منگل , 01 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Tuesday, 16 June,2026

حضرت شیخ خضر سیوستانی

سلسلۂ قادریہ کے مشائخ سے ہیں۔ سیوستان وطن تھا۔ اپنے زمانے کے صاحب کمال و یکتائے روزگار بزرگ گزرے ہیں۔ عبادت و ریاضت، زہد و تقویٰ اور فقر و استغنا میں بے مثال تھے۔ تجرید و تفرید کا یہ عالم تھا کہ تمام عمر آبادی سے دُور ایک ویرانہ میں یادِ الٰہی میں بسر کردی۔ قوت لایموت جنگل کے درختوں اور پتوں سے حاصل کرتے۔ یا کبھی تنور میں اپنے لیے ایک آدھ روٹی پکالیتے تھے۔ لباس صرف ایک تہ بند اور چادر تھا جس سے سر اور جسم ڈھانپ لیتے تھے۔ جو تنور بنا رکھا تھا اُسے بوقتِ ضرورت جنگل کے ایندھن سے گرم کرلیتے تھے۔ شہر و آبادی کی طرف بالکل رغبت نہ تھی۔ جنگل کے طیور و وحوش آپ کے ہم نفس و ہمداستاں تھے۔ تنور کے سامنے ایک پتھر رکھا ہوا تھا اس پر بیٹھ کر عبادتِ الٰہی کیا کرتے تھے۔ اس پتھر پر گرمیِ آفتاب کا کچھ اثر نہ ہوتا تھا۔ موسمِ سرما میں بھی یہی تنور گرم کرلیتے تھے اور اس میں بیٹھ کر یادِ الٰہی کیا کرتے تھے۔ ایک ر۔۔۔

مزید

حضرت سیّد صوفی گیلانی

باپ کا نام سیّد بدرالدین بن سیّد اسماعیل ہے۔ کمالاتِ ظاہری و باطنی سے آراستہ اور صاحبِ شریعت وطریقت بزرگ تھے۔ تمام عمر لاہور میں ہدایتِ خلق میں مصروف رہے۔ ۱۰۰۲ھ میں وفات پائی۔ شہ خلد صوفیِ صافی ضمیر شود سالِ ترحیلِ او جلوہ گر   شریفے ز اولادِ پاکِ علی ز مخدوم صوفی سیّد ولی ۱۰۰۲ھ ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ حسین قادری چشتی

حضرت شیخ عبدالوہاب متقی قادری شاذلی کے بلند مرتبہ مرید تھے۔ صاحب اخبار الاخیار لکھتے ہیں: عجیب و غریب حالت و ہمت رکھتے تھے۔ ایک دفعہ کشتی میں دریائے  نربدا سے گزر رہے تھے سنا کہ دریا کے ایک کنارے جنگل میں شیر رہتا ہے، کوئی شخص خوف کے مارے اُس طرف سے نہیں گزرتا۔ چنانچہ آپ کشتی سے اس کنارے پر اترے۔ ایک چھری لی اور جنگل میں جاکر اُس شیر کو ہلاک کردیا۔ نقل ہے: ایک شخص بلند جگہ پر جس کے نیچے پانی تھا نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہوا۔ وسواس کی وجہ سے نیتِ نماز کے الفاظ بار بار دُہراتا تھا۔ حاضرینِ مجلس پر یہ تکرار نہایت گراں گزری۔ آپ نے اٹھ کر غصّے سے اس کے سینے پر ہاتھ مارا وہ پانی میں گر پڑا جو اس بلندی کے نیچے بہ رہا تھا۔ اس کے بعد اس کے دل میں کوئی وسواس پیدا نہ ہوا۔ بقول صاحبِ شجرہ چشتیہ ۱۰۱۳ھ میں بعہدِ اکبر وفات پائی۔ قطعۂ تاریخِ وفات: حسین آں محسن و احسن حسن پیر!! چو از دنیا بفردوسِ بر۔۔۔

مزید

حضرت شیخ نعمت اللہ سرہندی

حضرت شیخ محمد المعروف بہ میاں میر قدس سرہٗ کے بزرگ تریں خلفاء سے تھے۔ سب سے پہلے آپ ہی نے حضرت میاں میر کے ہاتھ پر بیعت کی تھی۔ زہد و ورع، تقویٰ و عبادت میں مشہورِ زمانہ اور صاحبِ خوارق و کرامت تھے۔ شہزادہ داراشکوہ صاحبِ سکینۃ الاولیاء رقم طراز ہے کہ ایک روز ایک تاجر خص اپنے لڑکے کو ساتھ لے کر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ عرض کیا کہ میں نے اپنے لڑکے کو زرِ کثیر کے ساتھ بغرض تجارت باہر روانہ کیا تھا۔ اب یہ واپس آکر کہتا ہے کہ راستے میں رہزنوں نے مجھے لوٹ لیا ہے۔ میں اس معاملے میں سخت حیران ہوں۔ توجہ فرمائیے آپ نے لڑکے سے مخاطب ہوکر فرمایا اپنے باپ سے جھوٹ کیوں کہتا ہے۔ کیاں تو نے فلاں جگہ روپیہ دفن نہیں کیا۔ جا اور وہ روپیہ لاکر اپنے باپ کو دے۔ لڑکا آپ کا یہ حکم سنتے ہی قدموں پر گر پڑا۔ معذرت خواہ ہوا اور روپیہ لاکر اپنے باپ کے حوالے کیا۔ نقل ہے: ایک شخص نے آپ کی خدمت میں حاضر ہوکر عرض کیا: میر۔۔۔

مزید

حضرت شاہ شمس الدین قادری

شیخ ابواسحاق قادری لاہوری کے جلیل القدر مرید و خلیفہ تھے۔ عارفِ کامل اور جامع علوم شریعت و طریقت تھے۔ سماع اور کشف و کرامت سے محترز رہتے تھے۔ طالبانِ علم و ہدایت کی ایک کثیر جماعت نے آپ سے اخذِ فیض کیا۔ جہانگیر آپ کا بڑا گرویدہ و معتقد تھا او رآپ کے ہر حکم کی تعمیل اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتا تھا۔ شاہ جہاں ایامِ شہزادگی میں اکثر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ آپ نے اسے پیشین  گوئی فرمائی تھی کہ تم جہانگیر کے بعد بادشاہ ہوگے۔ ۱۰۲۱ھ میں وفات پائی۔ حضرت شاہ بلاول قادری آپ کے بزرگ ترین خلیفہ تھے۔ مدفن لاہور میں ہے۔ جلوہ گر شد چو باوجِ ہفت چرخ سالِ ترحیلش عیاں شد از خرد   روحِ شمس الدین ولئ با صفا ’’ہادئ محبوب شمس الاتقیا‘‘ ۱۰۲۱ھ ۔۔۔

مزید

حضرت شاہ شمس الدین قادری

شیخ ابواسحاق قادری لاہوری کے جلیل القدر مرید و خلیفہ تھے۔ عارفِ کامل اور جامع علوم شریعت و طریقت تھے۔ سماع اور کشف و کرامت سے محترز رہتے تھے۔ طالبانِ علم و ہدایت کی ایک کثیر جماعت نے آپ سے اخذِ فیض کیا۔ جہانگیر آپ کا بڑا گرویدہ و معتقد تھا او رآپ کے ہر حکم کی تعمیل اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتا تھا۔ شاہ جہاں ایامِ شہزادگی میں اکثر آپ کی خدمت میں حاضر ہوا کرتا تھا۔ آپ نے اسے پیشین  گوئی فرمائی تھی کہ تم جہانگیر کے بعد بادشاہ ہوگے۔ ۱۰۲۱ھ میں وفات پائی۔ حضرت شاہ بلاول قادری آپ کے بزرگ ترین خلیفہ تھے۔ مدفن لاہور میں ہے۔ جلوہ گر شد چو باوجِ ہفت چرخ سالِ ترحیلش عیاں شد از خرد   روحِ شمس الدین ولئ با صفا ’’ہادئ محبوب شمس الاتقیا‘‘ ۱۰۲۱ھ ۔۔۔

مزید

سید جیون المشہور سید عبد القادر ثالث گیلانی

ظاہری و باطنی تعلیم اپنے والدِ ماجد سیّد محمد غوث بالا پیر ستگھرہ سے پائی تھی۔ اپنے زمانے کے شیخ بزرگ، زاہد و عابد اور عالم و فاضل تھے۔ اپنے اوصافِ حمیدہ اور اخلاقِ پسندیدہ کے باعث سیّد عبدالقادر ثالث مشہور تھے۔ پدر بزرگوار کی وفات کے بعد دیارِ ہند کی سیر و سیاحت کے لیے نکلے۔ اور اس دوران میں ایک خلقِ کثیر نے آپ سے اکتسابِ فیض کیا۔ پھر لاہور آئے اور محلہ لنگر خاں بلوچ میں سکونت اختیار کی اور ایک محلہ بنام رسول پور آباد کیا۔ یہیں ۱۰۲۲ھ میں وفات پائی۔ مزار احاطۂ روضہ شاہ چراغ گیلانی لاہوری میں ہے۔ عبدِ قادر چو شد ز دارِ فنا فیضِ اسلام گو بتاریخش ۱۰۲۲ھ   یافت از حق بخلدِ والا جاہ ہم بخواں ’’عبد قادر اہل خدا‘‘ ۱۰۲۲ھ ۔۔۔

مزید

میا نتھا قادری

حضرت شیخ  محمد میاں میر لاہوری کے خاص الخاص مرید تھے۔ تمام عمر مرشد گرامی ہی کی خدمت میں بسر کی۔ حضرت شیخ کسی دوست و مرید کو رات کے وقت سوائے میاں نتھا کے اپنے پاس نہ رکھتے تھے۔ میاں نتھا پر حالتِ استغراق و بے خودی کا اتنا غلبہ رہتا تھا کہ دنیا وما فیہا کی کچھ خبر نہ رہتی تھی۔ روایت ہے ایک درویش جونپور سے آپ کی ملاقات کے لیے آیا۔ میاں نتھا نے اس سے پوچھا: کون ہو،  کہاں سے آئے ہو؟ اس نے کہا: میں جونپور سے آپ کی ملاقات کے لیے آیا ہوں تاکہ آپ کے نام و عرف اور حسب و نسب سے آگاہی حاصل کروں۔ میاں  نتھا نے کہا: میرا نام نتھا ہے۔ قوم کا پراچہ کنجد کش ہوں۔ حضرت میاں میر کا کمترین خادم ہوں۔ میرا حال یہ ہے کہ حق تعالیٰ نے عالمِ جبروت و ملکوت و لاہوت کی کنجیاں مجھے عطا کردی ہیں۔ جس وقت چاہتا ہوں عالمِ ملکوت[1] و عالمِ جبروت[2] و عالمِ لاہوت[3] کا دروازہ کھول کر داخل ہوجاتا ہوں۔ شہزادہ م۔۔۔

مزید

سید عبد الوہاب گیلانی

ساداتِ عظام اور اولیائے ذو الکرام سے تھے۔ تعلیم و تربیت حضرت سیّد عبدالقادر ثالث گیلانی بن سیّد محمد غوث بالا پیر سے پائی تھی۔ ایک خلقِ کثیر آپ کے حلقۂ ارادت میں داخل ہوکر آپ کی تلقین و ہدایت سے فیض یاب ہوئی۔ ۱۰۳۷ھ میں وفات پائی۔ عبدِ وہاب  چوں بفضل الحق رحلتش گو امامِ دیں فیاض ۱۰۳۷ھ   رفت آخر بجنت الاعلیٰ ’’افضل و سید و ولی‘‘ فرماق ۱۰۳۷ھ ۔۔۔

مزید

حضرت شیخ عبد اللہ تہیی

ساداتِ گیلانی میں سے تھے۔ والد کا نام عمر بن سیّد حسن ہے۔ سلسلۂ نسب بارہ واسطوں سے حضرت غوث الاعظم﷫  تک منتہی ہوتا ہے۔ خرقۂ خلافت دست بدست اپنے آباو اجداد سے پہنا ہے۔ پندرہ سال کے تھے کہ بہ اشارۂ ربانی ہندوستان تشریف لائے اور موضع تَہہ[1]میں سکونت اختیار کی۔ دیارِ ہند کے اکثر مشائخ کبار سے ملاقات کی۔ علومِ ظاہر و باطن میں درجۂ کمال حاصل تھا۔ مریدوں کا سلسلہ بہت وسیع ہے۔ ہمیشہ با وضو اور مراقبہ میں مستغرق رہتے تھے۔ آپ سے بہت سی کرامات کا ظہور ہُوا۔ چنانچہ صاحب سفینۃ الاولیاء لکھتے ہیں کہ چور اگر آپ کے گھر آجاتا یا وہ اندھا ہوجاتا یا وہ مُردہ پایا جاتا۔ بلکہ جس گاؤں میں آپ رہتے تھے وہاں کوئی چور آنے کی قدرت نہ رکھتا تھا۔ ایک سو برس کی عمر میں ۱۰۳۷ھ میں وفات پائی۔ شد ز دنیا چو در بہشتِ بریں ہست وصلش ’’امامِ دیں فیاض‘‘ ۱۰۳۷ھ   شیخ با اختصاص عبداللہ نیز۔۔۔

مزید