قاضی القضاۃ امام
المسلمین امام ابو یوسف یعقوب بن حبیب
نام : یعقوب بن حبیب
کنیت : ابو یوسف
ولادت:
امام ابو یوسف بمقام کوفہ میں عہد ہشام بن عبد الملک 93ھ
میں ولادت ہوئی۔
سلسلۂ نسب:
یعقوب بن۱براہیم بن حبیب بن حنین بن
سعد بن عتبہ انصاری صحابی ۔
تحصیل علم:
قاضی ابو یوسف کو قدرت نے ذہن رسا اور سوق علم سے حظ وافر
عطا فرمایا تھا مگر ان کے والد تنگدست انسان تھے وہ انہیں اپنے ساتھ کسب معاش میں
شریک کرنا چاہتے تھے چنانچہ بیکراں ذوق تحصیل کے باوجود قاضی صاحب ابتدا میں
باقاعدہ تحصیل کے باوجود قاضی صاحب ابتدا میں باقاعدہ تحصیل علم کا موقع نہ نکال
سکے فرصت کے جو مواقع ہاتھ آتے محمد بن ابیل لیلی کی درس گاہ میں حاضر ہوتے یہ
سلسلہ تقریبا آٹھ سال تک جاری رہا اس کے بعد امام اعظم کے حلقہ درس میں شامل ہوئے اور
یہ مجلس انہیں اتنی پسند آئی کہ ہمیشہ کے لیے اسی سے وابستہ ہوگئے اور پورے
انہماک کے ساتھ طلب علم میں مصروف ہوگئے ان کے والد نے جب یہ حال دیکھا تو ایک دن
امام صاحب کے حلقہ درس میں پہنچے اپنے فرزند زبردستی گھر لائے اور کہا ’’ابو حنیفہ
مالدار شخص ہیں تم ان کا مقابلہ کیوں کرتے ہو؟ قاضی ابو سف کہتے ہیں میں میرے باپ
نے کہا ۔ ’’یابنی لاتمد رجلک مع ابی حنیفۃ فان ابا حنیفۃ خبزہ مسویۃ وانت تحتاج الی المعاش فقصرت عن
کثیرا من الطلب وابرت طاعۃابی‘‘ اے میرے بیتے ابو حنیفہ سے
ریس نہ کرو ابو حنیفہ کو پکی ہوئی روٹیاں میسر ہیں (یعنی وہ خوش حال ہیں) اور تم معاش کے محتاج ہو امام ابو
یوسف کہتے ہیں تو میں کثرت طلب سے رک گیا اور اپنے باپ کی اطاعت کرنے لگا۔
حدیث وثقہ:
امام
اجل ، فقیہ اکمل،عالم ماہر ، فاضل متجر ،حافظ سنن ،صاحب حدیث ،ثقہ ،مجتہدفی المذہب
اور امام ابو حنیفہ کے اصحاب میں سب سے متقدم تھے۔آپ ہی نے پہلے پہل امام ابو
حنیفہ کے مذہب پر کتابیں لکھیں اور مسائل کو املاء و نشر کیا اور ان کے مذہب کو
اقطار عالم میں پھیلایا،آپ ہی سب سے پہلے قاضی
القضاۃ اور افقہ العلماء وسید العلماء کے لقب سے ملقب ہوئے
اور آپ نے ہی اس ہئیت کا لباس علماء کا جو آج کل مروج ہے ، یجاد کیا۔حدیث کو امام
ابو حنیفہ وابا اسحٰق شیبابی و سلیمان تیمی ویحٰی بن سعد و سلیمان اعمش و ہشام بن
عروہ و عبید اللہ بن عمر عمری وعطاء بن سائب و محد بن اسحٰق بن یسار ولیث بن سعد
وغیر ہم سے سماعت کیا اور فقہ کو پہلے ابن لیلیٰ پھر امام ابو حنیفہ سے اخذ کیا ۔
آپ سے امام محمد بن حسن شیبانی اور بشرین ولید
کندی اور امام احمد بن حنبل ار یحیٰ بن معین و احمد بن منیع وعلی بن جعدہ وغیرہ نے
روایت کی ۔
امام احمد بن ضیل ویحیٰ بن
معین اور علی بن مدینی نے آپ کی ثقاہت نقل فی الحدیث میں کچھ اختلاف نہیں کیا بلکہ
امام غزالی نے کہا ہے کہ حدیث میں آپ کی متابعت سب سے اولیٰ ہے ۔
تلامذہ:
آپ کے میں سے محمد بن سماعہ ،معلی بن منصور ،
بشرین ولید کندی بشیر بن غیاث مریسی ،خلف بن ایوب ،عصام بن یوسف، ہشام بن عبد اللہ
:حسن بن ابی مالک ،ابو علی رازی ، بالل رازیعلی بن جعد وغیر ہم ہیں ۔ آپ کا قول ہے
کہ میں امام ابو حنیفہ کی خدمت میں ۲۹ سال جاتا رہا او میری صبح کی نماز فوت نہیں ہوئی۔آپ بغداد میں ساکن
ہوئے اور وہاں کی قضا خلفائے ثلاثہ مہدی اور اس کے بیٹے ہاوی اور ہارون رشید کے
زمانے میں آپ کے سپرد ہوئی ۔ ہارون رشید آپ کی بڑی عزت و تو قیر کرناتھاایک دفعہ
خلیفہ ہارون اور ایک یہودی کا مقدمہ آپ کے پاس آیا اور یہودی خلیفہ سے ذراپیچھے ہٹ
کر آپ کے سامنے بیٹھا ۔آپ نے اس کو فرمایا کہ ورے آکر خلیفہ کے برابر بیٹھ ،عدالت
میں کسی کو تقدم نہیں ، یہان شاہ وگدا برابر ہیں۔ آپ نے کتاب الخراج ، کتاب
الامالی کتاب النوار تصنیف فرمائیں۔
علمِ
فضل:
امام
ابو یوسف نے فقہ و درایت میں نظریۂ زمانہ اور زاہدِ وقت ہونے کی وجہ سے دورِ نزدیک
میں بڑا نام پیدا کیا۔ پچاس سال کی عمر تک آپ نے اس فن کو کمالِ درجہ تک پہنچا دیا
اور دنیا نے آپ کو عظیم جوہری شخصیت بن کے ساتھ قبول کیا۔ چنانچہ اہلِ علم و فن نے
آپ کی مدح و ستائش میں بڑے بڑے قصیدے کہے اور بہت سے نام آپ کے قرین میں لانے لگے۔
چنانچہ چند اقوالِ اکابرین سے اس امر کی طرف اشارہ کیا جاتا ہے:
ابن
شاذان: "کان فقیهاً عالماً حافظاً"یعنی فقہ میں امام اور حافظ تھے۔
(وفیات الاعیان ص 389)
حافظ ابن
حجر: "إن أبا يوسف كان حافظاً، وأنه كان بحضرة المحدّثين يحفظ متون حديثها
باسم قوم يملونها على الناس وكان كثير الحديث"
(لسان الميزان 1/50)
حافظ
ذہبی لکھتے ہیں:
"ما كان في أصحاب أبي حنيفة مثل أبي يوسف، لا أبو يوسف المذكور، ولا
محمد بن الحسن في الحفظ، وإنما اشتهر قولهما وبثّ علمهما"
یعنی
اصحابِ ابی حنیفہ میں ابو یوسف کے برابر کوئی حافظِ حدیث نہ تھا، البتہ امام محمد
بن حسن رحمہ اللہ نے اپنے علم کی نشر و اشاعت کے سبب زیادہ شہرت پائی۔
(لسان الميزان ص 390)
كان أبو يوسف يحفظ التفسير
والمغازي وأيام العرب وكان أهل علوم الفقه ولم يكن في أصحاب أبي حنيفة مثل أبي
يوسف"
قاضی
ابو یوسف اور امام محمد سے اور فقہ کی ادنیٰ تعلیم پانے سے پہلے ہی علماء میں کوئی
ابو یوسف جیسا نہ تھا۔
حافظ
ذہبی:"الإمام
العلامة فقيه المراوزين"
(تذكرة الحفاظ ص 239)
ابن
جندب:"ما رأيت
مثله"میں
نے ابو یوسف جیسا کوئی نہیں دیکھا۔
اسماعیل
بن حماد:میرے دادا (ابو حنیفہ)
کے خاص شاگردوں میں امام ابو یوسف بڑے بزرگ گزرے تھے۔
عہدۂ
قضا:
اموی اور عباسی دور میں قاضی دینی اور
شرعی فیصلوں میں حکومت کی مصلحت کو نذر انداز نہیں کرسکتے تھے یہی وجہ ہے کہ اس
دور کے ربانی علماء وفقہاء عہدۂ قضاء قبول کرنے سے اعراض کرتے تھے جیساکہ امام اعظم ، سفیان ثوری اور امام مالک جیسی اہم
علمی شخصیتوں نے اس عہدہ سے اپنے آپ کو
ہمیشہ الگ رکھا لیکن امام ابو یوسف نے اپنے پیشرؤں کے برخلاف خلیفہ مہدی کے زمانہ میں اس عہدے کو قبول کیا جس میں
ان کی معاشی زبوں حالی اور دینی مصلحت شامل تھی امام اعظم پوری زندگی آپ کے اہل
وعیال کے کفیل رہے مگر ان کے بعد کوئی مستقل ذریعہ معاش نہ تھا اور خالصۃ لوجہ
اللہ خدمت علم دین کی وجہ سے آپ کی معاشی حالت خستہ ہوتی چلی گئی پہلے تو گھر کا
اثاثہ فروخت ہو پھرایک بار سسرالی مکان کی شہہ تیر ضرورتا فروخت کرنی پڑی، جس پر
ان کی ساس نے لعن طعن کی جس کی بنا پر امام صاحب مجبورا عہد قضا قبول کیا۔ ساتھ ہی
اس منصب کے قبول کرنے کی دینی مصلحتیں بھی تھیں کہ وہ اس منصب پر رہ کر اہل اسلام
کو حق وانصاف دلاسکیں گے اور اس دور کی برائیوں کا خاتمہ کر سکیں گے نیز جس فقہ کو
امام اعظم اور ان کے تلامذہ نے (جن میں خود وہ بھی نمایاں تھے) مدون کیا تھا اس کے
مطابق فیصلہ کریں اس فقہی مسلک کو عام اور مشتہر کریں جس سے اسلامی دنیا فائدہ
حاصل کرسکے اور یہ بھی مد نظر تھا کہ وہ اپنی تربیت میں لائق قضاء تیار کرسکیں اور
دیگر شہروں کے مناصب قضاء پر خدا ترس باصلاحیت فقہاء کو مقرر کرسکیں۔
امام
ابو یوسف نے عہدہ قضاء پر رہ کر پوری ایمانی جراٌت کے ساتھ وہی فیصلے صادر کیے جو
اسلامی شریعت کی رو سے حق تھے اس سلسلہ میں کبھی کسی کی ناحق رعایت نہیں کی وزراء
وار کان دولت کی شہادتیں رو کردیں یارون رشید جیسے بااقتدار خلیفہ کو معمولی رعایا
کی صف میں کھڑا کردیا اور اس کے سامنے کبھی اظہار ھق سے باز نہیں آئے وہ تین عباسی
خلفاء مہدی، ہادی اور ہارون رشید کے زمانے میں اسی عہدہ پر متمکن رہے ہارون رشید
نے اپنے عہد میں آپ کو تمام ممالک اسلامیہ کا قاضی القضاۃ بنادیا آپ ہی کے حکم سے
قاضیوں کا تقرر کیا جاتا مقریزی نے لکھا ہے کہ عراق، خراسان شام، مصر میں ان کے
حکم کے بغیر قضاء کے منصب پر کوئی مقرر نہیں ہوسکتا تھا۔ ’’ کان الیہ تولیۃ القضاء فی الآفاق
من الشرق والمغرب ‘‘ مشرق سے مغرب تک تمام اسلامی ملکوں میں قاضیوں کا تقرر
انہیں کے سپرد تھا۔
(جواہر مضیہ ج2)
علم حدیث و آثار:
حدیث وآثار میں ان کی حیثیت امام کی تھی سماع حدیث کا اتنا
شوق تھا کہ ایک طرف امام صاحب کی مجلس درس میں فقہ کی تحصیل کرتے تھے پھر وہاں سے
فرصت پانے کے بعد ان شیوخ کی خدمت میں حاضر ہوتے تھے جن کے یہاں صرف حدیث کا
املا اور سماع کرایا جاتا تھا۔
بعض روایتوں میں ہے کہ
یہ جس وقت امام صاحب کے حلقہ درس میں شرکت کےلیے گئے تھے اس وقت ان کا شمار
حفاظ حدیث میں ہونے لگا تھا ان کے حافظہ کا حال یہ تھا کہ وہ ایک مجلس میں جتنی حدیثیں سنتے تھے وہ ان
کو مع سند زبانی یاد ہوجاتی تھیں۔ حدیث
وآثار کے بارے میں یحیی ابن معین، احمد بن حنبل اور ابن المدینی کی رائے بہت قیمتی
سمجھی جاتی ہے ان تینوں بزرگوں کی متفقہ رائے ہے کہ امام ابو یوسف حدیث میں غیر معمولی مہارت رکھتے تھے حدیث وآثار میں ان کا جو
کارنامہ اور ان کی جو قلمی یاد گاریں ہیں وہ خود حدیث میں ان کی مہارت اور غیر
معمولی درک کا پتہ دیتی ہیں ۔ امام ابو یوسف کا حفظ واتقان، افقہ، اور کثیر الحدیث ہونا
ان کی جلالت اور فضل وکمال اجلۂ محدثین کے نزدیک مسلم تھا چنانچہ محدثین نے اس کا اعتراف اس طرح
کیا ہے : ابن جوزی نے امام ابو یوسف کوقوت حفظ کے اعتبار سے ان سو افراد میں شمار
کیا ہے جو اس امت کے مخصوص و بے نظیر صاحب
حفظ ہوئے ہیں۔
امام احمد بن حنبل: نے سب سے
پہلے امام ابو یوسف سے درس حدیث لیا کہتےہیں ’’کان
منصفا فی الحدیث‘‘
(تذکرہ ج1 ص
270)
امام ابو یوسف نے حدیث وآثار
میں دواہم کتابیں یاد گار چھوڑی ہیں:
1)
کتاب الآثار:
اس کتاب میں ایک ہزار سے زیادہ حدیث وآثا ر جمع کیے گئے ہیں۔
جو فقہ حنفی کے متدل ہیں۔
2)
کتاب الخراج:
اس کتاب کا موضوع فقہ ہے مگر اس میں شاید ہی کوئی مسئلہ ہو
جس کے ضمن میں قرآن وسنت یا آثار سے دلیل نہ لائی گئی ہو، اس لحاظ سے یہ کتاب حدیث
وفقہ کا مجمع البحرین ہے۔
امام ابو یوسف کے درس کی
خصوصیت یہ تھی کہ وہ حدیث کے ساتھ فہی مسائل کے استنباط کو بھی ظاہر فرماتے۔ علی بن مدینی کہتے ہیں
امام ابو یوسف اگر دس حدیثیں بیان کرتے تو دس فقہی مائیں لائین بھی ان کے ساتھ پیش
کرتےتھے امام ابو یوسف کا حدیثی کارنامہ صرف اتناہی نہیں کہ وہ حدیث بیان کردیں
بلکہ وہ سنت سے استخراج مسائل کا طریقہ بھی بیان کرتے ہیں۔
تصانیف:
امام ابو یوسف ان علماء وفقہاء میں ہیں جنہوں نے علوم وفنون
اسلامی کی تدوین کے ابتدائی دور میں بیش بہا کتابیں تصنیف فرمائیں ۔
آپ نےحدیث، فقہ، اصول فقہ، قانون،
اختلافیات پر جامع، مفید کتابیں تصنیف کیں۔ کشف الظنون میں ہے۔ ’’ان الامالی لابی یوسف فی ثلثمالۃ مجلد ‘‘
امام ابو یوسف کی امالی تین سو جلدوں میں تھیں۔
ابن ندیم نے آپ کی ایک امالی کا ذکر کیا ہے جو 36/ مباحث پر
مشتمل تھی۔ دوسری کتاب ’’کتاب الجوامع‘‘ جس کے چالیس حصے تھے، جس میں اختلاف علماء
کا بیان ہے ان کی ایک کتاب اصول فقہ میں تھی جس میں انہیں اولیت حاصل تھی افسوس کہ یہ کتابیں دست بردزمانہ
سے محفوظ نہ رہ سکیں۔
آپ کی کتابوں کی فہرست:
·
کتاب
الآثار
·
اختلاف
ابی حنیفہ وابی لیلیٰ
·
الرد
علی سیر الاوزاعی
·
کتاب
الخراج
·
کتاب
المخارج والحیل
اخلاق وکردار :
امام ابو یوسف علم وفضل میں امتیازی شان اور قضاء کے جلیل
القدر عہد پر فائز رہنے کے باوجود تواضع وانکساری،
نرم خوئی، حلم ومروت ، عدل واحسان کا پیکر جمیل تھے حق گوئی وحق شناسی ان کے خمیر
میں شامل تھی وہ بے حد فیاضی اور سخی واقع ہوئے تھے حد درجہ پاک دامن اور عفت مآب
تھے سنت رسول کے کافی پابند تھے زہد وتقویٰ، خشیت الہی، خوف آخرت ان کی کتاب اخلاق
کے درخشاں اوراق تھے۔ نماز کا شوق اس قدر بڑھا ہوا تھا کہ فرائض کے علاوہ روزانہ
دوسو رکعت نوافل ادا فرماتے جب کہ قضا کی ذمہ داریوں سے گرانبار تھے۔ ابن سماعہ
کہتے ہیں: ’’کان ابو یوسف یصلی بعد ماولی القضاء فی کل یوم مائتی رکعۃ‘‘ امام ابو یوسف عہدۂ قضا پر فائز ہونے کے بعدروزانہ دوسو رکعت نماز
نوافل ادا کرتے ۔
(تذکرہ ج1 ص
270)
امام ابو یوسف فرمایا کرتے تھے
جوشخص نادر اور غریب احادیث طلب کرتا ہے وہ جھوٹ سے نہیں بچ سکتا ۔ جو کیمیاء کے
ذریعہ مال طلب کرتا ہے وہ ہمیشہ محتاج رہتا ہے اور جو علم کلام کے بل بوتے پر دین حاصل کرتا ہے وہ زندیق ہے۔
(تذکرہ ج1 ص )
وصال سے قبل کلمات :
وصال سے قبل ملت اسلام کا یہ عبقری امام جب مرض الموت میں مبتلا
ہوئے تو اکثر زبان پر یہ کلمات جاری رہتے خدایا تو جانتا ہے میں نے کسی فیصلہ میں جو تیرے
بندے کے درمیان تھا اپنی رائے سے کام نہیں لیا اور نہ خلاف واقعہ فیصلہ کیا ہمیشہ
میری کوشش رہی کہ جو فیصلہ ہو وہ تیری کتاب اور تیرے رسول کی سنت کے موافق ہو۔
اے اللہ تو جانتا ہے میں ہمیشہ پاک دامن رہا اور کبھی ایک درہم
جان بوجھ کر حرام کا نہیں کھایا۔
(مناقب کردری ص
126)
اس
مرض کی حالت میں بھی علم دین کی تعلیم کا سلسلہ جاری تھا ایک شاگرد کو کسی مسئلہ
کی تفصیل بتارہے تھے ابھی خاموش بھی نہیں
ہوئے تھے چند منٹ کے بعد آواز ہمیشہ کے لیے بند ہوگئی اور واصل بحق ہوگئے۔
سانحہ ارتحال:
آپ کی بغداد میں بحالت عہدہ قضاپنجشنبہ کے روز ۵ ؍ماہ ربیع الاول ۱۸۲ھ کو واقع ہوئی ۔کاظمین بغداد میں سپرد خاک کیے گئے ۔
(حدائق الحنفیہ)
(ماخذ مراجع: محدثین عظام حیات وخدمات)
