امام ابو زرعہ عبید
اللہ بن عبد الکریم رازی مخزومی
ولادت : ۲۰۰ھ
نام : عبید اللہ
کنیت: ابو زرعہ
نسب:
عبید اللہ بن عبد
الکریم بن یزید بن فروخ مخزومی رازی۔ آپ کی ولادت ایران کے مشہور تاریخی شہر رے میں
ہوئی جسے آج قم کہا جاتا ہے۔ یہ شہر علمی و ثقافتی اعتبار سے کافی مشہور تھا ہے۔
مجوسی اسے تقدس کی نگاہ سے دیکھتے تھے ۔ اسلامی قلمرو میں داخل ہونے کے بعد بھی
اسے دفاعی و فوجی اعتبار سے مرکزیت حاصل تھی اور دعوت و تبلیغ کا بھی مرکز تھا۔
چوں کہ یہ شہر خراسان اور ماوراء النہر سے بلادِ عربیہ کی طرف آنے والوں کی گزرگاہ
پر واقع تھا اس لیے یہاں بکثرت علماء وارد ہوا کرتے تھے جس سے اسے علمی مرکز کی حیثیت
حاصل ہو گئی تھی۔
امام رامہرمزی فرماتے ہیں "ھی من
مراكز العلمية التي كان المحدثون يشدون الرحال اليها طلبا لتدوين الحديث عن علماء
ها"
"یہ ان علمی مراکز میں سے ہے جس کی طرف محدثین وہاں کے علماء سے کتابتِ علم و
حدیث کے لیے سفر کرتے تھے"۔
(ابو زرعہ الرازی
و جهودہ فی السنہ ج ۱
ص ۳۸)
اس مردم خیز خطے میں بڑے بڑے علماء و محدثین
پیدا ہوئے جو اپنے زمانہ میں بے مثل تھے۔ انہیں میں امام ابو زرعہ رازی بھی ہیں۔
آپ ایک علمی خانوادے کے چشم و چراغ تھے۔ چچا اسماعیل بن یزید اور محمد بن یزید بڑے
عالم تھے۔ والد عبد الکریم صاحبِ علم و فضل ہونے کے ساتھ ساتھ اہل علم اور علماء
کے قدر داں تھے اور ان کی مجلسوں میں شریک رہتے تھے۔ وہ اپنے فرزند کوایک بڑا عالم
بنانا چاہتے تھے چنانچہ ان کی کنیت دمشق کے مشہور عالم ابو زرعہ دمشقی کی کنیت پر
رکھی اور آپ کی پرورش اس انداز سے کی کہ صغر سنی ہی سے طلب علم کا شوق بیدار ہو گیا۔
وہ اپنے فرزند کو علماء، محدثین کی مجلسوں میں لے جایا کرتے تھے۔ ایک مرتبہ آپ کے
والد آپ کو عبدالرحمن الدشکی کی مجلس میں لے گئے تو انہوں نے آپ کی فراست کو دیکھ
کر فرمایا "ان ابنک ھذا سیکون لہ شان" تمہارے اس
بیٹے کی ایک شان ہوگی۔ (مقدمۃ
الجرح والتعدیل ص ۳۳۹)
قوت حفظ و ملکہ علم:
ابو زرعہ کو
خداوند تعالیٰ نے بڑی شان کا حافظہ عطا فرمایا تھا ذہانت و فطانت کی دولت میں بھی
ممتاز تھے وہ ان اوصاف میں زمانہ کے نمایاں ترین افراد میں سے تھے ان کا حافظہ
اتنا ضرب المثل تھا کہ لوگ بلا خوف و تردد اس کی قسم کھا لیتے تھے۔
امام ابو زرعہ کا حافظہ اتنا قوی تھا کہ جو
بات کان میں پڑتی پردہ ذہن پر ہمیشہ کے لیے نقش ہو جاتی۔ خود فرماتے ہیں: "ما سمع
اذنئی شیئا من العلم الا وعاہ قلبی وان کنت لامشی فی سوق بغداد فاسمع من الغرب صوت
المغنیات فاضع اصبعی فی اذنئی مخافۃ ان یعیہ قلبی" علم کی کوئی
ایسی چیز نہیں ہے جس کو میں نے اپنے کان سے سنا ہو اور میرے دل نے اس کو محفوظ نہ
کر لیا ہو۔ اور جب میں بغداد کے بازار سے گزرتا تو گانے والیوں کی آوازیں سنتا تو
میں اپنی انگلیاں کانوں میں ڈال لیتا اس خوف سے کہ کہیں ان گانوں کو میرا قلب محفوظ
نہ کر لے۔ (تہذیب
التہذیب ج ۷ ص ۳۰)
ابوبکر موصلی فرماتے ہیں ہم نے جس کسی شخص
کی قوت حافظہ کی شہرت سنی ملاقات کرنے پر معلوم ہوا کہ اس کے متعلق جیسی شہرت تھی
وہ خود ایسا نہیں تھا لیکن حضرت ابو زرعہ کی ذات اس سے مستثنیٰ ہے ان کو ہم نے دیکھا
تو وہ اپنی شہرت سے کہیں زیادہ ثابت ہوئے۔ (ایضاً ص ۳۰)
امام احمد بن حنبل فرمایا کرتے تھے "ماجاوز
الجسر الفقہ من اسحاق ولا احفظ من ابی زرعۃ" اس پل کو
عبور کرنے والا کوئی شخص اسحاق سے زیادہ فقیہ اور ابو زرعہ سے زیادہ حافظے والا نہیں۔
(تہذیب
التہذیب ج ۷ ص ۲۹)
امام ابو زرعہ سے ایک آدمی نے فتویٰ پوچھا
کہ اس نے اس بات پر طلاق دینے کی قسم کھائی ہے کہ آپ کو ایک لاکھ حدیث یاد ہے۔
مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو ایک لاکھ حدیث یاد نہیں تو میری بیوی کو طلاق آپ بولے اپنی
بیوی کو اپنے پاس رکھو۔ (تذکرہ ج ۲ ص ۱۲۲)
ابوبکر بن شیبہ کا بیان ہے: "ما رأیت
احفظ من ابی زرعة" میں نے ابوزرعہ سے بڑا حافظہ والا کوئی نہیں دیکھا۔
(ایضاً)
صنعانی کہتے ہیں: "ابوزرعة
عندنا یشبه باحمد بن حنبل" قوتِ حفظ میں ابوزرعہ ہمارے نزدیک
امام احمد کے مشابہ تھے۔ (ایضاً)
تحصیلِ علم:
خاندانی ماحول، بے
پایاں شوقِ علم، بے نظیر قوتِ حفظ وضبط اور ذکاوت و ذہانت کے ساتھ ابوزرعہ نے جب
علم کے کوچہ میں قدم رکھا۔ تو سب سے پہلے آپ نے "رے" اور اس کے قرب و
جوار کے علماء اور وہاں سے گزرنے والے محدثین سے استفادہ کیا۔ کیا خود آپ کا بیان
ہے کہ "کتبت
بالذی قبل ان اخرج الی العراق نحو ثلثین شیخاً" رے سے عراق کی
جانب سفر کرنے سے پہلے میں نے وہاں کے تقریباً تیس مشائخ سے حدیثیں لکھیں۔ جب اپنے
شہر اور اطراف کے محدثین سے علم حاصل کر چکے تو مزید تحصیلِ علم کے لیے اکابر محدثین
کی روش پر رحلت و سفر کا آغاز کیا۔ تیرہ سال کی عمر میں طلبِ علم کے لیے عزیز وطن
کو خیرباد کہا اور کوفہ پہنچے پھر دوسرا سفر آپ نے ۲۲۷ھ
میں کیا اور ۲۳۲ھ میں واپس آئے پھر تیسرا سفر کیا اور
ساڑھے چار سال تک مختلف دیار و امصار کے شیوخ سے کسبِ علم کرتے رہے، وہ کہتے ہیں:
اقمت فی خرجت الثالثة بالشام والعراق ومصر
اربع سنین وسعة اشهر فما اعلم انی طبخت فیہا قدر ا ہدر نفسی" تیسرے
سفر میں جب شام، عراق اور مصر کی جانب میں نکلا تو ساڑھے چار سال تک قیام کیا اس
وقفے میں (طلبِ علم کی خاطر) میں نے کبھی اپنے ہاتھ سے کھانا نہیں پکایا۔
(المحدث
الفاصل ص ۲۳۰)
ان علمی اسفار میں آپ نے علم اور علماء کے
جن دیار کا رخ کیا ان میں بلادِ خراسان نیشاپور کے علاوہ حجاز، شام، عراق اور مصر
کے علمی مراکز شامل ہیں، خصوصاً بغداد، کوفہ، بصرہ اور حرمین کا آپ نے بار بار رخ
کیا۔ (ابوزرعہ رازی وجوہہ وفی النستج ص ۸۱) آپ
اپنے شیوخ سے حدیثیں سن کر قلم بند بھی کر لیا کرتے تھے۔ خود فرماتے ہیں "کتبت عن
ابن ابی شیبة مائة الف حدیث وعن ابراہیم بن موسیٰ رازی مائة صالف"
میں نے ابن ابی شیبہ سے ایک لاکھ اور ابراہیم بن موسیٰ رازی سے ایک لاکھ حدیثیں
لکھیں۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ۲ ص ۱۲۴)
اساتذہ :
ابو عاصم، ابو نعیم،
قبیصہ بن عقبہ، مسلم بن ابراہیم، ابو الولید طیالسی، احمد بن یونس، ثابت بن محمد
زاہد، خلاد بن یحییٰ، عبداللہ بن صالح عجلی، قعنبی، محمد بن سعید بن سابق، ابو
ثابت مدنی، ابراہیم بن شماس، حسن بن بشر بجلی، ابو سلمہ قبودکی، حسن بن ربیع بورانی،
حکم بن موسیٰ، صفوان بن صالح، سعید بن داؤد،عبدالرحمٰن بن شیبہ، علی بن الحمید معینی،
محمد بن صلت اسدی، یحییٰ بن عبداللہ بن بکیر، محمد بن امیہ ساوی، منجاب ابن حارث،
عبدالرحیم بن مطرف سروجی، ہشام بن خالد ازرق۔
(تہذیب
ج۷ ص۲۸)
حدیث:-
قوتِ حفظ و ضبط اور تلاش و جستجو، رحلت و
سفر کی کثرت کا یہ نتیجہ ہوا کہ ان کی احادیث کی تعداد حیرت انگیز طور پر کافی ہو
گئی جلیل القدر محدث امام احمد بن حنبل نے ایک مرتبہ فرمایا کل صحیح حدیثوں کی
تعداد سات لاکھ سے بھی کچھ زائد ہے ان میں سے چھ لاکھ حدیثیں اس نوجوان یعنی ابو
زرعہ کو یاد ہیں۔
صح من الحدیث سبع مائة الف حدیث و کسر و ھذا
الفتیٰ یعنی ابا زرعة قد حفظ ست مائة الف حدیث"
(تہذیب
ج۷ ص۳۰)
ابو
حاتم اعلانیہ کہا کرتے تھے "وما خلف بعدہ مثلہ
علماً وفقھاً وصیانة وصدقاً ولااعلم فی المشرق والمغرب من کان یفھم ھذا الشان مثلہ"
(تہذیب
التہذیب ج۷ ص۳۰)
علم، فقہ، فہم، صیانت، صدق میں ابو زرعہ نے
اپنا مثل نہیں چھوڑا۔ میرے علم میں مشرق ومغرب کا کوئی محدث ایسا نہیں ہے جو حدیثوں
کے پہچاننے میں ابو زرعہ کا ہمسر ہو سکے۔ ابو زرعہ خودفرمایا کرتے تھے "احفظ مائة
الف حدیث کما یحفظ الانسان قل ھو اللہ احد" (ایضاً)
مجھے ایک لاکھ حدیثیں تو اس طرح یاد ہیں جس
طرح کسی شخص کو سورۂ قل ھو اللہ شریف یاد ہوتی ہے۔ابو زرعہ فرمایا کرتے تھے "انا احفظ
عشرة آلاف حدیث فی القراءات" کہ میں دس ہزار حدیثیں قرأت میں یاد
رکھتا ہوں یعنی جب چاہوں بیان کر دوں۔
(تہذیب ج۷
ص۲۹)
آپ کی علمی جلالت کا اعتراف بڑے بڑے اکابر
علم نے کیا ہے۔خطیب بغدادی: "کان اماماً ربانیاً، حافظاً، مکثراً، صادقاً"
ابو زرعہ امامربانی، حافظ، مکثر الحدیث صادق تھے۔ (تہذیب
التہذیب ج۷ ص۲۹)
جرح و تعدیل:
امام ابو زرعہ رازی
کثرتِ حدیث کے ساتھ ساتھ فن اسماء الرجال اور نقدِ رواۃ میں بھی ملکہ رکھتے تھے۔
انہیں جرح و تعدیل میں امامت کا درجہ حاصل تھا۔ آپ کے اقوال جرح و تعدیل کے سلسلے
میں بڑے اہم سمجھے جاتے ہیں۔
حافظ ذہبی فرماتے ہیں "یعجبنی
کثیر الکلام ابی زرعۃ فی الجروح و التعدیل بین علیہ الورع و الخبرۃ بخلاف رفیقہ
ابی حاتم فانہ جراح" یعنی امام ابو زرعہ کا کلام جو جرح و تعدیل کے
سلسلے میں ہے مجھ کو بہت پسند ہے ان کے کلام پر تقویٰ و تجربہ واضح ہے بخلاف ان کے
دوست ابو حاتم کے کہ وہ بڑے جراح ہیں۔
(سیر
اعلام النبلاء ج ۱۳ ص ۸۱)
آپ نے امام ابو حاتم کے اشتراک سے امام
بخاری کی کتاب 'تاریخ کبیر' پر نقد کی نیز آپ کی کتاب 'الضعفاء' اور
امام برزعی کے سوالات کا جواب اسی فن جرح و تعدیل سے متعلق ہیں۔ جو آپ کے علم کی
عکاسی کرتے ہیں۔
حلقہ درس:
حضرت ابو زرعہ نے ۲۷ سال کی عمر ہی سے حدیث کا درس دینا شروع
کر دیا تھا ابو حفص عمر بن مقلاص کا بیان ہے ابو زرعہ ۲۲۷ھ
میں مصر آئے انہوں نے ابن بکیر، عمرو بن خالد اور دوسرے شیوخ سے سماع کر لیا تو ان
کے پاس اصحابِ حدیث جمع ہو گئے ابو زرعہ نے ان سب کو حدیث املا کرائی جب کہ ان کی
عمر ۲۷ برس تھی۔
یزید بن عبد السعد ذکر کرتے ہیں حضرت ابو
زرعہ ہمارے شہر میں تشریف لائے تو ان کے ارد گرد مستفیدین کا ایک وسیع حلقہ قائم
ہو گیا آپ جب واپس جانے لگے تو میں نے کہا حضرت اب یہاں کے حلقہ کے لئے آپ مجھے
اپنا قائم مقام بنا دیجیے تو آپ نے مجھے جانشین بنا دیا۔
(تاریخ بغداد ج ۱۰
ص ۳۲۸)
ابو زرعہ کا حلقہ درس بڑا وسیع ہو گیا تھا
لوگ دور دور سے ان کی خدمت میں سماعِ حدیث کے لئے حاضر ہوتے تھے آپ سے علم حاصل
کرنے والوں کی بہت بڑی تعداد ہے
تلامذہ:
مسلم، ترمذی، نسائی،
ابن ماجہ، اسحاق بن موسیٰ انصاری، خرملہ بن یحییٰ، ربیع بن سلیمان،محمد بن حمید
رازی، عمرو بن علی، یونس بن عبدالاعلیٰ، ابوحاتم، ابوزرعہ دمشقی، ابراہیم حربی،
محمد بن عوف طائی، سعید بن عمرو ازرعی، صالح بن محمد حزرہ، عبداللہ بن احمد،
عبدالرحمن بن ابی حاتم، ابوالقاسم بن محمد بن عبدالکریم، ابو عوانہ اسفرائنی، موسیٰ
بن عباس جوینی، عمر بن عبدالعزیز مقلاص، ابوبکر بن ابی داؤد،عبداللہ بن محمد بن
وہب دینوری، ابو یعلیٰ الموصلی، قاسم بن زکریا مطرز، علی بن حسین بن جنید، ابوبکر
بن زیاد وینساپوری، محمد بن حسین بن حسن بن قطان ۔
(تہذیب التہذیب ج ۷
ص ۲۹)
سِیرت و کردار:
علمی جلالت کے
ساتھ ساتھ آپ کے زہد و اتقاء کا اعتراف بھی لوگ بڑی فراخدلی سے کیاکرتے تھے یونس
بن عبدالاعلیٰ کہتے ہیں "ما رأيت أكثر تواضعاً من أبي زرعة"
میں نے امام ابوزرعہ سے زیادہ متواضع آدمی نہیں دیکھا ابو حاتم کا بیان ہے "ما خلف
أبو زرعة بعده مثله لاأعلم من كان يفهم هذا الشأن مثله وقلّ من رأيت في زهده"
ابوزرعہ نے اپنے پیچھےاپنے جیسا کوئی آدمی نہیں چھوڑا ان جیسا میں نے کم ہی دیکھا
ہے۔
(تذکرہ
ج ۲ ص ۱۲۵)
حافظ ذہبی فرماتے ہیں: ابوزرعہ
حفظ و ذکاء،
دین و اخلاص اور علم و عمل کے اعتبار سے زمانہ کے یکتا بزرگوں میں سے تھے۔
(تذکرہ ج ۲ ص ۱۲۵)
ابوبکر مقری نے ایک بار حضرت ابوزرعہ کا
تذکرہ کیا کسی نے دریافت کیا ابوبکر کیا ابوزرعہ ان حفاظِ حدیث میں سے تھے جن کو
آپ نے دیکھا سائل نے یہ کہہ کر ان حفاظ کا نام بھی لیا ابوبکر نے فرمایا ابوزرعہ
تو ان سب حفاظ سے اعلیٰ تھے کیوں کہ وہ حفظِ حدیث کے ساتھ تقویٰ و طہارت کے بھی جامع
تھے اس لحاظ سے وہ امام احمد بن حنبل کے مشابہ تھے۔ (تاریخ
بغداد ج ۱۰ ص ۳۳۳)
حمدون برذعی ابوزرعہ کے پاس حدیث لکھنے رہے
آئے لیکن جب وہ ان کے مکان میں داخل ہوئے تو انہوں نے وہاں عمدہ عمدہ قیمتی برتن
اور فرش وفروش دیکھے یہ سب چیزیں دراصل ابوزرعہ کے بھائی کی ملکیت تھیں لیکن حمدون
کو غلط فہمی ہوئی اور متنفر ہوکر سماعِ حدیث کے بغیر ہی گھرسے واپس لوٹ آئے اور
وطن کی مراجعت کا ارادہ کر لیا رات میں خواب دیکھا کہ وہ ایک حوض کےکنارے بیٹھے ہیں
اور پانی میں کسی انسان کا عکس پڑ رہا ہے اس عکس سے آواز آئی اے حمدون تم ا بوزرعہ سے کنارہ کشی کرتے ہو کیا تم کو معلوم
نہیں کہ امام احمد بن حنبل ابدال میں سے تھے جب ان کی وفات ہو گئی تو اللہ تعالیٰ
نے ان کے منصب و مقام پر ابو زرعہ کو فائز کر دیا۔ (ایضاً)
وہ عالمِ ربانی تھے وہ عبادت و ریاضت میں
بسا اوقات مصروف رہتے اس میں ان کو اس درجہ انہماک ہوتا تھا کہ گرد و پیش کی تمام
چیزوں سے بے خبر رہتے انہوں نے اپنے وطن کی مسجد میں بیس سال تک نماز پڑھی تھی اس
مسجد کی محراب میں کوئی عبارت لکھی ہوئی تھی لیکن انہوں نے بیس سال تک نماز اس
مسجد میں پڑھنے کے باوجود اس عبارت کو نہیں دیکھا تھا ایک دفعہ علماء حدیث کی ایک
جماعت مسجد میں آپ کی زیارت کے لیے آئی اور انہوں نے محراب میں لکھی ہوئی عبارت کو
دیکھ کر دریافت کیا محرابوں میں کچھ لکھنے کی نسبت آپ کی رائے کیا ہے؟ آپ نے فرمایا
ہمارے اسلاف کی ایک جماعت اس کو مکروہ سمجھتی تھی یہ لوگ بولے تو پھر آپ کی مسجد میں
یہ عبارت کیوں لکھی ہوئی ہے کیا آپ اس سے باخبر نہیں؟ فرمایا سبحان اللہ یہ کیسے
ہوسکتا ہے کہ ایک شخص مسجد میں اللہ کے حضور میں حاضر ہو پھر وہ اپنے سامنے کی چیزوں
کو بھی جانے۔ (صفوۃ الصفوۃ ج ۴ ص ۴۰) صبر و تحمل دوسرے کی عیب پوشی کا حد درجہ خیال
رکھتے لوگوں کی غلطیوں پر تنہائی میں تنبیہ کرتے۔
وفات:۔
مرض الموت میں جب
نزع کی کیفیت طاری ہوئی تو پاس ہی ابو جعفر تستری، ابو حاتم رازی، محمد بن مسلم،
منذر بن شاذان و دیگر علماء عہد موجود تھے ان حضرات نے آپس میں مشورہ کیا کہ حضور
صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے مطابق ابو زرعہ کو کلمہ شہادت تلقین کرنا چاہئے لیکن
آپ کی جلالتِ شان اور عظمت کے باعث تلقین کرتے ہوئے شرم آتی تھی آخر تدبیر یہ سوچی
کہ اسی حدیث کا تذکرہ کریں اس طرح خود بخود ان کو تلقین ہو جائے گی چنانچہ ان
علماء نے حدیث کی اسناد پڑھنی شروع کی لیکن کوئی اسے مکمل نہ کر سکا حضرت ابو زرعہ
نے اسی عالم میں پوری اسناد پڑھ کر سنائی اور اس کے بعد حدیث شروع کی "عن معاذ
بن جبل قال قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم من کان آخر کلامہ لا الہ الا اللہ"
اتنا کہتے ہی طائرِ روح عالمِ قدس کی طرف پرواز کر گیا اور آپ حدیثِ نبوی کے بموجب
"من
کان آخر کلامہ لا الہ الا اللہ دخل الجنۃ" یعنی جس کی
زبان سے بوقتِ مرگ آخری کلمہ لا الہ الا اللہ نکلے وہ جنت میں داخل ہوگا" جنتی
ہوئے۔
ابو زرعہ کتنے خوش نصیب تھے اور حدیثِ شریف
سے آپ کی پاکیزہ روح کو کتنا گہرا لگاؤ اور والہانہ تعلق تھا کہ موت کی آخری سانس
تک بھی علم و عمل کا ساتھ رہا۔
(تہذیب
التہذیب ج ۷ ص ۳۰)
وصال :
سانحہ ارتحال ذی
الحجہ ۲۶۴ھ میں بمقام (رے) وصال ہوا اور وہیں تدفین کی گئی۔
ماخذ
مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
