پیر , 03 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Monday, 20 April,2026

حضرت سیّد شاہ نور حضوری

سیّد محمود حضور موسوی غوری کے فرزند ارجمند تھے۔ تعلیم و تربیت اپنے پدر بزرگوار ہی کے زیر سایہ پائی تھی۔ اُنہی کے مرید و خلیفہ تھے۔ تکمیلِ سلوک کے بعد عطائے خرقہ سے سرفراز ہوئے اور اجازتِ ارشاد ملی۔ اپنے زمانے کے عالم و فاضل اور عارفِ کامل تھے۔ تمام عمر  درس و تدریس اور ہدایتِ خلق میں مصروف  رہے۔ والدِ ماجد کے فیضانِ نظر سے یہ مقام حاصل کرلیا تھا جو آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوتا وہ بہت جلد اوجِ طریقت پر پہنچ کر مرتبۂ حضوری حاصل کرلیتا۔ ۹۹۷ھ میں وفات پائی۔ گشت روشن چوں بخلد جاوداں سالِ وصلش از خرد شد جلوہ گر   سیّد و سردار سرور شاہ نور ‘‘ہادئِ احسن منور شاہ نور’’ ۹۹۷ھ مزار سیّد محمود حضور کے گنبد کے اندر ہے۔۔۔۔

مزید

حضرت سیّد موسیٰ پاک شہید

سیّد حامد بخش گیلانی اوچی﷫ کے فرزند رشید ہیں۔ علومِ ظاہری و باطنی کی تعلیم و تربیت اپنے والد گرامی کے زیر سایہ پائی تھی۔ پدر بزرگوار سے سلوک و معرفت میں مقاماتِ بلند اور مدارجِ ارجمند  حاصل کرکے جمال الدین ابوالحسن﷜ کا خطاب پایا تھا۔ عبادت و ریاضت اور ارشاد و ہدایت میں یگانۂ روزگار تھے۔ حضرت غوث الاعظم﷜ کے اویسی تھے۔  نیز حالتِ بیداری میں حضور اقدس ﷺکے جمال جہاں آراء سے بھی مشرف ہوئے تھے اور بطریقِ کشفِ قبور حضرت شیخ سیّد عبدالقادر ثانی گیلانی ا وچی﷫ سے اخذِ فیض کیا اور بیعت سے سرفراز ہوئے۔ حضرت شیخ عبدالحق محدث  دہلوی﷫ صاحبِ اخبار الاخیار آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل تھے۔ کتاب کے آخر میں اپنی بیعت کے حالات مفصل و مشرح درج کیے ہیں۔ آپ کی تمام عمر رشد و ہدایت اور تعلیم و تلقین میں گزری۔ ۱۰۰۱ھ میں قوم لنگاہ کی ایک خانہ جنگی میں اتفاقاً گولی لگنے سے شہید ہوئے۔ مزار ملتان میں زیارت۔۔۔

مزید

حضرت سیّد صوفی گیلانی

باپ کا نام سیّد بدرالدین بن سیّد اسماعیل ہے۔ کمالاتِ ظاہری و باطنی سے آراستہ اور صاحبِ شریعت وطریقت بزرگ تھے۔ تمام عمر لاہور میں ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ ۱۰۰۲ھ میں وفات پائی۔ شہ خلد صوفیِ صافی ضمیر شود سالِ ترحیلِ او جلوہ گر   شریفے ز اولادِ پاکِ علی ز مخدوم صوفی سیّد ولی ۱۰۰۲ھ ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حسین قادری چشتی

حضرت شیخ عبدالوہاب متقی قادری شاذلی کے بلند مرتبہ مرید تھے۔ صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں: عجیب و غریب حالت و ہمت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ کشتی میں دریائے  نربدا سے گزر رہے تھے سنا کہ دریا کے ایک کنارے جنگل میں شیر رہتا ہے، کوئی شخص خوف کے مارے اُس طرف سے نہیں گزرتا۔ چنانچہ آپ کشتی سے اس کنارے پر اترے۔ ایک چھری لی اور جنگل میں جاکر اُس شیر کو ہلاک کردیا۔ نقل ہے: ایک شخص بلند جگہ پر جس کے نیچے پانی تھا نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا۔ وسواس کی وجہ سے نیتِ نماز کے الفاظ بار بار دُہراتا تھا۔ حاضرینِ مجلس پر یہ تکرار نہایت گراں گزری۔ آپ نے اٹھ کر غصّے سے اس کے سینے پر ہاتھ مارا وہ پانی میں گر پڑا جو اس بلندی کے نیچے بہ رہا تھا۔ اس کے بعد اس کے دل میں کوئی وسواس پیدا نہ ہوا۔ بقول صاحبِ شجرہ چشتیہ ۱۰۱۳ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: حسین آں محسن و احسن حسن پیر!! چو از دنیا بفردوسِ بر۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نعمت اللہ سرہندی

حضرت شیخ محمد المعروف بہ میاں میر قدس سرہٗ کے بزرگ تریں خلفاء سے تھے۔ سب سے پہلے آپ ہی نے حضرت میاں میر کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ زہد و ورع، تقویٰ و عبادت میں مشہورِ زمانہ اور صاحبِ خوارق و کرامت تھے۔ شہزادہ داراشکوہ صاحبِ سکینۃ الاولیاء رقم طراز ہے کہ ایک روز ایک تاجر خص اپنے لڑکے کو ساتھ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کیا کہ میں نے اپنے لڑکے کو زرِ کثیر کے ساتھ بغرض تجارت باہر روانہ کیا تھا۔ اب یہ واپس آکر کہتا ہے کہ راستے میں رہزنوں نے مجھے لوٹ لیا ہے۔ میں اس معاملے میں سخت حیران ہوں۔ توجہ فرمائیے آپ نے لڑکے سے مخاطب ہوکر فرمایا اپنے باپ سے جھوٹ کیوں کہتا ہے۔ کیاں تو نے فلاں جگہ روپیہ دفن نہیں کیا۔ جا اور وہ روپیہ لاکر اپنے باپ کو دے۔ لڑکا آپ کا یہ حکم سنتے ہی قدموں پر گر پڑا۔ معذرت خواہ ہوا اور روپیہ لاکر اپنے باپ کے حوالے کیا۔ نقل ہے: ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: میر۔۔۔

مزید

حضرت شاہ شمس الدین قادری

شیخ ابواسحاق قادری لاہوری کے جلیل القدر مرید و خلیفہ تھے۔ عارفِ کامل اور جامع علوم شریعت و طریقت تھے۔ سماع اور کشف و کرامت سے محترز رہتے تھے۔ طالبانِ علم و ہدایت کی ایک کثیر جماعت نے آپ سے اخذِ فیض کیا۔ جہانگیر آپ کا بڑا گرویدہ و معتقد تھا او رآپ کے ہر حکم کی تعمیل اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتا تھا۔ شاہ جہاں ایامِ شہزادگی میں اکثر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ آپ نے اسے پیشین  گوئی فرمائی تھی کہ تم جہانگیر کے بعد بادشاہ ہوگے۔ ۱۰۲۱ھ میں وفات پائی۔ حضرت شاہ بلاول قادری آپ کے بزرگ ترین خلیفہ تھے۔ مدفن لاہور میں ہے۔ جلوہ گر شد چو باوجِ ہفت چرخ سالِ ترحیلش عیاں شد از خرد   روحِ شمس الدین ولئ با صفا ’’ہادئ محبوب شمس الاتقیا‘‘ ۱۰۲۱ھ ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ شمس الدین قادری

شیخ ابواسحاق قادری لاہوری کے جلیل القدر مرید و خلیفہ تھے۔ عارفِ کامل اور جامع علوم شریعت و طریقت تھے۔ سماع اور کشف و کرامت سے محترز رہتے تھے۔ طالبانِ علم و ہدایت کی ایک کثیر جماعت نے آپ سے اخذِ فیض کیا۔ جہانگیر آپ کا بڑا گرویدہ و معتقد تھا او رآپ کے ہر حکم کی تعمیل اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتا تھا۔ شاہ جہاں ایامِ شہزادگی میں اکثر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ آپ نے اسے پیشین  گوئی فرمائی تھی کہ تم جہانگیر کے بعد بادشاہ ہوگے۔ ۱۰۲۱ھ میں وفات پائی۔ حضرت شاہ بلاول قادری آپ کے بزرگ ترین خلیفہ تھے۔ مدفن لاہور میں ہے۔ جلوہ گر شد چو باوجِ ہفت چرخ سالِ ترحیلش عیاں شد از خرد   روحِ شمس الدین ولئ با صفا ’’ہادئ محبوب شمس الاتقیا‘‘ ۱۰۲۱ھ ۔۔۔

مزید

سید جیون المشہور سید عبد القادر ثالث گیلانی

ظاہری و باطنی تعلیم اپنے والدِ ماجد سیّد محمد غوث بالا پیر ستگھرہ سے پائی تھی۔ اپنے زمانے کے شیخ بزرگ، زاہد و عابد اور عالم و فاضل تھے۔ اپنے اوصافِ حمیدہ اور اخلاقِ پسندیدہ کے باعث سیّد عبدالقادر ثالث مشہور تھے۔ پدر بزرگوار کی وفات کے بعد دیارِ ہند کی سیر و سیاحت کے لیے نکلے۔ اور اس دوران میں ایک خلقِ کثیر نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا۔ پھر لاہور آئے اور محلہ لنگر خاں بلوچ میں سکونت اختیار کی اور ایک محلہ بنام رسول پور آباد کیا۔ یہیں ۱۰۲۲ھ میں وفات پائی۔ مزار احاطۂ روضہ شاہ چراغ گیلانی لاہوری میں ہے۔ عبدِ قادر چو شد ز دارِ فنا فیضِ اسلام گو بتاریخش ۱۰۲۲ھ   یافت از حق بخلدِ والا جاہ ہم بخواں ’’عبد قادر اہل خدا‘‘ ۱۰۲۲ھ ۔۔۔

مزید

سید عبد الوہاب گیلانی

ساداتِ عظام اور اولیائے ذو الکرام سے تھے۔ تعلیم و تربیت حضرت سیّد عبدالقادر ثالث گیلانی بن سیّد محمد غوث بالا پیر سے پائی تھی۔ ایک خلقِ کثیر آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوکر آپ کی تلقین و ہدایت سے فیض یاب ہوئی۔ ۱۰۳۷ھ میں وفات پائی۔ عبدِ وہاب  چوں بفضل الحق رحلتش گو امامِ دیں فیاض ۱۰۳۷ھ   رفت آخر بجنت الاعلیٰ ’’افضل و سید و ولی‘‘ فرماق ۱۰۳۷ھ ۔۔۔

مزید

میا نتھا قادری

حضرت شیخ  محمد میاں میر لاہوری کے خاص الخاص مرید تھے۔ تمام عمر مرشد گرامی ہی کی خدمت میں بسر کی۔ حضرت شیخ کسی دوست و مرید کو رات کے وقت سوائے میاں نتھا کے اپنے پاس نہ رکھتے تھے۔ میاں نتھا پر حالتِ استغراق و بے خودی کا اتنا غلبہ رہتا تھا کہ دنیا وما فیہا کی کچھ خبر نہ رہتی تھی۔ روایت ہے ایک درویش جونپور سے آپ کی ملاقات کے لیے آیا۔ میاں نتھا نے اس سے پوچھا: کون ہو،  کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: میں جونپور سے آپ کی ملاقات کے لیے آیا ہوں تاکہ آپ کے نام و عرف اور حسب و نسب سے آگاہی حاصل کروں۔ میاں  نتھا نے کہا: میرا نام نتھا ہے۔ قوم کا پراچہ کنجد کش ہوں۔ حضرت میاں میر کا کمترین خادم ہوں۔ میرا حال یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے عالمِ جبروت و ملکوت و لاہوت کی کنجیاں مجھے عطا کردی ہیں۔ جس وقت چاہتا ہوں عالمِ ملکوت[1] و عالمِ جبروت[2] و عالمِ لاہوت[3] کا دروازہ کھول کر داخل ہوجاتا ہوں۔ شہزادہ م۔۔۔

مزید