ہفتہ , 08 ذو القعدة 1447 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Saturday, 25 April,2026

سیّدنا عبیداللہ ابن محصن رضی اللہ عنہ

  انصاری ہیں انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاہے ہم کوابراہیم بن محمدبن مہران فقیہ وغیرہ نے اپنی سندوں کو محمدبن عیسیٰ بن سورہ تک پہنچاکرخبردی وہ کہتے تھے ہم سے عمروبن مالک اور محمود بن خداش بغدادی نے بیان کیاوہ دونوں کہتے تھےہم سےمروان بن معاویہ نے بیان کیاوہ کہتے تھےہم سے عبدالرحمن بن ابی شمیبلہ انصاری نے سلمہ بن عبیداللہ بن محمد بن انصاری حطمی سے انھوں نے اپنے والدسے جوصحابی تھے انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرکےبیان کیاکہ آپ فرماتے تھےجس شخص نے اس حال میں صبح کی کہ اس کو اپنی جان کاخوف نہ ہواوربدن صحت و عافیت کے ساتھ ہواوراس دن کھانے پینے کوبھی اس کے پاس ہوتواس کوگویاتمام دنیا کی نعمت مل گئی  ان سے ان کے بیٹے سلمہ نے بھی (ماہ)رمضان کی فضیلت میں ایک حدیث نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی روایت کی ہے۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہےاورابوعمرنے کہاہے کہ بعض لوگوں نے عبیداللہ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ بن مالک رضی اللہ عنہ

  ا بن نعمان بن یعمربن ابی اسیداسلمی ہیں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے صحابی تھے ان کو غسانی نے ابن کلبی سے روایت کرکے بیان کیاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ ابن کثیر رضی اللہ عنہ

  محمدکےوالدتھے۔ان کے صحابی ہونےمیں اختلاف ہےسلیمان بن بلال نے سہیل بن ابی صالح سے انھوں نے محمد بن عبیداللہ سےانھوں نے اپنے والدسےروایت کی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایاجوشخص اللہ تعالیٰ کے پاس اس حال میں جائےگا کہ (وہ زندگی میں)شراب خورتھاتواللہ کے سامنےاس کی وہی حالت ہوگی جوبت پرست کی ہوتی ہے۔اس حدیث کومحمد بن سلیمان اصفہانی نے سہیل سے انھوں اپنے والدسےانھوں نےابوہریرہ سےروایت کیاہے۔ان کا تذکرہ تینوں نے لکھاہےلیکن ابوعمرنے ان کوعبیداللہ بن کثیربیان کرکے محمدکاوالدکہاہےاور ابن مندہ نے ان کوعبیداللہ ابومحمدبیان کیاہے۔اورابونعیم نےکہاہے کہ یہ عبیداللہ ہیں اوران کانسب نہیں بیان کیاگیاہے(ان تینوں قولوں سے)یہ گمان ہوتاہے یہ تین شخص(علیحدہ علیحدہ)ہیں حالاں کہ (یہ تینوں شخص جوعلیحدہ علیحدہ عنوان سے بیان ہوئے ہیں)ایک ہی شخص ہیں واللہ اعلم۔ ابوعمر نے کہاہے کہ محمداوران کے والدعبی۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ ابن فضالہ رضی اللہ عنہ

   لیثی ہیں۔ابوموسیٰ نے کہاہے کہ ان کوابن مندہ نے عبداللہ کے نام میں بیان کیاہے اور ان کا نسب نہیں اورابن شاہین نے ان کوعبیداللہ کے نام میں بیان کیاہےاورااپنی سندکے ساتھ عدی بن فضل سے انھوں نے داؤدبن ابی  ہندسے انھوں نے ابوحرب بن ابی اسودویلی سے انھوں نے عبیداللہ بن فضالہ سے نقل کرکے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے میں رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے پاس(ایک سفرسے)آیاتوآپ نے فرمایاجس کو کوئی شناسا ہو وہ اپنے شناساکے یہاں اترے اورجس کا کوئی شناسانہ ہو وہ اہل صفہ کے پاس اترے (حسب الحکم)میں اہل صفہ کے پاس اتراجمعہ کے دن رسول خدا صلی اللہ وسلم منبرپرتشریف رکھتے تھے کہ ایک شخص نے بھوک کی شکایت کی آپ نے فرمایاعنقریب بڑے بڑے ظروف جولوگ تم سے زندہ رہیں گےان کے سامنے صبح وشام (دونوں وقت)کھانے کے لگائے جائیں گےاورکھان کھائیں گے کپڑے(ایسے پرتکلف)جیسے کعبہ کے پردے اس حدیث کو بہت سے لوگوں نے۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ

  ابن عمربن خطاب بن نفیل قریشی عدوی ہیں ابوعیسیٰ ان کی کنیت تھی ان کانسب ان کے بھائی کے بیان میں گذرچکاہے یہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں پیداہوئےتھےقریش کے شہسواروں اوربہادروں میں سے تھے انھوں نے اپنے والداورحضرت عثمان بن عفان اورابوموسیٰ وغیرہم سے حدیث کی سماعت کی ہے زید بن اسلم نے اپنے والد سے روایت کی ہے کہ حضرت عمر نے اپنے بیٹے عبیداللہ کودرے لگائے اورکہاتم نے اپنی کنیت ابوعیسیٰ رکھی ہے(تویہ بتاؤ)حضرت عیسیٰ کاکوئی باپ تھایہ عبیداللہ جنگ صفین میں حضرت معاویہ کے ساتھ شریک تھے اوراسی جنگ میں ان کی شہادت ہوئی ان کاجنگ صفین میں (معاویہ کی طرف سے)شریک ہونے کاسبب یہ تھا کہ جب ابولؤلؤنے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کوشہید کرڈالااوران کے کفن دفن سے فراغت ہوئی تو کسی نے عبیداللہ سے کہاہم دیکھتے ہیں کہ ابولؤلؤ اورہرمزان دونوں بچ گئے حالاں کہ ہرمزان وہ خنجرجس سے حضرت عمرکوشہیدکیاتھاا۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ بن عدٰی رضی اللہ عنہ

  ا بن خیاربن عدی بن نوفل بن عبدمناف قریشی نوفلی ہیں ان کی والدہ ام قتال بنت البدبن ابی العیص عتاب بن اسید کی بہن تھیں یہ  رسول خدا صلی اللہ علیہ  وسلم کے زمانے میں پیداہوئے تھے اورولیدبن عبدالملک کے زمانے میں وفات پائی مدینہ میں حضرت علی کے مکان کے پاس ان کا مکان تھاانھوں نے حضرت عمراورعثمان رضی اللہ عنہما سے روایت کی ہے کہ ہم کو مکی بن وہاب بن شبہ نحوی نے اپنی سند کویحییٰ بن یحییٰ تک پہنچاکرامام مالک سے انھوں نے ابن شہاب سے انھوں نے عطاء بن یزید لیثی سے انھوں نے عبیداللہ بن عدی ابن خبارسے نقل کرکےخبردی وہ کہتےتھےایک روز رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے درمیان میں تشریف رکھتے تھے یکایک ایک شخص آیا اور اس نے آپ سے کچھ چپکے سے کہاہم لوگ نہ سمجھ سکے کہ چپکے سے اس نے کیاکہایہاں تک کہ رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلندآوازسے جواب دیااس جواب سے معلوم ہوا کہ وہ ایک منا۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ ابن عبید رضی اللہ عنہ

  بن تیہان بعض لوگوں نے بیان کیاہے کہ عبیداللہ عتیک کے بیٹے تھے کیوں کہ عبیدکے بیان میں عتیک کو بھی بیان کیاہے ان کا نسب عبیداللہ بن تیہان کے نام میں گذرچکاہے اورابوہثیم کے بھتیجے تھےواقعہ یمامہ میں شہیدہوئے تھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہ

   بن عبدالمطلب بن ہاشم قریشی ہاشمی ہیں یہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے چچازادبھائی تھے ان کی والدہ لباب کبری ام الفضل بنت حارث تھیں۔ان کی کنیت ابومحمد تھی رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاتھااورآپ کی حدیثیں بھی ان کویادتھیں۔یہ اپنے بھائی عبداللہ سے بہت چھوٹے تھے بعض لوگوں نے بیان کیاہےکہ عبداللہ اورعبیداللہ کی پیدائش میں ایک سال کافرق تھاہم کو ابویاسر بن ابی حبہ نے اپنی سند کو عبداللہ بن احمد تک پہنچاکرخبردی وہ کہتےتھے مجھ سےمیرے والد نے بیان کیاوہ کہتے تھے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ(۱)اورعبیداللہ(۲) اورکثیر(۳) فرزندان عباس کو بلایاکرتے تھے اورفرماتے تھے کہ جومیرے پاس پہلے آئے گا اس کو فلاں فلاں چیزملے گی پس یہ فرزندان عباس آپ کے پاس دوڑدوڑکرجایاکرتے تھےاور آپ  کی پشت وسینہ مبارک پرلدجایاکرتے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کوپیارکرتے تھے اورلپٹالیتے تھےیہ۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ

  ابن ضحرد بن ہودحنفی یمامی ہیں مدینہ میں رہتے تھے ان سے ان کے بیٹے منہال نے روایت کی ہے وہ کہتے تھے میں گواہی دیتاہوں کہ اقیصر بن سلمہ پانی کاوہ ظروف لے کرآئے جورسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے بھیجاتھاپس انھوں نے مسجدفران(راوی کہتاہے)یامسجد مروان میں چھڑک دیا اس کو ابونعیم اورابوعمرنے بیانکیاہے۔ابن مندہ نے کہاہے کہ (ان کا نام)عبیداللہ بن صبرہ بن ہوذۃ ہے۔ ہوذہ کومیں خیال کرتاہوں کہ آخرمیں ہاہےاوریہی بہت صحیح ہے اورہوذہ یہ علی بادشاہ یمامہ کے بیٹے تھے اوریہی مشہورہے لیکن ہودقبیلہ حنیفہ میں کوئی شخص مشہورنہیں ہے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید

سیّدنا عبیداللہ رضی اللہ عنہ

  ابن شقیر بن عبدالاسد بن بلال قریشی مخزومی ہیں واقعہ ٔ یرموک میں شہیدہوئےتھے۔ان کا تذکرہ ابوعمرنے مختصرلکھاہے میں کہتاہوں کہ کچھ شک نہیں کہ ابوعمرنے اس بیان میں غلطی کی ہے کیوں کہ انھوں نے ان کوعبیداللہ بن سفیان بیان کیاہےاوراس بیان میں شقیرلکھاہے اورعبداللہ کوبن ابی سفیان بن عبدالاسد بیان کیاہے اور سب جگہ لکھا ہے کہ یہ واقعہ یرموک میں شہید ہوئے تھے سفیان بن عبدالاسدتومشہورہیں لیکن شقیرمشہورنہیں ہیں۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7)۔۔۔

مزید