اتوار , 13 محرّم 1448 ہجری (مدینہ منورہ)
/ Sunday, 28 June,2026

نام سے تلاش

تاریخ سے تلاش

(2)  تلاش کے نتائج

حضرت شیخ ابراہیم بن عبدالرحمٰن دمشقی

حضرت شیخ ابراہیم بن عبدالرحمٰن دمشقی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابراہیم بن عبد الرحمٰن بن محمد بن عماد الدین عمادی دمشقی: ۱۰۱۲؁ھ میں پیدا ہوئے،ملک شام کے مشہور فضلاء و بلغاء میں سے علم ادب اور نظم و نثر میں بارع،فقیہ کثیر المحفوظات،محدث فاضل،مقبول الہیأت،عظیم الہیبۃ تھے۔ابتداء میں علوم اپنے والدِ ماجد سے پڑھے پھر بور مینی میں حسن بن محمد سے مختلف علوم و فنون حاصل کیے اور حدیث کو احمد عیشاوی وغیرہ سے اخذ کیا۔باپ کی وفات کے بعد اپنے منجھلے بھائی کے ساتھ روم کا سفر کیا۔دو دفعہ حج کیا اور دوسری دفعہ کے حج کے وقت رکب شامی ہیں قاضی مقرر ہوئے۔اخیر عمر میں فالج ہوگیا جس میں ڈیڑھ سال مبتلا رہ کر شنبہ کے روز ۱۰؍ربیع الثانی ۱۰۷۸؁ھ میں وفات پائی اور مقبرہ باب الصغیر میں اپنے والد کی قبر کے پاس مدفون ہوئے۔’’لوح محفوظ‘‘ تاریخ وفات ہے۔ (حدائق الحنفیہ)۔۔۔

مزید

حضرت ابراہیم حلبی

حضرت ابراہیم حلبی رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ ابراہیم بن مصطفیٰ بن ابراہیم حلبی مداری نزیل قسطنطنیہ: علامۂ کبیر، فہامہ شہیر،علوم عقلیہ و نقلیہ میں خدا کی ایک بڑی نشانی اور صاحب تصانیف باہرہ مستغنی عن الاوصاف تھے۔حلب میں پیدا ہوئے،اصل میں آپ مداری تھے کہ خدا نے آپ کے دل میں علم کا شوق ڈالا اور مصر میں جاکر سات سال تک تحصیل علوم و فنون میں مشغول رہے پھر دمشق میں جاکر وہاں کی ایک جماعت فضلاء سے اخذ کیا اور تصوف کو شیخ عبد الغنی نابلسی وغیرہ سے حاصل کیا پھر قاہرہ میں مراجعت کی اور منقولات و معقولات کو سید علی الضریر حنفی وغیرہ سے اخذ کیا یہاں تک کہ فائق اقران ہوئے اور مشائےخ نے آپ کو تدریس کی اجازت دی۔آپ نے ہی پہلے پہل اس ملک میں در مختار کو پڑھا اور پہلے پہل اس کا حاشیہ تصنیف کیا آپ کے ذکاء اور فضیلت کے سبب سے بڑی شہرت ہوئی اور کثرت سے طلباء آپ کے پاس جمع ہوئے۔قسطنطنیہ میں آکر شیخ الاسلام علامہ روم۔۔۔

مزید