۔قاضی ابواحمد بن عسال نے ان کاذکرکیاہے۔قدامہ بن عائذ بن قرط نے اپنے والد سے انھوں نے ان کے داداقرط بن ربیعہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کا ذکرکیاتومیں نے کہاکہ آپ کا حلیہ شریف مجھ سے بیان کیجیےانھوں نے کہامیں نے دیکھاکہ آپ کے دندان مبارک روشن تھے۔حضرت نے ان کوحضرموت میں کچھ زمین دی تھی۔ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔جریربن عبدالحمید ازدی کے دادا ہیں۔محمد بن قدامہ نے روایت کی ہے وہ کہتےتھے ہم سے جریربن عبدالحمیدنے بیان کیاوہ کہتےتھےمجھ سے میرے والد نے اپنے والدعبداللہ بن قرط سے انھوں نے ان کے داداقرط بن جریرسے روایت کرکے بیان کیاکہ وہ کہتےتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نےفرمایایااللہ میری امت کو صبح کے وقت میں برکت دے نیزاس سند سے مروی ہے کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاجوشخص آدمیوں کاشکرادانہ کرے وہ اللہ کاشکربھی ادا نہیں کرتا۔ان کاتذکرہ تینوں نے لکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن عمروبن ثوابہ بن عبداللہ بن تمیمہ سلولی۔مرہ بن صعصعہ بن معاویہ بن بکر بن ہوازن کی اولاد کو سلولی کہتےہیں۔مرہ بھائی ہیں عامر بن صعصعہ کے مرہ کی اولاد ان کی ماں سلول بنت ذہل بن شیبان بن ثعلب کی طرف منسوب ہےیہ قروہ شاعرتھےاوران کی بڑی عمرتھی بنی سلول کی ایک جماعت کے ساتھ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں آئے تھے اوراس سے پہلے یہ سب لوگ اسلام لاچکے تھےاس وقت انھوں نے یہ اشعارپڑھے ۱؎ بان الشباب فلم احفل بہ بالا واقبل الشیب والاسلام اقبالا وقداروی ندیمی من مشعشعتہ وقداقلب اوراکاواکفالا &n۔۔۔
مزید
بن مالک یمانی ۔ہم ان کاتذکرہ ان کے بھائی حربن حدرجان کے نام میں لکھ چکے ہیں۔ ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
بن مالک یمانی ۔ہم ان کاتذکرہ ان کے بھائی حربن حدرجان کے نام میں لکھ چکے ہیں۔ ان کاتذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
۔سلمی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھے۔ابن شاہین نے ان کاتذکرہ اسی طرح لکھاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ علی بن محمد مداینی سے انھوں نے ابومعشرسے انھوں نے یزیدبن رومان سے اورمداینی کے راویوں سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے پھربنی سلیم رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں فتح مکہ کے سال آئےوہ سات سو آدمی تھےاوربعض لوگ کہتےہیں ایک ہزارلوگوں نےکہایہ سب لوگ مال غنیمت کے لیے آئے ہیں پھررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک لڑکے کو نہ دیکھاتوپوچھاکہ وہ زبان آورصادق التیمان خوشرو لڑکاکہاں ہے لوگوں نےکہاآپ قدوبن عمارکوپوچھتے ہیں اس کا انتقال ہوگیارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعائے مغفرت کی قدواس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آچکے تھےاورآپ سے بیعت کی تھی اورآپ سے عہد کیاتھاکہ میں بنی سلیم کے ہزارآدمیوں کولے کرآؤں گاچنانچہ اپنی قوم کے پاس۔۔۔
مزید
۔سلمی۔نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضرہوئےتھے۔ابن شاہین نے ان کاتذکرہ اسی طرح لکھاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ علی بن محمد مداینی سے انھوں نے ابومعشرسے انھوں نے یزیدبن رومان سے اورمداینی کے راویوں سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھے پھربنی سلیم رسول خداصلی اللہ علیہ وسلم کے خدمت میں فتح مکہ کے سال آئےوہ سات سو آدمی تھےاوربعض لوگ کہتےہیں ایک ہزارلوگوں نےکہایہ سب لوگ مال غنیمت کے لیے آئے ہیں پھررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے ان میں سے ایک لڑکے کو نہ دیکھاتوپوچھاکہ وہ زبان آورصادق التیمان خوشرو لڑکاکہاں ہے لوگوں نےکہاآپ قدوبن عمارکوپوچھتے ہیں اس کا انتقال ہوگیارسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے لیے دعائے مغفرت کی قدواس سے پہلے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے حضورمیں آچکے تھےاورآپ سے بیعت کی تھی اورآپ سے عہد کیاتھاکہ میں بنی سلیم کے ہزارآدمیوں کولے کرآؤں گاچنانچہ اپنی قوم کے پاس۔۔۔
مزید
نے ان کا تذکرہ علیٰحدہ کرکے بیان کیاہے اورانھوں نے عزرب بن ابراہیم ثقفی سے انھوں نے حمید ابن کلاب سے روایت کی ہے کہ وہ کہتےتھےمجھ سے میرے چچاقدامہ نے بیان کیاوہ کہتےتھے میں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کودیکھاآپ جرہ کا حلہ پہنے ہوئے تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے مختصرلکھاہے۔ میں کہتا ہوں کہ یہ قدامہ کے بیٹے ہیں عبداللہ ثقفی کلابی کے اورابن مندہ نے بھی ان کا تذکرہ لکھا ہے اوراسی حدیث کواس طرح روایت کیاہے کہ حمید بن کلاب نے کہامجھ سے میرے چچاقدامہ بن عبداللہ بن عمارنے بیان کیا۔پس نمعلوم کیا وجہ ہوئی کہ حافظ ابوموسیٰ کو باوجودعلم اورضبط اوراتقان کے یہ بات معلوم نہ ہوئی۔ابن شاہین نے صرف اس قدرکیاہے کہ ان کانسب نہیں بیان کیامگریہ اور کوئی نہیں ہوسکتے واللہ اعلم۔ (اسد الغابۃ جلد نمبر 6-7 )۔۔۔
مزید
جمحی۔عبدالملک کے والد ہیں۔ابومسعود نے ان کاتذکرہ لکھاہےاورانھوں نے اپنی سند کے ساتھ عبداللہ ابن رجأ نے عبدالملک بن قدامہ سے روایت کی ہے کہ انھوں نے کہانبی صلی اللہ علیہ وسلم فتح مکہ کے سال منبرپر رونق افروزہوئے اوراللہ کی حمد وثناکے بعد فرمایاکہ اے لوگواللہ نے تم سے جاہلیت کی رسمیں اورنسبی تفاخرکی عادتیں دورکردی ہیں الخ۔ہمیں یعیش بن صدقہ بن علی فقیہ نے اپنی سند کے ساتھ ابوعبدالرحمن یعنی احمد بن شعیب سے روایت کرکے خبردی وہ کہتےتھے ہم سے انس بن سیرین نے بیان کیاوہ کہتےتھےمجھ سے عبدالملک بن قدامہ بن ملحان نے اپنے والد سے روایت کرکے بیان کیاوہ کہتےتھےرسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم ہم کو شب ماہ کی تین راتوں یعنی تیرہویں چودھویں پندرھویں کے روزہ کاحکم دیاکرتے تھے۔ان کا تذکرہ ابوموسیٰ نے لکھاہے اور بیان کیاہےکہ یہ جمحی ہیں اورانھوں نے ابن مندہ پراستدراک کیاحالانکہ ابن مندہ نے قتا۔۔۔
مزید
بن حبیب بن وہب بن حذافہ بن جمح۔قریشی جمحی ۔کنیت ان کی ابوعمروتھی اوربعض لوگ کہتےہیں ابوعمر۔عثمان ابن مظعون کے بھائی تھے اور حفصہ اورعبداللہ فرزندان حضرت عمر کے ماموں تھےاورصفیہ بنت خطاب ان کے نکاح میں تھیں۔سابقین اسلام سے ہیں حبش کی طرف اپنے بھائیوں عثمان اورعبداللہ کے ساتھ ہجرت کی تھی۔غزوۂ بدر میں اوراحد میں اورتمام مشاہد میں رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ شریک تھےیہ عروہ اورابن شہاب اورموسیٰ اورابن اسحاق کا قول ہے۔ابن عمرکہتےتھے کہ جب میرے ماموں عثمان بن مظعون کی وفات ہوئی تو انھوں نے اپنے بھائی قدامہ کو وصیت کی تھی اسی وصیت کے موافق قدامہ نے اپنے بھائی کی بیٹی کانکاح میرے ساتھ کیاتھامگرمغیرہ بن شعبہ اس لڑکی کی ماں کے پاس گئے اورانھوں نے مال کا لالچ دلاکر اپنی طرف راغب کرلیااورلڑکی بھی راضی ہوگئی یہ خبررسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم کوملی آپ نے قدامہ سے پوچھاقدامہ۔۔۔
مزید