امام ابو داؤدسلیمان طیالسی
نام: سلیمان
کنیت : ابو
داؤد
لقب : طیالسی
ولادت :
آپ کی ولادت باسعادت ۱۳۳ھ میں ہوئی۔
نسب :
سلیمان
بن داؤد بن جارود آپ فارسی الاصل ہیں۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۲۷۰)
وہ آلِ
زبیر قریشی کے مولیٰ تھے یہی وجہ ہے کہ فارسی، بصری، طیالسی کی نسبت سے یاد کیے
جاتے تھے اس میں سب سے زیادہ مشہور نسبت طیالسی ہے یہ طیالسہ کی جانب منسوب ہے جو
طیلسان کا جمع ہے یہ ایک قسم کی چادر ہوتی تھی جسے اہل عرب دستار کے اوپر اوڑھا
کرتے تھے ۔
تحصیلِ علم:
ابو داؤد
نے جب بصرہ میں آنکھ کھولی تو وہ فروغِ علم کا سنہری دور تھا اسلامی بلاد و امصار
میں علوم وفنون کے دھارے چل رہے تھے آپ نے بھی اپنے ذوق وشوق اور فطری حفظ وضبط کی
مدد سے مروجہ علوم وفنون حاصل کیے طلبِ علم کی خاطر بغداد اصفہان اور دوسرے مراکزِ
علم کا سفر بھی کیا ان کے اساتذہ کی تعداد بہت زیادہ ہے وہ خود بیان کرتے ہیں
"كتبت عن الف شيخ" میں نے ایک ہزار شیوخ سے حدیثیں لکھی ہیں۔
(تہذیب ج ۴ ص ۱٦۲)
شیوخ و اساتذه:
ایمن بن
نابل وابان بن یزید العطار، ابراہیم بن جریر بن حازم، حبیب بن یزید، حرب بن شداد،
حماد بن زید، حماد بن سلمہ، زائدہ، زہیر بن محمد، زہیر بن معاویہ، شعبہ، سفیان
الثوری، سلیمان بن قرم، شیبان النحوی، ابو عامر الخزاز، ابن ابی الزناد، عبدالعزیزقرة
بن خالد، عمران القطان، ہشام الدستوائی، ورقاء، یزید بن ابراہیم، ہمام بن یحییٰ،
معروف بن خربوذ، ابوعوانہ، محمد بن مسلم بن ابی الوضاح۔ (ایضاً ص
۱۶۱)
علمِ حدیث:
امام ابو
داؤد نے اپنے زمانہ کے متداول علوم وفنون سیکھے مگر انہیں علمِ حدیث میں اتنا کمال
حاصل ہوا کہ وہ امامت کے درجہ پر فائز ہو گئے ان کا حافظہ بہت قوی تھا تحصیلِ حدیث
کے لیے جس غیر معمولی قوتِ حفظ وضبط کی ضرورت ہوتی ہے قدرت نے یہ ملکہ وافر مقدار
میں آپ کو ودیعت فرمایا تھا اور وہ اس وصف میں اپنے معاصرین سے بدرجہا برتر تھے۔
فلاس
وعلی بن مدینی: "ما رأيت احفظ منه"
میں نے ان سے بڑا حافظ نہیں دیکھا۔ (تذکرہ ج
۱ ص ۳۲۱)
عمر بن شبہ: "كتبوا عن
ابى داؤد من حفظه اربعين الف حديث" محدثین نے ان سے چالیس ہزار حدیثیں زبانی لکھیں۔
(ایضاً)
شاہ
عبدالعزیز: ابو داؤد طویل حدیثوں کو اچھی طرح محفوظ کر لیتے تھے۔ (بستان
المحدثین ص ۵۵) یونس بن
حبیب اصبہانی کا بیان ہے ابو داؤد نے ایک لاکھ حدیثیں محض اپنی یاد داشت سے املا
کرائیں۔ محمد بن بشار کہتے ہیں جتنی حدیثیں ابو داؤد سے لکھی گئیں اتنی اور کسی
محدث سے نہیں لکھی گئیں۔ ابن عدی فرماتے ہیں "ابو داؤد
الطیالسی کان فی ایامہ احفظ من بالبصرۃ مقدماً علی اقرانہ لحفظہ ومعرفتہ"
(تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۱۶۲)
بصرہ میں
ابو داؤد طیالسی اپنے زمانہ میں سب سے بڑے حافظِ حدیث تھے اور اس وصف میں وہ اپنے
معاصرین میں فائق و برتر تھے۔ ہشیم بن خارجہ نے امام احمد بن حنبل سے پوچھا ابو
داؤد اور ابو عبیدہ حداد میں کس کو آپ زیادہ پسند کرتے ہیں جواب دیا ابو داؤد
حافظہ کے لحاظ سے فائق ہیں اور ابو عبیدہ زیادہ تر کتابوں سے روایت کرتے ہیں:
وکیع: "ما بقی احد احفظ
لحدیث طویل من ابی داؤد" طویل حدیثوں کا ابو داؤد سے بڑھ کر حافظ کوئی نہیں
رہا۔ (ایضاً)
عدالت و ثقاہت میں ان کا مرتبہ کافی بلند تھا علماءِ جرح
وتعدیل نے ان کی توثیق کی ہے۔
عبدالرحمن بن مہدی: "هو اصدق الناس" وہ لوگوں
میں سب سے زیادہ سچے تھے۔
(تذکرہ ج ۱ ص ۲۷۰)
ابو منذر نعمان: وہ معتمد اور ثقہ تھے۔ابن معین: ابو داؤد
صدوق ہیں اس لیے وہ مجھے زیادہ پسند ہیں۔امام احمد بن حنبل: وہ ثقہ اور صدوق تھے۔امام
نسائی: "کان ثقہ واصدق الناس"
ابو داؤد ثقہ اور لوگوں میں سب سے زیادہ سچے تھے۔ (میزان
الاعتدال ج ۱ ص ۴۱۳)
تلامذه:
امام ابو
داؤد کو کثرتِ علم کے باوجود جب اپنی غلطیوں کا پتہ چل جاتا تو ان کو تسلیم کرنے
میں تأمل نہ کرتے۔ امام ابو داؤد طیالسی سے درسِ حدیث لینے والوں کی تعداد بھی
کافی ہے ان میں سے کچھ اہم تلامذہ کے اسماء درج ذیل ہیں:
احمد بن ابراہیم دورقی، احمد بن حنبل، اسحاق بن منصور کوسج،
ابوبکر بن ابی شیبہ، ابو مسعود رازی، ابن فرات، بکار بن قتیبہ، حجاج بن شاعر، عباس
دوری، عبداللہ بن محمد مسندی، عثمان بن ابی شیبہ، علی بن مدینی، علی بن مسلم طوسی،
عمرو بن علی فلاس، محمد بن ابی بکر مقدمی، محمد بن بشار بندار، محمد بن رافع، محمد
بن سعد کاتب، محمد بن مثنیٰ، محمود بن
غیلان، ہارون بن حمال، یعقوب بن ابراہیم، یونس بن حبیب اصبہانی، زید بن احزم، ابو
موسیٰ۔ (تہذیب التہذیب ج ۴ ص ۱۶۱ و تاریخ
بغداد ج ۹ ص ۲۴)
مسندِ طیالسی:
کتبِ
حدیث میں مسانید کے جو مجموعے مشہور ہیں ان میں مسند ابو داؤد طیالسی کو خاص اہمیت
حاصل ہے وہ دوسرے مسانید پر تقدم کی فضیلت رکھتی ہے بعض علماء نے اس کو سب سے قدیم
مسند قرار دیا ہے۔ محدث حاکم صاحبِ مستدرک کا بیان ہے علمائے اسلام میں عبید اللہ
موسیٰ اور ابو داؤد طیالسی نے سب سے پہلے تراجم رجال پر مسانید مرتب کیے۔ (الرسالۃ
المستطرفہ ص ۳۵۲) یہ مسند
گیارہ ابواب پر مشتمل ہے اس میں بڑی حد تک مسانید کے تمام اصولوں کا لحاظ رکھا گیا
ہے یعنی صحابہ کے شرف و تقدم اور سبقت فی الاسلام کے لحاظ سے روایتیں نقل کی گئی
ہیں پہلے خلفاء راشدین، عشرہٴ مبشرہ اور کبار صحابہ کی حدیثیں ہیں چھٹے جز کے آخر
سے صحابیات کی مرویات کا سلسلہ شروع ہو کر ساتویں جز میں ختم ہو جاتا ہے سب سے
پہلے حضرت فاطمہ اس کے بعد حضرت عائشہ اور حفصہ کی روایتیں ہیں ہر صحابی کی حدیثیں
الگ الگ عنوان سے ہیں ۔ مسندِ طیالسی کے جمع و ترتیب کا کام بعضاہلِ خراسان نے کیا
اور زیادہ تر روایتیں یوسف بن حبیب کے واسطہ سے مروی ہیں۔ (کشف الظنون ج ۲ ص ۴۳۱)
مسندِ طیالسی کی خصوصیات:
1)قدامت (۲) اس کی اکثر روایتیں دوسری مشہور کتبِ حدیث میں موجود ہیں
(۳) آثارِ
صحابہ بھی ہیں (۴)راویوں
کے ناموں کی وضاحت (۵) کثرتِ
طرق، تعددِ اسناد (۶) اختلافِ
الفاظ و معانی (۷) راویوں
کا فرق (۸) رواۃ کے سہو و نسیان (۹) رواۃ کے درجات کی تشریح (۱۰) دو روایت کے درمیان ترجیح (۱۱) روایت کے ابہام اور مفہوم کی توضیح (۱۲) حدیث کے خاص پہلوؤں اور گوشوں کی تشریح۔
1331ھ میں
مسندِ طیالسی دائرۃ المعارف العثمانیہ حیدرآباد سے شائع ہوئی کل صفحات ۳۹۲ ہیں ابو داؤد پر سہو و خطا اور تدلیس کے اعتراضات کیے
گئے ہیں مگر اعتراضات کے باوجود ان کی اہمیت اور ثقاہت میں فرق نہیں آیا خطا و
نسیان تو تقاضائے بشریت ہے جس سے اکثر محدثین بری نہیں۔ تدلیس عیب ضرور ہے مگر وہ
بھی محدثین کی خطا اور نسیان کا ثمرہ ہے تدلیس دراصل کذب نہیں بلکہ ایک قسم کا
ابہام ہے ان اعتراضات کے باوجود امام ابو داؤد کو ثقہ اور ضابط قرار دیا گیا ہے۔
ابو داؤد
اپنی یادداشت سے حدیثیں بیان کرتے تھے اس لیے ان سے بھول چوک کا ہو جانا تعجب
انگیز نہیں ہے ابن عدی کا بیان ہے "وليس
بعجب من يحدث باربعين الف حديث من حفظه ان يخطئ فى احاديث منها يرفع احاديث لوقفها
غيره ويوصل احاديث يرسلها غيره وانما اتى ذالك من حفظه وما ابو داؤد عندى وعند
غيرى الا متيقظاً ثبتاً" جو شخص محض یادداشت سے چالیس ہزار حدیثیں بیان کرے
اس سے بعض روایتوں میں اس طرح کے سہو و خطا کا ہو جانا کہ جس روایت کو لوگ موقوفاً
بیان کرتے ہوں وہ اس کو مرفوعاً یا جس کو لوگ مرسلاً بیان کرتے ہوں وہ اس کو
موصولاً بیان کر دے بعید اور تعجب خیز نہیں کیوں کہ اس کا تمام تر دار و مدار
حافظہ پر ہوتا ہے۔ باقی ابو داؤد نہ صرف میرے بلکہ دوسرے لوگوں کے نزدیک بھی متيقظ
اور ثابت ہیں۔ (تہذیب
التہذیب ج ۴ ص ۱۶۲)
وصال :
پیکر علم و عمل وصال پر ملال ٧٢سال کی عمر پاکر صفرالمظفر ٢٠٤ ھ میں دار فانی سے دار بقا کی طرف کوچ کر گئے ۔
نماز جنازہ :
حاکم بصرہ یحی بن عبداللی بن عمر نے نماز جنازہ پڑھائی ۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
