امیر کبیر حافظ علی ابن ماکولا بغدادی عجلی
نام : علی
عرف : ابن
ماکولا
کنیت : ابو نصر
لقب: بغدادی،عجلی
ولادت :
آپ کی ولادت
بمقام عکبرا (۴۲۲) ھ میں
ہوئی۔
عجل جس کی طرف
نسبت کرتے ہوئے آپ عجلی کہلاتے ہیں بکر بن وائل کا ذیلی قبیلہ ہے جو عرب کے ایک عظیم
قبیلہ ربیعہ بن نزار بن معد بن عدنان کی شاخ ہے۔ اصفہان کے نواحی میں جرباذقان نامی
قصبہ آپ کا آبائی وطن تھا مگر بغداد کو آپ
نے وطن بنایا۔
آپ ایک علمی
خانوادہ کے چشم و چراغ تھے۔ آپ کے والد محترم امیر المؤمنین قائم باللہ کے وزیر
اور آپ کے چچا حسین بن علی بغداد کے قاضی القضاۃ (چیف جسٹس) رہے ہیں۔
تحصیلِ علم:
حافظ ابن ماکولا
بچپن ہی سے علم کے شائق تھے۔ خاندانی ماحول اور گردوپیش کی فضا نے اس شوق کو مزید
جلا بخشی، اور وہ کم سنی ہی سے طلب علم کے کوچہ میں داخل ہوئے۔ وہ مشائخ کی
بارگاہوں میں جاتے اور ان سے حدیث کا سماع کرتے اس سلسلے میں انہوں نے دور دراز
ملکوں اور شہروں کے سفر بھی کیے۔ اور وہاں کے علماء و شیوخ سے علم حاصل کیا ابو سعید
سمعانی فرماتے ہیں "طاف الدنیا واقام ببغداد"
آپ نے علمی دنیا
کا سفر کیا تکمیلِ علم کے بعد ہمیشہ کے لیے بغداد میں مقیم ہو گئے۔ (تذکرہ ج ۴ ص ۵)
آپ نے بغداد،
عراق، خراسان، شام، مصر، دمشق، ماوراء النہر، جبال اور جزیرہ کے علماء و مشائخ سے
کسب علم کیا۔
شیوخ :
بشرى بن عبد
الله فاتنی، عبید اللہ بن عمر بن شاہین، ابو طالب بن غیلان، ابو طیب طبری، ابو
منصور محمد بن محمد سواق، احمد بن محمد عتیقی، ابو بکر بن بشران، عبد الصمد بن
مکرم، ابو القاسم حنائی، احمد بن قاسم بن میمون، مصری۔ (ایضاً)
علم و فضل:
ابن ماکولا وقت
کے متبحر عالم اور بلند پایہ محدث تھے۔ خطیب کے بعد بغداد میں آپ ہی کا نام لیا
جاتا تھا۔ حدیث، ادب، نحو میں کمال رکھتے تھے۔ پرگو اور قادر الکلام شاعر بھی تھے۔
بڑی فصیح گفتگو کرتے۔ نظم و نثر پر یکساں قدرت رکھتے تھے۔ سمعانی کہتے ہیں:
"کان ابن ماکولا
لبیباً عارفاً حافظاً بر شح للحفظ حتی کان یقال لہ الخطیب الثانی و کان نحویاً
مجوداً و شاعراً مبرراً جزل الشعر فصیح العبارة صحیح النقل ما کان فی البغدادیین
مثله فی زمانه"ابن
ماکولا عقلمند، حافظِ حدیث اور اس کے فن کو خوب سمجھنے والے تھے۔ آپ کے حفظ و ضبط
کا یہ حال تھا کہ آپ کو خطیب ثانی کے معزز لقب سے یاد کیا جاتا تھا۔ آپ علم نحو کے
ماہر اور باکمال شاعر تھے۔ آپ کی عبارت بہت فصیح اور نقل بہت صحیح ہوتی تھی۔ آپ کے
زمانہ میں بغداد میں آپ جیسا دوسرا کوئی آدمی نہیں تھا۔ (ایضاً)
علمِ حدیث اور
نقدِ رجال میں آپ کو بڑا ملکہ حاصل تھا۔ قدرت نے حفظ و ضبط کی اعلیٰ قوت عطا فرمائی
تھی جس کی وجہ سے ضبطِ روایت اور اتقان میں انہیں بلند مقام حاصل ہو گیا تھا۔ انہیں
حدیثوں کے حفظ و ضبط پر اتنا اعتماد تھا جس کا اندازہ ہبۃ اللہ بن مبارک بن دوقی
کے اس قول سے بخوبی ہو سکتا ہے۔ "اجتمعت بالامیر ابن ماکولا فقال لی خذ جزئین من الحدیث فاجعل
متون هذا الجزء لاسانید هذا الجزء متونه لاسانید الاول حتی ارده الی حاله الاولی"
"میں نے امیر ابن ماکولا سے ملاقات کی تو فرمانے لگے حدیث کی کوئی دو کتابیں
لو ایک کے متن دوسری کتاب کی سندوں سے اور دوسری کی سندوں کو پہلی کے متنوں سے لگا
دو پھر میں ان کو اصل حالت میں لوٹا کر صحیح کروں گا۔
(تذکرہ ج
۴ ص ۵)
ابن نجار کہتے ہیں: "احب العلم من
الصبا وطلب الحدیث واتقن الادب وله النظم والنثر والمصنفات" "انہیں
بچپن سے ہی علم سے محبت تھی اس لیے فن حدیث بڑے ذوق و شوق سے سیکھا اور علم ادب میں
استحکام پیدا کیا۔ آپ کو نظم ونثر دونوں پر یکساں قدرت حاصل تھی آپ نے بڑی پرمغز
کتابیں تصنیف کی ہیں۔ (ایضاً)
حمیدی کہتے ہیں: "ما راجعت الخطیب
فی شی ءالا واحالنی علی الکتاب وقال حتی اکشفه وما راجعت ابن ماکولا فی شی ءالا
واجابنی حفظا کانه یقرأ من کتاب" "جب میں کسی اہم مسئلہ میں خطیب سے مراجعت
کرتا تو وہ کسی کتاب کا حوالہ دے دیتے میں اس کتاب سے وہ مسئلہ خود حل کرتا لیکن
جب میں امیر ابن ماکولا سے مراجعت کرتا تو وہ مجھے اس طرح فی البدیہہ جواب دیتے جیسے
کتاب سے پڑھ کر بتا رہے ہوں۔ (ایضاً ص ۴)
حافظ شیرویہ کہتے ہیں: "وکان حافظاً
متقناً عنی بهذا الشان ولم یکن فی زمانه بعد الخطیب احد افضل منه حضره الکبار من
شیوخنا وسمعوا منه" "آپ صاحب ضبط و اتقان حافظِ حدیث تھے۔ اس فن
سے آپ کو شدید محبت اور انتہائی وابستگی تھی۔ آپ کے زمانہ میں امام خطیب بغدادی کے
بعد ان سے افضل کوئی نہیں تھا۔ آپ کی مجلسِ درس میں ہمارے بڑے بڑے شیوخ اور نامی
گرامی اساتذہ نے حاضری دی اور آپ سے سماعِ حدیث کیا۔ (ایضاً)
فنِ جرح وتعدیل:
حدیث میں کثرتِ ضبط و اتقان کے ساتھ ساتھ فنِ اسماء
الرجال اور جرح وتعدیل کا بھی وافر علم رکھتے تھے۔ آپ نے خطیب کی کتاب
"الموضح" پر مواخذہ کیا ہے اور مستمر الاوھام کے نام سے ایک عظیم کتاب
تصنیف کی ہے۔ فنِ موتلف اور مختلف میں راویوں کے سلسلے میں وسیع معلومات، دقتِ نظر
اور مہارت کی ضرورت پڑتی ہے۔ آپ کی کتابوں سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو راویوں کے
بارے میں بھرپور معرفت حاصل تھی۔
علامہ ابن خلکان
فرماتے ہیں۔
"امیر ابن ماکولا
کو اس کتاب "الاکمال" کی موجودگی میں کسی اور فضیلت کی ضرورت نہیں اس کا
وجود آپ کی کثرتِ اطلاع، ضبط و اتقان پر دلالت کرتا ہے"۔ (شذرات الذھب ج ۳ ص ۳۸۲)
تلامذہ:
حافظ ابو بکر خطیب، فقیہ نصر مقدسی، ابو محمد حسن بن
سمرقندی، محمد بن عبد الواحد دقاق، شجاع ذھلی، حمیدی، محمد بن طرخان ترکی، ابو علی
محمد بن محمد مہدی، ابو القاسم اسماعیل بن سمرقندی، علی بن ہبۃاللہ بن عبد السلام
کا تب۔ (ایضاً)
تصانیف:
حافظ ابن ماکولا چوٹی کے مصنف بھی تھے۔ انہوں نے حدیث اور
متعلقاتِ حدیث پر گرانقدر کتابیں تحریر کیں۔ آپ کی مصنفانہ عظمت کے بارے میں ابن
خلکان رقمطراز ہیں "وصنف المصنفات النافعة" انہوں نے
مفید کتابیں تصنیف فرمائیں۔ (وفیات الاعیان)
ابن نجار کہتے ہیں "ولہ المصنفات"
ان اقوال سے پتہ چلتا ہے کہ انہوں نے متعدد مفید کتابیں تصنیف کی تھیں۔ جن میں
مستمر الاوہام اور الاکمال کافی مشہور ہیں۔
الاکمال:
یہ کتاب فن مؤتلف ومختلف کی انتہائی مشہور اور جامع کتاب
ہے جس کا پورا نام "الاکمال فی رفع الارتياب عن المؤتلف والمختلف فی الاسماء
والکنی والانساب" ہے۔ اس کتاب میں امام دارقطنی، حافظ عبدالغنی ازدی
اور خطیب بغدادی جیسے نامور محدثین کے علم کے ساتھ ساتھ ابن ماکولا کا کمال بھی
شامل ہے۔ کتاب کی تصنیف کا سبب اس طرح بیان کرتے ہیں۔
"امام دارقطنی،
خطیب بغدادی وغیرہ کی کتاب دیکھنے کے بعد یہ خیال پیدا ہوا کہ اس فن میں ایک ایسی
کتاب تحریر کر دی جائے جو ان کتابوں کو شامل ہو اور ان میں جو نہیں آسکا ہے اس میں
داخل ہو جائے"۔ (تکملہ کمال الاکمال ص ۱۵)
اس کام میں ابن ماکولا کو بھرپور کامیابی حاصل ہوئی اور
ان کی کتاب کو شہرت و قبولِ دوام کی دولت نصیب ہوئی۔ ابن خلکان لکھتے ہیں۔
"وهو في غاية الافادة في رفع الالتباس والضبط والتقييد
وعليه اعتماد المحدثين وارباب هذا الشان فانه لم يوضع مثله ولقد احسن فيه غاية
الاحسان" یہ
کتاب رفع التباس، ضبط اور تقیید میں نہایت مفید ہے اور اس پر ائمہ محدثین اور
ارباب فن پورا اعتماد کرتے ہیں کیوں کہ اس کے مانند کوئی کتاب نہیں لکھی گئی۔ اور
وصال:
کرمان کے سفر میں
دوران سفر بمقام جرجان خوزستان یا اہواز بقول ابن عساکر ۴۷۵ھ میں آپ
کے ترک غلاموں نے شہید کر ڈالا اور سارا مال واسباب لوٹ کر لے گئے۔ سن وفات میں
ارباب سیر کا ، کافی اختلاف ہے۔
بقول ابن ناصر ۴۸۶ھ یا ۴۸۷ھ سمعانی کے
مطابق ۳۸۰ھ کے بعد حادثۂ شہادت پیش آیا۔ علامہ ابوالفرج ابن جوزی
نے المنتظم میں لکھا ہے کہ آپ ۴۷۵ھ میں قتل ہوئے
اور بقول بعض آپ کی وفات ۴۸۶ھ میں ہوئی اور
کچھ لوگوں نے لکھا آپ ۴۷۹ھ اور ایک قول
کے مطابق ۴۸۷ھ میں خوزستان میں قتل ہوئے۔ (تذکرۃ
الحفاظ ج ۳ ص ۶)
ماخذ مراجع،
محدثین عظام حیات و خدمات
