آپ سلسلہ چشتیہ میں اہل کمال بزرگ ہوئے ہیں بڑی ریاضتیں کیں ملتان سے دہلی آکر قیام فرمایا بری لمبی عمر پائی فرمایا کرتے تھے مجھے ایک بیتے کی آرزو ہے جب پیدا ہوگا پھر میں اس دنیا سے جاؤں گا نہایت کبر سنی میں اللہ نے ایک بیٹا دیا بیٹے کی پیدائش کے بعد اپنی خادمہ کو بلا کر فرمایا گھر میں جو کچھ ہے لے آؤ خادمہ نے کہا آپ کے گھر میں کب کوئی چیز رہتی ہے جو لے آؤں فرمایا آج جو کچھ ملتا ہے لے آؤ خادمہ دو (۲) سیر غلہ اور دو کپڑے لائی آپ نے دونوں چیزیں فقرا کے حوالے کردیں پھر فرمانے لگے آج سماع کو جی چاہتا ہے کسی قوال کو بلا لاؤ خادمہ نے کہا آپ کے پاس کیا ہے جو قوال کو دیں گے آپ نے فرمایا بلاؤ میں اسے اپنی پگڑی اور چادر دے کر خوش کر لوں گا۔اسی اثنا میں اپنے ایک دوست کے گھر چلے گئے وہاں مجلس سماع برپا تھی شری۔۔۔
مزید
آپ شیخ تقی کے مرید اور خلیفہ تھے زمانے کے مشہور اور باکمال ولی اللہ شمار ہوتے تھے اپنی ولایت کے انوار کو ملامت کی چادر میں پوشیدہ رکھتے تھے اپنے وقت کے مواحدوں کے امام تھے آپ نے ہندی زبان میں بہت سے اشعار کہے۔ جو ان کی بلند فکری اوراعلیٰ تخیل کے آئینہ دار ہیں۔ اگر اُن کے کلام میں تحقیق اور تجسیس کیا جائے تو وصل خدا وندی کے عمدہ نمونے ملتے ہیں وہ میدانِ وصل میں فراق کی کیفیت کو سامنے نہیں آنے دیتے ہندوستان میں ہندی زبان میں جس شخص کے حقائق و المعارف سب سے پہلے بیان فرماتے ہیں۔ وہ حضرت شیخ کبیر ہی تھے ان کے مختلف ہندی اشعار ملتے ہیں لیکن ان میں زیادہ بشن پدو ساکی کی قسم پائی جاتی ہے اگر انصاف سے آپ کے کلام کو دیکھا جائے تو یوں معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے زبان کے ترازو سے حقائق کے موتی تولے ہیں۔ ہمیں ایسے۔۔۔
مزید
آپ شیخ جان اللہ لاہوری کے خلیفہ تھے فقر و تجرید میں بلند مقامات کے مالک تھے وجد و سماع میں بڑا اضطراب پایا تھا جس پر نگاہ ڈالتے بے خود کر دیتے آپ کا لنگر محتاجوں اور مساکین پر ہر وقت کھلا رہتا تھا آپ کی خدمت میں بے پناہ لوگ آتے اور راہ ہدایت پاتے تھے آپ ۱۲؍ رجب المرجب ۱۰۵۹ھ میں فوت ہوئے تھے آپ کی خانقاہ میدان زین خان میں ہے۔ چو عبد خالق ز دار فنا مکان کرد در دار خلد بریں وصالش بگو فیض حقانی ست وگر عبد خالق امام یقین ۱۰۵۹ھ ۔۔۔
مزید
اپنے وقت کے عالم و فاضل اور صوفیِ کامل تھے۔ حضرت حاجی محمد نوشاہی گنج بخش کی خدمت میں رہ کر تکمیلِ سلوک کی تھی۔ اپنے پیر صاحب کی وفات کے بعد تادمِ حیات ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ ۱۱۲۵ھ میں وفات پائی۔ شیخِ دیں عبدالحمیدِ محترم رحلتش فرما سخیِ مجتبیٰ!! ۱۱۲۵ھ رفت از دنیا و در جنّت رسید ہم بگو شیخ ولی عبدالحمید[1] ۱۱۲۵ [1]۔ شیخ عبدالحمید کا صحیح سال وفات ۱۰۸۶ھ ہے (تحایف الاطہار ص۳۲۶)۔۔۔۔
مزید