بدر السالکین شمس العارفین محبت کے جنگل کے شیر مودت کے سر چشمے شیخ بدر الدین غزنوی ہیں۔ جو پسندیدہ احوال اور منتخب و برگزیدہ افعال رکھتے اور اپنے زمانے میں اہل سماع و عشق کے درمیان محتشم اور شیخ الاسلام جناب قطب الدین بختیار اوشی کے ممتاز و معزز خلیفہ تھے۔ مشائخ روزگار آپ کی بزرگی کے معترف و معتقد تھے آپ نہایت موثر لفظوں میں وعظ کہتے جس کا اثر سننے والوں پر بہت کچھ پڑتا۔ خلق خدا کو اپنی دل پذیر اور با اثر تقریر سے رشک میں ڈالتے اور دلوں کو راحت و آسائش پہنچاتے آپ بیشتر ادائے محبت میں تھے آپ کا نہایت قیمتی دیوان ہے جو عاشقانِ خدا کے لیے دستور العمل ہے۔ شیخ بدر الدین غزنوی کے غزنی سے لاہور اور پھر لاہور سے دہلی میں آنے اور شیخ لاسلام جناب قطب الدین بختیار قدس اللہ سرہما العزیز کی خدمت میں بیعت کرنے کا بیان حضرت سلطان المشائخ قدس اللہ سرہ العزیز فرماتے تھے کہ شیخ بدر الدین غزنوی کا بیان۔۔۔
مزید
اہل شریعت کے پیشوا اہل طریقت کے مقتدا اولیاء عرب میں توکل کے ساتھ گلاب کی طرح مشہور سر سے قدم تک تمام دل یعنی شیخ نجیب الدین متوکل قدس اللہ سرہ العزیز ہیں جو شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین کے خلیفہ اور بھائی تھے۔ یہ بزرگ عجیب و غریب معاملہ رکھتے تھے اور عجب طرز و روش کے آدمی تھے۔ سلطان المشائخ فرماتے ہیں کہ شیخ نجیب الدین متوکل باوجود یکہ ستر سال شہر میں مقیم رہے لیکن کوئی گاؤں کوئی وظیفہ پاس نہ رکھتے تھے اپنے فرزندوں اور متعلقین کے ساتھ توکل پر گزارا کرتے اور نہایت خوشی کے ساتھ زندگی بسر کرتے تھے۔ آپ یہ بھی فرماتے تھے کہ میں نے شیخ نجیب الدین جیسا کوئی شخص نہیں دیکھا اور یہ بھی فرمایا کرتے تھے کہ شیخ نجیب الدین نہایت بھولے اور دنیا سے بے خبر آدمی تھے۔ آپ بالکل نہ جانتے تھے کہ آج کون سا دن ہے اور یہ کون سا مہینہ اور یہ کس قدر درم ہیں۔ سلطان المشائخ نے۔۔۔
مزید
علم کے دریا تحمل و وقار کی کان تقوی سے آراستہورع سے پیراستہ مولانا شہاب الملۃ والدّین ہیں جو کثرت علم اور بے انتہا فضائل کے ساتھ مشہور تھے اوراکثر اوقات شیخ شیوخ العالم فرید الحق والدین کی خدمت میں حاضر رہتے تھے اور اگر شیخ شیوخ العالم کی مجلس میں کوئی علمی بحث چھڑ جاتی تو آپ اس باب میں بحث شروع کرتے اور اس بحث کو نہایت دل آویز تقریر کے ساتھ تمام کرتے یہاں تک کہ شیخ شیوخ العالم کی تسلی ہوجاتی۔ سلطان المشائخ فرماتے تھے کہ مجھ میں اور مولانا شہاب الدین میں محبت کا طریقہ سلوک تھا اور یہ بھی فرماتے تھے کہ ایک دفعہ شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں بغیر اختیار و قصد کے مجھ سے ایک جرأت و دلیری ہوگئی تھی اور اس کا قصہ یہ ہے کہ ایک دن عوارف کا نسخہ شیخ شیوخ العالم کی خدمت میں موجود تھا اور آپ اس میں سے کچھ فوائد بیان فرما رہے تھے وہ نسخہ نہایت باریک خط سے لکھا ہوا تھ۔۔۔
مزید
مشائخ طریقت کے افضل اولیائے حقیقت میں اکرم شیخ علاؤ الملۃ والدین ابن شیخ بدر الدین سلیمان ہیں جو علو درجات اور رفعت مقامات اور شدت مجاہدات اور ذوق مشاہدات میں اپنے زمانہ میں نظیر نہیں رکھتے تھے اور بذل و ایثار میں بے مثل تھے۔ ظاہر و باطن کی طہارت کے مبالغہ میں مشائخ وقت میں کوئی آپ کا دعویدار نہیں تھا۔ یہ بزرگوار سولہ سال کے تھے کہ شیخ شیوخ العالم کے سجادے پر اپنے والد بزرگوار شیخ بدر الدین سلیمان کی جگہ بیٹھے اور کامل چون سال تک اس سجادہ کا حق کماینبغی ادا کیا یہاں تک کہ آپ کی عظمت و کرامت کا شہرہ آپ کی عزیز و قیمتی زندگی ہی میں تمام عالم میں مشہور ہوگیا تھا اور آپ کا اسم مبارک اولیاء اللہ کے ناموں کی فہرست میں مذکور و معروف ہوگیا تھا چنانچہ آپ کے انتقال کے بعد دیار اجودھن اور دیپالپور اور جھالی میں جو کشمیری کی سمت میں واقع ہیں ان شہروں کے باشندوں نے غایت محبت اور اعتقاد کی وجہ سے بہت سے۔۔۔
مزید
اماموں کے سردار، امت کے مقتدا شرلعیت کے معین و مدگار طریقت کے استاد، عارفین کے تاج سالکوں کے رہنما خواجہ ہبیرۃ البصری ہیں۔ آپ نے ارادت کا خرقہ خواجہ حذیفہ المرعشی کی خدمت سے حاصل کیا تھا۔ یہ واجب الاعتصام بزرگ علماء وقت کے مقتدا اولیاء زمانہ کے سرتاج تھے اور خدائے جل وعلا کی معرفت میں تمام مشائخ کبار کے درمیان انتہا سے زیادہ شہرت رکھتے تھے۔ آپ درجات رفیع اور مقامات عالی رکھتے اور عمل فضل میں بے نظیر اقتدار رکھتے تھے۔۔۔۔
مزید
عمدۃ الا برار قدوۃ الاخیار اولیاء کے بادشاہ اصفیا کے سلطان اتقیا کے برہان خواجہ ابو احمد چشتی قدس سرہ ہیں جو ملک مکاشفات کے ممالک کے حکمران اور مشاہدات کے دار السلطنت کے بادشاہ تھے آپ نے خرقہ ارادت خواجہ ابو اسحاق چشتی قدس اللہ سرہ سے حاصل کیا اور دوست کے بھیدوں میں سے کوئی بھید کبھی ظاہر نہیں کیا تھا آپ نے عالم ذوق و شوق میں حکومت و سلطنت کی ذرا پروانہ کی اور وارثان تاج و تخت کی طرف کبھی التفات نہیں کیا۔ ۔۔۔
مزید
مشائخ و فقراء کے قطب، ائمہ و علما کے پیشوا اوتاد کے جائے پناہ، عابدوں زاہدوں کے ذریعہ فخر خواجہ شیخ محمد چشتی ہیں (خدا تعالیٰ ان کے مرقد کو پاک کرے اور ان کا مشہد و مزار منور درخشاں فرمائے) جوانواع کرامات سے آراستہ اور درجات مشاہدات سے پیراستہ تھے۔ آپ نے خرقہ ارادت خواجہ احمد چشتی کی خدمت سے زیب تن فرمایا تھا۔ منقول ہے کہ خواجہ محمد چشتی اکثر اوقات عالم تحیر میں ڈوبے رہتے تھے اور سالہا سال آپ کا مبارک پہلو زمین پر نہ پہنچتا تھا آپ مجاہدہ کے اتنہائی درجہ اور غلبۂ شوق میں سرنگوں ہوکر نماز ادا کیا کرتے تھے۔ آپ کے مکان میں ایک عمیق اور نہایت گہرا کنواں تھا جس میں الٹے لٹک کر عبادت الٰہی میں مصروف رہتے۔ منقول ہے کہ ایک دن آپ دجلہ کے کنارے پر بیٹھے ہوئے اپنا خرقہ مبارک سی رہے تھے کہ اسی اثناء میں خلیفۂ وقت کے فرزند رشید کا اس طرف سے نہایت شان و شوکت سے گذر ہوا۔ جب اس کی پر شوق نظریں ۔۔۔
مزید
شیخ زادہ معظم فخر بنی آدم خواجہ نصیر الدین نصر اللہ ہیں جو شیخ شیوخ العالم کے فرزندوں میں سب سے بڑے اور اوصاف حمیدہ و اخلاق پسندیدہ میں مشہور و معروف تھے۔ آپ نے ایک زمانہ دراز تک خدا تعالیٰ کی اطاعت اور زراعت و حراثت میں جو کسب حلال اور لقمہ پاکیزہ ہے گزارا اور ظاہر و باطن میں خدا تعالے کی بندگی کی اور اپنی عمر عزیز باری تعالیٰ کی رضا مندی میں بسر کردی۔۔۔۔
مزید
شیخ زادہ عالم خواجہ عزیز الملۃ والدین ابن خواجہ یعقوب رحمۃ اللہ علیہ ہیں جو فیاضی و سخاوت و مروت و مردمی میں بے مثل تھے آپ مستجاب الدعوات اور صاحب فتوح تھے۔ دیوگیر اور تلنگ کے اطراف کے تمام باشندے آپ کے معتقد اور غلام تھے۔ کاتب حروف نے ان بزرگ زادہ سے دیوگیر میں ملاقات کی ہے۔ حقیقت میں آپ زیباہئیت اور شوکت و دبدبہ بہت کچھ رکھتے تھے۔ آپ کے برادر حقیقی خواجہ قاضی سادہ باطن تھے اور عام اخلاق رکھتے تھے۔ یہ دونوں بھائی جو عالم کے شیخ زادے تھے سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں بہت مدت تک رہے ہیں۔ اور آپ سے ایک زمانہ دراز تک پرورش پائی۔ شیخ عزیز الدین نے دیوگیر ہی میں شہادت پائی اور وہیں دفن ہوئے اور خواجہ قاضی سلطان المشائخ کے خطیرہ میں یاروں کے چوترے کے سرے پر مدفون ہیں۔ رحمۃ اللہ علیہما۔۔۔۔
مزید
علم میں مشہور حلم میں مذکور زہد و تقوی کے ساتھ موصوف خواجہ موسیٰ ابن مولانا بدر الدین اسحاق ہیں جو خواجہ محمد امام کے برادر حقیقی تھے۔ ان بزرگوار نے بھی جناب سلطان المشائخ کی نظر مبارک میں پرورش پائی تھی اور تمام علوم میں کمال حاصل کیا تھا اپنے زمانہ کے ذو فنون اور فرزانہ عصر تھے آپ نے اصول فقہ میں بزودی مولانا وجیہہ الدین پائلی سے پڑھی تھی اور کلام ربانی کے حافظ تھے تحقیق سخن میں کوشش کرتے اور طبع فیاض اور لطافت بہت کچھ رکھتے تھے عربی و فارسی اشعار و نظم میں پورا حصہ حاصل تھا اور اکثر اوقات پر سوز غزل کہتے تھے جو لوگ علم موسیقی میں مہارت نامہ اور ورک کامل رکھتے تھے خاص کر علم حکمت میں وہ کمال پایا تھا جس کی نظیر اس زمانہ میں باوجود تلاش کے بھی دستیاب نہیں ہوتی تھی او رساتھ ہی تجربات حکمت میں بھی پرلے درجہ کا کمال حاصل تھا اپنے بڑے بھائی خواجہ محمد امام کی غیبت میں خود سل۔۔۔
مزید