ہفتہ , 08 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 25 April,2026

سیّدناعبدالرحمٰن ابن ارقم رضی اللہ عنہ

   ان کا تذکرہ علی عسکری وغیرہ نے بیان کیا ہے۔بعض لوگوں نے بیان کیا ہے کہ یہ عبدالرحمٰن بن ارقم کے بھائی ہیں ۔یزید بن عبداللہ تستری نے عبداللہ ابن ابی سعید بن ابی ہند سے انھوں نے ایک انصاری سے انھوں نے عبدالرحمٰن بن ارقم سے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاتم لوگ (ماہ رمضان میں)سحری کھایاکرو مسلمان کے واسطے سحری کھانابہت اچھا ہے اور سحری کھانے والوں پر اللہ عزوجل رحمت نازل فرماتاہے۔اس حدیث کو عبدالرحمٰن بن قیس نےعبداللہ بن سعید سے انھوں نے محمدبن قیس بن حارث سے انھوں نے شماس سے جو انصار میں سے ایک شخص تھے انھوں نے عبدالرحمٰن بن ارقم سے روایت کیاہے۔ابوموسیٰ نے ان کا تذکرہ لکھاہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن ابن ابزی  رضی اللہ عنہ

  ۔خزاعی۔یہ نافع بن عبدالحارث کے غلام تھے انھوں نے کوفہ میں سکونت اختیارکرلی تھی۔ ان کو حضرت علی  رضی اللہ عنہ نے خراسان کاحاکم بنایاتھا۔انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ کوپایاہے۔ ان کی اکثرروایتیں حضرت عمر اورابن ابی کعب  رضی اللہ عنہما سے منقول ہیں۔ انھیں کے بار ے میں (حضرت)عمر بن خطاب کا یہ قول ہے کہ عبدالرحمٰن بن ابزیٰ ان لوگوں میں ہیں کہ جن لوگوں کا مرتبہ کو اللہ عزوجل نے قرآن کے حفظ کرنے کے صلہ میں بلندکیا ان سے ان کے دونوں لڑکے سعیداورعبداللہ نے عبداللہ بن ابی مجاہد نے حدیث روایت کی ہے۔ہمیں خطیب ابوفضل یعنی عبداللہ بن احمد نے اپنی سند سے ابوداؤد طیالسی تک خبردی وہ کہتے تھے ہم سے شعبہ نے محمد بن ابی مجاہد سے نقل کر کے بیان کیا ہو کہتے تھے کہ ابوبردہ اور عبداللہ بن شداد نے بیع سلم کے متعلق جھگڑا کیا تولوگوں نے مجھ کو ابی بن ابی اوفی کے پاس بھیجا تاکہ میں ان سے ۔۔۔

مزید

سیّدناعبدخیر ان کانام(پہلے) عبدشر رضی اللہ عنہ

تھا۔تونبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا نام عبدخیر رکھ دیا اس کو ابن مندہ وغیرہ نے حوشب ذی ظلیم کے تذکرہ میں بیان کیاہے اور ان کے تذکرہ میں نہیں لکھاہے۔یہ عبدخیر قبیلہ بنی حمیرسے ہیں اور جواس کے پہلے گذرے ہیں وہ قبیلہ ہمدان سے ہیں۔ ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن حاطب رضی اللہ عنہ

   بن ابی بلغہ لحمی ہیں۔ان کے نسب کا ذکر ان کے والد کے نسب میں ہوچکا ہے۔ان کی کنیت ابویحییٰ تھی ۔یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات میں پیداہوئے تھے ان سے ان کے بیٹے یحییٰ نے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے ۔میں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کودیکھا ہے کہ آپ عید کی نماز اداکرنے کے واسطے ایک راہ سے جاتے اور دوسرے راہ سے واپس آتے تھے۔جعفر ابن سلیمان نے محمد بن عمروبن علقمہ سے انھوں نے محمد بن عبدالرحمٰن بن حاطب سے انھوں نے اپنے والد یعنی عبدالرحمٰن ابن حاطب سے روایت کی ہے کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم سے لوگوں نے عشا کی نماز کاوقت پوچھاتو آپ نے فرمایاکہ (عشا کی نماز کا وقت اس وقت آتاہے جب ہرطرف شب کی تاریکی پھیل جائے۔قطن بن نسیر نے جعفر سے انھوں نے حضرت عائشہ صدیقہ  رضی اللہ عنہ سے اس حدیث کوروایت کیا ہے اور انھوں نے یعنی (عبدالرحمٰن نے)۶۸ھ؁ میں وفات پائی ان کا تذکرہ تینوں ۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن حارثہ رضی اللہ عنہ

  اوربعض لوگوں نے ابن جاریہ بیان کیا ہے ابومسعود نے اس کو ذکرکیاہے ان کا صحابی ہونا ثابت نہیں ہے محمد ابن کعب قرطی نے ابن ابی سلیط سے انھوں نے عبدالرحمٰن ابن حارثہ سے روایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا(ایام گرمامیں)جب ذراٹھنڈک ہوجائے تو نماز ظہر اداکیاکرو۔(انکاتذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے بیان کیا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ

   بن مغیرہ بن عبداللہ بن عمر بن مخزوم قریشی مخزومی ہیں ان کی کنیت ابومحمد تھی اور ان کی والدہ فاطمہ بنت ولیدبن مغیرہ تھیں۔مصعب زبیری اور واقدی نے بیان کیا ہے کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی اس وقت یہ دس برس کے تھے علم اوردین داری اور بلند رتبگی کے لحاظ سے بزرگان اسلام میں ان کا شمارتھا انھوں نے حضرت عمروعثمان و علی و عائشہ صدیقہ وغیرہم سے ( رضی اللہ عنہم)روایت کی ہے اوران سے ان کے بیٹے ابوبکراور شعبی وغیرہ نے روایت کی ہے۔ابومعشر نے محمد بن قنیس سے روایت کر کے بیان کیا ہے کہ حضرت عائشہ صدیقہ سے واقعہ جمل کا ذکرکیاگیا تو حضرت عائشہ صدیقہ نے پوچھاکہ کیا لوگ اس واقعہ کا ذکرکیاکرتے ہیں لوگوں نے کہاہاں حضرت عائشہ نے فرمایا(لوگ شاید اس میں کوئی فخرکی بات سمجھتے ہیں مگرمیری حالت تو یہ ہے کہ)مجھے (رہ رہ کے)آرزوآتی ہے کہ کاش میں بھی اسی طرح گھر میں بیٹھی رہتی جس طرح اوراز۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن جبر بن عمرو رضی اللہ عنہ

   بن زید بن جشم بن حارثہ بن خزرج بن عمروبن مالک بن اوس اور ان کے نسب میں اس کے علاوہ اور بھی اقوال ہیں۔کنیت ان کی ابوعیسیٰ تھی اوران کے نام سے زیادہ مشہورتھی۔ ان کا اصل نام عبدالعزی تھا۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے عبدالرحمٰن نام رکھا غزوۂ بدر میں شریک تھے اوراس وقت ان کی عمر اڑتالیس برس کی تھی۔کعب بن اشرف یہودی جو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمانوں کواذیت پہنچاتاتھا اس کے قاتلو میں سے یہ بھی تھے۔ ان سے عبایہ بن رفاعہ بن رافع بن خدیج نے روایت کی ہےاسلام سے پہلے یہ عربی خط وکتابت کیاکرتےتھے۔ہم کو مسمار بن عمربن عویس اور ابوالفرح محمد بن عبدالرحمٰن بن ابی الواسطی اور بہت سے آدمیوں نے خبردی اور اپنی سندوں کو ابی عبداللہ محمد بن اسمٰعیل تک پہنچادیا اور وہ کہتے تھے ۔ہم سے محمد بن مبارک نے بیان کیا وہ کہتے تھے مجھ سے یحییٰ بن حمزہ نے بیان کیاوہ کہتے تھے مجھ سے یزید بن ابی مر۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن رضی اللہ عنہ

  اوربعض نے ان کانام عبداللہ بن جابرعبدی بیان کیا ہے۔یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس وفد بن کرآئے تھے یعیش عبدی نے ان سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہا جوقاصد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تھے ان میں میں بھی تھامگرقاصد نہ تھا بلکہ اپنے والد کے ساتھ تھارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کوچند(خاص قسم کے)ظروف میں(جن میں شراب کا استعمال ہوتاتھا)پانی پینے سے منع فرمایا۔ان کا تذکرہ ابونعیم اور ابن مندہ نے لکھا ہے۔۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن بن ثوبان رضی اللہ عنہ

   ان کا ذکرصحابہ میں کیا گیاہے اور ان کی کنیت ابومحمد تھی۔ ان سے طبرانی نے ایک حدیث ۱؎ ترجمہ اے نبی تم ان لوگوں کو جواللہ پراورقیامت پرایمان رکھتے ہیں (کبھی ایسا)نہ پاؤگے کہ وہ ان لوگوں سے محبت کریں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی۔مطلب حضرت کا اس آیت کی تلاوت سے ان کو متنبہ کرناتھاکہ یہ اپنے مشرک مامؤوں سے قطع تعلق کردیں۱۲ اپنے معجم میں روایت کی ہے (طبرانی نے اپنی سندسے)یحییٰ ابن کثیر سے انھوں نے محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے خطبہ میں فرمایایہ شہرمدینہ دوقبلوں کی صلاحیت نہیں رکھتاہے پس جونصرانی مسلمان ہوکر پھر نصرانی ہوجائے اس کی گردن مارواورعباد بن کثیر نے یزید بن حفیفہ سے انھوں نے محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے انھوں نے اپنے والد سے نقل کیاہے کہ وہ کہتے تھے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمای۔۔۔

مزید

سیّدناعبدالرحمٰن ابن ثابت رضی اللہ عنہ

   بن صامت بن عدی بن کعب انصاری ہیں ان کوبخاری نے صحابہ میں اورمسلم نے تابعین میں لکھاہے اور ان کے والد نے ایام جاہلیت میں وفات پائی ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔۔۔۔

مزید