حافظ عصر ابو احمد عبداللہ بن عدی
نام : عبداللہ
کنیت: ابو احمد
ولادت
آپ کی ولادت
ذی قعدہ ۲۷۷ھ کو ہوئی۔
نسب
عبد اللہ بن عدی
بن عبد اللہ جرجانی
اپنے وطن میں ابن
القطان سے مشہور تھے اور عالم اسلام میں ابن عدی سے شہرت پائی ۔ آپ کا مولد وطن
جرجان طبرستان اور خراسان کے درمیان ایک مشہور شہر ہے جو انتہائی خوبصورت، سرسبز و
شاداب خطہ زمین ہے جہاں بڑے بڑے نامور اہل علم پیدا ہوۓ انہیں
میں علامہ ابن عدی کی ستودہ صفات علمی ذات بھی ہے۔
تحصیل علم
قدرت نے امام ابن
عدی کو مضبوط حافظہ اور قبول علم کی بیکراں استعداد سے نوازا تھا ۔ چنانچہ سن شعور
کو پہنچتے ہی انہوں نے بڑی سرگرمی کے ساتھ طلب علم کے کوچے میں قدم رکھا اور اپنے
وطن کے علماء ومحدثین کی بارگاہوں سے فیض اٹھایا پھر وہ اسلامی دنیا کے علماء اور فضلاء
سے تحصیل علم کرنے کے لیے ۲۹۷ھ میں
جرجان سے نکلے اور محدثین عظام کی روش پر دور دراز ملکوں اور شہروں کا سفر کر کے
اکابر علم سے حدیث کا سماع کیا۔ امام سبکی لکھتے ہیں’’ احد الجہابذة الذین
طافو البلاد
۔ (طبقات الشافعیہ ج ۲ ص ۲۳۳)
سفر کے دوران
حجاز، بلادِ شام، عراق، بغداد، مصر، خراسان، اسکندریہ اور سمرقند گئے۔ ان رحلات و
اسفار میں آپ نے بڑے بڑے ماہرین فن ائمہ اور محدثین عظام سے ملاقات کی جن کی ایک
بڑی تعداد ہے۔ آپ نے اپنی کتاب معجم الشیوخ میں اپنے اساتذہ کی تعداد ایک ہزار سے
زائد ذکر کی ہے۔ قابلِ ذکر اساتذہ کے اسماء حسبِ ذیل ہیں۔
اساتذہ
امام عبدالرحمن
نسائی، امام ابو یعلیٰ موصلی، حسن بن سفیان نسوی، امام ابن خزیمہ، امام بغوی،
بہلول بن اسحاق انباری، محمد بن عثمان بن ابی سوید، محمد بن یحییٰ مروزی،
عبدالرحمن بن قاسم بن رواس دمشقی، انس بن سلم، ابو خلیفہ جمحی، عمران بن مجاشع،
عبدان اہوازی، حسن بن محمد مدنی، حسن بن فرج غزی۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۱۴۳)
علم و فضل
امام ابن عدی نے
حسنِ انہماک اور اخلاص کے ساتھ علمِ دین حاصل کیا تھا اس کے برکات نے انہیں علم و
فضل کی عظیم شخصیت بنا دیا تھا۔ وہ بلند پایہ محدث اور ماہر فن رجال تھے۔ اسلامی
دنیا کے مقتدر اہل علم نے آپ کی ثقاہت و عدالت، حفظ و ضبط اور مہارتِ فن کا اعتراف
کیا ہے۔
حافظ ذہبی: "الامام الحافظ الکبیر
، کان احد الاعلام..... وهو المصنف فى الكلام على الرجال عارفاً بالعلل"
بہت بڑے حافظِ حدیث نامور امام ہیں آپ چوٹی کے علماء میں سے ایک زبردست عالم ہیں
آپ رجال پر لکھنے والے کامیاب مصنف اور عللِ حدیث کے خوب ماہر تھے۔ (تذکرہ
الحفاظ ج ۳ ص ۱۴۳)
حافظ حمزہ سہمی: "کان
حافظاً متقناً لم یکن فى زمانه احد مثله" آپ حافظ اور متقن تھے ان کے
زمانہ میں ان جیسا کوئی دوسرا آدمی نہیں تھا۔ (ایضاً)
احمد بن ابی مسلم: "لم ار
احدا مثل ابى احمد بن عدى وکیف فوقه فى الحفظ وكان احمد قد لقى الطبرانى وابا احمد
الحاکم وقد قال لى كان حفظ هؤلاء تکلفاً وحفظ ابن عدى طبعاً"
میں نے حفظ و اتقان میں ابو احمد بن عدی جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا ان سے بڑا کیسے
دیکھتا حافظ احمد مذکور نے امام طبرانی اور ابو احمد حاکم سے ملاقات کی تھی انہوں
نے مجھ سے بتایا کہ ان کا حافظہ تکلف کا تھا اور ابن عدی کا حافظہ طبیعی تھا۔ (ایضاً)
ابو الولید باجی: "ابن عدی
حافظ لا بأس"
ابن عدی حافظ حدیث ہیں ان میں کوئی عیب نہیں۔
(ایضاً
ص ۱۴۴)
علامہ ابن اثیر: "کان امام
عصرہ"
آپ اپنے زمانہ کے امام تھے۔
(اللباب
ج ۲ ص ۷۰)
جرح وتعدیل
فن جرح وتعدیل میں
آپ کی شخصیت انتہائی معروف ہے۔ اس فن میں آپ کو بلند مقام حاصل تھا۔ فن جرح وتعدیل
میں آپ کی شہرہ آفاق کتاب الکامل فی ضعفاء الرجال قابلِ فخر ہے جس سے آپ کی علمی
شخصیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ اور فن جرح وتعدیل و اسماء الرجال میں آپ کی مہارتِ تامہ
کا پتہ چلتا ہے۔
اس کے علاوہ حدیث اور علومِ حدیث سے متعلق
آپ کی دیگر تالیفات میں عللِ حدیث میں بھی آپ کو مہارت حاصل تھی۔ اس لیے آپ کا شمار
کبار ائمہ جرح وتعدیل میں ہوتا ہے۔ خاص طور سے ضعفاءِ رجال کی معرفت میں آپ مرجع
کی حیثیت رکھتے ہیں۔ امام ذہبی فرماتے ہیں "معرفت عللِ حدیث اور معرفت رجال
میں آپ حافظِ وقت تھے جن کا کوئی مد مقابل نہ تھا۔ (طبقات الشافعیہ ج ۲
ص ۲۳۳)
نیز فرمایا "مصنفہ فی الرجال الیہ
المنتہیٰ فی الجرح" یعنی رجال کے سلسلے میں آپ کی تصنیف جرح میں
منتہیٰ ہے۔
(ذکر
من یعتمد قولہ فی الجرح والتعدیل ص ۱۰۳)
الکامل فی ضعفاء الرجال
یہ کتاب ضعفاءِ
رجال کے سلسلے میں بہت اہم اور جامع ہے علماءِ جرح وتعدیل نے اس کتاب کو اپنی تالیفات
کے لیے مصدر بنایا ہے اور راویوں کے بارے میں آپ کے اقوال کو بطورِ فیصل تسلیم کیا
ہے۔ خاص طور پر امام ذہبی نے اپنی نادر تصنیف میزان الاعتدال کے لیے اس کتاب کو
بنیاد بنایا ہے۔ دیگر علماءِ جرح وتعدیل نے بھی اس کتاب کو خاص اہمیت دی ہے۔
کتاب کی ابتداء میں
ایک طویل و بسیط معلومات افزاء مقدمہ ہے جس میں کذب بیانی کی فضیحت حدیثِ رسول میں
دروغ گوئی پر وعید اور سزا بعض صحابہ کی قلتِ روایت کے اسباب کتابتِ
حدیث کا جواز اور عدم جواز کا معاملہ کاذبین کی قسمیں، ائمہ جرح وتعدیل
کے تراجم کا ذکر۔ اس کے بعد غیر ثقہ راویوں سے روایت کرنے کا نقصان، صالحین سے
غفلت اور دروغ ہے:
میں ان لوگوں کا تذکرہ کریں جن سے علم حاصل
کیا جا سکتا ہے اور جن سے نہیں کیا جا سکتا۔
مقدمہ کے بعد اصل
کتاب شروع ہوتی ہے جس میں ان تمام راویوں کا تذکرہ ہے جن پر کسی کا بھی کلام ہو
خواہ وہ قادح ہو یا غیر قادح اسی وجہ سے بہت سے ائمہ اور صحیحین کے رجال کا تذکرہ
بھی اس میں پایا جاتا ہے۔ چوں کہ وہ اس قسم کے سارے رجال کا تذکرہ کرنا چاہتے تھے
اس لیے جملہ متکلم فیہ راوی کتاب میں آ گئے ہیں بہت سے ایسے راوی جن پر قادحین کا
کلام معتبر نہیں ان راویوں کا دفاع بھی کیا ہے اور بتایا ہے کہ اس کتاب میں ذکر
کرنے کا مقصد ان پر عیب لگانا نہیں ہے ۔ امام ذہبی لکھتے ہیں
"يذكر في الكامل كل من
تكلم فيه بادنى شئ ولو كان من رجال الصحيحين لكنه ينتصر له اذا امكن ويروى في
الترجمة حديثا او احادیث ما استنكر للرجل وهو منصف في الرجال بحسب اجتهاده"
وہ اپنی کتاب 'الکامل' میں ہر اس راوی کا
ذکر کرتے ہیں جس پر ادنیٰ شی کی وجہ سے بھی کلام کیا گیا ہو اگر چہ وہ بخاری و
مسلم کے رجال ہی کیوں نہ ہوں لیکن وہ حسبِ امکان ان کی حمایت کرتے ہیں اور ترجمہ
میں اس سے ایک یا چند حدیثیں روایت کرتے ہیں۔
وہ اپنے اجتہاد کے مطابق رجال کے بارے میں
فیصلہ صادر کرتے ہیں۔
(سیر اعلام النبلاء، ج ۱۶ ص ۱۵۶۔ ۱۵۵)
کتاب حروفِ معجم
کی ترتیب پر مرتب کی گئی ہے۔ راوی کا نام، ولدیت نسبت کا ذکر کیا ہے اور ہر راوی
کے بارے میں اپنا واضح فیصلہ صادر کر دیا ہے جو بالعموم ہر راوی کے ترجمہ کے آخر
میں ہے اس فیصلے کا انتخاب متکلم فیہ راوی کی روایتوں کی چھان بین کے بعد کیا ہے
یہی وجہ ہے کہ آپ کے فیصلے عموماً معتدل ہیں۔ علماء نقد و نظر کے اقوال بھی اپنی
سند سے ذکر کیے ہیں۔ ہر راوی کے ترجمہ میں بطورِ مثال ایک یا چند ضعیف روایتوں کا
بھی ذکر کیا ہے۔ کثرتِ اخبار کی وجہ سے بعض تراجم طویل ہو گئے ہیں اور اسی بناء پر
اس کتاب میں ضعیف اور منکر روایتوں کا بہت بڑا ذخیرہ جمع ہو گیا ہے جو ایک اہم
مرجع کی حیثیت رکھتی ہے۔ ناموں کے ختم ہونے کے بعد آخر میں ان راویوں کا ذکر کیا
ہے جو کنیت سے مشہور ہیں:
علماء حدیث نے اس
کتاب کو کافی پسند کیا ہے۔ چنانچہ حمزہ سہمی نے ایک بار امام دارقطنی سے درخواست
کی کہ ضعفاء پر ایک کتاب تحریر فرما دیں فرمانے لگے کیا تمہارے پاس ابن عدی کی
کتاب نہیں میں نے کہا کیوں نہیں میرے پاس ابن عدی کی کتاب موجود ہے فرمانے لگے
"فیہ
کفایۃ لا یزاد علیہ" بس یہی کتاب کافی ہے اس پر کسی اضافہ کی ضرورت
نہیں۔
(تذکرہ
ج ۳ ص ۱۴۳)
امام سبکی "و کتابہ الکامل طابق
اسمہ معناہ و وافق لفظہ فحواہ من عینہ انتجع المنتجعون و بشہادتہ حکم الحاکمون"
ان کی کتاب الکامل اسم با مسمّٰی ہے اس کے الفاظ کلام کے عین مطابق ہیں اسی چشمہ
سے لوگوں نے فائدہ حاصل کیا ہے اور انہیں کی شہادت سے فیصلہ کیا ہے۔
(طبقات
الشافعیہ ج ۲ ص ۲۳۳)
امام خلیلی: ضعفاء رجال میں ابن عدی کی جو
تالیف ہے اس طرح کی کوئی دوسری کتاب نہیں۔ (مقدمہ کامل
سامرائی ص ۷)
حافظ ذہبی: ابن عدی کی کتاب الکامل اس فن
کی سب سے زیادہ جامع اور عظیم کتاب ہے۔ (میزان الاعتدال ج ۱ ص ۲)
کتاب کی اہمیت کے پیش نظر ابن رومیہ اور
ابن طاہر نے ذیول لکھے ابن ایبک دمیاطی نے کتاب کا مختصر لکھا۔
وصال
۳۶۵ھ میں علم و فضل کا یہ روشن ستارہ
سرزمین جرجان میں ہمیشہ کے لیے غروب ہو گیا۔
نماز جنازہ
حافظ ابوبکر اسماعیلی نے پڑھائی اور جسد خاکی کو مسجد وزن کے بغل میں سپرد خاک
کر دیا گیا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
