امام ابو عوانہ یعقوب بن اسحاق
اسفرائنی
نام : یعقوب
کنیت: ابو
عوانہ
لقب : اسفرائنی
نسب :
یعقوب بن اسحاق بن
ابراہیم بن یزید
اسفرائین نیشاپور
کے قریب ایک نہایت شاداب و آباد شہر تھا جیسے زمانہ قدیم میں مہر جان کے نام سے
یاد کیا جاتا تھا یہ شہر مسلمانوں کے دورِ عروج و اقبال میں علماء و فضلاء کا مرکز
تھا۔ امام عمر بن صفار نے اسفرائین کے بابِ نیشاپور کے قریب استاذ ابو اسحاق کے
قبر کے اردگرد دیکھ کر فرمایا:
"قد قيل ههنا من
الائمة والفقهاء على مذهب الامام الشافعي رضي الله عنه اربعون اماماً كل واحد منهم
لو تصرف في المذهب وافتى برأيه واجتهاده يعني على مذهب الامام الشافعي لكان حقيقاً
بذلك"
کہا جاتا ہے کہ اس مقام پر مذہب شافعیہ کے چالیس ایسے ائمہ و فقہاء مدفون ہیں جن
میں سے ہر ایک فقیہ اس مرتبہ کا تھا کہ اگر وہ اپنی رائے اور اجتہاد سے فتویٰ دیتا
یعنی امام شافعی کے مذہب پر تو وہ اس کا مستحق تھا۔ امام ابو عوانہ اسی مردم خیز
شہر کے باشندے تھے۔ (وفیات
الاعیان ج ۳ ص ۳۹۶)
تحصیل علم:
ابو عوانہ نے جس
شہر میں آنکھ کھولی وہ علم و فضل کا مرکز تھا فطری ذہانت، قلبی شوق اور جدوجہد کی
صلاحیت نے ابو عوانہ کو حدیث وفقه میں اونچے مقام تک پہونچا دیا۔ طلبِ حدیث کے لیے
وہ صرف اسفرائین اور نیشاپور ہی تک محدود نہیں رہے بلکہ ذخیرۂ حدیث کی طلب میں
اسلامی بلاد و امصار کا چپہ چپہ چھان مارا۔ تحصیلِ علم کے لیے رحلت و سفر کی کثرت
اور اسفار کی مشقت میں شاید ہی کوئی محدث ان کی ہمسری کر سکے۔ ابو عبداللہ حاکم
فرماتے ہیں:
"ابو عوانة من علماء
الحديث واثباتهم ومن الرحالة في اقطار الارض لطلب الحديث" علامہ
سیوطی لکھتے ہیں کہ انہوں نے کتابتِ حدیث کے لیے روئے زمین کا گوشہ گوشہ چھان
ڈالا۔ (ایضاً)
حافظ ذہبی لکھتے
ہیں: "طوف
الدنيا ووعى بهذا الشان" آپ نے طلبِ علم کے لیے دنیا کا کونہ
کونہ چھان مارا اور اس فن کو کمال توجہ کے ساتھ حاصل کیا۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۳ ص ۲)
اربابِ سیر و
تذکرہ کی تصریحات کے مطابق انہوں نے حصولِ علم کے لیے خراسان، عراق، یمن، حجاز،
شام، جزیرہ، فارس، اصفہان، ثغور، رے، واسط، بصرہ اور کوفہ وغیرہ مختلف ملکوں اور
شہروں کا سفر کیا۔ اور وہاں کے اساطینِ علم سے علم حاصل کر کے اپنے دامن کو مالا
مال کر لیا۔
اساتذہ:
یونس بن
عبدالاعلیٰ، احمد بن ازہرزعفرانی، علی بن حرب، عمر بن شبہ، محمد بن یحییٰ ذُہلی،
علی بن اشکاب (تذکرہ
ج ۳ ص ۲) یزید
بن محمد بن عبدالصمد، اسماعیل بن محمد بن ابی طاہر، شعیب بن شعیب بن اسحاق، مزنی،
ربیع بن سلیمان، محمد بن عبدالحکیم، سعدان بن نصر، حسن زعفرانی، مسلم بن حجاج،
محمد بن رجاء سِندھی۔ (وفیات
الاعیان ج ۳ ص ۳۹۶)
ابو حاتم، ابو
زرعہ، احمد بن سعید دارمی، یعقوب بن سفیان وغیرہ۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۲ ص ۴۰)
علم و فضل:
امام ابو عوانہ نے
قوتِ حفظ و ضبط اور بے پایاں ذوق و جستجوئے علم سے اپنے سینے میں علمِ دین کا بہت
بڑا خزانہ جمع کر لیا تھا۔ آپ کی علمی جلالت، حفظ و ضبط اور عدالت و ثقاہت پر
علماء فن اور اربابِ سیر کا اتفاق ہے لوگوں نے آپ کو الحافظ الکبیر
الجلیل، احد الحفاظ، احد حفاظ الدنيا اور من اکابر حفاظ الحدیث لکھا
ہے۔
حافظ ذہبی: "ابو عوانة الحافظ
الثقة الكبير"
بہت بڑے حافظِ حدیث ہیں سب محدثین کے نزدیک قابلِ اعتماد ہیں۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۲)
ابنِ خلکان: "کان ابو
عوانة احد الحفاظ الجوالين والمحدثين المكثرين" ابو عوانہ
ان حفاظ اور محدثین میں تھے جنہوں نے بڑے سفر کیے اور بکثرت حدیثیں جمع کیں۔ (وفیات
الاعیان ج ۳ ص ۳۹۶)
فقہ واجتہاد:
حدیث کے علاوہ
امام ابو عوانہ فقہ میں بھی امتیازی شان رکھتے تھے انہوں نے مصر جا کر امام شافعی
کے ارشد تلامذہ مزنی اور ربیع سے فقہ شافعی کی تعلیم حاصل کی اور جب اسفرائین لوٹے
تو وہاں فقہ شافعی کو خوب روج دیا۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں۔ "وکان ھو
اول من ادخل کتب الشافعی ومذھبہ الی اسفرائین" آپ پہلے
شخص ہیں جنہوں نے امام شافعی کا مذہب اسفرائین میں رائج کیا اور ان کی کتابوں کی
نشر واشاعت کی۔ (تذکرہ ج۳
ص۳)
تلامذہ :
احمد بن علی رازی،
ابوعلی نیشاپوری، یحییٰ بن منصور، ابن عدی، طبرانی، اسماعیلی، حسینک، ابو مصعب
محمد بن ابی عوانہ، ابو نعیم، عبد الملک بن حسن اسفرائنی۔ (تذکرہ
ج۳ ص۲) ابو
احمد بن علی، محمد بن یعقوب بن اسماعیل، ابوالولید۔
(وفیات جلد ۳
صفحہ ۳۹۶)
صحیح ابو عوانہ:
صحیح ابو عوانہ
علمِ حدیث میں آپ کی مشہور کتاب ہے جو صحیح مسلم پر مستخرج ہے۔ شاہ عبدالعزیز صاحب
لکھتے ہیں: یہ صحیح مسلم پر مستخرج ہے۔ اصطلاحِ محدثین میں مستخرج اس کو کہتے ہیں
جو کسی دوسری کتاب کی حدیثوں سے ثابت کیا جائے اور ترتیب اور متون اور طرقِ اسانید
میں اسی کتاب کے طریق کو ملحوظ رکھے اور اپنی سند کو اسی طریق سے بیان کرے کہ اس
کتاب کا مصنف درمیان میں نہ رہے۔ جس پر یہ مستخرج ہے بلکہ اپنے واسطے کو اس کتاب
کے مصنف کے شیخ یا شیخ الشیخ یا شیخ شیخ الشیخ یا اور اوپر تک بیان کرے اور جب اس
طرز پر دوسرے طریق سے بھی یہ روایت ثابت ہوتو اس کتاب کے مصنف کی روایت پر زیادہ
وثوق اور اعتبار ہو جاتا ہے لیکن اس مستخرج کو صحیح اس سبب سے کہتے ہیں کہ مسلم کے
طرق واسانید کے علاوہ مزید طرق واسانید کا بھی اس میں اضافہ کر دیا ہے بلکہ قدرے
قلیل متون میں بھی زیادتی کی ہے پس گویا یہ ایک مستقل کتاب ہوگئی۔ (بستان المحدثین ص
۶۱)
مستخرج ابو عوانہ کی خصوصیات حسبِ ذیل ہیں:
·
صحیح مسلم پر مستخرج ہونے کے باوجود اس میں بعض اہم اضافے بھی ہیں۔
·
مختلف اسانید اور متعدد احادیث تحویلِ نظائر و شواہد کے ساتھ درج کئے ہیں اور
اختلافِ متن کی بحث بھی کی ہے ۔
·
احادیث کے معنی کی صحیح تعبیر اور بلیغ تشریح بھی کی ہے۔
·
ابوابِ فقہ پر ترتیبِ احادیث کے باوجود انہوں نے مختلف فصلیں بھی قائم کی ہیں۔
وصال:
آبائی وطن
اسفرائین میں ۳۱۶ھ میں اس جلیل القدر محدث نے وفات پائی ۔
مزارِ پر انوار
بابِ نیشاپور کے شہر قریب میں دفن کئے گئے۔
مزارِ پر انوار گاہِ خلائق ہے۔ عمر بن صفار اسفرائنی کہتے ہیں۔
قبر ابی عوانة باسفرائین مزار العالم وم تبرک
الخلق۔ (وفیات الاعیان ج ۳ ص ۳۹۶)
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
