ابوالوفاء
علی بن عقیل الحنبلی
نام : ابوالوفاء علی
ولادت:
آپ کی ولادت باسعادت 431ھ مطابق 1040ء کے قریب بغداد میں پیدا ہوئے۔
سلسلہ نسب:
ابوالوفاء، علی بن عقیل بن محمد بن عقیل البغدادی الحنبلی (أبو الوفاء علي
بن عقيل البغدادي الحنبلي)
علمی مقام:
ابن عقیل اپنے زمانے کے جلیل القدر فقیہ، متکلم، اصولی، مفسر، ادیب اور
واعظ تھے۔ انہیں حنبلی فقہ کے اکابر علماء میں شمار کیا جاتا ہے۔ ان کی ذہانت،
وسعتِ مطالعہ اور کثرتِ تصنیف مشہور ہے۔
اساتذہ
· ان کے
مشہور اساتذہ میں شامل ہیں:
· ابو یعلیٰ
محمد بن حسین الفراء الحنبلی
· ابو الخطاب
محفوظ بن احمد الکلوذانی
· ابو محمد
التمیمی
· متعدد محدثین
و فقہاء بغداد
تلامذہ
ان سے استفادہ کرنے
والوں میں:
· ابو بکر
ابن الزاغونی
· ابو الوفاء
ابن عقیل کے متعدد فقہی و علمی شاگرد
ان کے علمی آثار سے بعد
کے حنبلی ائمہ نے بہت فائدہ اٹھایا
تصانیف
ابن عقیل کی تصانیف بہت
زیادہ تھیں۔ مشہور کتابیں:
· الفنون ۔ ان کی عظیم اور ضخیم ترین تصنیف، جس کے بارے میں
کہا جاتا ہے کہ یہ سینکڑوں جلدوں پر مشتمل تھی۔
· الواضح في
أصول الفقه
· الجدل
· الفصول
· اصول، فقہ،
کلام اور ادب پر متعدد رسائل
علمی خدمات
حنبلی فقہ اور اصولِ
فقہ کی تدوین و تشریح میں نمایاں کردار ادا کیا۔بغداد میں تدریس، وعظ اور تصنیف کے
ذریعے علمی خدمات انجام دیں۔ان کی کتاب الفنون اسلامی علمی تاریخ کی عظیم ترین تالیفات
میں شمار کی جاتی ہے۔
ائمہ کی آراء
ابن عقیل الحنبلی کے بارے میں حافظ ذہبیؒ نے انہیں اپنے زمانے کے بڑے ائمہ،
صاحبِ فنون اور کثیر التصنیف عالم قرار دیا ہے، جبکہ ابن رجب حنبلیؒ نے انہیں حنبلی
فقہ کے اکابر علماء میں شمار کیا ہے۔
مزار
ابوالوفاء ابن عقیلؒ کا مدفن بغداد، عراق میں واقع تھا۔ قدیم مصادر میں ان
کی تدفین بغداد کے قبرستانوں میں مذکور ہے، تاہم موجودہ دور میں ان کے مزار کی
مستقل اور متعین زیارت گاہ کی شہرت و تصدیق دستیاب نہیں ہے۔
وصال :
12 جمادی الاولٰی 513ھ / 1119ء میں بغداد میں وفات
پائی۔
ماخذ مراجع: سیر أعلام النبلاء للذہبی/طبقات الحنابلۃ لابن
رجب/المنتظم لابن الجوزی
