شیخ الاسلام ابو محمد عبدالرحمن ابن ابی حاتم رازی
نام : عبدالرحمن
کنیت : ابو محمد
لقب : رازی
ولادت:
آپ کی ولادت سال 240ھ 854ء ، میں
شہر رے (ری) میں
ہوئی۔
نسب :
عبدالرحمن
بن محمد بن ادریس بن منذر تمیمی حنظلی۔
شہر ’’رے‘‘ کی ایک گلی دربِ حنظلہ کی اقامت کی
وجہ سے حنظلی کہلائے اور ’’رے‘‘ ایک طرف نسبت کی وجہ سے رازی مشہور ہوئے۔ آپ رے کے
بہت بڑے علمی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے والد امام ابو حاتم رازی بڑے پائے
کے محدث اور صاحبِ علم و تقویٰ بزرگ تھے۔ صاحبِ علم باپ کی آغوشِ تربیت میں پروان
چڑھے اور صغر سنی ہی سے طلبِ علم میں مصروف ہو گئے۔ جوں جوں عمر بڑھتی گئی تحصیلِ
علم کا شوق اور انہمک ترقی کرتا رہا۔ آپ نے سب سے پہلے فضل بن شاذان سے قرآنِ حکیم
کی تعلیم حاصل کی پھر طلبِ حدیث میں مصروف ہوئے۔ کہتے ہیں "لم يدعني
ابی اطلب الحدیث حتی قرأت القرآن علی الفضل بن شاذان" جب تک میں
نے فضل بن شاذان سے قرآن کی تعلیم حاصل نہیں کی میرے والد نے مجھے طلبِ حدیث کی
اجازت نہیں دی۔
(تذکرۃ الحفاظ ج ۳ ص ۴۷)
تحصیلِ علم:
درسِ قرآن کے بعد
حدیث اور دوسرے علوم و فنون کی تحصیل کا آغاز ہوا۔ والد بزرگوار فرزندِ ارجمند کو
بلند پایہ عالم بنانا چاہتے تھے چنانچہ آپ کی تعلیم وتربیت کا خاص طور پر خیال
رکھا اور خود بھی بیٹے کو تعلیم دیتے اور وقت کے دوسرے علماء و مشائخ سے کسبِ علم
کی تلقین کرتے اور اس غرض سے اپنے ساتھ سفر میں لے جاتے۔ چنانچہ ۲۵۵ھ میں جب کہ آپ حدِ بلوغ کو بھی نہ پہنچے
تھے والد نے سفرِ حج میں ہمسفر بنایا جب ذوالحلیفہ پہنچے تو وہاں آثارِ بلوغت ظاہر
ہوئے۔ یہ پہلا سفرِ حج تھا جس کا مقصد حج و زیارت کے ساتھ حرمین شریفین کے محدثین
و علماء اور وہاں آنے والے دنیا کے علم سے علم حاصل کرنا تھا۔ چنانچہ آپ نے اس سفر
میں محمد بن عبداللہ بن مقری مخرمی سے سماعِ حدیث کیا ۔ طلبِ علم کے لیے دوسرے
اسفار کا تذکرہ ابوالحسن علی بن ابراہیم رازی اس طرح کرتے ہیں۔
’’رحل مع ابيه وحج مع محمد بن حماد
الظهراني ورحل بنفسه الى الشام ومصر سنة اثنتين وستين وثم رحل الى اصبهان سنة اربع
وسبعين‘‘ آپ نے
اپنے والد کے ساتھ سفر کیا اور ۲۶۰ھ میں
محمد بن حماد ظہرانی کے ساتھ دوبارہ حج کیا پھر ۲۶۲ھ
میں اکیلے شام اور مصر کے سفر پر روانہ ہوئے پھر ۲۶۴ھ
میں اصفہان کا سفر کیا۔ (ایضاً ص ۲۷)
ابن ابی حاتم نے
علمِ نبوت کے تابناک موتیوں کو چننے کے لیے حجاز، شام، عراق، مصر، اصفہان، جزیرہ،
سواحل اور بلادِ جبال کا سفر کیا اور وہاں کے محدثین سے حدیث کا سماع کیا۔ طلبِ
حدیث کی لگن کا یہ عالم تھا کہ سماعِ حدیث کتابتِ حدیث اور مذاکرہ حدیث میں دن اور
رات کے سارے اوقات گزر جاتے سیر و تفریح کا پھر پیدل گھومنے کھانے کی نوبت بھی نہ
آتی۔ خود بیان کرتے ہیں: "كنا بمصر سبعة أشهر لم نأكل فيها مرقة نهارنا
ندور على الشيوخ وبالليل ننسخ ونقابل فاتينا يوما انا ورفيق لي شيخا فقالوا هو
عليل فرأيت سمکۃاعجبتنا فاشتريناها فلما صرنا الى البيت حضروقت
مجلس بعض الشيوخ فمضينا فلم يزل السمكة ثلاثة ايام وكادان ينضي فاكلناه نيا لم نتفرع
نشويه ثم قال لا يستطاع العلم براحة الجسد" ایک دفعہ
ہم نے طلبِ حدیث کے لیے مصر میں سات ماہ قیام کیا اس عرصہ میں ہمیں شوربا کھانے کا
موقع نہیں ملا دن بھر ہم مختلف شیوخ سے حدیث کا سماع کرتے تھے اور رات اس کے لکھنے
اور ایک دوسرے کے ساتھ مقابلہ کرنے میں گزر جاتی تھی۔ ایک دن میں اور میرا رفیق
دونوں ایک شیخ کے حلقہ درس میں حاضر ہوئے تو پتہ چلا وہ آج بیمار ہیں درس نہیں دیں
گے راستے میں ہمیں ایک مچھلی پسند آئی جو ہم نے خرید لی لیکن جب اپنے مکان پر ہوئے
تو ایک دوسرے شیخ کے درس دینے کا وقت ہو گیا۔ ہم مچھلی کو وہیں چھوڑ کر ادھر چلے
گئےاور تین دن تک ہمیں کچھ پکانے کا وقت نہیں ملا جب وہ خراب ہونے کے قریب ہوئی تو
ہم نے اسی طرح کچی ہی کھا لی۔ آپ فرماتے تھے کہ آرام طلبی اور تن آسانی سے علم
حاصل نہیں ہوتا۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۲ ص ۶۴۴)
یہ واقعہ طلب علم
کرنے والوں کے لیے بے مثال نمونہ عمل ہے۔ امام ابن ابی حاتم نے جس ذوق و شوق اور
کد و کاوش سے علم طلب کیا اور اسلامی دنیا کے دور دراز شہروں میں جا کر اصحابِ علم
سے اکتسابِ فیض کیا بلا شبہ ان کے شیوخ و اساتذہ کی تعداد بہت بڑی ہوگی۔
ابو سعید اشج، علی بن منذر طریقی، حسن بن
عرفہ، احمد بن سنان قطان، یونس بن عبدالاعلیٰ، محمد بن اسماعیل احسمی، حجاج بن
شاعر، محمد بن حسان ازرق، محمد بن عبدالملک بن زنجویہ، ابن دارہ، ابو زرعہ، ابو
حاتم۔ (تذکرۃ الحفاظ ج ۳ص
۴۶)
علم و فضل:
ابن ابی حاتم کا
دامن علم و فضل کے رنگارنگ پھولوں سے مالامال تھا۔ حدیث، فقہ، تفسیر، کلام اور ادب
میں کامل دستگاہ رکھتے تھے۔ حدیث اور فنِ جرح و تعدیل آپ کا خاص میدان تھا۔
خاندانی ماحول، اخلاص و ایثار، استعداد علم اور ذوق و شوق کے ساتھ طلبِ علم نے آپ
کے علمی پائے کو بہت بلند اور رفیع بنا دیا تھا۔ ابو حاتم اور ابو زرعہ رازی دونوں
عظیم الشان محدثین کا علم تنہا آپ کی ذات میں جمع ہو گیا تھا جب کہ اگر آپ کے پاس
ان میں سے صرف ایک ہی کا علم ہوتا تو آپ کی امامت اور جلالتِ شان کے لیے کافی تھا۔
مگر اس عظیم علمی شخصیت کا کیا کہنا جس کے پاس دونوں کا علم جمع ہو جائے۔ مزید
برآں دیگر محدثین کا علمی خزانہ بھی موجود ہو۔ یہی وجہ ہے کہ علما ءوقت نے آپ کی
بڑی تعریف کی ہے۔ اور آپ کے علمی و فنی کمالات، فقاہت و عدالت اور جرح و تعدیل میں
مہارتِ تامہ کا اعتراف کیا ہے۔
حافظ ذہبی: "الامام
الحافظ الناقد، شیخ الاسلام، جلیل القدر" امام، حافظ کبیر، شیخ
الاسلام اور نقد حدیث میں بڑے ماہر تھے۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۳ ص ۴۶)
ابو یعلیٰ خلیلی:
"اخذ
علم ابیه وابی زرعة وكان بحرا فى العلوم ومعرفة الرجال" آپ نے اپنے
والد اور ابو زرعہ کا علم اپنے سینے میں جمع کر لیا آپ معرفتِ رجال اور دیگر علوم
میں بحرِ زخار تھے۔ (ایضاً)
ابو الولید باجی:
"ابن
ابی حاتم ثقة حافظ" ابن ابی حاتم ثقہ اور حافظِ حدیث ہیں۔ (ایضاً
ص ۴۸)
ابو یعلیٰ خلیلی:
"السنة
بالرى ختمت بابن ابی حاتم" رے میں سنت (کی معرفت) ابن ابی حاتم
پر ختم ہو گئی۔
(سیر اعلام النبلاء ج ۱۳ ص ۲۶۵)
فن جرح و تعدیل:
علومِ حدیث میں
فنِ جرح و تعدیل بڑا مہتم بالشان فن ہے
امام ابن ابی حاتم اس فن میں امامت کا درجہ رکھتے تھے۔ اس فن کی جو پیچیدگیاں
سلجھائیں اور جن مشکل عقدوں کو حل کیا اور جرح و تعدیل کے جو مراتب متعین کیے ہیں
اس سے آپ کی خدا داد نقد کا پتہ چلتا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
·
اگر کسی کو ثقہ یا متقن کہا جائے تو وہ قابلِ احتجاج ہوتا ہے۔
·
اگر صدوق یا محله الصدق یا لا بأس به کہا جائے تو ایسے لوگوں کی حدیثیں قابلِ غور و فکر ہوتی ہیں اور یہ دوسرا
مرتبہ ہے۔
·
اگر شیخ کہا جائے تو اس کی روایت قابلِ تحریر ہوتی ہے لیکن ماقبل سے کم تر
ہوتی ہے۔
·
اگر صالح الحدیث کہا جائے تو اس کی روایت قابلِ احتجاج نہیں بلکہ قابلِ اعتبار
ہوگی۔
·
اگر لین کہا جائے تو اس کا درجہ ماقبل سے بھی کم تر ہوتا ہے۔
·
اگر ضعیف الحدیث کہا جائے تو اس کی روایت مطلق قابلِ طرح (پھینکنےچھوڑنے کے
لائق) نہیں ہوتی بلکہ قابلِ اعتبار ہوتی ہے۔
لیکن اگر متروک الحدیث یا ذاهب الحدیث یا کذاب کہا گیا ہو تو ایسے لوگوں کی روایت قابلِ ترک ہوتی ہے۔ اس
کا تحریر کرنا ناجائز ہوتا ہے۔ (الجرح والتعدیل ج ۲ ص ۳۷)
تصنیف و تالیف:
ابن ابی حاتم بلند
پایہ مصنف بھی تھے۔ حافظ ذہبی لکھتے ہیں "صنف فى الفقه واختلاف
الصحابة والتابعين وكان زاهدا يعد من الابدال" فقہ اور
اختلافِ صحابہ و تابعین میں کتابیں لکھیں وہ زہد و عبادت کی وجہ سے ابدال میں شمار
ہوتے تھے۔
(تذکرہ
ج ۳ ص ۴۷)
آپ کی گراں مایہ
کتابیں حسبِ ذیل ہیں: المسند، التفسير، الرد على الجهمية، كتاب
الزهد، الفوائد، الجرح والتعديل۔
تفسیر میں آپ کی
کتاب کئی جلدوں پر مشتمل ہے، علل حدیث میں آپ کی کتاب بڑی معرکہ الآراء اور مایہ
ناز تصنیف ہے۔ حافظ ذہبی آپ کی مصنفات کے بارے میں لکھتے ہیں:
’’کتابہ فی الجرح
والتعدیل یقضی لہ بالمرتبۃ المنیفۃ فی الحفظ و کتابہ فی التفسیر عدۃ مجلدات ولہ
مصنف کبیر فی الرد علی الجہمیۃ یدل علی امامتہ‘‘ آپ کی تصنیف کردہ کتاب الجرح والتعدیل حفظ
و اتقان میں آپ کے بلند مقام کی شاہد ہے۔ تفسیر قرآن حکیم میں آپ کی کتاب کئی
جلدوں میں پوری ہوئی ہے آپ نے جہمیہ کے رد میں بھی ایک عظیم کتاب لکھی ہے، جس سے
آپ کی امامت کا پتہ چلتا ہے۔" (ایضاً)
کتاب الجرح والتعدیل:
جرح و تعدیل کے فن
میں یہ کتاب مستند دستاویز ہے جسے اس فن کی کتب عامہ میں ام الکتب کا درجہ حاصل ہے
جو علم حدیث کے طلبہ کے لیے عظیم سرمایہ ہے۔ امام ابن ابی حاتم نے اس کتاب میں
عہدِ صحابہ سے لے کر اپنے زمانہ تک کے راویانِ حدیث کا تذکرہ کیا ہے۔ دراصل یہ
کتاب امام بخاری کی کتاب "التاریخ الکبیر" کی تکمیل ہے چوں کہ وہاں
بخاری رحمۃ اللہ علیہ کی کتاب اپنے فن کی اساسی کتاب ہے جس کو علما ءوقت نے قبول و
اعتبار بخشا۔ لیکن اس کتاب میں عموماً راویانِ حدیث پر جرح و تعدیل کا علم نہ تھا
جو راویوں کے تراجم کا سب سے اہم مقصد ہوتا ہے۔ امام ابو زرعہ اور امام ابو حاتم
نے اس اہم ضرورت کو پورا کرنے کا ارادہ کیا اور انہوں نے یہ ذمہ داری امام
عبدالرحمن ابن ابی حاتم کو سونپ دی کہ اس کتاب کے راویوں کے بارے میں ہم لوگوں سے
معلومات لے کر اس کی تکمیل کریں۔ امام ابن ابی حاتم نے یہ کتاب لکھنی شروع کی تو
بطورِ نمونہ امام بخاری کی التاریخ الکبیر تھی اور بطور معلم و رہنما امام ابو
زرعہ اور امام ابو حاتم تھے۔ امام ابن ابی حاتم ان سے سوالات کرتے رہے اور یہ
دونوں ائمہ رجال پر جرح و تعدیل کا حکم لگاتے جاتے۔ مزید راویوں کا اضافہ بھی
کرتے۔ ابن ابوداؤد فرماتے ہیں کہ:
’’اعلم ان ابا زرعۃ و ابا حاتم لما حمل
الیہما ھذا الکتاب قالا ھذا علم حسن لا یستغنی عنہ و یحسن بنا ان نذکرہ عن غیرھا
فاقعدا ابا محمد عبدالرحمن فسألھما عن رجل بعد رجل وزادا فیہ ونقصا ونسبہ عبد
الرحمن الیھما‘‘
جب امام ابو زرعہ اور ابو حاتم کو یہ کتاب، تاریخ کبیر ملی تو انہوں نے کہا یہ
ایسا علم ہے جس سے نیاز مند نہیں ہوا جا سکتا اور ہمارے لیے مناسب نہیں کہ (اس کی
تکمیل کے لیے) دوسروں سے کہیں چنانچہ ان دونوں نے ابومحمدکو بیٹھا کریہ کام شروع
کر دیا وہ فردًا فردًا راوی کے بارے میں سوالات کرتے تھے اور یہ دونوں حضرات جواب
دیتے تھے۔ اسی طرح سے کچھ حذف و اضافہ بھی کیا اس تالیف کو ابو محمد نے ان دونوں
ائمہ کی جانب منسوب بھی کر دیا۔
(الموضح
لاوھام الجمع والتفریق ج ۱ ص ۸-۹)
اس کتاب میں
ابتداء امام بخاری، امام ابو زرعہ اور امام ابو حاتم جیسے عظیم محدثین کے معلومات
کا خلاصہ جمع ہو گیا ہے جو اس کتاب کی عظمت کے لیے کافی ہے۔ مزید برآں امام ابن
ابی حاتم نے دوسرے ناقدینِ حدیث کی آراء کو بھی جمع کر کے کتاب کی اہمیت میں چار
چاند لگا دیے۔ ان ناقدین میں امام شعبہ، عبداللہ بن مبارک، اوزاعی، یحییٰ بن سعید
قطان، یحییٰ بن معین، امام احمد بن حنبل، عمرو بن علی فلاس رحمہم اللہ تعالیٰ
قابلِ ذکر ہیں۔
امام ابن ابی حاتم
نے صرف اقوال ہی کے جمع کرنے پر اکتفاء نہیں کیا ہے بلکہ اپنی رائے کا اظہار بھی
کیا ہے اور غامض و متعارض اقوال سے صحیح حکم کا استخراج کیا ہے۔ مشکل اور نادر
کلمات کی وضاحت بھی فرمادی ہے۔ جس کی وجہ سے یہ کتاب اس فن کی سب سے اہم اور جامع
کتاب بن گئی ہے۔ اس لیے فنی اعتبار سے یہ کتاب تاریخ کبیر پر فوقیت رکھتی ہے۔ مزید
برآں جرح و تعدیل سے متعلق بسیط مقدمہ ہے جو پوری ایک جلد پر مشتمل ہے جس میں جرح
و تعدیل کے مسائل کے پیچ و خم کو سلجھانے کی کوشش کی گئی ہے۔ صحیح و سقیم حدیث میں
تمیز کی اہمیت، معرفتِ رجال کی ضرورت، عدالتِ صحابہ اور راویوں کے طبقات کا ذکر
نیز مشہور ائمہ کا مبسوط ترجمہ بھی ہے۔
مطبوعہ کتاب مقدمہ
کے ساتھ نو جلدوں پر مشتمل ہے۔ راویانِ حدیث کے تذکرے حروفِ تہجی کے اعتبار سے کیے
گئے ہیں کل تراجم، رجال کی تعداد ۱۸۰۴ ہے۔
ترجمہ میں راوی کا نام نسب و نسبت اور کنیت کا ذکر بھی کیا گیا ہے اس طرح سے بعض
شیوخ اور بعض تلامذہ کا بھی ذکر پایا جاتا ہے کہیں کہیں راوی کی رحلاتِ علمیہ یا
دیگر صفاتِ علمیہ یا طبقہ کا ذکر بھی کیا گیا ہے نیز راوی پر حکم صادر فرمایا ہے۔
زہد و تقویٰ:
آپ علم کے ساتھ
تقویٰ، و پرہیزگاری کے بھی اعلیٰ مقام پر تھے آپ کا ذوقِ عبادت بے مثل تھا۔ آپ کے
والد فرمایا کرتے تھے۔ "من يقوى على عبادة عبدالرحمن لااعرف لہ ذنبا..."
"عبدالرحمن کی عبادت کرنے کی طاقت اور ہمت کس کو ہے میں نہیں جانتا کہ اس نے
کوئی گناہ کا کام کیا ہے۔
حافظ ذہبی کا قول
اوپر گزر چکا ہے کہ کثرتِ عبادت اور زہد و ورع کی وجہ سے انہیں ابدال میں شمار کیا
جاتا تھا۔ علم و فضل اور عملِ صالح نے ان کے پیکر کو نورانی بنا دیا تھا۔ ان کے
چہرے میں بڑی جاذبیت اور کشش پیدا ہو گئی تھی۔ ابو الحسن علی بن ابراہیم رازی
لکھتے ہیں:
’’ کان رحمہ اللہ قد کساہ اللہ بہاءً
ونوراً یسر بہ من نظر الیہ" اللہ تعالیٰ نے ان کو نور و محبت کا
حلہ پہنایا تھا جو شخص انہیں دیکھ کر خوش ہوتا تھا۔ (تذکرہ
ج۳ ص۴۷)
وصال:
محرم الحرام 327ھ ، 938ء کو مقامِ رے میں آپ کا وصال ہوا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
