بن یزید الخفاجی: خفاجہ سے مراد ابنِ عمرو بن عقیل بن کعب بن عامر بن صعصعہ ہے۔ عقبہ بن نافع انصاری سے مروی ہے کہ وہ ایک جنگی مہم میں عمر صائفہ کے ساتھ تھے اور معن بن یزید الخفاجی بھی ہمارے ساتھ تھے۔ جب ہم دشمن کے علاقے میں پہنچے تو ہم نے وہاں پڑاؤ کیا۔ اس پر معن بن یزید کھڑے ہوئے اور لوگوں سے کہنے لگے: اے لوگو! ہم بکریاں، کھانے کی چیزیں اور اسی طرح کی اور اشیاء تقسیم کرنے کا ارادہ نہیں رکھتے۔ جو چیز آپ کو پسند ہے، وہ اٹھا لیجیے۔ ہماری طرف سے اس پر کوئی قدغن نہیں ہے۔ ابو نعیم اور ابو موسیٰ نے ان کا ذکر کیا ہے۔۔۔۔
مزید
شاہ سلیمان قادری کے فرزند اکبر اور سجادہ نشین تھے۔ حضرت نوشاہ گنج بخش سے بھی اکتسابِ فیض کیا تھا اور ترتیب و تکمیل پائی۔ متوکل صاحب علم و فضل اور جامع اوصافِ کمالاتِ ظاہری و باطنی تھے۔ استفراق بحدِ کمال تھا۔ بڑے سادہ مزاج اور سادہ لباس تھے۔ صرف ایک تہبند، ایک چادر اورسفید پگڑی زیبِ تن ہوتی تھی، جن کی قیمت دو روپے سے زیادہ نہیں ہوتی تھی۔ اپنی محنت و کاشت سے رزقِ حلال حاصل کرتے تھے۔ نقل ہے ایک دفعہ اپنے پوتے محمد شفیع کو خربوزوں کے کھیت کی نگہبانی کے لیے حکم دیا۔ ایک روز یہ کھیت میں بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک سپاہی نے آکر خربوزہ لینا چاہا۔ انہوں نے منع کیا سپاہی نے صاحبزادہ کے مُنہ پر تھپّڑ مارا اور خربوزہ لے کر چلتا بنا۔ صاحبزادہ نے آکر دادا سے شکایت کی۔ فرمایا: صبر کرو، وُہ اپنے کیے کی سزا پائے گا۔ چنانچہ اسی رات اس سپاہی پر حالتِ زندگی دیوانگی طاری ہوگئی۔ دیوانوں کی طرح ہر شخص کے پاس جاتا اور ۔۔۔
مزید
حضرت حاجی محمد نوشاہی گنج بخش کے پاک اعتقاد مریدوں اور حق یاد خلیفوں میں سے تھے۔ بارگاہِ مرشد میں بے تکلّفانہ گفتگو کیا کرتے تھے۔ جس وقت حضرت حاجی نوشہ صاحب پر حالتِ جزب و استغراق طاری ہوتی تھی۔ آپ ہی حاضرِ خدمت ہوکر انہیں اپنی بذلہ سنجی سے خوش کیا کرتے تھے۔ خوارق و کرامات آپ سے ظہور میں آتے تھے۔ فقیروں اور عالموں سے بے شمار لوگ آپ کے معتقد تھے۔ شاعر بھی تھے۔ چنانچہ فارسی، ہندی اور پنجابی میں بکثرت اشعار کہے ہیں۔ ۱۱۲۷ھ میں وفات پائی۔ چوں از دنیا بفردوس بریں رفت عجب سالِ وصالش جلوہ گرشد جناب شیخِ حق آگاہ خوش حال ز ’’اہل ولی اللہ خوش حال‘‘[1] ۱۱۲۷ھ [1]۔ شیخ خوشی محمد کا سالِ وفات صحیح ۱۰۸۸ھ ہے۔ (شریف التواریخ جلد سوم، حصّہ اوّل موسوم بہ تحائف الاطہار قلمی ص ۱۵۲ از سیّد شرافت نوشاہی)۔۔۔۔
مزید
حضرت حاجی محمد نوشاہ ہی گنج بخش کے باصفا مریدوں اور باوفا معتقدوں سے تھے۔ اپنے مرشد صاحب کے عشق میں درجہ فنا فی اشیخ رکھتے تھے۔ آغازِ جوانی ہی میں آپ کی خدمت میں حاضر ہوگئے تھے۔ مرشد ہی کی زیرِ نگرانی تعلیم و تربیت پائی تھی اور مقبولِ درگاہِ شیخ ہوئے۔ آپ پر اکثر و بیشتر حالتِ جزب و سُکر طاری رہا کرتی تھی۔ نقل ہے: ایک دفعہ بے خودی کا یہ عالم تھا کہ عیدِ قربان کے دن پُوچھا: آج کون سا دن ہے کہ لوگ اس قدر گوسفند ذبح کر رہے ہیں۔ لوگوں نے کہا: آج عیدِ قرباں کا دن ہے لوگ راہِ خدا میں وربانی دے رہے ہیں۔ آپ بھی اٹھئے اور قربانی دیجئے۔ کہا: میرے پاس تو اپنی جان کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ چھری لاکر اپنے حلق پر پھیرنی شروع کردی۔ ابھی شہ رگ نہیں کٹی تھی کہ لوگوں نے آکر ہاتھ پکڑلیا اور اسی حالت میں مرشد کے پاس لے آئے۔ آپ انہیں دیکھا کر بڑے خوش ہوئے اور بڑی تحسین و آفرین کہی اور اِن کے حق میں دعائے خیر کہی ۔۔۔
مزید
والد کا نام سیّد محمد علی بن سید علی بن سید فتح علی تھا۔ ساداتِ حسینی بھاکری سے تھے۔ دریائے[1] چناب کے کنارے پر رسول نگر میں سکونت رکھتے تھے۔ حضرت پیر محمد سچیار قادری نوشاہی کے نامور مرید و خلیفہ تھے۔ علومِ ظاہری و باطنی میں باکمال تھے۔ طبع عالی پر جذب و استغراق کا غلبہ رہتا تھا۔ ذوقِ وجد و سماع بھی تھا۔ تکمیلِ سلوک کے بعد مرشد نے خرقۂ خلافت سے نوازا اور لاہور میں رہنے کا حکم دیا۔ چنانچہ آپ لاہور آکر قیام پذیر ہوگئے۔ اپنے نام پر کوئلہ شاہ فرید آباد کیا۔ تمام عمر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ بقول صاحبِ تذکرہ[2] نوشاہی ۱۱۵۸ھ میں وفات پائی۔ مزار لاہور میں ہے۔ چوں فریدِ زمانہ سیّدِ دیں! رحلتش ’’والئ خلافت‘‘ داں ۱۱۵۸ھ فرد و یکتا بباغِ خلد رسید ہم بخواں ’’آفتابِ فقر فرید‘‘! ۱۱۵۸ھ [1]۔ دریائے چناب کے کن۔۔۔
مزید
حضرت حاجی محمد نوشاہ گنج بخش کے مرید تھے۔ آپ کے ہدایت یافتہ ہونے کا واقعہ اس طرح پر ہے کہ حضرت نوشاہ نے انہیں خواب میں آکر تعارف کرایا اور ارشاد کیا کہ تمہارا حصّہ ہمارے پاس ہے ساہن پال آکر لے لو۔ اس نے کچھ تغافل شعاری سے کام لیا۔ جب دوسری تیسری مرتبہ آپ نے پھر خواب میں آکر انہیں متنبّہ کیا تو یہ فوراً روانہ ہوگئے۔ جب بمقام ساہنپال پہنچے تو دیکھا کہ سامنے سے ایک جنازہ آرہا ہے اور ایک جمِ غفیر اس کے ساتھ ہے۔ یہ بھی ازرہِ ثواب جنازہ کے ساتھ ہولیے۔ نمازِ جنازہ کے بعد جب لوگوں نے آخری زیارت کے لیے متوفیٰ کا مُنہ کھولا تو یہ بھی وہاں پہنچے۔ دیکھتے ہی پہچان گئے کہ یہ وہی بزرگ ہیں جو مجھے خواب میں آکر حصّۂِ باطنی کے لے لینے کی تلقین کرتے رہے ہیں۔ آپ کا نام پوچھا۔ لوگوں نے حاجی محمد نوشاہ گنج بخش بتایا۔ سُنتے ہی بیہوش ہوکر زمین پر گِر پڑے اور ایک طویل عرصے کے بعد ہوش میں آئے۔ جب ہوش میں آئے تو مست۔۔۔
مزید
مصاحب خاں کلاں قادری کے مرید و خلیفہ تھے جنہوں نے حضرت شاہ میر سجادہ نشین حجرہ سے ظاہری و باطنی فیض پایا تھا۔ اپنے عہد کے جیّد عالم اور صوفئِ کامل تھے۔ علومِ تفسیر و حدیث و فقہ میں لاثانی تھے۔ موضع بابک وال جو لاہور شہر سے تقریباً چھ سات میل کے فاصلے پر ہے سکونت رکھتے تھے۔ یہیں تمام عمر درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ احمد شاہ ابدالی کے حملوں میں جب افغانی لشکر نے لاہور کے گرد و نواح میں تخت و تاراج کا سلسلہ شروع کیا تو مضافات کے لوگ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کیا: دعا فرمایئے کہ ہم افغانی غارت گری سےمحفوظ و مامون رہیں۔ آپ نے اپنا خرقہ اتار کر اُنہیں دیا اور فرمایا: اسے اپنے اپنے گاؤں کے گرد پھرائیں۔ چنانچہ جن جن گاؤں والوں نے آپ کے ارشاد کے مطابق عمل کیا وہ ہر طرح سے امن و امان میں رہے۔ ۱۱۸۴ھ میں وفات پائی۔ مزار بابک وال میں زیارت گاہِ خلق ہے۔ شاہ سردار آں ولئِ متقی! گ۔۔۔
مزید