امام ابوالفضائل رضی الدین حسن صغانی
نام: رضی
الدین
كنيت : ابوالفضائل
والد گرامی: محمد بن حسن
لقب : صغانی
ولادت :
آپ کی
ولادت ١۵ صفر المظفر ۵۷۷ھ میں آخری غزنوی
سلطان خسرو ملک (۵۵۵ھ تا ۵۸۲ھ مطابق ۱۱۶۰ء تا ۱۱۸۶ء) کے زمانہ لاہور میں
ہوئی۔
نسب :
رضی
الدین ابو الفضائل حسين بن محمد بن حسن بن حیدر بن علی العدوی العمری الصغانی ہے
اوپر جا کر آپ کا نسب نامہ حضرت فاروقِ اعظم عمر بن خطاب
رضی اللہ عنہ سے مل جاتا ہے، اسی لئے آپ کا خاندان عمری کہلاتا ہے۔ آپ کا آبائی
وطن صغان ہے جو چغان کا معرب ہے اور وہ علاقہ ماوراء النہر کا ایک شہر ہے۔
ہندوستان میں
دولتِ علم سے بہرہ مند ہونے والے بیشمار ایسے اشخاص ہیں جنہوں نے ہندوستان کی
سرحدوں سے نکل کر عراق، عرب، شام اور مصر جیسے علمی مرکزوں میں جا کر اپنی علمی
عظمتوں کا سکہ بٹھایا اور علمِ حدیث کو فیض پہنچایا۔ ایسے ہی برگزیدہ اور عالی
مرتبت علمائے حدیث میں حضرت امام صغانی بھی ہیں جنہوں نے حدودِ ہند سے دور عراق و
عرب کے علاقوں میں جا کر تشنگانِ علم کو سیراب کیا اور وہ اہم کارنامے انجام دیئے
جو اسلامی علوم و فنون کے خزانے میں بیش بہا سرمایہ ہیں۔
غزنویوں
کے دورِ آخر میں آپ کا خاندان دارالسلطنت لاہور منتقل ہوا اور شاہانِ غزنی کی علم
پروری سے یہ خاندان مستفید ہوا۔
امام
صغانی کے مولد و منشا کے سلسلہ میں اربابِ علم کے بیانات حسبِ ذیل ہیں
(۱) خیر الدین زرکلی
الاعلام ج ۳ ص تذکرہ فرماتے ہیں ”ولد فی لاھور
(بالھند) و نشأ بغزنة و من بلاد السند و دخل بغداد ورحل الی الیمن و توفی فی بغداد،، وہ
ہندوستان کے شہر لاہور میں پیدا ہوئے اور علاقہ سندھ کے شہر غزنی میں پروان چڑھے
پھر بغداد گئے یمن کا سفر کیا اور بغداد میں وفات پائی۔
(۲) علامہ جلال الدین
سیوطی علیہ الرحمہ (۸۴۹ھ۔۹۱۱ھ) نے اپنی کتاب ”بغیۃ الوعاة فی
طبقات اللغویین والنحاة“ میں مشہور محدث و مورخ علامہ ذہبی علیہ الرحمہ (۶۷۳ھ۔۷۴۸ھ) کا قول نقل کیا
ہے ”قال
الذھبی ولد بمدینة لاھور سنة سبع و سبعین و خمس مائة و نشأ بغزنة ودخل بغداد،،۔
(۳) مولانا آزاد
بلگرامی لکھتے ہیں: ”ولادت او در لاہو پانزدہم صفر ٥٧٧ھ واقع شد۔ (مآثر الکرام ص ۱۸۱)
مذکورہ
بالا بیانات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ امام صغانی لاہور میں پیدا ہوئے ان کی
نشوونما غزنی میں ہوئی اور وہیں سے بغداد تشریف لے گئے۔ چنانچہ دورِ حاضر کے علماء
نے ان اقوال پر اعتماد کر کے عالیجناب عبدالحئی ندوی اور سلیمان ندوی نے بھی جائے
ولادت لاہور ہی لکھا ہے مگر ہندوستان کے ازمنہ وسطیٰ کی تاریخ کے زبردست ماہر پروفیسر
خلیق احمد نظامی اپنے ایک مضمون ”ہمارا اسلامی ہند کا دورِ اول“ میں شہرِ لاہور کی
مشہور علمی شخصیتوں کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:۔ ”مولانا رضی الدین صاحبِ مشارق
الانوار جن کے درس و تدریس کی پادشاہت بغداد و بخارا تک پھیلی ہوئی تھی اسی خاک سے
اٹھے تھے۔“
فرمودات
میں امام صغانی کے حالات ملتے ہیں)۔ "بعد ازاں از نسبتِ حدیث سخن در فضیلتِ
مولانا رضی الدین صغانی کہ صاحبِ مشارق است افتاد۔۔۔۔۔۔۔۔۔ بعد ازاں فرمود کہ او
از بداوں (بدایوں) بود۔ (فوائد الفواد ص ۱۸۱) تاریخی حیثیت سے
حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ کے قول پر اعتراض کیا جا سکتا ہے کہ
امام صغانی کی تاریخِ ولادت ۵۷۷ھ ہے جبکہ شمالی
ہند کے علاقوں میں اسلامی اقتدار کا پرچم شہاب الدین غوری نے ۵۸۸ھ میں نصب کیا اور اس کے جاں باز سپہ سالار قطب الدین ایبک
نے فتوحات کے دائرہ کو وسیع کیا تو کیسے باور کیا جا سکتا ہے کہ بدایوں میں ۵۸۸ھ سے قبل ہی مسلمان اقامت پذیر ہو چکے تھے جہاں ۵۷۷ھ میں امام صغانی پیدا ہوئے؟۔
صرف
غوری فتوحات کی بنیاد پر یہ اعتراض کوئی حیثیت نہیں رکھتا کیوں کہ محمد بن قاسم
فاتحِ سندھ کی فتوحات سے قبل بھی جنوبی ہند کے ساحلی علاقوں میں مسلمانوں کی
تاجروں کے روپ میں آمد تاریخوں سے ملتا ہے اور جب سندھ ملتان اور بعد میں پنجاب کے
عہدِ غزنوی میں اسلامی حکومت قائم ہوئی عربی، عراقی، شامی اور ایرانی مسلمانوں نے
ان علاقوں کو اپنا مسکن بنایا تو انہوں نے سندھ و پنجاب کی سرحدوں سے نکل کر شمالی
ہند کے مختلف علاقوں میں بھی آبادیاں قائم کیں۔ چنانچہ اسی قسم کی ایک مسلم بستی
کے بارے میں ڈاکٹر اے۔ ایس بزمی انصاری نے اپنی انگریزی کتاب "تاریخِ
فتوح" میں لکھا ہے۔
"غوری حملوں سے پہلے شمالی ہندوستان کا
سب سے مشہور شہر قنوج تھا وہاں مسلمانوں کی ایک اچھی خاصی بستی تھی"
انہیں
میں بدایوں کی بھی مسلم بستی تھی جہاں پنجاب سے آ کر مسلمان آباد ہوئے تھے حضرت
خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ جن کی تاریخِ ولادت ۶۳٤ھ ہے ان کا خاندان بھی لاہور سے آ کر آباد ہوا
تھا اس سرزمین کو حضرت خواجہ کے مولد بننے کا شرف حاصل ہوا۔ امام صغانی کے والدِ
بزرگوار نے بھی لاہور سے آ کر بدایوں میں قیام کیا جہاں صغانی تولد ہوئے۔
دوسری
بات جو اس سلسلے میں کہی جا سکتی ہے وہ یہ ہے کہ امام صغانی کے تذکرہ نویسوں نے متفقہ
طور پر انہیں لاہوری لکھا ہے جب کہ ان تذکرہ نگاروں میں علامہ ذہبی، علامہ سیوطی
اور خیر الدین زرکلی جیسے شہرۂ آفاق علماء تھے کیا حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء
کے قول کو ان سارے اقوال پر ترجیح دی جا سکتی ہے؟ اس سلسلے میں ہم یہ کہنے میں حق
بجانب ہیں کہ وہ ملاءِ استقامتِ عالمِ اسلام کی مستند ہستیاں ہونے کے باوجود صغانی
کی ہم وطن نہیں تھیں اسی لیے انہوں نے صغانی کے ابتدائی حالات کے بارے میں حافظہ
کا سہارا عمومی اعتباری سے ہے۔ اس کے برعکس حضرت خواجہ كو صغاني کی ہم وطنی کا شرف بھی حاصل ہے اور انہوں نے
صغانی کے ابتدائی حالات کے سلسلے میں جو معلومات فراہم کی ہیں وہ کسی کے یہاں نہیں
ہیں۔ اس بناء پر حضرت خواجہ کے قول کو ان علماء کے متفقہ اقوال پر ترجیح دی جا سکتی
ہے۔
دوسری
وجہِ ترجیح یہ ہے کہ مندرجہ بالا تذکرہ نویسوں میں حضرت امام ذہبی علیہ الرحمہ کی
شخصیت سب سے مقدم ہے جن کی ولادت ٦٧٣ھ یعنی صغانی کی
وفات ۶۵۰ھ کے ۳۲ سال بعد ہوئی
اور حضرت خواجہ کی ولادت صغانی کی زمانۂ حیات ہی میں یعنی ۶۳٤ھ میں
ہوئی ہے۔ ظاہر ہے حضرت خواجہ نے جن بزرگوں سے صغانی کے حالات سماع فرمائے ہوں گے
انہوں نے صغانی کو ضرور دیکھا ہو گا اور ان کے تازہ حالات و کوائف سے حضرت خواجہ
کو واقف کیا ہو گا۔ خود خواجہ نے حضرت مولانا کمال الدین زاہد علیہ الرحمہ سے
مشارق الانوار پڑھی جو صغانی کے ارشد تلامذہ میں تھے۔ حضرت علامہ ذہبی نے جن لوگوں
سے صغانی کے حالات سنے ہوں گے وہ اولاً تو غیر ہندی رہے ہوں گے۔ دوم یہ کہ ان
لوگوں کو صغانی کے ابتدائی حالات کا علمی علم نہ رہا ہو گا صرف اس بنیاد پر کہ وہ
ہندوستان سے عراق گئے تھے اور ظاہر ہے لاہور اور غزنیں کی راہ سے گئے ہوں گے انہیں
لاہوری قرار دے دیا۔ حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء جو نقیبِ اسرارِ صاحبِ کشف و
کرامات ولی ہونے کے ساتھ ساتھ زبردست عالمِ دین بھی تھے اس لیے صغانی کے بدایونی
ہونے کے سلسلے میں ان کے قول کو ترجیح دی جا سکتی ہے۔
تعلیم:
امام
صغانی نے سنِ رشد کو پہونچنے کے بعد اپنے والدِ بزرگوار سے تعلیم حاصل کی جس کی
نسبت صاحبِ نزھۃ الخواطر نے لکھا ہے "فقراء متن مروج
و مبلّغ رشده اخذ العلوم عن والده" (ج ۱ ص ۱۰۵)
بدایوں کا ایک اور استاذ کا تذکرہ فوائد الفواد میں ملتا
ہے جن کے پاس حدیث کا ایک مجموعۂ علم بھی تھا جسے صغانی نے ان کا ہم درس بن کر
پڑھا یا حاصل کیا تھا۔
"آنچہ در بدایوں بود و او را آنجا استاذى
بود ه است مردِ بزرگ صاحبِ نعمت وولایت و بروئے کتابے بود در حديث کہ آنرا ملخص گویند مولانا رضی الدین آں نسخہ را
از طلب نمودہ بود اورا در آداۓآں مطابقت نموده بود" بدایوں میں ان کے ایک استاذ
بزرگ صاحبِ نعمت وولایت تھے ان کے پاس حدیث میں ایک کتاب تھی جس کا نام "ملخص"
تھا مولانا رضی الدین نے ان سے وہ نسخہ طلب کیا تھا اور انہوں نے اسے دینے میں
تامل کیا تھا۔" (فوائد الفؤاد، ص ۱۸۱)
ہندوستان
کے علاوہ امام صغانی نے اسلامی بلاد و امصار کے اعلیٰ علمی مراکز سے بھی اکتسابِ فیض
کیا اور ان کی ذاتی صلاحیتوں نے اسلامی علوم و فنون میں ان کے رتبے علمی کو اتنا
بلند کر دیا کہ اس زمانہ کے سب سے بڑے علمی مرکز میں ان کی شخصیت دیگر علماء کی صف
میں نمایاں ہو گئی۔
شیوخ واساتذہ:
والد
گرامی محمد بن حسن، ابو منصور سعید بن محمد رزاقہ، برہان الدین ابوالفتح نصر بن ابی
الفرج ،محمد بن علی مصری، قاضی ابواسحاق ابراہیم بن احمد قرمطی، قاضی سعد الدین
خلف بن محمد کر دری، محمد بن حسن مرغینانی، نظام الدین عمر بن علی۔
ملازمت:
بھائیوں
سے حصولِ علم کے بعد آپ نے نائب مشرفی کی ملازمت اختیار کی۔
شیخ
نظام الدین فرماتے ہیں "وہ بدایوں کے تھے۔ وہاں سے کول (علی گڑھ) آئے اور
نائب مشرف مقرر ہوئے مولانا کا تقرر جس مشرف کے ساتھ ہوا تھا وہ بھی اہل تھا لیکن
ایک دن اس مشرف نے کوئی ایسی بات کہی کہ مولانا رضی الدین نے قسم کھائی۔ مشرف نے
(غصہ میں) دوات ان کی طرف پھینک دی آپ کھڑے ہوئے اور روشنائی ان پر نہ پہونچی۔ جب
آپ نے مشرف کی ناشائستہ حرکت دیکھی وہاں سے اٹھے اور کہا کہ اب ہمیں ایسے جاہلوں
کے ساتھ نشست و برخاست نہیں کرنی چاہئے اس کے بعد آپ نے اپنے علم میں اضافہ کی
کوشش کی (اور اس زمانہ میں) کول کے گورنر کے بیٹے کو تعلیم دیتے (جس کے معاوضہ میں)
سوتنکہ پاتے اور اسی پر قناعت کرتے"۔ (ایضاً)
ترکِ وطن اور سفرِ حج:
امام
صغانی نے سفرِ حج کے ارادہ سے ہندوستان کو ترک کیا اور کول سے پیادہ پا نکل پڑے
خواجہ نظام الدین اولیاء علیہ الرحمہ نے پا پیادہ سفر کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا
ہے۔
"جب کول سے حج کا ارادہ کیا جوتوں کا ایک
جوڑا خرید اور پیدل تابہ ایک منزل طے کی تھک گئے ان کو یقین ہو گیا کہ پیدل سفر نہیں
کر سکتے اسی خیال میں تھے کہ والی کول کا لڑکا گھوڑے پر سوار ہو کر دوڑتا ہوا آیا
تا کہ آپ کو واپس لے جائے جب وہ وہاں پہونچا اور مولانا کی نظر اس پر پڑی اور دیکھا
کہ ایک اچھے گھوڑے پر سوار ہو کر آرہا ہے تو آپ نے دل میں سوچا اگر یہ گھوڑا مجھے
دے دے تو میں آرام سے سفر کر سکتا ہوں اسی فکر میں تھے کہ والی کا بیٹا آ گیا اور
مولانا کو واپس لے جانے پر بہت اصرار کیا۔ جب والی کے بیٹے نے دیکھا کہ مولانا کسی
طرح واپس جانے پر آمادہ نہیں ہیں تو عرض کیا اس گھوڑے کو قبول فرما لیجئے مولانا
نے گھوڑا لے لیا اور سفر پر روانہ ہو گئے۔" (ایضاً)
مولانا
کے اس سفر کا مقصد جہاں حرمین شریفین کی زیارت سے قلب و نظر کو منور کرنا تھا وہیں
بلاد اسلامیہ کی مقتدر علمی شخصیتوں سے فیضیاب ہونے کا مبارک مقصد بھی ضرور رہا ہو
گا۔
یہ بات متحقق نہیں تاہم قرائن بتاتے ہیں
آپ نے
سفرِ حج کے لیے بحری راستہ کے بجائے خشکی کا راستہ اپنایا ہو گا کیوں کہ اس زمانہ
میں بحری سفر دشوار رہا ہو گا اور آپ لاہور کی راہ سے غزنی تشریف لے گئے ہوں گے جو
غزنویوں کے عہدِ حکومت میں علومِ اسلامی کا زبردست مرکز تھا۔ غزنویوں کی بساطِ
اقتدار الٹنے کے بعد بھی علما و محدثین کا مرکز بنا رہا۔ صاحب نزہۃ الخواطر نے
لکھا ہے کہ قطب الدین ایبک نے آپ کو لاہور کا عہدہ قضا سونپنا چاہا مگر آپ نے پسند
نہیں کیا اور غزنی چلے گئے جہاں درس وتدریس میں مشغول ہوئے اور وہاں سے عراق آئے
اور وہاں کے علاوہ علم حاصل کیا پھر وہاں سے مکہ معظمہ گئے جہاں حج کے بعد ایک مدت
تک حدیث کی سماعت فرمائی۔
قیام بغداد:
حرمین
شریفین کی زیارت اور وہاں کے علماء سے کما حقہ تحصیلِ علمِ حدیث کے بعد آپ عباسی
سلطنت کے پایہ تخت بغداد تشریف لائے اگر چہ یہ عباسی سلطنت کے زوال کا زمانہ تھا
اور بغداد کی علمی محفلوں کے چراغ بجھ رہے تھے تاہم ماضی کی پرکشش علمی یادیں اب
بھی اور بعض موجود تھیں جہاں اطراف و اکنافِ عالم سے تشنگانِ علم کو اپنی طرف کھینچ
رہی تھیں اور علماء بھی آخری علم دوست خلفاء کی فیاضیوں سے ہمکنار ہو کر بغداد کی
علمی فضا میں قیمتی لمحات علمی و دینی مشاغل میں صرف کرنے کے لیے آئے تھے۔
آمد ہند:
عباسی
خلیفہ کی بارگاہ میں رسائی نے آپ کی شان کو اور بھی بڑھا دیا۔ خلیفہ کی ارادت وعقیدت
آپ کے ساتھ بڑھ گئی چنانچہ اس نے علاقہ میں اپنا خصوصی ایلچی بنا کر سلطان شمس الدین
التمش کے پاس بھیجا۔ "وارسلہ بالرسالۃ الشریفۃ الی صاحب الہند شمس الدین الا
یلمش سنة سبع وعشر و ستمائة ..... الخ" (نزهة الخواطر ص ۱۰۵)
آپ دہلی اس شان سے آئے کہ علمائے دہلی دوسرے علوم میں آپ
کے ہم پلہ و ہمسر تو تھے علمِ حدیث میں آپ کا مرتبہ سب سے ارفع واعلیٰ تھا۔
تلامذہ :
شیخ
شرف الدین دمیاطی، نمام الدین محمودبن عمرہروی، محی الدین ابوالبقاء، صالح بن عبد الله بن جعفر بن علی بن
صالح اسدی کوفی، شیخ برہان الدین محمود بن ابی الخیر اسد البلخی، مولانا کمال الدین
زاہد، محمد بن احمد بطال، سلیمان بن بطال، منصور بن حسن، احمد بن علی سردوی، ابو
محمد سعدمسعود المنجوی، عز الدین الوزیرعلقمی۔
تصانیف:
رضی
الدین صغانی نے مختلف علوم و فنون میں گراں قدر کتابیں تصنیف کیں جو کمیت و کیفیت
ہر لحاظ سے کافی اہمیت رکھتی ہیں اور اہلِ نظر کی آنکھوں کا سرمہ ہیں۔
ان کی معلوم کتابوں کی فہرست یہ ہے۔
(۱) اسماء الاسد
(۲) اسماء الذئب
(۳) اسماء الفارہ
(۴) بغية الصدیان
(۵) التجريد وجمل
صغانی
(۶) تعزیر بیتی
الحریری
(۷) الشمس المنیرة من الصحاح الماثورة
(٨)شرح البخاري
(۹) كتاب الشوارد
(۱۰) الفعال
(۱۱) لفعلان
(۱۲) كتاب الاثر
(۱۳) كتاب اسماء الدین
(۱۵) كتاب اسماء
السعادة
(۱۶) كتاب الاضداد
(۱۷) كتاب التكملة
(۱۸) كتاب التراکیب
(۱۹) كتاب الانفال
(۲۰) كتاب الافتعال
(۲۱) كشف الحجاب عن
احادیث الشہاب
(۲۲) مجمع البحرین
(۲۳) مصباح الدجی من
صحاح احادیث المصطفٰی
(۲۴) موضوعات امام حسن صغانی
(۲۵) النوادر فی اللغۃ
(۲٦) مشارق الانوار
النبویۃ من صحاح الاخبار المصطفویۃ۔
وصال:
ہندوستان
سے واپسی کے بعد بغداد ہی میں مستقل قیام رہا اور ۶٥٠ھ مطابق ۱۲۵٢ء میں یہ آفتابِ علم و فن غروب ہو گیا۔
سارے بغداد نے آپ کے وصال کا غم محسوس کیا ۔
وفات
کے بارے میں یہ واقعہ بیان کیا جاتا ہے کہ ان کے ساتھ کوئی نجومی تھا جس نے آپ کی
وفات کے متعلق پیشین گوئی کی تھی۔ جب وہ دن آیا تو تمام موصوف بالکل تندرست تھے
انہوں نے شکرانہ میں احباب و شاگردوں کی دعوت کی تھی لیکن ابھی لوگ دعوت سے فراغت
کے بعد تھوڑی دور گئے تھے کہ ایک شخص نے آ کر امام صنعانی کی موت کی اطلاع دی۔
حرمِ فاہر
ی میں آپ کو دفن کیا گیا۔ ان کی خواہش تھی کہ انہیں مکہ معظمہ کی پاک سرزمین میں
دفن کیا جائے حتیٰ کہ مکہ مکرمہ لے جا کر دفن کرنے والے کے لیے آپ نے پچاس دینار
معاوضہ کی وصیت کی تھی۔ کسی شخص نے معاوضہ لے کر آپ کے جسدِ خاکی کو مکہ مکرمہ لے
جا کر دفن کر دیا۔
ماخذ مراجع:محدثین عظام حیات و خدمات
