شیخ الاسلام ابوبکر احمد بن ابراہیم اسماعیلی
نام احمد
کنیت ابوبکر
لقب اسماعیلی
نسب
احمد بن ابراہیم بن اسماعیل بن عباس
بن مرداس۔
ولادت
آپ کی ولادت 277ھ میں
ہوئی ۔
ان کا خاندان علم
و فن میں مشہور تھا طلب علم کا شوق بیکراں انہیں ورثہ میں ملا تھا چنانچہ ۲۸۳ھ میں ۶/۷
سال کی عمر ہی سے حدیثوں کی کتابت کا آغاز کر دیا تھا اور نو دس سال کی عمر سے
باقاعدہ تحصیل علم میں مصروف ہو گئے تھے وہ شوق علم میں دور دراز بلاد و امصار کا سفر
کرنا چاہتے تھے مگر کم سنی کی وجہ سے ان کے گھر والے راضی نہ ہوئے ایک دن انہیں اس
عہد کے مشہور محدث محمد بن ایوب رازی علیہ الرحمہ کے انتقال کی خبر ملی تو کافی
صدمہ پہنچا گھر میں آکر سارے کپڑے پھاڑ ڈالے اور آہ و بکاء کرنے لگے اور سر پرخاک
ڈالنے لگے اہل خاندان نے یہ حال دیکھا تو جمع ہو گئے جامہ دری اور رونے دھونے کا
سبب دریافت کیا تو آپ نے جواب دیا دیکھو اپنے زبردست عالم کو اس عالم سے انتقال ہو
گیا ہے تم لوگوں نے مجھے ان کے پاس جانے کی اجازت نہیں دی مجھے اسی بات کا حد درجہ
صدمہ ہے کہ میں ان سے مستفید نہ ہوسکا اور ان کی دولت علم سے محروم رہ گیا رشتداروں
نے تسلی دی اور کہا اب بھی بہت سے علماء زندہ ہیں تمہارا جس طرف جی چاہے سفر کرو۔
جس محدث سے چاہو حدیث حاصل کرو آپ جان سے باہر نکلے اور ماموں کے ساتھ پہلے شہر نساء
گئے اور وہاں شیخ حسن بن سفیان کی خدمت میں حاضر ہوئے وہاں سے بغداد، کوفہ، بصره،
انبار، اہواز ،موصل، جزیرہ اور دوسرے اسلامی شہروں میں پھرتے رہے اور اکابر محدثین
کے علمی ذخیروں سے خوشہ چینی کرتے رہے۔ طلب حدیث کے لیے ان کا سفر اس وقت شروع ہوا
جب کہ ان کی داڑھی بھی نہیں آئی تھی۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۱۴۹)
اساتذہ
ابراہیم بن زہیر
حلواني، وابراہیم بن عبداللہ مخرمی، ابو یعلیٰ احمد بن علی موصلی، احمد بن محمد بن
مسروق، بہلول بن اسحاق تنوخی انباری، جعفر بن محمد فریابی، حسن بن سفیان شیبانی،
حمزہ بن محمد بن عیسیٰ کاتب، وعبداللہ بن ناجیہ، عبدان بن احمد بن عسکری، عمران بن
موسیٰ سختیانی، ابو خلیفہ فضل بن حباب جحمی، ابو بکر محمد بن اسحاق بن خزیمہ، محمد
بن حسن بن سماعہ، ابو جعفر محمد بن عبداللہ بن سلیمان حضرمی، محمد بن عثمان بن ابی
شیبہ، محمد بن یحیی بن سلیمان مروزی، یحییٰ بن محمد حنائی، قاضی یوسف بن یعقوب۔ (طبقات
الشافعیہ ج ۲ ص ۸۰)
علم و فضل
امام اسماعیل حفظ
و ضبط، ثقاہت و اتقان میں ممتاز تھے وہ حدیث وفقہ میں درجہ امامت پر فائز ہوئے ان
کے علمی کمالات کا اعتراف ارباب علم و فضل نے اس طرح کیا ہے۔
حافظ ذہبی: ”وابتهرت بحفظ هذا
الامام وجزمت بان المتاخرين على اياس من ان يلحقوا المتقدمين في الحفظ والمعرفة“ میں
اس جلیل القدر امام کے حافظہ کو دیکھ کر حیران رہ گیا میں پوری بصیرت سے رائے دیتا
ہوں کہ حفظ اور معرفت میں متأخرین ان کی گرد راہ کو بھی نہیں پا سکتے۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۱۴۹)
ابو الحسن بن علی: ”كان
الواجب للشيخ ابي بكر ان يصنف لنفسه شیئاً او یختارویجتھد فانه كان يقدر عليه
لكثرة ما كان كتب ولغزارة علمه وفهمہ جلالته وما كان ينبغي له ان يقتدي بكتاب محمد
بن اسماعيل فانه اجل من ان يتبع غيره“ وسیع علم قوی فہم اور جلالتِ قدر
کے پیشِ نظر شیخ ابوبکر کے لیے لازم تھا کہ وہ کتابِ بخاری کی تخریج کا پابند ہونے
کے بجائے سنن میں اپنی مستقل کتاب لکھتے جس میں آپ بے پناہ اجتہاد سے کام لے کر
اپنے مختارات جمع کرتے وہ اپنے عظیم ذخیرہ احادیث کی وجہ سے ایسا کر سکتے تھے اور
ان کا مقام دوسروں کی نقالی سے بہت اونچا تھا۔ (ایضاً)
امام حاکم: ”كان الاسماعيلي واحد عصره
وشيخ المحدثين والفقهاء واجملهم في الرياسة والمروة والسخاء ولا خلاف بين علماء
الفريقین وعقلائهم“ فریقین کے علماء اور ان کے عقلاء کے درمیان اس امر میں
کوئی اختلاف نہیں کہ امام اسماعیل اپنے زمانہ کے یکدانہ اور شیخ المحدثین والفقہاء
تھے ریاست ومروت اور سخاوت میں ان سب سے بڑھے ہوئے تھے۔
حمزہ بن علی: ”سمعت جماعة منهم
الحافظ ابن المظفر يحكون جودة قرأة ابى بكر وقالوا كان مقدماً في جميع المجالس كان
اذا حضر مجلساً لا يقرأ غيره“ میں نے اہل علم کی ایک جماعت سے جن میں
حافظ بن مظفر بھی شامل ہیں سنا ہے سب امام اسماعیل کی حسن قراءت کی داد دیتے تھے
اور کہتے تھے مجالس درس میں بھی قراءت کرتے تھے ان کے ہوتے ہوئے کسی کو پڑھنے کی
جرات نہ ہوتی تھی۔ (تذکرہ)
شاہ
عبدالعزیز محدث دہلوی: ”فقہ وحدیث کے جامع اور دین و دنیا کی ریاست کے مالک ہوئے“۔ (بستان المحدثین ص
۶۰)
حدیث
امام اسماعیل منقولات
کے متبحر عالم اور کامل الفن محدث تھے وہ حدیث میں مرجع و مقتدی کی حیثیت رکھتے
تھے امام حاکم نے ان کو شیخ المحدثین اور امامِ اہلِ جرجان کہا ہے۔ نیز فر مایا ان
کے ضبط و ثقاہت میں کوئی اختلاف نہیں کیا گیا ہے شہرت کے بارے میں ابن فرات لکھتے
ہیں کہ ”لقد
رزق من العلم والجاه والصيت الحسن“ ان کو علم وجاہ اور اچھی شہرت نصیب ہوئی۔
حافظ حسن بن علی
فرماتے ہیں اسماعیلی اس پایہ کے محدث تھے کہ حدیث وسنن میں مستقل کتابیں لکھتے مگر
انہوں نے مستخرج مرتب کرنے پر اکتفا کیا ان کو اکثر کتابیں یاد تھیں اور اللہ تعالیٰ
نے علم و افروز ذہن رسا سے نوازا تھا ۔
حافظ ذہبی: "قد جمع مع امامته فى
علم الحديث والفقه رفعة الاسناد والتفرد ببلاد العجم" اسماعیلی
نے حدیث وفقہ میں درجہ امامت پر فائز ہونے کے ساتھ ساتھ ضبط اسانید میں بھی بلند
مقام حاصل کیا اور بلادِ عجم میں یکتا سمجھے گئے ۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۱۵۲)
حلقہ درس
امام اسماعیلی تحصیل
علم کے بعد جب مسندِ درس پر جلوہ افروز ہوئے تو ان کی مجلسِ درس نے کافی وسعت حاصل
کی حلقہ درس میں طلبہ و مستفیدین کا ہجوم غفیر ہوا کرتا تھا۔ درسِ حدیث کی اہمیت
کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ آپ کی زبان سے جو کچھ نکلتا تلامذہ اسے
نقل کر لیا کرتے تھے ان کے تلامذہ کی بہت بڑی تعداد ہے چند اہم نام یہ ہیں:
تلامذہ
ابو القاسم عبدری،
ابو بکر بن محمد بن غالب برقانی، حسین بن محمد باسانی، حمزہ بن یوسف سہمی، ابو عمر
و عبد الرحمن بن محمد فارسى، عبد الواحد بن منير معدل، ابو جعفر محمد بن احمد حجازی،
ابو بکرمحمد بن ادریس جرجانی، ابو عبد اللہ محمد بن عبد اللہ حاکم، ابو علی محمد
بن علی سہل، ابو الحسن محمد بن علی طبری، ابو حازم عبدوی۔
فقہ
امام اسماعیلی حدیث
کی طرح فقہ واجتہاد میں بھی صاحب کمال اور امام ومقتدی تھے علامہ سمعانی کا بیان
ہے کہ اسماعیلی اہلِ جرجان کے امام اور فقہ وحدیث میں مرجع تھے موصوف سے علم فقہ
ان کے بیٹے ابو سعد اور علماء جرجان نے حاصل کیا۔ (تذکرہ
ج ۳ ص ۳۷)
امام اسماعیلی امام شافعی کے مقلد تھے اور
ائمہ شوافع میں شمار کیے جاتے تھے امام حافظ لکھتے ہیں اس علاقہ میں شوافع کے سب
سے بڑے رہنما تھے۔ (تذکرہ)
تصانیف
امام اسماعیلی نے
بہت سی کتابیں لکھیں ان میں بعض اہم تصانیف یہ ہیں:
(۱) مسند
عمر (۲) مسند کبیر (۳) مستخرج
(۴) معجم (۵) مسند
کبیر یہ کافی ضخیم کتاب ہے جو تقریباً سو جلدوں پر مشتمل تھی۔
مستخرج اسے صحیح اسماعیلی بھی کہتے ہیں یہ
صحیح بخاری پر مستخرج ہے جو بے شمار فوائد اور معلومات پر مشتمل ہے۔
معجم
اسماعیلی کی یہ
اہم تصنیف ہے مصنف خود تحریر فرماتے ہیں میں نے جن شیوخ سے حدیثیں سنیں اور لکھی ہیں
ان کے سامنے قرات کی ہے ان کے ناموں کے حروفِ تہجی کی ترتیب پر تخریج کے متعلق
اللہ تعالی سے استخارہ کیا تا کہ طلباء کو اس سے سہولت ہواور ناموں میں التباس
واشکال کے وقت وہ اس کی جانب رجوع کرسکیں ہر شیخ کی صرف ایک ہی حدیث نقل کرنے پر
اکتفاء کیا گیا ہے جن راہوں میں میرے خیال میں کذب واوہام کا شائبہ تھا ان شیوخ سے
تفرد کی بناء پر ناپسندیدہ ہیں ان کی حیثیت اس میں اچھی طرح واضح کر دی گئی ہے لیکن
جن لوگوں کا قدح و طعن بالکل واضح اور ظاہر ہے ان کی حدیث کی تخریج کا سوال ہی پیدا
نہیں ہوتا میں نے تیمناً و تبرکاً اس کا آغاز اسم احمد سے کیا ہے اور جمادی الاولیٰ
۳۶۱ھ میں اس کی جمع و تالیف کی ابتدا ہوئی۔
وصال
94 سال کی عمر میں
رجب ۳۷۱ھ میں انتقال ہوا ۔
نماز جنازہ
آپ کے صاحبزادے ابو نصر نے نمازِ جنازہ کی امامت
کروائی ۔
ماخذ
مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
