ابو
الخطاب محفوظ بن أحمد بن الحسن الكلوذانی
نام : محفوظ
کنیت : ابو الخطاب
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 2 شوال 432ھ، بغدادمیں ہوئی۔
سلسلہ نسب:
أبو الخطاب محفوظ بن أحمد بن الحسن بن
أحمد الأزجی البغدادی الكلوذانی الحنبلی۔ کلوذانی" کی نسبت کلواذیٰ (بغداد کے
نواحی علاقے) کی طرف ہے۔
پانچویں صدی ہجری کے عظیم حنبلی فقیہ، اصولی،
محدث اور شیخ الحنابلہ تھے۔ ان کا شمار اپنے زمانے کے اکابر ائمہ میں ہوتا ہے۔
علمی مقام
اپنے زمانے کے شیخ
الحنابلہ اور امام الحنابلہ کہلاتے تھے۔قاضی ابو یعلیٰ ابن الفراءؒ کے ممتاز ترین
شاگردوں میں شمار ہوتے تھے۔
فقہ، اصولِ فقہ، فرائض،
حدیث اور مناظرہ میں یدِ طولیٰ رکھتے تھے۔
ان کے مشہور اساتذہ میں:
· القاضي أبو
يعلى محمد بن الحسين ابن الفراء الحنبلي (سب سے نمایاں استاد)
· أبو طالب
محمد بن علي العشاري
· أبو محمد
الحسن بن علي الجوهري
· أبو علي
محمد بن الحسين الجازري
· أبو عبد
الله الدامغاني
تلامذہ
کتبِ تراجم میں ان کے
درج ذیل شاگردوں کا ذکر ملتا ہے:
· ابن ناصر
السلامي
· أبو طاهر
السلفي
· أبو المعمر
الأنصاري
· المبارك بن
خضير
· أبو الكرم
ابن الغسال
· شیخ
عبدالقادر جیلانی
شیخ عبدالقادر جیلانیؒ (470–561ھ) نے
بغداد میں حنبلی فقہ کی تعلیم حاصل کی۔ متعدد تراجم میں ابو الخطاب الکلوذانیؒ کو
ان اکابر حنبلی علماء میں شمار کیا گیا ہے جن سے شیخ عبدالقادر جیلانیؒ نے فقہ و
اصول کے علوم اخذ کیے یا جن کے علمی مکتب سے استفادہ کیا۔ زمانی اعتبار سے بھی ابو
الخطابؒ شیخ عبدالقادرؒ کے اساتذۂ طبقہ میں آتے ہیں۔
تصانیف
ان کی مشہور کتابیں:
· التمهيد في
أصول الفقه
· الهداية
على مذهب الإمام أحمد
· الانتصار
في المسائل الكبار
· رؤوس
المسائل
· التهذيب في
الفرائض
· عقيدة أهل
الأثر
امام ذہبیؒ نے فرمایا: ’’الشيخ الإمام، العلامة الورع، شيخ الحنابلة‘‘(یعنی: شیخ، امام، علامہ، نہایت متقی، اور حنابلہ
کے شیخ تھے۔
وصال :
23 جمادی الآخرہ 510ھ (1116ء)، بغدادمیں
ہوا ۔
تدفین:
آپ کی تدفین بغداد کے شہر امام احمد
بن حنبل کے قریب کی گئی ۔

