مشائخ طریقت کے افضل اولیائے حقیقت میں اکرم شیخ علاؤ الملۃ والدین ابن شیخ بدر الدین سلیمان ہیں جو علو درجات اور رفعت مقامات اور شدت مجاہدات اور ذوق مشاہدات میں اپنے زمانہ میں نظیر نہیں رکھتے تھے اور بذل و ایثار میں بے مثل تھے۔ ظاہر و باطن کی طہارت کے مبالغہ میں مشائخ وقت میں کوئی آپ کا دعویدار نہیں تھا۔ یہ بزرگوار سولہ سال کے تھے کہ شیخ شیوخ العالم کے سجادے پر اپنے والد بزرگوار شیخ بدر الدین سلیمان کی جگہ بیٹھے اور کامل چون سال تک اس سجادہ کا حق کماینبغی ادا کیا یہاں تک کہ آپ کی عظمت و کرامت کا شہرہ آپ کی عزیز و قیمتی زندگی ہی میں تمام عالم میں مشہور ہوگیا تھا اور آپ کا اسم مبارک اولیاء اللہ کے ناموں کی فہرست میں مذکور و معروف ہوگیا تھا چنانچہ آپ کے انتقال کے بعد دیار اجودھن اور دیپالپور اور جھالی میں جو کشمیری کی سمت میں واقع ہیں ان شہروں کے باشندوں نے غایت محبت اور اعتقاد کی وجہ سے بہت سے۔۔۔
مزید
اماموں کے سردار، امت کے مقتدا شرلعیت کے معین و مدگار طریقت کے استاد، عارفین کے تاج سالکوں کے رہنما خواجہ ہبیرۃ البصری ہیں۔ آپ نے ارادت کا خرقہ خواجہ حذیفہ المرعشی کی خدمت سے حاصل کیا تھا۔ یہ واجب الاعتصام بزرگ علماء وقت کے مقتدا اولیاء زمانہ کے سرتاج تھے اور خدائے جل وعلا کی معرفت میں تمام مشائخ کبار کے درمیان انتہا سے زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ آپ درجات رفیع اور مقامات عالی رکھتے اور عمل فضل میں بے نظیر اقتدار رکھتے تھے۔۔۔۔
مزید
عمدۃ الا برار قدوۃ الاخیار اولیاء کے بادشاہ اصفیا کے سلطان اتقیا کے برہان خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہ ہیں جو ملک مکاشفات کے ممالک کے حکمران اور مشاہدات کے دار السلطنت کے بادشاہ تھے آپ نے خرقہ ارادت خواجہ ابو اسحاق چشتی قدس اللہ سرہ سے حاصل کیا اور دوست کے بھیدوں میں سے کوئی بھید کبھی ظاہر نہیں کیا تھا آپ نے عالم ذوق و شوق میں حکومت و سلطنت کی ذرا پروانہ کی اور وارثان تاج و تخت کی طرف کبھی التفات نہیں کیا۔ ۔۔۔
مزید
مشائخ و فقراء کے قطب، ائمہ و علما کے پیشوا اوتاد کے جائے پناہ، عابدوں زاہدوں کے ذریعہ فخر خواجہ شیخ محمد چشتی ہیں (خدا تعالیٰ ان کے مرقد کو پاک کرے اور ان کا مشہد و مزار منور درخشاں فرمائے) جوانواع کرامات سے آراستہ اور درجات مشاہدات سے پیراستہ تھے۔ آپ نے خرقہ ارادت خواجہ احمد چشتی کی خدمت سے زیب تن فرمایا تھا۔ منقول ہے کہ خواجہ محمد چشتی اکثر اوقات عالم تحیر میں ڈوبے رہتے تھے اور سالہا سال آپ کا مبارک پہلو زمین پر نہ پہنچتا تھا آپ مجاہدہ کے اتنہائی درجہ اور غلبۂ شوق میں سرنگوں ہوکر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ آپ کے مکان میں ایک عمیق اور نہایت گہرا کنواں تھا جس میں الٹے لٹک کر عبادت الٰہی میں مصروف رہتے۔ منقول ہے کہ ایک دن آپ دجلہ کے کنارے پر بیٹھے ہوئے اپنا خرقہ مبارک سی رہے تھے کہ اسی اثناء میں خلیفۂ وقت کے فرزند رشید کا اس طرف سے نہایت شان و شوکت سے گذر ہوا۔ جب اس کی پر شوق نظریں ۔۔۔
مزید
شیخ زادہ معظم فخر بنی آدم خواجہ نصیر الدین نصر اللہ ہیں جو شیخ شیوخ العالم کے فرزندوں میں سب سے بڑے اور اوصاف حمیدہ و اخلاق پسندیدہ میں مشہور و معروف تھے۔ آپ نے ایک زمانہ دراز تک خدا تعالیٰ کی اطاعت اور زراعت و حراثت میں جو کسب حلال اور لقمہ پاکیزہ ہے گزارا اور ظاہر و باطن میں خدا تعالے کی بندگی کی اور اپنی عمر عزیز باری تعالیٰ کی رضا مندی میں بسر کردی۔۔۔۔
مزید
شیخ زادہ عالم خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ یعقوب رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو فیاضی و سخاوت و مروت و مردمی میں بے مثل تھے آپ مستجاب الدعوات اور صاحب فتوح تھے۔ دیوگیر اور تلنگ کے اطراف کے تمام باشندے آپ کے معتقد اور غلام تھے۔ کاتب حروف نے ان بزرگ زادہ سے دیوگیر میں ملاقات کی ہے۔ حقیقت میں آپ زیباہئیت اور شوکت و دبدبہ بہت کچھ رکھتے تھے۔ آپ کے برادر حقیقی خواجہ قاضی سادہ باطن تھے اور عام اخلاق رکھتے تھے۔ یہ دونوں بھائی جو عالم کے شیخ زادے تھے سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں بہت مدت تک رہے ہیں۔ اور آپ سے ایک زمانہ دراز تک پرورش پائی۔ شیخ عزیز الدین نے دیوگیر ہی میں شہادت پائی اور وہیں دفن ہوئے اور خواجہ قاضی سلطان المشائخ کے خطیرہ میں یاروں کے چوترے کے سرے پر مدفون ہیں۔ رحمۃ اللہ علیہما۔۔۔۔
مزید
علم میں مشہور حلم میں مذکور زہد و تقوی کے ساتھ موصوف خواجہ موسیٰ ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جو خواجہ محمد امام کے برادر حقیقی تھے۔ ان بزرگوار نے بھی جناب سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور تمام علوم میں کمال حاصل کیا تھا اپنے زمانہ کے ذو فنون اور فرزانہ عصر تھے آپ نے اصول فقہ میں بزودی مولانا وجیہہ الدین پائلی سے پڑھی تھی اور کلام ربانی کے حافظ تھے تحقیق سخن میں کوشش کرتے اور طبع فیاض اور لطافت بہت کچھ رکھتے تھے عربی و فارسی اشعار و نظم میں پورا حصہ حاصل تھا اور اکثر اوقات پر سوز غزل کہتے تھے جو لوگ علم موسیقی میں مہارت نامہ اور ورک کامل رکھتے تھے خاص کر علم حکمت میں وہ کمال پایا تھا جس کی نظیر اس زمانہ میں باوجود تلاش کے بھی دستیاب نہیں ہوتی تھی او رساتھ ہی تجربات حکمت میں بھی پرلے درجہ کا کمال حاصل تھا اپنے بڑے بھائی خواجہ محمد امام کی غیبت میں خود سل۔۔۔
مزید
شیخ المشائخ طریقت آفتابِ عالم حقیقت شیخ بدر الملۃ والدین سلیمان ہیں جو علم تقوی کے ساتھ مشہور اور مشائخ کبار کے اوصاف کے ساتھ موصوف تھے۔ شیخ شیوخ العالم کے انتقال کے بعد جناب شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین اپنے والد کے سجادہ پر باتفاق راے تمام بھائیوں اور ان اہل ارادت کے جو وہاں حاضر و موجود بیٹھے تھے اور اس مقام کو نور حضور حضور سے منور و روشن کیا۔ کیونکہ آپ ہی الولد سر لابیہ کے پور سے فوٹو تھے۔ کاتب حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد مبارک کرمانی رحمۃ اللہ علیہ سے سنا ہے کہ شیخ بدر الدین سلیمان محلوق نہ تھے بلکہ سر پر مانگ رکھتے تھے جیسا کہ مشائخ چشت قدس اللہ سرہم العزیز کا طریقہ ہے کیونکہ آپ خلفائے چشت سے بیعت رکھتے اور دست خلافت حاصل کیے ہوئے تھے اور اس کی کیفیت یہ ہے کہ جب لوگوں نے خواجہ قطب الدین چشتی قدس۔۔۔
مزید
سیرتِ خوب، اہل دلوں کے نزدیک محبوب، خواجہ یعقوب ہیں جو شیخ شیوخ العالم کے سب فرزندوں میں چھوٹے اور فیاضی و سخاوت میں مشہور تھے آپ کی کرامتیں آشکار تھیں اور دعائیں قبول ہوتی تھیں۔ آپ اہل ملامت کی راہ چلتے اور اس کے مخالف خلق پر ظاہر کرتے مشغول بحق رہتے۔ طبع فیاض اور لطافت تام رکھتے تھے۔ کاتبِ حروف نے اپنے والد بزرگوار سید محمد کرمانی سے سنا ہے۔ فرماتے تھے کہ میں اکثر اوقات سفر و حضر میں شیخ زادہ عالم صاحبزادہ داریں خواجہ یعقوب کا مصاحب رہتا تھا بہت کم ایسے موقع پیش آئے ہوں گے جن میں کسی ضرورت خاص کی وجہ سے آپ کے ہمراہ نہ رہا ہوں گا۔ ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ خطہ اودھ میں آپ کے ساتھ گیا۔ جب اودھ میں پہنچے تو ایک سرا میں اترے۔ شیخ زادے مجھے سرا میں چھوڑ کر شہر کی سیر و تماشے کے لیے باہر تشریف لے گئے ایک پہر رات گزر چکی تھی لیکن آپ سرا میں تشریف نہیں لائے اور کسی جگہ ۔۔۔
مزید
کمال طریقت جمال حقیقت شیخ زادہ کمال الحق والدین ابن شیخ زادہ بایزید ابن شیخ زادہ نصر اللہ ہیں جن کا لباس تکلف و بناوٹ سے ہمیشہ خالی ہوتا تھا اور جو فیاضی سخاوت میں عدیم المثال اور بے نظیر تھے۔ آپ بہت سی روٹیاں پکواتے اور محتاج و مساکین کو تقسیم کرتے اور لذیذ و مزیدار کھانوں سے ہمیشہ احتراز کرتے اگر آپ سفر کا قصد کرتے تو رویٹوں کے بہت سے بھرے ہوئے تھیلے آپ کے ساتھ ساتھ ہوتے جس زمانہ میں یہ بزرگوار سلطان محمد تغلق کے عہد حکومت میں دہارے جو آپ کی سکونت کا مقام تھا دہلی میں تشریف لائے تو کاتب حروف اس خاندان معظم کے ان حقوق کی رعایت کی وجہ سے جو اس کے آباؤ اجداد رکھتے تھے ان بزرگوار کی خدمت میں حاضر ہوا تھا اس وقت شیخ حجرہ کے اندر چار پائی پر بیٹھے ہوئے تھے جوں ہی کاتب حروف کو دیکھا حجرہ کے اندر سے ایک دیگچی ہاتھ مبارک میں لیے ہوئے باہر تشریف لائے اور ایک مٹی کا بڑا ساطباق خدام نے ل۔۔۔
مزید