ بھی نہ دلایا عبدالرحمن بن سہل نے جوانصار کے خاندان بنی حارثہ میں سے تھےاور غزوۂ بدرمیں شریک ہوچکے تھے کہااے خلیفۂ۔۔۔
مزید
اورابوسبرہ کا نام یزیدہے وہ ابن مالک بن عبداللہ بن سلمہ بن عمروبن ذہل بن مروان بن جعفی ہیں۔ان عبدالرحمن کا شماراہل کوفہ میں ہے ان کانام عزیرتھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمن رکھااورفرمایاجونام اللہ کوبہت پسند ہیں وہ عبداللہ وعبدالرحمن ہیں یہ عبدالرحمن خثیمہ کے والد تھے۔ہم ان کے والد ابوسبرہ کا ذکرباب الکنیت میں انشاء اللہ تعالیٰ بیان کریں گےاور ان کے بھائی سبرہ بن ابی سبرہ کاذکرہم پہلے بیان کرچکے ہیں۔یہ قول ابوعمرکاتھا۔ہم کو عبدالوہاب بن ہبتہ اللہ نے اپنی سند کوعبداللہ بن احمدتک پہنچاکرخبردی کہ وہ کہتے تھے مجھ سے میرے والد نے بیان کیاوہ کہتے تھے ہم سے حسین بن محمد نے بیان کیاوہ کہتےتھےہم سے وکیع نے بیان کیاانھوں نے ابواسحاق سے انھوں نے خیثمہ بن عبدالرحمن بن ابی سبرہ سے نقل کرکےبیان کیاوہ کہتے تھے میرے والد عبدالرحمن اپنے داداکے ساتھ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے ۔۔۔
مزید
بن ابی سائب عبداللہ بن سائب کے بھائی ہیں واقعہ جمل۱؎میں شہیدہوئے ان کے والد کے مسلمان ہونے میں اختلاف کیاگیاہے جیساکہ ہم نے (اس اختلاف کو)ان کے نام سائب میں بیان کیاہے۔ان کاتذکرہ ابوعمرنےلکھاہے۔۔۔۔
مزید
انصاری ساعدی ہیں۔حنش بن حارث نے علقمہ بن مرثد سے انھوں نے عبدالرحمن بن ساعدہ سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھےمیں گھوڑے کوبہت دوست رکھتاتھا(اسی بناپر) رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے پوچھایارسول اللہ مجھ کو جنت میں بھی گھوڑا ملے گاآپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایااگراللہ عزوجل تم کوجنت دےگاتوایک گھوڑا یاقوت کا ایساعنایت کرےگاکہ اس کے دوشہ پرہوں گےجس طرف تم چاہوگےوہ اپنے پروں سے اڑے گا۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے اور اس حدیث میں علقمہ پر اختلاف کیاگیاہے اور یہ اختلاف عبدالرحمن بن سابط کے ذکر میں بیان ہوچکاہے۔۔۔۔
مزید
ابوعیسیٰ ترمذی نے اپنے جامع میں ان کوبیان کیاہے۔اور ترمذی نے سعید بن نصر سے ۱؎ترجمہ۔خداکاشکرہے کہ تمھارے بھائی آتے ہیں جوابھی بوڑھے نہیں ہوئےشباب ان کا ابھی کامل ومکمل ہے۱۲۔ انھوں نے ابن مبارک سےانھوں نے سفیان سےانھوں نے علقمہ بن مرثدسے انھوں نے عبدالرحمن بن سابط سے جنت کے گھوڑوں کی صفت میں روایت کی ہےاورابوعبداللہ بن مندہ نے کہاہےکہ عبدالرحمن بن سابط نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے مرسل روایت کی ہے اوراس سند میں علقمہ پراختلاف کیاگیاہےبعض نے کہاہےکہ انھوں نے علقمہ سے انھوں نے عبدالرحمن بن ساعدہ سے انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے اوربعض نے کہاہے کہ انھوں نےعلقمہ سے انھوں نے عمیربن ساعدہ سے روایت کی ہے اورکہاہے کہ انھوں نے علقمہ سے انھوں نے سلیمان بن بریدہ سے انھوں نے اپنے والد سے اوراس کے سوااوربھی اختلاف ہے۔جس کو ابواحمدیعنی عبدالوہاب بن علی نے اپنی۔۔۔
مزید