حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاکی(روایت کردہ)حدیث میں ان کا ذکرہے۔اس کو ابوزکریا بن مندہ نے کہاہے اوریہ بھی کہاہے کہ ان کو بعض محدثین نےذکرکیاہے اوراس کو حسن بن سفیان پر حوالہ کیاہے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے میں کہتاہوں کہ وہ عطیہ بن عازب بن عفیف وہ شخص ہیں جن کوہم نے ذکرکیاہےاوروہاں پر ان کے داداتک ان کا نسب بیان کیاہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
سعدی ہیں سعدبن بکرکے خاندان سے تھے ان کی حدیث ان کی اولادسے مروی ہے۔ عروہ بن محمد بن عطیہ نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ ان کے والد نے بیان کیاکہ میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بنی سعد بن بکرکے لوگوں کے ساتھ آیا۔اورمیں ان سب میں بہت چھوٹا تھاچنانچہ ان لوگوں نے مجھ کو اپنے قافلہ میں چھوڑدیااورخود نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں گئےاوراپنی حاجتیں بیان کیں آپ نے فرمایاکیاتم میں اورکوئی بھی باقی ہے ان سب نے کہاکہ ہاں ایک لڑکاہمارے قافلہ میں ہے توآپ نے ان لوگوں کو حکم دیا کہ وہ لوگ مجھ کو رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس بھیج دیں پس ان لوگوں نے مجھ سے کہاکہ تم رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاؤچنانچہ میں آپ کی خدمت میں حاضرہواکہ دینے والے کا ہاتھ بہت بلندہے اورسوال کرنے والے کاہاتھ بہت نیچاہے۔اسمعیل بن عبیداللہ نے عطیہ بن عمروسے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم س۔۔۔
مزید
ان کا شماراہل شام میں ہے۔ان سے شریح بن عبیدنے روایت کی ہے وہ کہتےتھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب کسی شخص کے تحفہ سے خوش ہوتےتھےتواس کونمازکاحکم فرماتےتھے۔ ان کا نام عطیہ ہی بیان کیاگیاہے اوربعض نے کہاہے کہ عقبہ بن عامر۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اور ابونعیم نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عفیف نضری ہیں لوگوں نے ان کو صحابی کہاہے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے اورکہا ہے کہ اس کے سوامیں اورکچھ نہیں جانتاہوں اورحضرت عائشہ سے ان کا نام عفیف روایت کیاہے اس کو ابونضر نےبیان کرکے کہاہے کہ یہ صحابی تھے شام میں رہتےتھے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن عبداللہ بن ربیعہ ثقفی حجازی ہیں۔اوربعض نے ان کو سفیان بن عینیہ کہاہے۔ہم کو عبیداللہ بن احمدنے اپنی سند کے ساتھ یونس بن بکیرسےانھوں نے محمد بن اسحاق سے انھوں نے عیسیٰ بن عبداللہ بن مالک سے انھوں نے عطیہ بن سفیان بن عبداللہ بن عبداللہ بن ربیعہ سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتےتھےکہ ماہ رمضان میں ثقیف کاوفد رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوا تو آپ نے ان کےواسطے مسجد میں ایک خیمہ نصب کرادیاجب وہ لوگ اسلام لائے توآپ کے ساتھ انھوں نےروزہ رکھامگرابن اسحاق نے یہ نہیں ذکرکیاہے کہ آپ نے ماہ رمضان کے ایام گذشتہ کی قضاکاان کوحکم دیااوراس کوزیادبکائی اورابراہیم بن مختار نے عیسیٰ بن عبداللہ سے نقل کرکے بیان کیاہے کہ علقمہ بن سفیان سے روایت کی گئی ہے اوربعض نے کہاہے کہ عطیہ سے روایت کی گئی ہے اورانھوں نے اپنے بعض وفد سے روایت کی ہے۔ان کا تذکرہ ابن مندہ اورابونعیم نے۔۔۔
مزید
بن غباب تغلی ہیں مالک بن عدی بن زید کی اولاد سےتھے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کےپاس وفد میں آئے تھےاورواقعہ قادسیہ میں(قبیلہ)تغلب اورنمراورایادپرسردارتھے اس کا ابن دباغ نے سیف بن عمرسے نقل کرکے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
ہیں عبداللہ بن بسرکے بھائی تھے۔شام میں رہتے تھے۔ہم کوابوالفضل یعنی منصور بن ابوالحسن مخزومی نے اپنی سند کوابویعلی موصلی تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے کہ ابوطالب یعنی عبدالجبار بن عاصم نے کہاہے کہ ہم سے بقیہ بن عبدالولید نے معاویہ بن یحییٰ سے انھوں نے سلیمان بن موسیٰ سے انھوں نے مکحول سے انھوں نے غفیف بن حارث سے انھوں نے عطیہ بن بسر مازنی سے نقل کرکے بیان کیاوہ کہتے تھے(ایک دن)عکاف بن وداعہ ہلالی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس حاضرہوئے توآپ نے فرمایاکیاتمھاری زوجہ ہےاورپوری حدیث بیان کی۔وہ عکاف بن وداعہ ہلالی کے تذکرہ میں بیان ہوگی۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید
بن زرارہ بن عدس بن زیدبن عبداللہ بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زید بن مناہ بن تمیم تمیمی ہیں یہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گروہ سرداران تمیم کے ساتھ وفد ہوکرآئےتھے ان میں سے اقرع بن عابس اورزبرقان بن بدراورقیس بن عاصم وغیرہم تھے۔ یہ سب اسلام لائے۔یہ ۹ھ ہجری کا واقعہ تھااورکہاگیاہے کہ ۱۰ھ ہجری کاواقعہ تھا مگرپہلاقول صحیح ہے اوریہ اپنی قوم کے سردارتھے۔یہ عطارد وہی شخص ہیں جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کووہ ریشمی کپڑاہدیتاً دیاتھا جوان کو کسریٰ نے پہننے کے لیے دیاتھاصحابہ نے اس کپڑے کودیکھ کر تعجب کیا تو آپ نے فرمایاکہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہترہیں پھرفرمایاکہ تم لوگ اس کوابوجہم حذیفہ کے پاس لے جاؤاوران سے کہو کہ وہ میرے واسطے اس کے عوض میں ایک کرتہ بھیج دیں جب حمجاح تمیمہ نے نبوت کادعوی کیاتھاتو یہ ان لوگوں میں سے تھے جن لوگو۔۔۔
مزید
بن زرارہ بن عدس بن زیدبن عبداللہ بن دارم بن مالک بن حنظلہ بن مالک بن زید بن مناہ بن تمیم تمیمی ہیں یہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک گروہ سرداران تمیم کے ساتھ وفد ہوکرآئےتھے ان میں سے اقرع بن عابس اورزبرقان بن بدراورقیس بن عاصم وغیرہم تھے۔ یہ سب اسلام لائے۔یہ ۹ھ ہجری کا واقعہ تھااورکہاگیاہے کہ ۱۰ھ ہجری کاواقعہ تھا مگرپہلاقول صحیح ہے اوریہ اپنی قوم کے سردارتھے۔یہ عطارد وہی شخص ہیں جنھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کووہ ریشمی کپڑاہدیتاً دیاتھا جوان کو کسریٰ نے پہننے کے لیے دیاتھاصحابہ نے اس کپڑے کودیکھ کر تعجب کیا تو آپ نے فرمایاکہ جنت میں سعد بن معاذ کے رومال اس سے بہترہیں پھرفرمایاکہ تم لوگ اس کوابوجہم حذیفہ کے پاس لے جاؤاوران سے کہو کہ وہ میرے واسطے اس کے عوض میں ایک کرتہ بھیج دیں جب حمجاح تمیمہ نے نبوت کادعوی کیاتھاتو یہ ان لوگوں میں سے تھے جن لوگو۔۔۔
مزید
۔ابوعشراءدارمی کے والد تھے ان سے ان کے بیٹے ابوعشراء نے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہایارسول اللہ سوائے حلق اورلبہ کے(کسی دوسرے مقام پرزخم لگانےسے)کیاذبح نہیں ہوتا ہے۔آپ نے فرمایا کہ اگرذبیحہ کی ران میں برچھاماروتب بھی تم کوکافی ہے۔اورہم ان کا تذکرہ لکھ چکے ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد بمبر 6-7)۔۔۔
مزید