سال پیدائش تقریباً ۱۹۰۹ء، اگر ہرا،ضلع بستی وطن، مولد ومنشا، اُستاذ العلماء حضرت مولانا مشتاق احمد کان پوری سے مدرسہ شمس العلوم بد ایوں، دارالعلوم کانپور میں تعلیم پائی، حضرت صدر الافاضل مولانا حکیم سید نعیم الدین فاضۂ مراد آبادی سے بیعت کا تعلق قائم کیا فراغت کے بعد تلسی پور میں مدرسہ انوار العلوم قائم کیا، گونڈہ، بستی، بہرائچ میں علم دین کا اُجالا آپ ہی کی ذات سے پھیلا، آپ نے غیر مقلدین کے ساتھ مختلف مقامات پر مناظرے کیے، اور اُن کے رد میں آپ نے متعدد رسالے تالیف کیے، آپ کی شخصیت وجیہہ، بارعب، پروقار ہے،۔۔۔
مزید
عبدالوہاب نام، متقی لقب، والد کا نام شیخ ولی اللہ تھا۔ اصل وطن مالوہ تھا۔ ان کے والد ہندوستان کے اکابر صوفیا و صلحا سے تھے۔ حوادثِ زمانہ نے ترکِ وطن پر مجبور کیا۔ برہان پور آگئے، یہیں فوت ہوئے۔ شیخ عبدالوہاب کو چھوٹی عمر ہی میں سلوک و معرفت اور سیر و سیاحت کا بڑا شوق تھا۔ چنانچہ بیس سال کی عمر میں وطن سے نکلے۔ گجرات، دکن، سراندیپ سے ہوتے ہوئے مکہ معظّمہ پہنچے۔ یہاں حضرت شیخ<href="#_ftn1" name="_ftnref1" title="">[1] علی متقی چشتی قادری شاذلی کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوئے۔ خدمتِ مرشد میں رہ کر علومِ ظاہری و باطنی سے بہرۂ وافر حاصل کیا۔ اپنے خلوص و عقیدت کے باعث مرشد سے بے اندازہ فیوض و برکات اکتساب کیے۔ اپنے اخلاقِ حمیدہ اور اوصافِ پسندیدہ کی وجہ سے عینِ ذاتِ مرشد ہوگئے تھے۔ صاحبِ اخیار الاخیار لکھتے ہیں: شیخ عبدالوہاب ۱۲ سال مرشد کی زندگی میں اور ۲۸ سال مرشد کی وفات کے بعد مکہ معظّمہ م۔۔۔
مزید
حضرت شیخ بہلول دریائی کے مرید و خلیفہ تھے۔ ان کا دادا کلجس رائے ہندو تھا اور فیروز شاہ تغلق کے عہد میں مُسلمان ہوا تھا۔ حسین کا باپ عثمان نامی دین دار آدمی تھا۔ بافندگی پیشہ تھا۔ شیخ حسین ۹۴۵ھ میں پیدا ہوئے۔ سات برس کے ہوئے تو لاہور کے ایک فاضل حافظ ابو بکر کے حلقۂ درس میں شامل ہوکر قرآن شریف حفظ کرنا شروع کیا۔ چھ سات پارے حفظ بھی کر لیے تھے اور کچھ دینیات میں بھی استعداد بہم پہنچالی تھی کہ اسی اثنا میں شیخ بہلول واردِ لاہور ہُوئے۔ ایک روز شیخ ابو بکر کی مسجد میں تشریف لائے اور شیخ حسین کو دریا سے ایک کُوزہ پانی کا لانے کے لیے کہا۔ اس وقت دریائے راوی ٹکسالی دروازے کے باہر بہتا تھا۔ شیخ حسین دریا پر گئے اور کوزہ میں پانی بھر لائے۔ شیخ بہلول نے وضو کیا، نماز پڑھی اور شیخ حسین کے حق میں دُعا کی کہ اے الٰہی اس لڑکے کو عارف اور اپنا عاشق بنا۔ شیخ حسین بھی ان کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوگئے۔ اُنہی ۔۔۔
مزید
اپنے زمانے میں مشائخ قادریہ میں درجۂ بلند رکھتے تھے۔ سکونت اکبر آباد میں تھی۔ صاحبِ فضل و کمال تھے۔ علم و عمل، زہد و تقوٰی، ریاضت و عبادت میں لاثانی، صائم الدہر اور قائم اللیل تھے۔ تمام عمر درس و تدریس میں گزاری۔ ۱۰۵۰ھ میں وفات پائی۔ مزار اکبرآباد میں ہے۔۔۔۔
مزید
آپ حضرت شاہ سلیمان قادری کے اکابر خلیفوں سے تھے۔ آپ مادرزادولی اللہ، صاحب جذب اور صحو و سُکر اور محبت و عشق اور شوق و ذوق اور زہد و ریاضت تھے۔ ولایت کے بادشاہ اور صاحبِ خوارق و کرامات تھے۔ طریقہ نوشاہیہ قادریہ کے امام اور پیشوا تھے۔ فقر میں مقاماتِ بلد اور شانِ ارجمند رکھتے تھے۔ آپ کے والد بزرگوار حاجی علماءالدین بڑے عابد بزرگ تھے۔ سات(۷) حج کیے ہوئے تھے۔ آپ کی والدہ ماجدہ بی بی جیونی موضع گھوگا نوالی میں سکونت رکھتی تھیں۔ جب آپ بی بی جیونی کے شکم میں تھے تو آپ کے والد ماجد کو بیت اللہ شریف جانے کا اتفاق ہوا۔ رخصت کے وقت اپنی اہلیہ صاحبہ کو تاکید کی کہ جو فرزند تمہارے پیٹ میں ہے، یہ مقتدائے زمانہ اور فرد یگانہ ہونے والا ہے۔ جب یہ متولد ہو تو اس کی تربیت و پرورش میں پوری پوری کوشش کرنا۔ ان کے بعد حضرت شاہ سلیمان اپنے مسکن(بھلوال) سے چل کر بی بی صاحبہ کے پاس تشریف لائے اور بشارتیں دیں۔ پید۔۔۔
مزید
شیخ کبیر بابا فرید گنج شکر کی اولاد امجاد سے ہیں۔ سلسلۂ چشتیہ میں اپنے والد ماجد کے مرید و خلیفہ تھے نیز حضرت سید مبارک حقانی گلیانی اوچی سے بھی اخذِ فیض کیا تھا اور خرقۂ خلافت پایا تھا۔ روایت ہے: جب آپ حضرت سید مبارک حقانی کی خدمت میں حاضر ہونے کے لیے آئے تو وہ اس انتہائے استغراق اور جذب و سکر میں صحرائے لکھی میں مراقبہ و مجاہدہ میں مشغول تھے۔ اس حالت میں کسی کو اُن کے سامنے جانے کی تاب نہ ہوتی تھی۔ جب شیخ چشتی وہاں پہنچے تو خدام نے انہیں حضرت کے سامنے جانے سے روکا۔ مگر انہوں نے فرمایا: ہرچہ باداباد۔ جوکچھ بھی ہو میں ان کے سامنے ضرور جاؤں گا۔ چنانچہ جرأت و ہمتِ مردانہ کرکے ان کے سامنے پہنچے۔ آپ اس وقت گو مراقبہ میں مستغرق تھے مگر نورِ باطن سے آگاہ ہوکر سر اٹھایا اور متبسم ہوکر شیخ معروف کی طرف دیکھا۔ نظر پڑتے ہی غش کھا کر گر پڑے۔ تین دن تک بیہوش رہے۔ جب ہوش میں آئے تون حلقۂ ارادت میں ۔۔۔
مزید
سید بہاول شیر گیلانی حجروی کے فرزندِ ارشد تھے۔ تعلیم و تربیت اپنے والدِ گرامی ہی سے پائی تھی۔ تمام بھائیوں میں علومِ ظاہری و باطنی میں درجۂ کمال رکھتے تھے۔ ان کے خُسرشاہ کمال بخاری بھی جن کا مزار قصبۂ چونیاں میں ہے اور پیرِ جہانیاں کے خطاب سے مشہورِ زمانہ ہیں۔ اپنے عہد کے کامل و اکمل بزرگ گزرے ہیں۔ جب آپ کے پدر بزرگوار نے رحلت فرمائی تو اتفاق سے آپ اس وقت حجرہ میں نہیں تھے۔ آپ کے غیر حاضری ہی میں انھیں دفن کردیا گیا۔ جب آپ سفر سے واپس آئے تو دیدارِ پدر کے لیے نہایت مضطرب و بیقرار تھے۔ آپ نے چاہا کہ قبر کھول کر والدِ بزرگوار کا دیدار کیا جائے۔ چنانچہ آپ نے دیگر معتقدین ولواحقین پر یہ قدغن لگادی کہ کوئی قبر شریف کے پاس نہ آنے پائے۔ قبر پر خیمہ لگا کر اسے کھولاگیا۔ ایک معمار کسی طرح چھپ کر خیمہ کے اندر داخل ہونے میں کامیاب ہوگیا تاکہ وہ حضور کی زیارت سے مشرف ہوسکے۔ خود حضرت سید محمد نور نے۔۔۔
مزید
باپ کا نام سید ابدال بن سیّد نصر تھا۔ سید عبدالرزاق فرزندِ حضرت سیّد عبدالقادر جیلانی غوث الاعظم تک سلسلۂ نسب منتہی ہوتا ہے۔ عالم و فاضل اور صاحب حال و قال بزرگ تھے۔ قلعۂ رتہوڑ میں سکونت رکھتے تھے۔ صاحبِ اخبار لاخیار لکھتے ہیں: سب سے پہلےسیّد اسماعیل کے بزرگ ہندوستان میں تشریف لائے۔ ان سے پہلے حضرت غوثیہ کی اولاد میں سے کسی نے ہندوستان کی جانب رُخ نہیں کیا تھا۔ اگر کیا بھی تھا تو قیام نہیں کیا تھا۔ آپ کی ذاتِ بابرکات سے ایک خلقِ کثیر نے علم و ہدایت سے حصۂ وافر حاصل کیا۔ چنانچہ شیخ محمد حسن، شیخ امان پانی پتی، شیخ عبدالرزاق ساکن جھنجانہ آپ کے نامور مرید و خلیفہ تھے۔ یہ تینوں حضرات مجمع البحرین تھے اور سلسلۂ قادریہ چشتیہ کے مشاہیر اولیا سے تھے۔ ان بزرگوں کا ذکر سلسلۂ چشتیہ میں آئے گا۔ ۹۹۴ھ میں وفات پائی۔ مزار قلعہ تہوڑ میں ہے۔ شد چو اسماعیل از دار البقا رحلتش آمد عیاں ممتازِ وقت ۹۹۴ھ ۔۔۔
مزید
بقول صاحب اخیار الاخیار سیّد محمد بن سیّد زین العابدین بن سیّد عبدالقادر ثانی اوچی کے فرزند تھے۔ اپنے بھائیوں کے ساتھ لاہور آکر سکونت پذیر ہوگئے تھے۔ اپنے زمانے کے مقتدائے عالَم تھے۔ ایک خلقِ کثیر نے آپ سے اخذِ فیض کیا۔ ۹۹۴ھ میں دیارِ بنگال میں وفات پائی۔ الہ بخش آں ولیٔ دینِ احمد بجتم از خرد سالِ وصالش ز دنیا شد چو در خلدِ معلّیٰ ز فیاضِ زمانہ گشت پیدا ۹۹۴ھ ۔۔۔
مزید
سلسلۂ قادریہ کے مشائخ سے ہیں۔ سیوستان وطن تھا۔ اپنے زمانے کے صاحب کمال و یکتائے روزگار بزرگ گزرے ہیں۔ عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ اور فقر و استغنا میں بے مثال تھے۔ تجرید و تفرید کا یہ عالم تھا کہ تمام عمر آبادی سے دُور ایک ویرانہ میں یادِ الٰہی میں بسر کردی۔ قوت لایموت جنگل کے درختوں اور پتوں سے حاصل کرتے۔ یا کبھی تنور میں اپنے لیے ایک آدھ روٹی پکالیتے تھے۔ لباس صرف ایک تہ بند اور چادر تھا جس سے سر اور جسم ڈھانپ لیتے تھے۔ جو تنور بنا رکھا تھا اُسے بوقتِ ضرورت جنگل کے ایندھن سے گرم کرلیتے تھے۔ شہر و آبادی کی طرف بالکل رغبت نہ تھی۔ جنگل کے طیور و وحوش آپ کے ہم نفس و ہمداستاں تھے۔ تنور کے سامنے ایک پتھر رکھا ہوا تھا اس پر بیٹھ کر عبادتِ الٰہی کیا کرتے تھے۔ اس پتھر پر گرمیِ آفتاب کا کچھ اثر نہ ہوتا تھا۔ موسمِ سرما میں بھی یہی تنور گرم کرلیتے تھے اور اس میں بیٹھ کر یادِ الٰہی کیا کرتے تھے۔ ایک ر۔۔۔
مزید