امام
ابو عمر عبدالرحمن اوزاعی
اسم
گرامی، عبدالرحمن
کنیت ،ابو
عمرو
نسب :
عبدالرحمن
بن عمرو بن ابی عمرو۔
ولادت:
محمد
بن شامی دمشقی، اوزاعی اس لیے کہلاتے ہیں کہ آپ کا نسبی تعلق یمن یا ہمدان کے ایک
قبیلہ اوزاع سے تھا۔ بعض لوگوں نے کہا ہے کہ اوزاع دمشق کے قریب ایک بستی تھی جس
کی طرف منسوب ہوئے۔ بمقام بعلبک ۸۸ھ میں
ولادت ہوئی۔ یتیمی کی وجہ سے ماں نے کفالت کی اور بعلبک سے علاقہ بقاع کی ایک بستی
کرک میں منتقل ہوگئیں جہاں لختِ جگر کی تربیت کرنے لگیں۔ پھر وہاں سے بیروت لائیں
جہاں تعلیم کا آغاز ہوا۔
تحصیلِ
علم:
یہ
درِ یتیم حفظ و ضبطِ علم کی خداداد صلاحیتوں سے سرفراز تھا۔ ذہانت و فراست فطری
تھی۔ یتیمی اور عسرت کے باوجود اپنے وقت کے جلیل القدر آئمہ کی بارگاہوں سے کسبِ
علم کیا۔ کسی ضرورت سے یمامہ گئے تو وہاں کے شیخ یحییٰ بن ابی کثیر کے حلقہ درس سے
وابستہ ہو گئے۔ کچھ دنوں بعد شیخ نے صلاحیت واستعداد کا اندازہ کرکے حکم دیا کہ
بصرہ جاکر محمد بن سیرین اور حسن بصری سے سماعِ حدیث کریں مگر افلاس کے باعث یمامہ
سے بصرہ پہنچنے میں کافی وقت صرف ہوا۔ جب بصرہ پہنچے تو حسن بصری وفات پا چکے تھے
اور ابن سیرین مرضِ موت میں مبتلا تھے۔ (تذکرہ ج ۱ ص ۱۶۹)
بصرہ
کے دیگر تابعین و محدثین سے سماعِ حدیث فرمایا۔ آپ نے بصرہ کے علاوہ دوسرے علمی
مراکز کا بھی سفر کیا۔ ابن کثیر کا بیان ہے۔ "ادرک خلقاً من
التابعین"
انہوں نے تابعین کی ایک کثیر تعداد سے فیض پایا۔
اساتذہ
کرام:
عطاء
بن ابی رباح، قاسم بن مخیمرہ، شداد بن عمار، ربیعہ بن یزید، زہری، محمد بن ابراہیم
تیمی، یحییٰ بن ابی کثیر، نافع مولیٰ ابن عمر، قتادہ ابو النجاشی، عطاء بن صہیب،
یحییٰ بن ابی کثیر، اسحاق بن عبداللہ، عبدہ بن ابی لبابہ، محمد بن سیرین، المطلب
بن عبداللہ بن حطب، یحییٰ بن سعید الانصاری، ابو عبید مذحجی، ابو کثیر سمیمی، سلمان بن حبیب المحاربی، حسان بن
عطیہ، ربیعہ بن ابی عبدالرحمن، عبدالرحمن بن القاسم بن محمد، عمرو بن زیات، ولید
بن ہشام المعیطی، یزید بن یزید بن جابر۔ (تہذیب التہذیب ج ۶
ص ۲۱۶)فضل و کمال:امام اوزاعی نے یتیمی اور عسرت
کے باوجود جس انہماک اور احساسِ ذمہ داری کے ساتھ علم حاصل کیا۔ اپنی تہذیبِ نفس
کی وہ اپنی آپ مثال ہے۔ ولید بن مزید کہتے ہیں: "تسمعجز الملوک ان
تودب اولادھا ادبہ فی نفسہ ماسمعت منہ کلمة فاضلة الا احتاج مستمعھا الی اثباتھا
عنہ ولا رایتہ ضاحکاً بقهقهة" آپ نے علم و ادب میں جس طرح اپنی آپ
تربیت کی اس طرح بادشاہ بھی اپنی اولاد کی تربیت کرنے سے عاجز ہیں۔ آپ کی زبان سے
جو بھی کلمہ فاضلہ نکلتا سننے والے اس کے حفظ وضبط کی کوشش کرتے میں نے آپ کو کھل
کھلا کر ہنستے کبھی نہیں دیکھا۔
(تذکرہ ج 1 ص 169)
وہ
حدیث کے جلیل القدر امام اور فقہ میں مجتہد فی المذہب تھے۔ آپ کے علم و تفقہ کا
اعتراف ائمہ اسلام نے اس طرح کیا ہے۔
*
ابن
خلکان: "الاوزاعی
امام اھل الشام لم یکن بالشام اعلم منہ" اوزاعی شام کے امام ہیں شام
میں کوئی ان سے بڑا عالم نہیں ہے۔
(وفیات الاعیان ج 2 ص 61)
*
ابن
سعد: "کان
ثقة مامونا صدوقا فاضلاً خیراً کثیر الحدیث والعلم والفقہ" اوزاعی
ثقہ، مامون، صدوق، فاضل، بہتر، حدیث، علم اور فقہ میں بڑے تھے۔ (تہذیب التہذیب ج
6 ص 241)
*
ابن
حبان: "کان
من فقہاء اھل الشام وقرائھم وزھادھم" اوزاعی اہل شام کے فقہا،
علماء، اور زاہدوں میں تھے۔ (ایضاً)* امام نسائی: "ابو عمر
والاوزاعی امام اھل الشام وفقیھھم" ابو عمرو اوزاعی اہل شام کے امام
اور فقیہ تھے۔ (ایضاً ص 218)* خلیبی: "کان
الاوزاعی افضل اھل زمانہ" امام اوزاعی اپنے زمانہ میں سب سے
افضل تھے۔ (ایضاً)* امیہ بن یزید: "کان عندنا
ارفع من مکحول جمع العبادة والورع والقول بالحق" اوزاعی
ہمارے نزدیک مکحول سے بلند رتبہ تھے انہوں نے عبادت، تقویٰ اور قول حق کو جمع کر
لیا تھا۔ (ایضاً ص 241)* امام شافعی: "ما رأیت
احداً اشبہ فقھہ بحدیثہ من الاوزاعی" امام اوزاعی کے علاوہ میں نے
کسی کو نہیں دیکھا جس کی فقہ اس کی حدیث سے زیادہ مماثلت رکھتی ہو۔ (ایضاً)*
امام
نووی: "وقد
اجمع العلماء علی امامة الاوزاعی وجلالتہ وعلو مرتبتہ وکمال فضلہ"امام
اوزاعی کی امامت، جلالت، شان و علوئے مرتبت اور فضل و کمال پر سب کا اتفاق ہے۔
حافظ
ابنِ کثیر:
خلفاء،
وزراء، تجار وغیرہ کے کسی طبقہ میں بھی ان سے زیادہ صاحبِ علم و فضل اور فصیح و
بلیغ متقی و پرہیز گار آدمی نہیں دیکھا گیا۔ فقہ وحدیث، سیر و مغازی اور دوسرے
اسلامی علوم میں نہ صرف اپنے وطن بلکہ تمام ممالکِ اسلامیہ پر ان کی سیادت کا سکہ
بیٹھا ہوا تھا۔ (ابنِ
کثیر ج۱)
حلقۂ
درس :
امام
اوزاعی کا حلقۂ درس و افتاء ۱۱۳ھ میں،
جب کہ ان کی عمر ۲۵ سال تھی شام میں قائم ہوا۔ نمازِ فجر کے
بعد ذکر و اذکار میں مصروف ہو جاتے۔ جب آفتاب کی پہلی کرن صفحۂ زمین کو روشن کرتی
امام اوزاعی اپنے درس کا آغاز فرماتے طلبہ پہلے سے موجود ہوتے تھے۔ حدیث و فقہ کی
تعلیم دی جاتی ضرورت مندوں کو دینی مسائل و استفسارات کے جوابات مرحمت فرماتے آپ کے
تلمیذِ خاص ہقل کا بیان ہے۔
"افتی
الاوزاعی فی سبعین الف مسئلۃ بحدثنا واخبرنا"امام اوزاعی نے
ستر ہزار مسائل کے جوابات حدیث کی روشنی میں دیے۔ (ابن
کثیر ج ۱۰ ص ۱۱۶)
تلامذہ:
شعبہ
ابن المبارک، ولید بن مسلم، ہقل بن زیاد، یحییٰ بن حمزہ، یحییٰ قطان، ابو عاصم ابو
المغیرہ، محمد بن یوسف فریابی، مالک، الثوری، ابن ابی الزناد، عبد الرزاق، بقیہ،
بشر بن بکر، محمد بن حرب، شعیب بن اسحاق، ابو ضمرہ المدینی، ضمرہ بن ربیعہ،
اسماعیل بن عبد اللہ بن سلمہ، ابو اسحاق فزاری، اسماعیل بن عیاش، عبد اللہ بن کثیر
دمشقی عبد اللہ بن نمیر، ابو سلمہ تنیسی، بشر بن اسماعیل، محمد ابن شعیب شابور،
محمد بن مصعب قرقسائی مخلد بن یزید حرانی، ہشیم بن حمید، ولید بن یزید عذری، یزید
بن سمط، یحییٰ بن عبد اللہ بن ضحاک، عیسیٰ بن یونس، عمر بن عبد الواحد سلمی، عبد
الحمید بن حبیب بن ابی العشرین، عبد اللہ بن موسیٰ عبسی محمد بن کثیر المصیصی۔امام
اوزاعی کو یہ فخر بھی حاصل ہے کہ ان کے شیوخ و اساتذہ نے بھی ان سے احادیث کی
روایت کی ہے جیسے امام ابن شہاب زہری، یحییٰ بن ابی کثیر وغیرہ، قابلِ ذکر ہیں۔
(تہذیب التہذیب ج ۶ ص ۲۴۱۔۲۱۶)
حدیث:-
امام
اوزاعی نے اپنے زمانہ کے بڑے بڑے محدثین سے علمِ حدیث کی تعلیم پائی تھی ان کا
دامن احادیثِ رسول ﷺکے سدا بہار پھولوں سے مالا مال تھا انہوں نے اس علمی سرمایہ
کو اپنے شاگردوں کے سامنے پیش کیا اور اس طرح حدیث کی گراں قدر خدمت انجام دی حدیث
میں ان کی جلالت وعظمت ثقاہت وعدالت کا اعتراف ائمہ فن نے کیا ہے۔
ابن
مہدی: "الائمۃ
فی الحدیث اربعۃ الاوزاعی ومالک والثوری وحماد بن زید۔۔۔ ما کان
بالشام اعلم بالسنۃ منہ" اس وقت حدیث میں چار امام ہیں۔ امام
اوزاعی، امام مالک، سفیان ثوری اور حماد بن زید۔۔۔ شام میں امام اوزاعی سے بڑا
عالم حدیث کوئی نہیں تھا۔ (تہذیب التہذیب ج ۶
ص ۲۱۷)
*
یعقوب:
"الاوزاعی
ثقۃ ثبت فی روایتہ عن الزہری خاصۃ شئ" امام اوزاعی ابن شہاب زہری
سے روایت کرنے میں خاص طور پر ثقہ اور ثبت تھے۔ (ایضاً ۲۱۸)
عجلی:
"شامی
ثقۃ خیار المسلمین" اوزاعی شام کے رہنے والے ثقہ اور خیار المسلمین
ہیں۔
فقہ واجتہاد:
امام
اوزاعی بلند پایہ فقیہ اور مجتہد مطلق تھے ان کے فقہی مسلک کی اساس قرآن وسنت پر
قائم تھی وہ قیاس ورائے کو حجت شرعی نہیں سمجھتے تھے وہ حدیث پاک کے ہوتے ہوئے کسی
کے قول اور رائے پر عمل روانہ رکھتے تھے اور گزر چکا ہے انہوں نے ستر ہزار فقہی
استفسارات کے جوابات حدیث وسنت کی روشنی میں دیے۔
عامر
بن اسحاق کہتے ہیں میں نے امام اوزاعی کو سنا وہ کہتے تھے:
"اذا بلغک
عن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حدیث فایاک ان تقول بغیرہ فانہ کان مبلغا عن اللہ ۔
(تذکرۃ الحفاظ ج ۱ ص ۱۷۰)
جب تم
کو حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی حدیث کا علم ہو جائے تو پھر اس کے سوا کسی بات
کو قبول نہ کرو کیوں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ ہی مبلغ بن کر آئے ہیں۔
امام
اوزاعی ایک علیحدہ مکتب فکر کے بانی تھے ان کے فقہی مسلک کی پوری تفصیل اور اس کے
امتیازات کی فہرست ہمارے موضوع سے خارج ہے۔ آپ کا فقہی مسلک بعد کی صدیوں میں دب
کر رہ گیا مگر اموی سلطنت آپ سے کافی متاثر تھی اور منصبِ قضا پر فائز کرنا چاہتی
تھی لیکن آپ نے انکار کر دیا جب ایشیاء کے بعد اندلس میں اموی اقتدار کا سورج طلوع
ہوا تو وہاں امام اوزاعی کے مسلک فقہ کی کئی صدی تک پیروی کی گئی۔
حافظ
ذہبی فرماتے ہیں : اہل شام اور پھر اہل اندلس ایک مدت تک امام اوزاعی کے مسلک پر
عمل پیرا رہے۔ بعد میں اندلس میں امام مالک کا مسلک پھیل گیا اور امام اوزاعی کے
مسلک کے صرف چند مسائل باقی رہ گئے جو اب اختلافِ فقہ کی کتابوں میں ملتے ہیں۔
مسلک
کی تبدیلی: محمد الخضری کے مطابق، اہل شام ایک عرصے تک اس مسلک پر رہے۔ اندلس میں
یہ مسلک ان لوگوں کے ذریعے پہنچا جنہوں نے وہاں بنو امیہ کی حکومت قائم کرنے میں
مدد کی۔ تاہم، جب امام شافعی اور امام مالک کے مسالک سامنے آئے، تو تیسری صدی ہجری
کے وسط تک اندلس میں امام اوزاعی کا مسلک کمزور پڑ گیا۔
امامت
کی صلاحیت:
تحریر
کا آخری حصہ امام اوزاعی کی ہمہ جہت شخصیت پر روشنی ڈالتا ہے:
علم
اور حکمرانی: عام طور پر ایک عالم میں سیاسی بصیرت یا حکومت چلانے کی صلاحیت نہیں
ہوتی، لیکن امام اوزاعی اس معاملے میں ممتاز تھے۔ وہ علم و فضل کے ساتھ ساتھ سیاسی
اور ملکی نظم و نسق سنبھالنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے تھے۔
امام
ذہبی :ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ "کان یصلح للخلافة"
یعنی وہ خلافت کی صلاحیت رکھتے تھے ۔
امام
مالک فرماتے ہیں "انہ یصلح للامامة" یعنی وہ
امامت اور قیادت کے لائق تھے۔
امام فزاری
کا بیان ہے:
"لو خیرت
لہذہ الامۃ لاخترت لھا الاوزاعی" اگر مجھے اس امت کا خلیفہ منتخب
کرنے کا اختیار دیا جائے تو میں امام اوزاعی کو خلیفہ منتخب کروں گا۔(تذکرہ ج 1 ص
169)
امام
اوزاعی علم و عمل میں یکسانیت رکھنے والے بزرگ تھے۔ انہوں نے علم و عمل اور زہد و
ورع ہی تک اپنے آپ کو محدود نہیں رکھا بلکہ امت کے ہر کام سے دلچسپی لی۔ وہ خلقِ
خدا کی بھلائی اور عدل و انصاف کے پھیلانے میں ہمیشہ کوشاں رہے اور اس حدیث پاک پر
عامل تھے: "عدل ساعۃ خیر من عبادۃ الف شہر" (ایک گھڑی کا عدل و انصاف
ہزار مہینے کی عبادت سے بہتر ہے)۔ (محاسن المساعی ص 9)
تصانیف:
امام
اوزاعی حدیث و فقہ کے مسلم الثبوت امام تھے اور انہوں نے مختلف موضوعات پر کتابیں
بھی تصنیف کیں مگر امتدادِ زمانہ کے باعث اب وہ ناپید ہیں۔ بعض تذکروں میں ان کی
تصانیف کے نام ملتے ہیں۔ ابن ندیم نے آپ کی دو کتاب "کتاب السنن فی الفقہ"
اور "کتاب المسائل فی الفقہ" کا تذکرہ کیا ہے، علاوہ ازیں انہوں نے امام
اعظم کے مسائلِ سیر و مغازی کے رد میں ایک کتاب لکھی تھی جس کے جواب میں امام ابو
یوسف نے ایک کتاب "الرد علیٰ سیر الاوزاعی" تصنیف فرمائی اور امام
محمدنے السیر الکبیر میں امام اوزاعی کے اعتراضات کے جگہ جگہ جوابات دیئے ہیں۔
سیرت و
کردار:
سیرت و
کردار میں صحابہ و تابعین کا نمونہ تھے۔ زہد و قناعت، سخاوت، فیاضی، حق گوئی، دبے
باکی، وعظ و پند اور امت کی خیر خواہی یہ سب ان کے نمایاں اوصاف تھے۔ زہد و تقویٰ،
خشیت الٰہی، عبادت و ریاضت، حق گوئی و بے باکی ان کا شیوہ تھا، انہوں نے کبھی
امراء و خلفاء کے دربار کا رخ نہیں کیا۔ توکل و قناعت کے ساتھ سادہ زندگی بسر کرتے
رہے، اربابِ اقتدار پر نکتہ چینی کرتے اور ان کے روبرو حق بولنے سے ذرا بھی خوف نہ
کرتے، اسلام کی عادلانہ روش بیان کر دیتے۔
عباسیوں
نے حکومت پر قبضہ کرنے کے بعد امویوں کو جس بے دردی کے ساتھ قتل کیا اور انہیں جلا
وطن کیا، امام اوزاعی اسے پسند نہ کرتے تھے۔ اس بات کی اطلاع جب دمشق کے والی
عبداللہ بن علی کو ہوئی تو مواخذہ کے لیے آپ کو دربار میں طلب کیا اور شمشیر بکف
سپاہیوں کی ایک جماعت کے سامنے کھڑا کر کے پوچھا: اوزاعی! ہم نے ان ظالموں (بنو
امیہ) سے ملک اور اس کے باشندوں کو نجات دلانے میں جو جنگ کی ہے یہ جہاد ہے کہ
نہیں ، امام اوزاعی نے نحایت حکیمانہ جواب دیا۔فرمایا مینے یحی بن سعید سے حدیث
سنی ہے۔ انما
الاعمال باالنیات ۔
تقویٰ
اور عبادت:
امام
اوزاعی بڑے متقی، پارسا اور عبادت گزار بزرگ تھے۔ عبادتوں میں بڑا خشوع و خضوع
ہوتا، راتوں میں بکثرت نوافل ادا کرتے اور قرآن کی تلاوت کیا کرتے تھے۔ اللہ کا
خوف اس درجہ غالب تھا کہ پوری پوری رات گریہ وزاری میں گزار دیتے، ابو مسہر کہتے
ہیں:
"کان
اوزاعی یحیی اللیل قرآناً وبکاءً"
(اوزاعی
رونے اور نماز میں قرآن کی تلاوت میں رات ختم کر دیا کرتے تھے۔) — (تذکرۃ الحفاظ ج
1، ص 171)
وہ اس
قدر روتے تھے کہ ان کا مصلّٰی تر ہو جایا کرتا تھا۔ ایک بار کسی عورت نے آپ کے
مصلے کو تر دیکھا تو کہا: "کیا کسی بچے نے پیشاب کر دیا ہے؟" تو اہلیہ
محترمہ نے جواب دیا:
"ھذا من
اثر دموع الشیخ فی سجودہ ھکذا یصبح کل یوم"
(یہ
شیخ کے آنسوؤں سے تر ہو گیا ہے، یہ روزانہ سجدوں میں اسی طرح رویا کرتے ہیں۔) —
(البدایہ ج 10، ص 117)
نمازوں
میں خشوع کے بارے میں ان سے پوچھا گیا تو فرمایا: "غض البصر وخفض الجناح
ولین القلب وھو الحزن" (تذکرہ ج 1، ص 177)
نظر
نیچی رکھنا، بدن کو پرسکون بنانا اور دل میں رقت و خشیتِ الٰہی پیدا کرنا اور یہی
غم و حزن ہے۔
بشر بن
منذر آپ کی کیفیتِ خشوع کا ذکر اس طرح کرتے ہیں:
"وکان من
شدۃ الخشوع کانہ اعمیٰ"
شدتِ
خشوع کی وجہ سے یہ نابینا معلوم ہوتے تھے۔ — (ایضاً)
وصال
پرملال:
امام
اوزاعی کی وفات 157ھ میں بمقام بیروت ہوئی اور بیروت سے باہر موضع حنتوس میں دفن
کیے گئے۔ اس قریہ کے لوگ آپ کی علمی حیثیت
اور جلالت نہیں جانتے تھے مگر اسے ایک ولیِ کامل کی قبر تسلیم کرتے ہیں، وہ کہتے
ہیں: "ھهنا
رجل صالح ینزل علیہ النور" (اس قبر میں ایک مردِ صالح مدفون ہے
جس پر نور کی بارش ہوتی ہے)۔ —
(وفیات
الاعیان ج 2، ص 62)
(ماخذ مراجع، محدثین عظام حیات و خدمات)
