اتوار , 07 جمادى الأول 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 18 October,2026

حضرت شیخ حسین قادری چشتی

حضرت شیخ عبدالوہاب متقی قادری شاذلی کے بلند مرتبہ مرید تھے۔ صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں: عجیب و غریب حالت و ہمت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ کشتی میں دریائے  نربدا سے گزر رہے تھے سنا کہ دریا کے ایک کنارے جنگل میں شیر رہتا ہے، کوئی شخص خوف کے مارے اُس طرف سے نہیں گزرتا۔ چنانچہ آپ کشتی سے اس کنارے پر اترے۔ ایک چھری لی اور جنگل میں جاکر اُس شیر کو ہلاک کردیا۔ نقل ہے: ایک شخص بلند جگہ پر جس کے نیچے پانی تھا نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا۔ وسواس کی وجہ سے نیتِ نماز کے الفاظ بار بار دُہراتا تھا۔ حاضرینِ مجلس پر یہ تکرار نہایت گراں گزری۔ آپ نے اٹھ کر غصّے سے اس کے سینے پر ہاتھ مارا وہ پانی میں گر پڑا جو اس بلندی کے نیچے بہ رہا تھا۔ اس کے بعد اس کے دل میں کوئی وسواس پیدا نہ ہوا۔ بقول صاحبِ شجرہ چشتیہ ۱۰۱۳ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: حسین آں محسن و احسن حسن پیر!! چو از دنیا بفردوسِ بر۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نعمت اللہ سرہندی

حضرت شیخ محمد المعروف بہ میاں میر قدس سرہٗ کے بزرگ تریں خلفاء سے تھے۔ سب سے پہلے آپ ہی نے حضرت میاں میر کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ زہد و ورع، تقویٰ و عبادت میں مشہورِ زمانہ اور صاحبِ خوارق و کرامت تھے۔ شہزادہ داراشکوہ صاحبِ سکینۃ الاولیاء رقم طراز ہے کہ ایک روز ایک تاجر خص اپنے لڑکے کو ساتھ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کیا کہ میں نے اپنے لڑکے کو زرِ کثیر کے ساتھ بغرض تجارت باہر روانہ کیا تھا۔ اب یہ واپس آکر کہتا ہے کہ راستے میں رہزنوں نے مجھے لوٹ لیا ہے۔ میں اس معاملے میں سخت حیران ہوں۔ توجہ فرمائیے آپ نے لڑکے سے مخاطب ہوکر فرمایا اپنے باپ سے جھوٹ کیوں کہتا ہے۔ کیاں تو نے فلاں جگہ روپیہ دفن نہیں کیا۔ جا اور وہ روپیہ لاکر اپنے باپ کو دے۔ لڑکا آپ کا یہ حکم سنتے ہی قدموں پر گر پڑا۔ معذرت خواہ ہوا اور روپیہ لاکر اپنے باپ کے حوالے کیا۔ نقل ہے: ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: میر۔۔۔

مزید

حضرت شاہ شمس الدین قادری

شیخ ابواسحاق قادری لاہوری کے جلیل القدر مرید و خلیفہ تھے۔ عارفِ کامل اور جامع علوم شریعت و طریقت تھے۔ سماع اور کشف و کرامت سے محترز رہتے تھے۔ طالبانِ علم و ہدایت کی ایک کثیر جماعت نے آپ سے اخذِ فیض کیا۔ جہانگیر آپ کا بڑا گرویدہ و معتقد تھا او رآپ کے ہر حکم کی تعمیل اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتا تھا۔ شاہ جہاں ایامِ شہزادگی میں اکثر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ آپ نے اسے پیشین  گوئی فرمائی تھی کہ تم جہانگیر کے بعد بادشاہ ہوگے۔ ۱۰۲۱ھ میں وفات پائی۔ حضرت شاہ بلاول قادری آپ کے بزرگ ترین خلیفہ تھے۔ مدفن لاہور میں ہے۔ جلوہ گر شد چو باوجِ ہفت چرخ سالِ ترحیلش عیاں شد از خرد   روحِ شمس الدین ولئ با صفا ’’ہادئ محبوب شمس الاتقیا‘‘ ۱۰۲۱ھ ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ شمس الدین قادری

شیخ ابواسحاق قادری لاہوری کے جلیل القدر مرید و خلیفہ تھے۔ عارفِ کامل اور جامع علوم شریعت و طریقت تھے۔ سماع اور کشف و کرامت سے محترز رہتے تھے۔ طالبانِ علم و ہدایت کی ایک کثیر جماعت نے آپ سے اخذِ فیض کیا۔ جہانگیر آپ کا بڑا گرویدہ و معتقد تھا او رآپ کے ہر حکم کی تعمیل اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتا تھا۔ شاہ جہاں ایامِ شہزادگی میں اکثر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ آپ نے اسے پیشین  گوئی فرمائی تھی کہ تم جہانگیر کے بعد بادشاہ ہوگے۔ ۱۰۲۱ھ میں وفات پائی۔ حضرت شاہ بلاول قادری آپ کے بزرگ ترین خلیفہ تھے۔ مدفن لاہور میں ہے۔ جلوہ گر شد چو باوجِ ہفت چرخ سالِ ترحیلش عیاں شد از خرد   روحِ شمس الدین ولئ با صفا ’’ہادئ محبوب شمس الاتقیا‘‘ ۱۰۲۱ھ ۔۔۔

مزید

سید جیون المشہور سید عبد القادر ثالث گیلانی

ظاہری و باطنی تعلیم اپنے والدِ ماجد سیّد محمد غوث بالا پیر ستگھرہ سے پائی تھی۔ اپنے زمانے کے شیخ بزرگ، زاہد و عابد اور عالم و فاضل تھے۔ اپنے اوصافِ حمیدہ اور اخلاقِ پسندیدہ کے باعث سیّد عبدالقادر ثالث مشہور تھے۔ پدر بزرگوار کی وفات کے بعد دیارِ ہند کی سیر و سیاحت کے لیے نکلے۔ اور اس دوران میں ایک خلقِ کثیر نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا۔ پھر لاہور آئے اور محلہ لنگر خاں بلوچ میں سکونت اختیار کی اور ایک محلہ بنام رسول پور آباد کیا۔ یہیں ۱۰۲۲ھ میں وفات پائی۔ مزار احاطۂ روضہ شاہ چراغ گیلانی لاہوری میں ہے۔ عبدِ قادر چو شد ز دارِ فنا فیضِ اسلام گو بتاریخش ۱۰۲۲ھ   یافت از حق بخلدِ والا جاہ ہم بخواں ’’عبد قادر اہل خدا‘‘ ۱۰۲۲ھ ۔۔۔

مزید

میا نتھا قادری

حضرت شیخ  محمد میاں میر لاہوری کے خاص الخاص مرید تھے۔ تمام عمر مرشد گرامی ہی کی خدمت میں بسر کی۔ حضرت شیخ کسی دوست و مرید کو رات کے وقت سوائے میاں نتھا کے اپنے پاس نہ رکھتے تھے۔ میاں نتھا پر حالتِ استغراق و بے خودی کا اتنا غلبہ رہتا تھا کہ دنیا وما فیہا کی کچھ خبر نہ رہتی تھی۔ روایت ہے ایک درویش جونپور سے آپ کی ملاقات کے لیے آیا۔ میاں نتھا نے اس سے پوچھا: کون ہو،  کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: میں جونپور سے آپ کی ملاقات کے لیے آیا ہوں تاکہ آپ کے نام و عرف اور حسب و نسب سے آگاہی حاصل کروں۔ میاں  نتھا نے کہا: میرا نام نتھا ہے۔ قوم کا پراچہ کنجد کش ہوں۔ حضرت میاں میر کا کمترین خادم ہوں۔ میرا حال یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے عالمِ جبروت و ملکوت و لاہوت کی کنجیاں مجھے عطا کردی ہیں۔ جس وقت چاہتا ہوں عالمِ ملکوت[1] و عالمِ جبروت[2] و عالمِ لاہوت[3] کا دروازہ کھول کر داخل ہوجاتا ہوں۔ شہزادہ م۔۔۔

مزید

سید عبد الوہاب گیلانی

ساداتِ عظام اور اولیائے ذو الکرام سے تھے۔ تعلیم و تربیت حضرت سیّد عبدالقادر ثالث گیلانی بن سیّد محمد غوث بالا پیر سے پائی تھی۔ ایک خلقِ کثیر آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوکر آپ کی تلقین و ہدایت سے فیض یاب ہوئی۔ ۱۰۳۷ھ میں وفات پائی۔ عبدِ وہاب  چوں بفضل الحق رحلتش گو امامِ دیں فیاض ۱۰۳۷ھ   رفت آخر بجنت الاعلیٰ ’’افضل و سید و ولی‘‘ فرماق ۱۰۳۷ھ ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبد اللہ تہیی

ساداتِ گیلانی میں سے تھے۔ والد کا نام عمر بن سیّد حسن ہے۔ سلسلۂ نسب بارہ واسطوں سے حضرت غوث الاعظم﷫  تک منتہی ہوتا ہے۔ خرقۂ خلافت دست بدست اپنے آباو اجداد سے پہنا ہے۔ پندرہ سال کے تھے کہ بہ اشارۂ ربانی ہندوستان تشریف لائے اور موضع تَہہ[1]میں سکونت اختیار کی۔ دیارِ ہند کے اکثر مشائخ کبار سے ملاقات کی۔ علومِ ظاہر و باطن میں درجۂ کمال حاصل تھا۔ مریدوں کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔ ہمیشہ با وضو اور مراقبہ میں مستغرق رہتے تھے۔ آپ سے بہت سی کرامات کا ظہور ہُوا۔ چنانچہ صاحب سفینۃ الاولیاء لکھتے ہیں کہ چور اگر آپ کے گھر آجاتا یا وہ اندھا ہوجاتا یا وہ مُردہ پایا جاتا۔ بلکہ جس گاؤں میں آپ رہتے تھے وہاں کوئی چور آنے کی قدرت نہ رکھتا تھا۔ ایک سو برس کی عمر میں ۱۰۳۷ھ میں وفات پائی۔ شد ز دنیا چو در بہشتِ بریں ہست وصلش ’’امامِ دیں فیاض‘‘ ۱۰۳۷ھ   شیخ با اختصاص عبداللہ نیز۔۔۔

مزید

حضرت سید عبد الرزاق شاہ چراغ

حضرت سید عبد الرزاق شاہ چراغ رحمۃ اللہ علیہ نام ونسب: سید عبد الرزاق بن عبد الوہاب بن سید عبد القادر ثالث بن سید محمد غوث بالا پیربن زین العابدین ابن سید عبد القادر ثانی بن سید محمد غوث اوچی گیلانی رحمہم اللہ۔ سیرت وخصائص: آپ اعظم اولیائے قادریہ سے اور علومِ ظاہری وباطنی میں جامع  تھے۔ آپ اپنے والد کے مرید تھے۔ جب آپ پیدا ہوئے تو آپ کے دادا نے فرمایا کہ ہمارے گھر چراغ پیدا ہوا ہے ، اُسی روز سے آپ شاہ چراغ کے نام سے مشہور ہوگئے۔ بہت بڑے سیاح تھے۔مشائخ حرمین سے بہت ہم صحبت رہ کراستفادہ اٹھایا۔حضرت شاہ جہان آپ کے بہت معتقد تھے۔ وصال: آپ کی وفات 22 ذیقعدہ 1068 ھ /بمطابق 20 اگست  1658 ء میں ہوئی۔ آپ کا مزار آپ کے والد کے مزار سے متصل لاہور میں ہے۔ ماخذ مراجع: تذکرۂ علمائے برِ صغیر پاک و ہند۔۔۔

مزید

سید محمد مقیم محکم الدین

والد ماجد کا نام شاہ ابو المعالی بن سیّد محمد نور بن بہاءالدین المشہور بہاول شیر تھا۔ خورد سالی ہی میں باپ کا سایہ سر سے اُٹھ گیا تھا مگر تعلیم و تربیّت پُوری طرح ہوئی تھی۔ علومِ ظاہری کی تکمیل کے بعد اکتسابِ علومِ باطنی کی طرف متوجّہ ہوئے۔ ہر روز اپنے جدّ امجد کے مزار پر جاکر مراقبہ اور ذکر و فکر میں مشغول رہتے۔ ایک رات اپنے جدّ بزرگوار کو خواب میں دیکھا کہ آپ فرماتے ہیں: اے فرزند تیرا حصّہ ہمارے پاس نہیں ہے بلکہ سیّد جمال اللہ حیات المیر زندہ پیر کے پاس ہے۔ لاہور جاؤ وہاں اُن سے تمہاری ملاقات ہوگی۔ چنانچہ آپ اس ارشاد کے بموجب لاہور آئے۔ ایک روز گورستانِ میانی میں مزار شیخ محمد طاہر کے قریب آپ کو موجود پایا۔ خدمت میں حاضر ہوکر حلقۂ ارادت میں داخل ہُوئے اور کمالاتِ ظاہری و باطنی حاصل کئے۔ صاحبِ خوارق و کرامت تھے۔ نقل ہے ایک روز آپ ایک درخت کےسایہ کے نیچے بیٹھے ہوئے تھے کہ ایک شخص نے حاضر ہ۔۔۔

مزید