حافظ کبیر امام ابن
عساکر دمشقی
نام : علی
عرف : ابن عساکر
کنیت : ابو القاسم
لقب : دمشقی
ولادت :
ابن
عساکر اوائل ۴۹۹ھ میں بمقام دمشق پیدا ہوئے۔
نسب :
علی بن حسن بن ہبۃ اللہ بن عبد اللہ بن حسین
دمشقی۔
لیکن آپ ابن عساکر کے نام سے مشہور ہیں جو غالباً آپ کے
آباء واجداد میں سے کسی کا لقب یا نام تھا۔
حافظ
ابن عساکر جب شکم مادر میں تھے تو ان کی ماں نے خواب میں دیکھا کہ ان کو بشارت دی
جا رہی ہے کہ وہ ایک ذیشان بچے کو جنم دیں گی۔ آپ کے والد گرامی حسن نے بھی خواب دیکھا
کہ تیرے نسب سے ایک لڑکا پیدا ہوگا جس کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سنتِ رسول ﷺ کو زندہ
کرے گا۔
(تذکرۃ الحفاظ ج
۳ ص ۱۱۹)
تحصیل علم:
ابن
عساکر نے ابتدا میں دمشق کے اندر رہ کر وہاں کے شیوخ و علماء سے علوم و فنون کی
تحصیل کی مگر طلب علم کا پیکرِ اں ذوق انہیں دوسرے اسلامی شہروں کے شیوخ کی
درسگاہوں تک کشاں کشاں لے گیا اور انہوں نے تحصیل علم کے لئے بغداد، نیشاپور، مرو،
ہرات، کوفہ، مکہ مکرمہ، اصفہان اور مختلف بلادِ اسلامیہ کا سفر کیا۔
مشہور محدث حافظ سمعانی بیان کرتے ہیں۔
رحل وتعب، وبالغ فى الطلب وجمع مالم يجمعه غيره و اربى
على الاقران"
آپ نے اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے لئے مختلف ممالک کی طرف سفر کیا اور حصولِ مقصد کے
لئے راتوں کی نیند اور دن کا چین اپنے اوپر حرام کر لیا نتیجہ یہ ہوا کہ علم کا
جتنا ذخیرہ آپ کے پاس محفوظ تھا کسی اور کے پاس نہیں تھا۔ آپ اپنے معاصرین پر گوئے
سبقت لے گئے تھے۔ (ایضاً ص ۱۲۰)
آپ کے
فرزند قاسم کا بیان ہے میرے والد (ابن عساکر) کہا کرتے تھے کہ "وہ ایک شیخ کے
پاس پڑھ رہے تھے کہ انہوں نے کہا ہم سے پڑھنے کے لئے ابن ابو زبیر آیا تو ہم نے
کہا اس جیسے بچے کو ہم نے دیکھا ہی نہیں پھر ابن سمعانی آیا تو ہماری رائے ہوئی کہ
ایسا ذہین بچہ بھی ہم نے نہیں دیکھا بعد ازاں یہ بچہ (ابن عساکر) آیا تو سچی بات یہ
ہے کہ ان جیسا لائق طالب علم بھی ہم نے کبھی نہیں دیکھا"۔ (ایضاً ص ۱۲۱)
ابن
عساکر کا ذوقِ علم اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ وہ اپنے شیوخ سے سماعِ حدیث میں کبھی
آسودہ نہ ہوتے بلکہ ان کے اساتذہ ان کی کثرتِ طلب دیکھ کر اکتا جاتے چنانچہ علامہ
ابو الخیر مدرس نظامیہ کا بیان ہے کہ ہمارے شیخ امام فراوی فرماتے تھے کہ ابن
عساکر پڑھنے کے لئے آئے تو انہوں نے تین دن میں مجھ سے اتنا زیادہ پڑھا کہ میں
اکتا گیا اور قسم کھا لی کہ آئندہ اسے نہیں پڑھاؤں گا اور اس پر اپنا دروازہ بند
رکھوں گا لیکن دوسرے دن علی الصبح میرے پاس ایک آدمی آیا اور کہنے لگا کہ میں رسول
اللہ ﷺ کا قاصد ہوں اور آپ کے لئے ایک پیغام لایا ہوں میں نے یہ سن کر مرحبا اور
خوش آمدید کہا بولا رات خواب میں مجھے حضور نے حکم دیا ہے کہ فراوی کے پاس جاؤ اور
اس سے کہو کہ تمہارے شہر میں ملکِ شام کا ایک گندم گوں طالبِ علم میری حدیث پڑھنے
کے لئے آیا ہے اس سے اکتاہٹ اور دل تنگی کا مظاہرہ مت کرو ، فراوی کہتے ہیں بخدا
اس کے بعد امام فراوی مجلسِ درس سے اس وقت تک نہیں اٹھتے تھے جب تک حافظ ابن عساکر
اپنا سبق از خود بند نہ کرتے۔ (ایضاً ص ۱۲۰)
شیوخ:
زندگی
کا ایک طویل حصہ علماء و مشائخ سے شرف تلمذ میں گذرنا یہی وجہ ہے کہ آپ کے اساتذہ
کی تعداد بہت ہے آپ نے اپنی معجم میں جن شیوخ کے تراجم لکھے ہیں ان میں ۱۳۰۰ ایسے مشائخ ہیں جن سے آپ نے حدیث پڑھی ہے اور ۲۹۰ ایسے ہیں جنہوں نے آپ کو درس و تدریس کی اجازت دی ہے
اساتذہ کی اس طویل فہرست میں ۸۰ خواتین معلمات
ہیں جن سے آپ نے علم حاصل کیا۔ ٍ (سیر اعلام
النبلاء ۵۵۶/۲۰)
ابو القاسم نسیب،
قوام بن زید، سمیع بن قیراط، ابو طاہر حنائی، ابو الحسن بن موازینی، ابو القاسم بن
حصین، ابو الحسن دینوری، ابو الفر بن کاوش، ابو غالب بن بناء، ابو عبد اللہ بارع،
قاضی مرستان، عبد اللہ بن محمد غزال، عمر بن ابراہیم زیدی، ابو عبد اللہ فراوی، ہبۃ
اللہ بن سبیدی، عبد المنعم بن قشیری، یوسف بن ایوب زاہد ہمدانی، تمیم بن ابو سعید
جرجانی۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ۴ ص ۱۱۹)
علم و فضل:
حافظ
ابن عساکر علمی لحاظ سے اپنے اقران و معاصرین ہی پر برتری نہیں رکھتے تھے بلکہ ان
سے پہلے اور ان کے بعد بھی ایسی عظیم ہستیاں مشکل ہی سے نظر آتی ہیں۔ یوں تو وہ
تمام علوم میں یکساں مہارت رکھتے تھے مگر حدیث اور تاریخ میں ان کی نظیر نہ تھی
علماء اسلام نے آپ کے علمی مرتبہ کا اعتراف اس طرح کیا ہے۔
حافظ سمعانی: ابو القاسم حافظ ثقۃ متقن دین خیر حسن السمت جمع بین
معرفۃ المتن والاسناد و کان کثیر العلم غزیر الفضل صحیح القراۃ متشبتاً۔ ابو
القاسم ابن عساکر حافظ حدیث، ثقہ متمکن، دیندار نیک اطوار اور بلند اخلاق تھے متن
اور اسناد کو خوب جانتے تھے علم و فضل میں بے نظیر اور بڑے محقق تھے حدیث کی قرآۃ
بڑے دلنشین انداز سے کرتے تھے۔ (ایضاً)
سعد الخیر: ما رایت فی سن ابن عساکر مثلہ ، میں نے ابن
عساکر کے زمانہ میں کسی کو اس کا نظیر نہیں پایا۔ (ایضاً)
ابو المواہب ابن صصری: لما دخلت ہمدان
قال لی الحافظ انا اعلم انہ لا یساجل الحافظ ابا القاسم فی شانه احد فلو خالق
الناس وما زحمهم كما ضح اذا الاجتماع عليه الموافق والمخالف، جب میں
بسلسلہ تعلیم حافظ ابو العلاء کی خدمت میں ہمدان آیا تو انہوں نے فرمایا مجھے یقین
ہے کہ آج فنِ حدیث میں کوئی شخص حافظ ابو القاسم ابن عساکر کا مقابلہ نہیں کرسکتا
اگر وہ میری طرح لوگوں سے ملتے جلتے اور ان سے راہ ورسم پیدا کرتے تو سب موافق
ومخالف ان کے گرد جمع ہو جاتے۔ (ایضاً)
پھر فرمایا: ما کان یسمى ابا القاسم الاشعلة نار ببغد اد من ذکائه
وتوقده و حسن ادار کہ، روشن دماغی، حسن فہم، اور خدا داد ذکاوٹ کی وجہ سے ابو
القاسم ابن عساکر بغداد میں 'شعلۃ النار' کے لقب سے مشہور تھے۔ (ایضاً)
حافظ ابو محمد منذری کہتے ہیں میں نے اپنے شیخ حافظ ابو
الحسن علی بن مفضل سے ان چار ہم عصر حفاظِ حدیث کے بارے میں پوچھا کہ ان میں سے
بڑا حافظِ حدیث کون ہے؟ بولے وہ کون ہیں؟ میں نے کہا حافظ ابن ناصر اور حافظ ابن
عساکر، فرمایا عساکر، میں نے کہا حافظ ابو موسیٰ مدینی اور ابن عساکر؟ بولے ابن
عساکر، میں نے کہا حافظ ابو طاہر سلفی اور ابن عساکر فرمایا سلفی تو میرے استاذ ہیں۔
میں (حافظ منذری) کہتا ہوں انہوں نے ابن عساکر کی فضیلت کو بصراحت ذکر کرنا مناسب
نہیں سمجھا بلکہ اپنے شیخ کی بحیثیتِ شیخ ہونے کے فضیلت بیان کر کے ان کی افضلیت کی
طرف اشارہ کیا ہے۔ پھر جب سلفی سے جو ایک تبحرِ عالم ہیں حفظِ حدیث میں حافظ ابو
موسیٰ بڑے ہوئے ہیں تو حافظ ابن عساکر کا ان پر فوقیت رکھنا ظاہر ہے (ایضاً)
حافظ ذہبی لکھتے ہیں "وكان شيخنا ابو
الحجاج يميل الى ان ابن عساكر مارأی حافظاً مثل نفسه" ہمارے شیخ
ابو الحجاج مزی کا میلان بھی اسی طرف ہے کہ حافظ ابن عساکر نے اپنے جیسا کوئی
حافظِ حدیث نہیں دیکھا۔ (ایضاً)
حافظ عبد القادر: "ما رأيت احفظ من
ابن عساكر" میں
نے ابن عساکر سے بڑا حافظِ حدیث کوئی نہیں دیکھا۔ (ایضاً)
ابن نجار: "ابو القاسم امام
المحدثين في وقته انتهت اليه الرياسة في الحفظ والاتقان والنقل والمعرفة التامة و
به ختم هذا الشان" ابو القاسم اپنے زمانہ میں امام المحدثین تھے حفظ
و اتقان اور ثقاہت و معرفت ان پر ختم تھی اور علمِ حدیث کا بھی ان پر خاتمہ ہو گیا۔
(ایضاً)
امام نووی کہتے ہیں آپ حافظِ شام ہی نہیں بلکہ حافظِ دنیا
تھے۔ امام سبکی نے آپ کو امام اہل الحدیث فی زمانہ، ختام الجہابذہ الحفاظ اور بحر لا
ساحل لہ کے خطاب سے نوازا ہے۔ (طبقات
الشافعیہ ج۴ ص ۲۷۴)
حلقۂ درسِ حدیث:
حافظ
ابن عساکر اپنی علمی عظمت و جلالت کے باوجود عرصۂ دراز تک گوشہ نشین ہی رہے اور
پوری یکسوئی کے ساتھ تصنیف و تالیف میں لگے رہے ابتدا میں ان کا خیال تھا کہ حلقۂ
درس قائم کرنا ریا و نمود کے مترادف ہے مگر جب خدا کو منظور ہوا تو ان کے دل میں
درسِ حدیث کا مبارک خیال پیدا ہوا وہ خود فرماتے ہیں:
"جب میں نے حدیث
پڑھانے کا ارادہ کیا اور خدا شاہد ہے کہ اس میں حبِ جاہ اور تقدم علی الاقران کا
جذبہ ہرگز ہرگز کارفرما نہیں تھا بلکہ خواہش یہ تھی کہ میں نے حدیث کا جو یہ بے
انداز ذخیرہ جمع کیا ہے اسے کب بیان کروں گا۔ میں اسے کاغذات میں جمع چھوڑ گیا تو
اس تمام جانکاہی اور مشقت سے کیا حاصل؟ چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ سے استخارہ کیا
اپنے چوٹی کے اساتذہ سے اجازت طلب کی اور گھوم پھر کر اعیانِ شہر سے مشورہ کیا تو
سب نے بیک زبان کہا کہ اس کام کو سرانجام دینے کے لیے تم سے زیادہ مستحق کون ہے؟
چنانچہ میں نے اللہ تعالیٰ کا نام لے کر ۵۳۳ھ میں تدریسی
زندگی کا آغاز کر دیا۔" (تذکرۃ
الحفاظ ج۴ ص ۱۲۳)
آپ کا
حلقۂ درس مسجد میں قائم ہوتا اور لوگ جوق در جوق حاضر ہو کر حدیثِ نبوی کا سماع
کرتے۔ عام شائقینِ علم حدیث کا ذکر ہی کیا ہے علماء بھی شریکِ درس ہوتے اور مشائخ
اپنے طلبہ کو آپ سے طلبِ علم کے لیے بھیجتے۔ چنانچہ تاج المسعودی کا بیان ہے میں
نے ابو العلاء ہمدانی کے بارے میں سنا کہ وہ ایک طالبِ علم سے کہہ رہے تھے جس نے
ان سے (کسی اور استاد سے طلبِ علم کے لیے) سفر کی اجازت مانگی اگر تو کسی کو مجھ
سے افضل سمجھتا ہے تو اس کی طرف ابھی سفر کرنے کی اجازت دیتا ہوں "ان تسافر
الیٰ بن عساکر فانہ حافظ کما یجب" ہاں حافظ ابن عساکر کے پاس جانا چاہو تو وہ بیشک ایسے
حافظِ حدیث ہیں جیسا کہ ہونا چاہئے۔ (ایضاً)
تلامذہ:
آپ کے
تلامذہ کی فہرست بھی خاصی طویل ہے۔ مشہور محدث معمر بن فاخر، ابو العلاءہمدانی،
ابو سعد سمعانی اور دوسرے کبار علماء آپ کے تلامذہ میں شمار ہوتے ہیں۔ ان کے علاوہ
آپ کے صاحبزادے قاسم، ابو جعفر قرطبی، ابوالبرکات ابن عساکر، ان کے بھائی شیخ فخر
الدین، ان کے بھتیجے عز الدین نسابہ، حافظ عبدالقادر رھاوی، ابو القاسم بن صصری، یوسف
بن محمد فاروقی، ابو نصر شیرازی، محمد بن اخی ابی البیان، ابو اسحاق ابراہیم بن
خشوعی، ان کے بھائی عبدالعزیز، یونس بن منصور عسقلانی، محمد بن رومی جروانی، محمد
بن غسان حمصی، مسلم بن احمد مارنی، ذاکر اللہ شیری، عبدالرحمن بن راشد بیت سوائی،
عمر بن عبدالوہاب بن براذعی، عتیق سلمانی، شیخ بہاء الدین علی بن جمیزی، رشید الدین
بن مسلمہ، سدید الدین مکی بن علان اور دوسرے بہت سے لوگوں نے آپ سے علم حدیث حاصل
کیا ہے۔ (ایضاً)
تصانیف:
آپ
شہرہ آفاق مصنف ہیں اور آپ نے بڑی اور چھوٹی بہت سی تصانیف یادگار چھوڑی ہیں ان میں
سے چند قابلِ ذکر یہ ہیں:
(۱) تاریخ دمشق ۸۰ جلد (۲) موافقات ۶ جلد (۳) الاطراف الاربعہ ۴ جلد (۴) عوالی مالک ۵۰ اجزاء (۵) غرائب مالک ۱۰ اجزاء (۶) المعجم ۱ جلد (۷) مناقب شبان ۱۵ اجزاء (۸) فضل اصحاب الحدیث (۹) السباعیات
۷ اجزاء (۱۰) تبیین کذب
المفتری ۱ جلد (۱۱) فضل الجمعہ ۴ اجزاء (۱۲) الاربعین الطوال
۳ اجزاء (۱۳) عوامی شبعہ ۱ جلد (۱۴) الزہادۃ فی
الشہادۃ (۱۵) عوالی الثوری (۱۶) اربعی الجہاد (۱۷) اربعی البلدان (۱۸) اربعی المساواۃ
(۱۹) مسند اہل داریا (۲۰) من وافقت کنیتہ
کنیتہ زوجتہ (۲۱) شیوخ النبل (۲۲) حدیث اہل صنعاء
الشام (۲۳) حدیث اہل البلاط (۲۴) فضل عاشورہ ۳ اجزاء (۲۵) کتاب الزلازل ۳ اجزاء (۲۶) المصاب بالولد ۲ اجزاء (۲۷) قبض العلم (۲۸) فضل مکہ (۲۹) فضل المدینہ (۳۰) فضل القدس (۳۱) فضل عسقلان (۳۲) تاریخ المزه (۳۳) فضل الربوہ (۳۴) فضل مقام ابراہیم (۳۵) جزء الخمیر
یین (۳۶) جزء کفر سوسیہ (۳۷) جزء کفر بطنا (۳۸) جزء المنیحہ (۳۹) سعد (۴۰) عدۃ اجزاء القریٰ (۴۱) جزء حدیث
الہبوط (۴۲) الجواهر فی الابدال ۳ اجزاء۔
ان کے
علاوہ آپ نے ابواب العلم میں ۴۰۸ مجلسیں املا
کرائیں، تخریج احادیث میں چند کتب (اربعین المصافات، اربعین المساواۃ، کتاب
الابدال) (ایضاً)
تاریخ دمشق:
دمشق
شام کا انتہائی قدیم سرسبز و شاداب شہر ہے اسلام سے پہلے یہ شہر انبیاء و رسل کا
مرکز رہا ہے۔ اسلام کے بعد علماء و محدثین کا گہوارہ تھا بالخصوص زوال بغداد کے
بعد یہ شہر بہت بڑا علمی مرکز بن گیا یہاں بڑے بڑے علماء و محدثین پیدا ہوئے۔
حافظ
ابن عساکر نے اپنے وطن کو اپنی تاریخ کا موضوع بنایا اور انتہائی مبسوط تاریخ لکھی
جو اسی جلدوں پر مشتمل ہے جس کے اوراق کی مجموعی تعداد سولہ ہزار ہے۔ اس کتاب میں
مولف نے ان اشخاص کا تذکرہ کیا ہے جو دمشق میں پیدا ہوئے یا اس کو وطن بنایا یا اس
علاقہ سے ان کا گزر ہوا۔ ان میں انبیاء و رسل، خلفاء و امراء، سلاطین و حکام،
علماء و محدثین، قضاۃ و فقہاء، اور ادباء و شعراء اور دیگر اہل علم وفن شامل ہیں۔
قابل ذکر امر یہ ہے کہ رجال و محدثین کے بارے میں ضعیف و ثقہ کی وضاحت کر دی ہے
ائمہ کے اقوال جرح و تعدیل سے استشہاد بھی کیا ہے۔ (مقدمہ تہذیب تاریخ دمشق ۱۲/۱۰)
زہد و عبادت:
حافظ
ابن عساکر بڑے متقی عابد و زاہد محدث تھے وہ تعلیمی مشاغل کے علاوہ اوقات نوافل...میرے
والد ہمیشہ نماز باجماعت ادا کرتے تھے۔ قرآن حکیم سے اتنی محبت تھی کہ رمضان
المبارک میں روزانہ اور باقی مہینوں میں ہر جمعہ کو ایک مرتبہ ختم کرتے تھے۔ مسجد
دمشق کے مشرقی مینار میں اعتکاف کیا کرتے تھے نفل بکثرت پڑھتے اور باقی وقت ذکر
واذکار میں گزارتے تھے۔ نصف شعبان اور عیدین کی راتیں خاص طور پر ذکر الہی عبادت
اور صلوۃ ومناجات میں بسر ہوتی تھیں اگر کوئی لمحہ ضائع ہو جاتا تو اس پر اپنے نفس
کا سختی کے ساتھ محاسبہ کرتے تھے۔
(تذکرۃ
الحفاظ ج ۴ ص ۱۳۲)
ابوالمواہب
فرماتے ہیں: ”آپ ہمیشہ بلاعذر پہلی صف میں نماز ادا کرتے اور رمضان المبارک اور
عشرہ ذی الحجہ میں اعتکاف فرماتے تھے۔ املاک کے حصول اور عالیشان مکانات کی تعمیر
سے بے نیاز تھے ان چیزوں کو آپ نے دل سے بھلا دیا تھا۔ امامت، خطابت اور اس قسم کے
دوسرے عہدوں کی بھی خواہش نہیں کی اور اگر کسی نے پیش کش کی بھی تو اس کو مسترد
کردیا۔ انہوں نے امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو اپنے اوپر لازم کر رکھا تھا
اور حق بات کہنے میں کسی ملامت گر کی ملامت کی پرواہ نہیں کرتے تھے۔ (ایضاً ص ۱۳۳)
وصال:
۱١ رجب المرجب ٥٧١ھ میں داعی اجل کو لبیک کہا۔
ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات
