آپ شیخ تقی کے مرید اور خلیفہ تھے زمانے کے مشہور اور باکمال ولی اللہ شمار ہوتے تھے اپنی ولایت کے انوار کو ملامت کی چادر میں پوشیدہ رکھتے تھے اپنے وقت کے مواحدوں کے امام تھے آپ نے ہندی زبان میں بہت سے اشعار کہے۔ جو ان کی بلند فکری اوراعلیٰ تخیل کے آئینہ دار ہیں۔ اگر اُن کے کلام میں تحقیق اور تجسیس کیا جائے تو وصل خدا وندی کے عمدہ نمونے ملتے ہیں وہ میدانِ وصل میں فراق کی کیفیت کو سامنے نہیں آنے دیتے ہندوستان میں ہندی زبان میں جس شخص کے حقائق و المعارف سب سے پہلے بیان فرماتے ہیں۔ وہ حضرت شیخ کبیر ہی تھے ان کے مختلف ہندی اشعار ملتے ہیں لیکن ان میں زیادہ بشن پدو ساکی کی قسم پائی جاتی ہے اگر انصاف سے آپ کے کلام کو دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے زبان کے ترازو سے حقائق کے موتی تولے ہیں۔ ہمیں ایسے۔۔۔
مزید
آپ شیخ جان اللہ لاہوری کے خلیفہ تھے فقر و تجرید میں بلند مقامات کے مالک تھے وجد و سماع میں بڑا اضطراب پایا تھا جس پر نگاہ ڈالتے بے خود کر دیتے آپ کا لنگر محتاجوں اور مساکین پر ہر وقت کھلا رہتا تھا آپ کی خدمت میں بے پناہ لوگ آتے اور راہ ہدایت پاتے تھے آپ ۱۲؍ رجب المرجب ۱۰۵۹ھ میں فوت ہوئے تھے آپ کی خانقاہ میدان زین خان میں ہے۔ چو عبد خالق ز دار فنا مکان کرد در دار خلد بریں وصالش بگو فیض حقانی ست وگر عبد خالق امام یقین ۱۰۵۹ھ ۔۔۔
مزید
اپنے وقت کے عالم و فاضل اور صوفیِ کامل تھے۔ حضرت حاجی محمد نوشاہی گنج بخش کی خدمت میں رہ کر تکمیلِ سلوک کی تھی۔ اپنے پیر صاحب کی وفات کے بعد تادمِ حیات ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ ۱۱۲۵ھ میں وفات پائی۔ شیخِ دیں عبدالحمیدِ محترم رحلتش فرما سخیِ مجتبیٰ!! ۱۱۲۵ھ رفت از دنیا و در جنّت رسید ہم بگو شیخ ولی عبدالحمید[1] ۱۱۲۵ [1]۔ شیخ عبدالحمید کا صحیح سال وفات ۱۰۸۶ھ ہے (تحایف الاطہار ص۳۲۶)۔۔۔۔
مزید
عارف ربانی زاہد سبحانی شیخ عارف ہیں جو شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین قدس اللہ سرہ العزیز کے خلیفہ تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ شیخ شیوخ العالم قدس اللہ سرہ العزیز نے شیخ عارف کو سیوستان اور اس کے حدود و اطراف میں بھیجا تھا اور بیعت کی اجازت دی تھی اور قصہ یوں ہوا کہ اوچہ اور ملتان کی طرف ایک بادشاہ تھا اور یہ عارف وہاں کی امامت کا معزز منصب رکھتے تھے یا اور کوئی باہمی تعلق رکھتے تھے الغرض ایک دفعہ بادشاہ نے سو اشرفیاں شیخ عارف کے ہاتھ شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں بھیجیں۔ شیخ عارف ان میں سے پچاس اشرفیاں تو اپنے پاس رکھ لیں اور پچاس شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں پیش کیں شیخ شیوخ العالم نے مسکرا کر فرمایا۔ عارف! تم نے خوب برادرانہ تقسیم کی۔ عارف نہایت شرمندہ ہوئے اور فوراً پچاس اشرفیاں نکال کر پیش کر دیں بلکہ اپنے پاس سے بھی کچھ اضافہ کیا اور نہایت عجز و انکسار کے ساتھ بیعت کی التما۔۔۔
مزید