حافظ امام ابو محمد عبدالغنی تقی الدین مقدسی
نام: عبدالغنی
کنیت : ابو
محمد
لقب: تقی الدین
ولادت:
آپ کی
ولادت ۵۴۱ھ میں فلسطین کے ایک گاؤں جماعیل کے اندر ہوئی جو بیت
المقدس کے قریب واقع ہے اسی بنا پر مقدسی کہلائے۔
نسب :
عبدالغنی
بن عبدالواحد بن علی بن سرور ۔
آپ کا خاندان
دمشق منتقل ہو گیا تھا جس کی وجہ سے دمشقی مشہور ہوئے۔
تحصیلِ علم:
آپ کے زمانہ میں
دمشق شام کی راجدھانی ہونے کے ساتھ ساتھ علم اور علماء کا مرکز بھی تھا۔ ابتداء میں
دمشق میں تعلیم حاصل کی پھر مزید اعلیٰ تعلیم کے لیے اسلامی دیار و امصار کے سفر کیے
آپ کی اقتصادی حالت بہت کمزور تھی مگر طلبِ علم کا ذوق بہت قوی تھا چنانچہ مالی خستہ
حالی کی پرواہ کیے بغیر آپ تحصیل علم کے لیے رحلت وسفر کرتے رہے۔ سفرِ اصفہان کے
بارے میں محدث ضیاء مقدسی لکھتے ہیں۔
"جس وقت آپ نے
اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لیے اصفہان کا رخ کیا۔ اس وقت خرچ کرنے کے لیے آپ کے پاس
کوئی رقم نہ تھی اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل و کرم سے ایک ایسا شخص بہم پہنچایا جو آپ
کو اپنے ساتھ لے گیا اور تمام اخراجات کی کفالت اس نے اپنے ذمہ لے لی۔ چنانچہ آپ
عرصہ دراز تک اصفہان میں رہے اور اعلیٰ تعلیم کے ساتھ بہت عمدہ عمدہ کتابیں بھی
جمع کر لیں۔ (تذکرۃ الحفاظ
ج ۴ ص ۱۶۱)
اصفہان کے علاوہ بغداد، اسکندریہ، بیت المقدس، حران،
موصل، مصر اور ہمدان وغیرہ کا سفر کیا اور وہاں کے علماء و محدثین سے علم حاصل کیا۔
آپ کے شیوخ حسبِ ذیل محدثین وعلماء ہیں ۔
ابوالمکارم بن ہلال، ہبۃ اللہ بن ہلال، ابن البسلی، حافظ
ابو طاہر سلفی، ابوالفضل طوسی، عبدالرزاق بن اسماعیل قوسانی، حافظ ابو موسیٰ مدینی
، علی بن ہبۃ اللہ ۔ (ایضاً)
علم وفضل:
حافظ عبدالغنی
نے خداداد استعداد، ذوق علم اور اپنی مساعی جمیلہ سے علم کی لازوال دولت اپنے دامن
میں سمیٹ لی تھی وہ حدیث وفقہ میں امتیازی شان رکھتے تھے۔ آپ کے علمی تبحر، حدیث کی
کثرت اور جرح وتعدیل رجال میں مہارت کا اعتراف علماء ومحدثین نے کیا ہے۔
ابن نجار: "حدث بالكثير
وصنف فى الحديث تصانيف حسنة وكان غزير الحفظ من اهل الاتقان والتجويد فهما يجمع
فنون الحديث الى ان قال وكان كثير العبادة ورعاً متمسكاً بالسنة على قانون السلف"
آپ نے حدیث بڑی کثرت سے بیان کی اور اس فن میں بڑی اچھی اور عمدہ کتابیں تصنیف کیں۔
آپ کا حافظہ اور اتقان وضبط قابل رشک تھا حدیث کے تمام فنون میں مہارت تامہ رکھتے
تھے۔ ابن نجار آگے چل کر لکھتے ہیں
آپ بڑے پرہیز گار عبادت گزار اور سلف صالحین کی طرح متبع
سنت تھے۔ (ایضاً)
فقیہ محمود بن ہمام کہتے ہیں میں نے کندی کو سنا وہ کہتے
تھے "لم ير
الحافظ عبدالغنی مثل نفسه" حافظ عبدالغنی نے اپنے جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا۔
(ایضاً)
ربعی یمنی: "قد رايت ابا
موسىٰ المدينى وهذا الحافظ عبدالغنى احفظ منہ "میں نے
حافظ ابو موسیٰ مدینی کو دیکھا ہے مگر یہ حافظ عبدالغنی ان سے بڑے حافظ حدیث ہیں۔
(ایضاً)
ضیاء مقدسی: "کل من رأیت من
المحدثین یقول ما رأینا مثل عبدالغنی" میں نے جن محدثین کو دیکھا ہے سب ہی کہتے تھے ہم
نے حافظ عبدالغنی جیسا کوئی آدمی نہیں دیکھا ہے۔
حافظ شمس الدین ذہبی لکھتے ہیں "میں نے ابوالحسن بن
نجاد واعظ کو مسجد قرافہ کے منبر پر کہتے ہوئے سنا کہ حافظ عبدالغنی یہاں تشریف
لائے ہوئے ہیں وہ حدیث کا درس دیا کریں گے ان کی خواہش ہے کہ آپ حضرات کم از کم تین
دن ان کی مجلس میں ضرور حاضر ہوں اتنے میں ان کی قدر و منزلت آپ پر واضح ہو جائے گی
اور آپ ان کے حلقہ درس میں شریک ہونا سعادت سمجھیں گے۔ چنانچہ میں پہلے دن ہی جامع
قرافہ میں حاضر ہوا۔ پہلے آپ نے بہت سی احادیث بالا سناد زبانی بیان کیں اور پھر
بہت سی حدیث بلا سند بیان فرمائی لوگ بہت محفوظ ہوئے اور خوشی خوشی واپس گئے بعد میں
میں نے ابن نجاد سے سنا فرماتے تھے میرا مقصود تو پہلی ہی مجلس میں حاصل ہو گیا
تھا۔ (ایضاً)
ضیاء الدین مقدسی فرماتے ہیں "آپ سے جب کبھی کسی راوی
یا حدیث کے بارے میں سوال کیا جاتا تو آپ برجستہ جواب دیتے تھے حتیٰ کہ روایت کی
صحت اور عدم صحت، راوی کے حسب و نسب کا بھی پتہ دیتے یقیناً آپ امیر المؤمنین فی
الحدیث تھے۔" ۔ (سیر
اعلام النبلاء ۲ ص ۴۶۴)
صاحب مرآة الجنان کا کہنا ہے۔ آپ علم حدیث میں یکتائے
زمانہ تھے آپ کی تالیفات بے شمار اور مختلف علوم میں ہیں۔ (ایضاً)
قوت حفظ:
کسی
بلند مرتبہ عالم اور کثیر الاحادیث محدث کے لیے بنیادی چیز حفظ و ضبط کی قوت ہے جس
سے اس کا علم محفوظ اور ہر موقع پر مستحضر رہ سکتا ہے حافظ عبدالغنی کو قدرت نے بے
نظیر قوت حفظ اور صلاحیت علم عطا کی تھی اور وہ پوری زندگی اس عطیہ ربانی سے فائدہ
اٹھاتے رہے اور طالبان علم نبوت کو بھی فائدہ پہونچاتے رہے۔ محدث ضیاء مقدسی کہتے
ہیں۔
"میں نے اسماعیل
بن ظفر کی زبان سے یہ سنا "ایک دفعہ ایک آدمی نے حافظ عبدالغنی سے پوچھا کہ ایک
شخص نے اس بات پر طلاق کی قسم کھائی ہے کہ آپ کو بنوک زبان ایک لاکھ حدیث یاد ہے؟
کیا یہ درست ہے آپ نے جواب دیا اگر وہ اس سے زیادہ بھی کہتا تب بھی وہ سچا
تھا"۔
اسماعیل بن ظفر کہتے ہیں:
میں نے جامع
دمشق میں کئی بار مشاہدہ کیا کہ حافظ عبدالغنی منبر پر رونق افروز ہوئے اورحاضرینِ
مجلس میں سے کوئی شخص کہتا کہ آج آپ کتاب سامنے رکھے بغیر ہمیں حدیث پڑھائیں تو آپ
مطبوعہ احادیث سندوں کے ساتھ زبانی پڑھا دیتے۔ اس پر کہا جاتا کہ آپ ہمیشہ اسی طرح
کیوں نہیں کرتے؟ اور حدیث زبانی کیوں نہیں پڑھاتے؟ فرماتے اخاف العجب اس طرح عجب و
غرور میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہے۔ (تذکرہ ج
۳ ص ۱۶۲)
آپ کے
اسی بے نظیر حافظہ کو دیکھ کر تاج کندی فرمایا کرتے تھے۔ لم یکن بعد
الدار قطنی مثل الحافظ عبد الغنی المقدسی امام دارقطنی
کے بعد حافظ عبدالغنی مقدسی جیسا کوئی آدمی پیدا نہیں ہوا۔ (ایضاً)
حلقہ درس:
آپ کا معمول تھا
کہ جمعرات اور جمعہ کو بعد نمازِ جمعہ درسِ حدیث دیا کرتے تھے استفادہ کے لیے بیشمار
طالبانِ علم حاضر ہوتے کبھی کبھی وعظ بھی فرماتے جس میں سامعین کی تعداد ہزار سے
متجاوز ہو جاتی آپ کے پرتاثیر بیان سے لوگوں کی آنکھیں اشکبار ہو جاتیں مجلس کے
اختتام پر اہل اسلام کے حق میں بہت لمبی دعا کرتے تھے۔
علم و فضل، زہد و ورع نے آپ کی ذات کو مرجعِ خلائق بنا دیا
تھا عوام و خواص کے دلوں میں آپ کی عظمت اور احترام جاگزیں تھا زیارت کے لئے
ہزاروں آدمی حاضر ہوتے ضیاء مقدسی کہتے ہیں انہوں نے اصفہان میں محبوبینِ سلامہ کو
سنا وہ کہتے تھے کہ
"جب حافظ عبدالغنی
مقدسی اصفہان میں اپنے گھر سے باہر نکلتے تو لوگ آپ کو دیکھنے کے لئے بازاروں میں
قطار در قطار کھڑے ہو جاتے تھے لوگوں کی عقیدت و محبت کو دیکھتے ہوئے اندازہ ہوتا
تھا کہ اگر آپ اصفہان میں رہنا اور اس پر قبضہ کرنا چاہیں تو یہ بآسانی قبضہ کر
سکتے ہیں حافظ ضیاء کہتے ہیں کہ "مصر میں بھی میرا مشاہدہ ایسا ہی ہے جب ہم
جمعہ کے لئے نکلتے تو آپ کے ارد گرد عقیدت مندوں، ملاقاتیوں اور دعائیں کرانے
والوں کا اتنا ہجوم ہو جاتا کہ بازار میں چلنا مشکل ہو جاتا۔
(تذکرہ ج
۳ ص ۶۵۔۱۶۴)
تلامذہ:
اس
مرجعیتِ عام کو سامنے رکھا جائے تو آپ کے تلامذہ کی تعداد لاکھوں تک پہنچ جائے گی
چند اہم اور نامور تلامذہ یہ ہیں۔
ابوالفتح
بن عبد الغنی، ابو موسیٰ بن عبد الغنی، عبد القادر رُہاوی، شیخ موفق الدین ضیاء بن
خلیل مقدسی فقیہہ یو نینی، ابن عبد
الدائم، عثمان بن مکی، احمد بن حامد تاجی، اسماعیل بن عزون، عبد اللہ بن علاق،
محمد بن مہلہل جیتی۔ (ایضاً ص ۱۶۱)
ابتلاء و آزمائش:
زمانہ کا یہ عام
دستور ہے کہ کسی عالم و محدث، فقیہ و مجتہد کی بڑھتی ہوئی قدر و منزلت بسااوقات
حاسدین کے لئے نا قابلِ برداشت ہو جایا کرتی ہے۔ حافظ عبد الغنی بھی انہیں علماء و
محدثین میں ہیں جو دشمنوں کے رشک و حسد کا نشانہ بنے۔ وطن ترک کرنا پڑا دیارِ غیر
میں ہجرت کی وہاں بھی سکون نہ ملا بالآخر عزلت کی زندگی گذارنے پر مجبور ہوئے۔
جامع دمشق میں حلقۂ درس کو کمزور اور آپ کے وعظ کو بے اثر
بنانے کے لئے سازشیں کی گئیں پھر بھی آپ کی مقبولیت میں کمی نہ آئی تو حاسدوں نے
آپ کے خلاف حاکمِ شہر سے شکایت کی کہ حنابلہ فتنہ پرداز ہیں اور ان کے عقائد ایسے
ایسے ہیں پھر حاکمِ شہر نے آپ کو مناظرہ کے لئے طلب کیا ایک جاہل شخص نے آپ پر بے
بنیاد الزامات عائد کرنے شروع کئے فرطِ غیرت سے آپ متحمل نہ کرسکے اور بڑی جرأت سے
الزامات کی تردید کی۔ مخالفین نے دوسرا حربہ استعمال کیا چند عقائد کا کاغذ پر تحریر
کئے اور اپنے ہم خیال علماء سے اس پر دستخط لینا چاہا تو آپ نے انکار کر دیا۔ اس
پر دشمنوں نے حاکمِ شہر سے کہا دیکھئے تمام علماء جس بات پر متفق ہیں اس سے انہیں
انکار ہے یہ سن کر حاکمِ شہر نے اپنے آدمی بھیج کر مسجد سے آپ کا منبر اور کتابیں
نکلوا دیں اور درس و وعظ سے روک دیا۔
حافظ صاحب اس واقعہ کے بعد بعلبک چلے گئے عرصہ تک وہاں
رہے پھر مصر گئے اورنابلس میں مدت تک قیام کیا۔
مخالفین نے آپ کے قتل تک کی سازش کی مگر اس شیرِ حق کو
جادۂ مستقیم سے منحرف نہ کر سکے جب ملک افضل نے مصر پر قبضہ کیا اور اسے دوبارہ
دمشق کی عملداری میں شامل کیا توحافظ صاحب سے ملاقات کی اور نہ صرف یہ کہ آپ سے
انتہائی تعظیم و تکریم کے ساتھ پیش آیا بلکہ اہلِ مصر کو بھی آپ کے احترام کی ہدایت
کی۔ اس کے بعد حافظ صاحب کو بڑی مقبولیت حاصل ہوئی اور آپ کی عزت و حرمت میں بے حد
اضافہ ہوا اور آپ کے مخالفین جو مصر میں کافی تعداد میں موجود تھےبادشاہ کے خوف سے
دم نہیں مار سکتے تھے جب ملک عادل کا دور آیا اور اس نے مصر پر قبضہ کیا تو مخالفین
نے ایک دفعہ پھر آپ کے خلاف طوفانِ بدتمیزی برپا کیا اور آپ پر طرح طرح کے الزام لگائے۔
عادل نے آپ کو دربار میں طلب کیا مگر آپ کے خلاف الزامات غلط ثابت ہونے پر بڑی عزت
و حرمت کے ساتھ واپس کیا۔
تصانیف:
آپ نے
متعدد مفید کتابیں تحریر فرمائیں ان کے نام یہ ہیں۔
(۱) المصباح یہ صحیحین کی احادیث پر مشتمل کتاب ہے جو ۲۸ اجزاء میں ختم ہوئی ہے (۲) نہایۃ
المراد یہ بھی فن حدیث میں تقریباً دو سو اجزاء پر حاوی ہے۔ (۳) کتاب المواقیت (۴) کتاب الجہاد (۵) الروضہ ۳ اجزاء (۶) فضائل خیر البریہ (۷) الذکر ۲ جزء (۸) السراء ۲ جزء (۹) المجتھد ۲ جزء (۱۰) المحنۃ ۳ جزء (۱۱) صلات الاحیاء الی الاموات ۲ جزء (۱۲) الصفات ۲ جزء (۱۳) الفرح (۱۴) فضل مکہ (۱۵) غنیۃالحفاظ فی مشکل الالفاظ ۲ جزء (۱۶) الحکایات سو جزء سے زیادہ (۱۷) العمدہ (۱۸) الاحکام (۱۹) دارالاثر (۲۰) الکمال ۱۰ جلد (۲۱) الکمال فی اسماء الرجال۔
الکمال فی
اسماء الرجال:
اس میں
مصنف نے کتب ستہ کے جملہ راویوں کے حالات کو قلمبند کرنے کا بیڑا اٹھایا جو فی نفسہ
انتہائی مشکل اور محنت طلب عمل تھا۔ مذکورہ کتابوں سے راویوں کو تلاش کرنا۔ ان میں
تمیز کرنا پھر ترتیب دے کر حالات تحریر کرنا شیوخ و اساتذہ کا ذکر کرنا علماء کے
اقوال جمع کرنا اور کون کس کتاب کے راوی ہیں وغیرہ کا بیان کرنا نہایت مشکل اور
جگر سوزی کا کام تھا لیکن خدام سنت نبوی نے ہر وہ کارنامہ انجام دیا جو بظاہر
ناممکن معلوم ہوتا ہے۔
مؤلف
نے اس کتاب میں سب سے پہلے سیرت نبوی کا تذکرہ کیا۔ اس کے بعد ان صحابہ کرام کے
حالات کو جمع کیا جن کی روایتیں کتب ستہ میں پائی جاتی ہیں۔ پھر جملہ راویوں کو
حروف تہجی پر مرتب کر کے ان کے حالات قلمبند کئے البتہ حرف الف میں احمد سے موسوم
اور حرف میم میں محمد سے موسوم ناموں کو مقدم کر دیا ہے۔ کنیت اور خواتین کا تذکرہ
آخری کتاب میں کیا ہے یا قوت حموی اس کتاب کے بارے میں فرماتے ہیں کہ "یہ بڑی
اچھی کتاب ہے۔
(معجم
البلدان ج ۲ ص ۱۶۰)
حافظ عبدالغنی کی ایک مشہور کتاب "تبیین
الاصابہ لا وھام حصلت لابی نعیم فی معرفۃ الصحابۃ ہے۔"
حافظ ذہبی لکھتے ہیں۔ اخذ الحافظ
عبدالغنی علی ابی نعیم فی مائتین و تسعین موضعا۔ حافظ عبدالغنی
نے حافظ ابو نعیم کی ۲۹۰ غلطیاں پکڑیں۔ (تذکرہ ج
۳ ص ۱۶۵) جو آپ کی علم حدیث
میں مہارت تامہ اور حفظ کی واضح دلیل ہے
ذوق عبادت:
حافظ عبدالغنی علم وفضل کے ساتھ زہد وعبادت کے بھی روشن مینار
تھے۔
حافظ ضیاء فرماتے ہیں: آپ اپنا وقت ضائع نہیں کرتے تھے
صبح کی نماز کے بعد عموماً مدارس قرآن اور کبھی درس حدیث دیتے پھر وضو کر کے نماز
میں مصروف ہو جاتے اور سورہ فاتحہ اور معوذتین کے ساتھ ساتھ تین سو رکعت پڑھتے اور
فراغت کے بعد ظہر سے پہلے تھوڑی دیر استراحت فرماتے ۔ نماز ظہر کے بعد مغرب تک حدیث
پڑھانے یا کتاب نقل کرنے میں مصروف رہتے اور اگر روزے سے ہوتے تو افطار کے بعد
ورنہ معمول کے مطابق عشاء تک نماز پڑھتے پھر آدھی رات یا کچھ بعد تک سو جاتے پھر
وضو کر کے نماز پڑھنے لگ جاتے اور یہ سلسلہ صبح صادق سے ذرا پہلے تک جاری رہتا۔ اس
اثناء میں آپ سات یا زیادہ مرتبہ وضو کرتے اور فرماتے جب تک وضو سے میرے اعضاء تر
رہتے ہیں مجھے نماز میں سرور حاصل ہوتا ہے مگر اگر وقت ہوتا تو نماز سے پہلے تھوڑی
دیر سو جاتے تاکہ صبح کی آپ کا یہی معمول رہا۔
جود وسخا:
آپ بڑے سخی اور
اللہ تعالیٰ کے راستے میں مال خرچ کرنے والے تھے اپنی ذات کے لئے درہم دینار یا کسی
دوسری چیز کو ذخیرہ بنا کر نہیں رکھتے تھے کہتے ہیں آپ رات کے وقت آٹے کے تھیلے لے
جاتے حاجت مندوں کے دروازے کھٹکھٹاتے اور دروازہ کھلتے ہی آٹوں سے بھرا تھیلہ اندر
رکھ کر فوراً واپس ہو جاتے تھے تاکہ کوئی آپ کو پہچان نہ سکے۔
بدر بن محمد خدری کہتے ہیں ۔ ما رایت احداً
اکرم من الحافظ لقد اوفی عنی غیر مرۃ ۔ میں نے حافظ عبدالغنی سے بڑھ کر سخاوت کرنے والا کسی کو
نہیں دیکھا آپ نے کئی دفعہ میرا پورا قرض ادا کیا ہے۔ (تذکرہ ج ۳ ص ۱۶۵)
سلیمان اشعری فرماتے ہیں ۔ بعث الافضل
الیٰ الحافظ بنفقة وقمح کثیر ففرق الجمیع ۔ ایک دفعہ ملک
افضل نے حافظ صاحب کی خدمت میں نقد روپے اور بہت سے غلے (گیہوں) بھیجے مگر آپ نے
اسی وقت مستحقین میں تقسیم کر دیا اور اپنے لئے ایک دانہ بھی نہیں رکھا۔ (ایضاً)
امر بالمعروف ونہی عن المنکر :
آپ ایک سچے عالم
ربانی کی طرح امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کا فریضہ پورے اخلاص کے ساتھ ادا
کرتے تھے اس بارے میں وہ بڑے بڑے خطرات کی بھی پروا نہ کرتے اور دنیاوی سود وزیاں
کا مطلق خیال نہ فرماتے ۔ حافظ ضیاء کہتے ہیں جب آپ کوئی امر منکر دیکھتے تو اس کو
اپنے ہاتھ یا زبان سے مٹانے کی کوشش فرماتے اور رضا الٰہی کے مطابق عمل کرنے میں
کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی مطلقاً پروا نہیں کرتے تھے چنانچہ میں نے ایک
دفعہ دیکھا کہ آپ نے مئے فروش کی شراب زمین پر گرا دی وہ تلوار لے کر اٹھا اور آپ
پر حملہ کرنا چاہا مگر آپ مضبوط و توانا تھے خوفزدہ ہونے کے بجائے آگے بڑھے اور اس
کے ہاتھ سے تلوار چھین لی اسی طرح گانے بجانے کے آلات ڈھول اور طنبور وغیرہ توڑ دیتے
تھے۔
ایک
بار کچھ شرپسندوں نے مسجد خیرون کی سیڑھیوں پر آلات لہوولعب اور سامان موسیقی جمع
کر دیئے شیخ عبدالغنی آئے اور سارے آلات لہوولعب کو توڑ دیا اور منبر پر چڑھ کر
خطبہ دینے لگے تھوڑی دیر کے بعد قاصد آیا اور کہنے لگا قاضی شہر آپ کو بلاتے ہیں
اور وفد شباب و دیگر آلاتملا ہی کے بارے میں مناظرہ کرنا چاہتے ہیں آپ نے جواب دیا۔
"ذاك حرام
ولا امشي اليه ان كان له حاجة يجي هو" یہ سب چیزیں حرام ہیں اس لیے میں نے توڑ دی ہیں
مجھے قاضی کے پاس جانے کی ضرورت نہیں اگر اسے ضرورت ہو تو یہاں آ جائے۔
تھوڑی دیر بعد قاصد پھر آیا اور کہنے لگا آپ نے بادشاہ کی
دل لگی اور خوش طبعی کا سامان ضائع کر دیا ہے۔ اس لیے آپ کو ضرور آنا پڑے گا۔
غضبناک ہو کر فرمایا "ضرب اللہ رقبته ورنبة السلطان" اللہ
تعالیٰ اس کی اور بادشاہ کی گردن مارے۔ (ایضاً)
وصال:
مرض
الموت میں چند دن مبتلا رہنے کے بعد ۲۳ ربیع الاول ۶۰۰ھ بروز پیر بوقتِ صبح وصال فرمایا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
