امام ابو بکراحمد خطیب بغدادی
نام : احمد
کنیت: ابو بکر
القاب : خطیب محدث الشام والعراق
ولادت
آپ کی ولادت 30 جمادی الآخر ۳۹۲ھ
بروز جمعرات بغداد کے قریب ایک گاؤں درزیجان میں ہوئی جہاں آپ کے والد خطیب تھے
نسب:
احمد بن علی بن
ثابت بن احمد بن مہدی بن ثابت۔
وطن عروس البلاد
بغداد ہے انہوں نے علامہ کتانی سے قرآن پڑھا تھا اور انہیں سے حدیث کا سماع بھی کیا
تھا وہ اپنے فرزند احمد کو اعلیٰ تعلیم دلانا چاہتے تھے چنانچہ انہوں نے پہلے آپ
کو قرآن حفظ کرایا۔ گیارہ سال کی عمر میں درسِ حدیث شروع کرایا۔ اس کے ساتھ ساتھ
قاضی ابو الطیب طبری، ابو الحسن محاملی جیسے ماہرینِ فقہ سے فقہ شافعیہ کا درس بھی
جاری رکھا۔ تقریباً چودہ سال تک فقہ کی طرف زیادہ توجہ رہی یہاں تک کہ آپ اس میں
ماہر اور شہرت یافتہ ہو گئے۔ اس کے بعد پوری توجہ تحصیلِ حدیث کی طرف مبذول کر لی
"ابنِ خلکان لکھتے ہیں" کان فقیھاً فغلب علیہ الحدیث والتاریخ"
وہ فقیہ تھے پھر ان پر حدیث اور تاریخ کا غلبہ ہوا۔ (وفیات الاعیان ج۱، ص۵۴) بیس
سال کی عمر تک بغداد کے علماء ومحدثین سے کسبِ علم کرتے رہے۔ علم کی حرص اور شوق
انہیں اسلامی بلاد و امصار میں پھراتا رہا۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں "ثم الہم
طلب ھذا الشان ورحل فیہ الی الاقالیم وبرع" وہ مختلف
ممالک کے مراکز کی طرف روانہ ہوئے اور علوم سے اپنے قلب و دماغ کو منور کیا۔ (تذکرہ
الحفاظ ج۳، ص۳۱۲) انہوں
نے نیشاپور، کوفہ، بصرہ، اصفہان، دینور، ہمدان، رے، مکہ، مدینہ، دمشق، قدس صور کا
دور دراز سفر کیا اور ان شہروں کے علاوہ محدثین سے کسب فیض کیا۔
خطیب کو طلب علم کا شوق اس حد تک تھا کہ وہ
راہ چلتے ہوئے بھی کسی نہ کسی کتاب کے جزء کو پڑھتے جاتے۔
(تذکرہ
ج ۳ ص ۳۱۳ بستان
المحدثین ص ۱۱۷)
آپ انتہائی تیز
رفتاری و بلند آواز سے پڑھتے تھے یہاں تک کہ آپ کی آواز جامع دمشق کے آخری کونے تک
پہنچتی تھی۔ طلب علم کا شوق اس قدر غالب تھا کہ صرف تین مجلسوں میں پوری بخاری شریف
کا درس لیا۔
ایک مرتبہ احمد بن
اسماعیل الضریر کا بغداد سے ہوا جن کو نیشاپور جانا تھا ۔ آپ کو ان سے صحیح بخاری
پڑھنا تھا جس کو آپ نے صرف تین مجلسوں میں پڑھ لیا۔ پہلی مجلس مغرب سے فجر تک چلی۔
لیکن کتاب مکمل نہ ہوئی اور ان کی واپسی کا وقت آگیا۔ وہ بغداد سے روانہ ہوئے تو
خطیب بھی ہم رکاب ہو گئے۔ محدث احمد نے جزءہ میں قیام کیا تو چاشت سے لے کر مغرب
تک اور پھر مغرب سے لے کر فجر تک صحیح بخاری پڑھ کر کتاب مکمل کی ۔ ( تاریخ
بغداد ج ۶ص ۳۱۴)
شیوخ و اساتذہ
ابو الحسن بن صلت
اہوازی ، ابو عمر بن مہدی ، ابو الحسین متیم ، حسین بن حسن جوالیقی ، ابن رزقویہ ،
ابن ابی الفوارس ، ہلال حفار ، ابراہیم بن مخلدباخرحی ، ابو عمرقاسم بن جعفر ہاشمی
، علی بن قاسم عبدالرحمن بن محمد سراج ، قاضی ابو بکر حیری ، ابو الحسن بن عبدویہ
محمد بن عبداللہ بن شہریار ، حافظ ابو نعیم ، محمد بن عیسیٰ ۔ (
تذکرہ ج ۳ ص ۳۱۳) ابو
نصر احمد بن حسین کسار ، ابو حازم عبدوی ، ابو سعید مالینی ، ابو الحسن بن بشران ۔
علم وفضل
حافظ کبیر امام احمدبن
علی خطیب بغدادی نے جس شوقِ بیکراں اور انہماک سے طلب علم کی راہ میں قدم رکھا اور
اپنے وقت کے مشاہیر اساتذہ و شیوخ کی بارگاہوں سے کسب فیض کیا اور رحلت و سفر کی
سختیاں علمی شہ پاروں کو جمع کرنے کے لیے برداشت کیں وہ اپنے زمانہ میں نہ صرف
بغداد بلکہ پوری دنیائے اسلام کے ممتاز علماء کی صف اول میں شامل ہو گئے اور ان کے
عالمانہ فضل و کمال کا ڈنکا چار دانگ عالم میں بجنے لگا ان کے جذبہ تحصیل علم کا
اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ مکہ معظمہ میں صحیح بخاری کو کریمہ (بنت احمد المروز یہ ستی) سے صرف پانچ دن میں
مسلم کی اور عبدالرحمن اسمٰعیل احمد جریر حیری کی خدمت میں صرف تین مجلسوں میں صحیح
بخاری کو ختم کیا اور نماز فجر تک اس میں اس طرح صحیح بخاری کو ختم کیا کہ مغرب کے
وقت سے پڑھنا شروع کرتے اور نماز فجر تک پڑھتے رہے دو راتیں اسی طرح گزریں تیسرے
دن چاشت کے وقت سے مغرب تک اور مغرب کے وقت سے صبح تک پڑھا اور پوری صحیح بخاری
ختم کر ڈالی۔ حافظ ذہبی نے بیان کیا ہے کہ دماغ کی یہ قوت اور قرأت میں مہارت تو
نوادرات میں سے ہے۔ (بستان المحدثین ص ۱۱۷)
حدیث اور اس سے
متعلق فنون کے علاوہ فقہ، تاریخ، قرأت، علوم القرآن، عربیت، شعر و سخن اور خطاطی میں
بھی بڑی مہارت رکھتے تھے۔ بڑے فصیح البیان خطیب تھے آواز اتنی بلند تھی کہ جامع
منصور میں حدیث بیان کرتے تو آخری کونے میں بھی سنائی دیتی تھی۔ حافظ ذہبی کہتے ہیں خطیب، امام، مصنف اور اپنے باکمال حافظ
حدیث تھے کہ ان کی نظیر نہیں ملتی تھی۔
"الخطيب امام مصنف
حافظ لم يدرك مثله" (تذكرة
الحفاظ ج۳ ص۳۱۴)
مؤرخین سابقی کہتے
ہیں: "ما
اخرجت بغداد بعد دار قطنی مثل الخطيب" "بغداد نے امام دار قطنی
کے بعد خطیب جیسا عالم پیدا نہیں کیا۔" (ایضاً ص ۳۱۴)
ابو علی بروانی کا
بیان ہے "لعل
الخطيب لم ير مثل نفسه" "خطیب نے اپنا مثل نہیں دیکھا۔
(ایضاً)
ابوسعد سمعانی بیان کرتے ہیں "کان
الخطيب مهيباً وفوراً ثقة متحرياً حسن الخط كثير الضبط فصيحاً ختم به الحفاظ"
خطیب بارعب، باوقار، ثقہ، حق کے متلاشی اور حجت تھے آپ کی تحریر بڑی دلکش ہوتی تھی
۔ کثیر الضبط اور فصیح الکلام تھے۔ حفاظ حدیث کا آپ پر خاتمہ ہو گیا۔ (ایضاً)
ابن خلکان: "
كان من الحفاظ المتقنين والعلماء المتبحرين ولو لم يكن له سوى التاريخ لكفاه فانه
يدل على اطلاع عظيم وصنف قريباً من مائة مصنف وفضله اشهر من ان يوصف
" "وہ متقن حفاظ حدیث میں اور متبحر عالم تھے اگر ان کی کتاب تاریخ کے
علاوہ کچھ اور نہ ہوتا تو ان کے لیے وہ کافی تھا کیوں کہ وہ کتاب ان کی بہت بڑی
معلومات پر دلالت کرتی ہے۔ انہوں نے تقریباً ایک سو کتابیں لکھیں اور ان کا فضل و
کمال تعریف سے بالا تر ہے۔ (وفیات
الاعیان ج ۱ ص ۵۴)
حدیث
حدیث کے سماع اور
حفظ و ضبط کا انہوں نے جس طرح اہتمام کیا اور پوری زندگی تحصیل حدیث اور تحدیث روایت
کے مقدس شغل میں گزار دی اس سے ان کے درک فی الحدیث کا اندازہ لگانا آسان ہوگا وہ
حافظانِ حدیث میں شمار ہوتے ہیں علماؤن نے ان کے حفظ وضبط، فقاہت واتقان اور روایت
ودرایت میں اہمیت کا اعتراف کیا ہے۔
حافظ ذہبی: "الحافظ
الکبیر الامام محدث الشام والعراق صاحب التصانیف" بہت بڑے
حافظِ حدیث ،امام اور شام وعراق کے محدثِ اعظم تھے بہت سی عمدہ کتابیں لکھیں۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۳ ص ۳۱۲)
ابو اسحاق شیرازی:
"الخطیب
یشبہ بالدارقطنی ونظرائہ فی معرفۃ الحدیث وحفظہ" خطیب کو
معرفت اور حفظِ حدیث میں امام دارقطنی اور ان کے اقران کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ (ایضاً
ص ۳۱۴)
شافع: "انتہیٰ
الیہ الحفظ والاتقان فی علوم الحدیث" حفظ وضبط اور علوم حدیث کو
زندہ جاوید کرنا آپ پر ختم تھا۔ (ایضاً
ص ۳۱۵)
جرح وتعدیل
خطیب بغدادی مشرق
میں محدثین کے امام اور مغرب میں حافظ ابن عبدالبر مالکی کی طرح حدیث میں امتیازی
شان رکھتے تھے ۔ تاریخ کا یہ عجیب اتفاق ہے کہ دونوں ممتاز محدثین کا انتقال ایک ہی
سن میں ہوا ۔ امام خطیب کثرت حدیث ہی میں فائق نہ تھے بلکہ وہ فنون حدیث میں بھی کمال رکھتے تھے ۔ اسماء الرجال اور عللِ
حدیث کی معرفت میں یکتائے روزگار تھے ۔ صحیح وضعیف حدیثوں کی پہچان میں کوئی ان کا
ہمسر نہ تھا چنانچہ بغداد کے وزیر اعظم (صدرالصدور) ابن سلمہ نے سارےخطبا واور واعظین
کو ہدایت کردی تھی کہ کوئی حدیث جب تک خطیب بغدادی پر پیش نہ کی جائے اس کو عوام
کے سامنے بیان نہ کیا جائے ۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۳ ص ۳۱۴)
آپ معرفتِ رجال اور ان کی تاریخ سے خوب
واقف تھے۔
ایک مرتبہ ایک یہودی
نے ایک ایسی دستاویز پیش کی جس میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خیبر سے جزیہ
معاف کر دینے کا ذکر تھا اور اس دستاویز پر بعض صحابہ کی شہادت ثبت تھی وزیر نے یہ
دستاویز علامہ خطیب کو دکھائی تو انہوں نے کہا یہ دستاویز جعلی ہے وزیر نے پوچھا آپ
کس بناء پر اس کو جعلی کہتے ہیں؟ بولے اس میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی شہادت
درج ہے اور اس وقت وہ مسلمان ہی نہ تھے وہ خیبر کے بعد فتح کے سال اسلام لائے تھے
دوسری بات یہ ہے کہ اس میں سعد بن معاذ کی گواہی ہے اور وہ جنگِ خیبر سے کئی سال
پہلے انتقال کر گئے تھے ۔ (ایضاً)
فنِ جرح وتعدیل
اور اصولِ روایت سے متعلق ان کی متعدد کتابیں یادگار ہیں۔ آپ کی علومِ حدیث میں
مہارت کا اعتراف بڑے بڑے محدثین نے کیا ہے۔
ابن ماکولا: "کان ابو
بکر الخطیب آخر الاعیان ممن شاهدنا معرفة وحفظاً واتقاناً وضبطاً بالحديث ورسول
الله صلى الله عليه وسلم وتفنناً في علله واسانيده وعلماً بصحيحه وغريبه وفردہ
ومنکرہ ومطروحہ ولم یکن لبغداد یین بعد الدار قطنی مثلہ" جن لوگوں
کو ہم نے دیکھا اور ملاقات کی ان میں آپ یکتائے زمانہ تھے ۔ محبت اور ضبط کے ساتھو
حفظِ حدیث اور اس کی معرفت ،عللِ حدیث اور علمِ اسناد میں تفنن، صحیح اور ضعیف، غریب
اور منکر کے عالم تھے۔ امام دارقطنی کے بعد بغداد میں آپ جیسا عالم پیدا نہیں ہوا۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ۳ ص ۳۱۴)
فقہ
آپ بلند مرتبہ فقیہ
بھی تھے فقہ کی تعلیم ابو الحسن بن محاملی اور قاضی ابو طیب سے حاصل کی تھی بعض
تذکرہ نگاروں کا خیال ہے کہ وہ اصلاً فقیہ تھے ۔ علامہ ابن سبکی فرماتے ہیں وہ
اکابر واعیانِ فن میں تھے ان کی تصنیفات سے ان کی فقہی جزرسی کا اندازہ ہوتا ہے۔
تاریخ
حدیث وفقہ کی طرح
تذکرہ وتراجم اور تاریخ بھی ان کا خاص موضوع تھا حافظ ابن کثیر لکھتے ہیں وہ ان
لوگوں میں سے تھے جن کے بارے میں کہا گیا ہے کہ "ما زلت
تَدْأبُ فِي التَّارِيخِ مُجْتَهِداً
حتی
رَأيْتُكَ فِی التَّارِيخ مَکتُوباً"
(البداية
والنهاية ج ۱۲ ص ۱۰۳)
حلقہ درس اور تلامذہ
امام خطیب بغدادی
نے جس لگن اور شوق سے علوم و فنونِ اسلامی کا درس لیا تھا اسی طرح اپنے علمی
سرمائے کو شائقین تک پہنچانے میں بھی کوئی کسر باقی نہ رکھی۔ انہوں نے بغداد کی
جامع منصور میں حلقہ درس قائم کیا جہاں حدیث، ادب، تاریخ اور علومِ حدیث کا درس دیا
کرتے۔ ان کی مجلس درس بڑی باوقار اور سنجیدہ ہوا کرتی۔ آپ حلقہ درس کے علاوہ اوقات
میں بھی تحدیث و روایت میں تامل نہ کرتے سفرحج میں بھی غروبِ آفتاب تک پورا قرآن مجیدختم
کرتے اس کے بعد لوگوں ان کی خدمت میں حاضر ہوتے اور حدیثیں بیان کرتے تو ذرا بھی
کبیدہ خاطر نہ ہوتے بلکہ پورے شرح صدر کے ساتھ ان کو حدیثیں سناتے۔ آپ نے اس حدیث
پر عمل کرتے ہوئے کہ زمزم کا پانی جس مقصد سے پیا جائے وہ مقصد حاصل ہوتا ہے آپ
زمزم تین مرتبہ پیا اور اللہ تعالیٰ سے تین حاجتیں طلب کیں۔ (۱) انہیں اپنی مشہورِ عالم کتاب تاریخِ بغداد
پڑھانے کا موقع ملے (۲) وہ جامع منصور میں
حدیث املاکرائیں (۳) انہیں مرنے کے بعد مشہور بزرگ حضرت بشر حافی
کے جوار میں دفن کیا جائے۔ (تذکرہ ج ۳ ص ۳۱۶) اللہ تبارک و تعالیٰ نے ان کی یہ تینوں
خواہشیں پوری کر دیں۔ انہیں جامع منصور میں درسِ حدیث کا موقع ملا اور انہوں نے بساطِ
درس آراستہ کی بغداد سے باہر دمشق، صور، حلب، طرابلس میں بھی وہ درس دیتے رہے جس
سے ان کے تلامذہ کی تعداد شمار سے باہر ہو گئی۔ آپ کے تلامذہ کی فہرست بہت طویل
ہے۔
چند مشہور تلامذہ کے نام درج ذیل ہیں:
آپ کے شیخ برقانی،
ابوالفضل بن خیرون، فقیہ نصر مقدسی، ابوعبداللہ حمیدی، عبدالعزيز کتانی، ابوالنصر
بن ماکولا، عبداللہ بن احمد سمرقندی، مبارک بن طيوری، محمد بن مرزوق، ابوبکر بن
خاضبہ ،ابوالقاسم نصیب، ہبة اللہ بن اکفانی، علی بن احمد بن قیس غسانی، محمد بن علی
بن ابوالعلاء مصیصی، ابوالفتح نصر اللہ بن محمد مصیصی، عبد الکریم بن حمزہ، طاہر
بن سہل اسفرائینی، ہبة اللہ بن عبداللہ شروطی، ابوالسعادات ،احمد بن احمد متوکلی،
عبدالرحمن بن محمد قزاز، یوسف بن ایوب ہمدانی، عبید اللہ بن احمد عثمان۔ (تذکرہ الحفاظ ج ۳ ص ۳۱۳)
تصانیف
خطیب بلند پایہ
مصنف بھی تھے ان کی تصانیف کی تعداد تقریباً ایک سو تھی امتدادِ زمانہ کے باعث بہت
ساری کتابیں معدوم ہو گئیں ان کی اکثر کتابیں فنونِ حدیث سے متعلق گونا گوں مسائل
و مباحث پر مشتمل ہیں ان میں ادب وانشاء، فصاحت و بلاغت اور اسلوب و ادب کی دلکشی
پائی جاتی ہے حافظ ابن جوزی لکھتے ہیں:
جو شخص ان کا بغور
مطالعہ کرے گا وہ خطیب کی قدر و منزلت اور عدیم المثال کارنامے کا اعتراف کرے گا
انہوں نے ایسا عظیم الشان علمی ذخیرہ یادگار چھوڑا ہے جو ان سے پہلے کے ان سے کہیں
فائق محدثین وائمہ مثلاً دار قطنی وغیرہ بھی انجام نہ دے سکے۔ (المنتظم
ج ۸ ص ۲۶۶)
ان کی اہم کتابوں کے نام یہ ہیں: (۱) التاریخ (۲) الکفایہ
(۳) الجامع (۴) السابق
واللاحق (۵) شرف اصحاب الحدیث (۶) المتفق
والمفترق (۷) تلخیص المتشابہ (۸) تالی
التلخیص (۹) الفصل والوصل (۱۰) المکمل
فی المہمل (۱۱) الموضح (۱۲) التطفيل
(۱۳) الاسماء المهمہ (۱۴) الفقیہ
والمتفقہ (۱۵) الرواة عن مالک (۱۶) تمییز
متصل الاسانید (۱۷) البخلاء (۱۸) الفنون
(۱۹) کتاب البسملة وانها من الفاتحه (۲۰) الجهر بالبسملہ (۲۱) غنیۃ
المقتبس فی تمییز الملتبس(۲۲) من
وافقت کنیتہ اسم ابیہ (۲۳) من حدث ونسی (۲۴) الحیل (۲۵) الاسماء
المبهمہ (۲۶) روایة الآباء عن ابنائهم (۲۷) الموتنف لتکملة الموتلف والمختلف (۲۸) الرحلة (۲۹) اقتضاء
العلم (۳۰) الاحتجاج بالشافعی (۳۱) مبهم
المراسیل (۳۲) مقلوب الاسماء (۳۳) العمل
بشاہد ویمین (۳۴) کتاب اسماء المدلسین (۳۵) تقييد العلم (۳۶) القول
فی النجوم (۳۷) ما روی الصحابہ عن التابعین (۳۸) صلوة التسبيح (۳۹) صوم
یوم الشک (۴۰) اجازة المجهول (۴۱) الرواة
عن شعبہ (۴۲) الموتلف والمختلف (۴۳) مسند
محمد بن سوقیہ (۴۴) المسلسلات (۴۵) الرباعیات
(۴۶) طرق قبض العلم (۴۷) غسل
الجمعہ (تذکرہ ج ۳ ص ۳۱۶) (۴۸) مسند
ابی بکر علی شرط الصحیحین (۴۹) مسند بنان
بن بشر (۵۰) مسند صفوان بن سلیم (۵۱) مسند
نعیم بن حماد الغطفانی (۵۲) مسند صفوان غسانی
(۵۳) مسند محمد بن جحادہ (۵۴) مسند
مسعر بن کدام (۵۵) مناقب احمد بن حنبل (۵۶) مناقب
شافعی۔
تاریخ بغداد
خطیب بغدادی کی جس
کتاب کو عالمگیر شہرت و مقبولیت حاصل ہوئی وہ ان کی کتاب تاریخ بغداد ہے۔ یہ ان کی
سب سے عظیم الشان کتاب ہے اگر خطیب دوسری کتاب نہ لکھتے تب بھی تنہا یہی کتاب ان
کے فضل و کمال اور شہرتِ دوام کی معتبر سند ہوتی۔ خود خطیب نے آبِ زمزم نوش کرتے
ہوئے یہ دعا کی تھی کہ جامع منصور میں اس کتاب کی تدریس کا انہیں موقع میسر آ جائے۔
(تذکرۃ الحفاظ ج ۳ ص ۳۱۶)
خطیب نے امام اعظم
ابو حنیفہ اور امام احمد بن حنبل کے ترجمے میں ان پر سخت تنقید آمیز روایات بھی
نقل کی ہیں جس کو سامنے رکھ کر خطیب پر مسلکی شدت پسندی اور عصبیت کا الزام بھی
عائد کیا گیا ہے۔ مگر اس امر میں یہ بات ضرور پیشِ نظر رکھنی چاہیے کہ خطیب نے ایک
مورخ کی حیثیت سے یہ ذمہ داری اٹھائی ہے کہ انہیں کسی شخصیت کے بارے میں مدح کے
ساتھ قدح کی روایات بھی ملیں تو انہوں نے درج کر دیں۔ مولانا حبیب الرحمن شروانی
لکھتے ہیں: خطیب نے واقعات واحوال کو ذکر کرنے میں مؤرّخانہ فرض و دیانت سے کام لیا
ہے اس لیے جہاں ائمہ اور رجالِ مناقب سے متعلق اقوال جمع کیے ہیں وہیں مخالفانہ
اور نقد و جرح سے متعلق آراء بھی تحریر کیے ہیں اس سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ خود خطیب
اس کے قائل تھے یا یہ واقعی ان کی رائے تھی۔ (معارف
ج ۳۲ شمارہ ۵
۲ص
۱۰۸)
سخاوت:
خطیب بڑے سخی اور
فیاض واقع ہوئے تھے اہل حاجت اور علماء پر بے دریغ مال خرچ کرتے طلبہ کی مدد
فرماتے جب وہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے زندگی کی امید نہ رہی اور آپ کے پاس آلِ
اولاد بھی نہ تھی اس وقت خلیفہ بغداد کو مکتوب بامر اللہ کو لکھ بھیجا کہ میرے بعد
میرا مال بیت المال میں جائے گا مجھے اسے اپنی مرضی کے مطابق تقسیم کرنے کی اجازت
دی جائے چنانچہ خلیفہ نے اجازت دے دی اور آپ نے اپنا سارا مال محمد ثین میں تقسیم
کر دیا ابن ناصر اپنی والدہ کے حوالہ سے باپ کا یہ قول نقل کرتے ہیں میں امام خطیب
کی بیماری میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی حضور آپ نے محدثین میں تقسیم
کرنے کے لیے جو مال ابن خیرون کو دیا ہے اس نے مجھے اس میں سے کچھ نہیں دیا انہوں
نے یہ سن کر اپنا سر تکیہ سے اٹھایا اور ایک تھیلی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے تم
اسے اٹھالو اور میرے لیے برکت کی دعا کی میں نے دیکھا تو اس میں چالیس دینار موجود
تھے۔ (تذکرہ ج ۳ ص ۳۱۷) ابو
زکریہ برحزی کابیان ہے میں جامع دمشق کے مینارے میں رہتا تھا اور خطیب سے ادب
واحادیث کی کتابیں پڑھتا تھا ایک دن وہ خد مجھ سے ملنے آئے اور کچھ دیر باتیں کرنے
کے بعد مجھے ایک لفافہ دیا اور کہا یہ اچھا تحفہ ہے اسے لے کر تم قلم خرید لو میں
نے دیکھا تو اس میں چار دینار تھے پھر دوسری بار بھی آئے اور اتنی ہی رقم دی۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۳۱۷)
ابتلاء و آزمائش:
علمی عظمت وجلال، شخصی
وجاہت کے باوجود جب بغداد میں مسلکی وفقہی اختلافات نے شدت اختیار کی تو بعض امراء
آپ کے درپئے آزار ہو گئے چنانچہ آپ نے بغداد کو چھوڑ کر دمشق میں اقامت اختیار کر
لی وہاں کے شیعہ حاکم نے بھی سکون سے رہنے نہ دیا اور آپ کو قتل کرنے کا منصوبہ
بنایا مگر آپ شریف زیدی کی پناہ میں آگئے جس نے معاملہ کو رفع دفع کر دیا مگر امیر
دمشق نے جلاوطنی کا فرمان جاری کر دیا اور آپ صور، حلب، وطرابلس کے سفر کی زحمتیں
برداشت کرتے رہے بالآخر بغداد واپس آئے ۔ خطیب شافعی مسلک رکھتے تھے اور عقائد میں
حضرت ابوالحسن اشعری رضی اللہ عنہ کے متبع تھے۔
وصال:
خطیب ۴۵ رمضان ۴۶۳ھ
میں بیمار ہوئے علالت کا سلسلہ دراز ہوتا چلا گیا یہاں تک کہ ۷/ ذی الحجہ ۴۶۳ھ
بروز دوشنبہ اس دارِ فانی سے رحلت فرمائی آپ نے وفات سے پہلے ابوالفضل بن خیرون کو
اپنی تمام کتابیں وقف کرنے اور اپنا مال نیکی کی راہ میں تقسیم کرنے کی وصیت فرمائی۔
ابوالحسن بن مہروئی
نے آپ کی نمازِ جنازہ پڑھائی اور آپ کی وصیت کے مطابق جسمِ خاکی کو مشہور صوفی
بزرگ حضرت بشر حافی علیہ الرحمہ کے پہلو میں دفن کر دیا گیا۔
(تذکرہ ج ۳ ص ۳۴۰)
ابو الحسن بہرانی
نے اس موقع پر کہا "مات هذا العلم بوفات الخطيب"
خطیب کی وفات کے ساتھ علم مر گیا۔ علی بن حسین کہتے ہیں امام خطیب کی وفات کے
بعد میں نے خواب میں دیکھا ایک آدمی میرے پاس کھڑا ہے میں نے اس سے امام خطیب کے
بارے میں پوچھنے ہی والا تھا مگر وہ پہلے ہی بول پڑا کہ ان کو جنت کے وسط میں جہاں
ابرار آپس میں ملتے ہیں رہنے کے لیے مکان بنا دیا گیا ہے۔ (تذکرہ ج ۳
ص ۳۱۷)
